💪 Rashid Khan extends advantage
📈 Afghanistan youngster on the rise
💥 West Indies trio climb T20I charts
All the latest changes to the ICC Men's Player Rankings 👇
https://t.co/Jce1Xt6GXY
پی ٹی ایم رہنما علی وزیر گزشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے خیبر پختونخوا اور اس کے بعد سندھ کی جیلوں میں قید ہیں۔ علی وزیر پر جھوٹے مقدمات بنا کر انہیں قید رکھا جا رہا ہے۔
16 مارچ 2026 کو علی وزیر تمام مقدمات میں بری ہونے اور ضمانتیں ملنے کے بعد جیل سے رہا ہوئے تھے، مگر دو گھنٹوں کے اندر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے عسکری حکم پر دیگر جھوٹے مقدمات قائم کر کے علی وزیر کو دوبارہ گرفتار کر لیا، اور آج تک علی وزیر جیل میں قید ہیں۔ آج علی وزیر دادو کے ایک مقدمے میں بری ہوئے ہیں، جبکہ اب بھی علی وزیر سندھ حکومت کے بنائے گئے دیگر چار جھوٹے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور جیل میں قید ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی سندھ حکومت کے بنائے گئے ان چار مقدمات کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے۔
دو سال سے زیادہ عرصے سے علی وزیر کو جھوٹے مقدمات میں قید رکھنا، تمام مقدمات میں رہا ہونے کے بعد دو گھنٹوں کے اندر دوبارہ جھوٹے مقدمات قائم کرنا اور ان مقدمات میں عدالت کا علی وزیر کو قید میں رکھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس ملک کی حکومت، صوبائی حکومتیں اور عدلیہ مقتدرہ قوتوں کے گھر کی لونڈی ہیں۔ علی وزیر کا ایک مقدمے میں بری ہونا ہرگز یہ نہیں ہے کہ عدلیہ آزاد ہے۔ بلکہ اس ملک کی عدلیہ یہ نام نہاد تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
مظلوم اقوام پر ظلم صرف ایک مسلح ادارہ نہیں کر رہا، بلکہ اس ملک کے تمام ادارے بطور ریاست محکوم اقوام کا استحصال کر رہے ہیں۔ اس ریاست کے کسی بھی ادارے سے یہ امید لگانے والے لوگ کہ قانون، آئین اور انصاف کے مطابق محکوم اقوام کو حق دیں گے اور محکوم اقوام کے حقیقی نمائندوں کو انصاف فراہم کریں گے، یا ظالموں کا گریبان پکڑیں گے، دراصل یہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔