عمران ریاض صاحب، حامد میر صاحب، اقرار الحسن، فہیم صاحب، سلیم صافی صاحب، تمام صحافی حضرات، انسانی حقوق کے علمبرداروں، انسانیت کی آواز بننے والے کارکنوں، سیاسی و سماجی کارکنوں، نوجوانوں اور قوم کے تمام باشعور لوگوں!
یہ میرے سنٹرل کرم، چمکنی کے اُن غریب اور بے گناہ پہاڑی لوگوں کی صدائیں ہیں، جو کل ڈرون حملے میں اپنے پیاروں کی لاشوں کے سامنے چیخ چیخ کر رو رہے ہے۔ 💔😭
یہ صرف ایک علاقے کا درد نہیں، یہ انسانیت کا درد ہے۔ اُن ماؤں، بہنوں، بچوں اور خاندانوں کی چیخیں ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کھو دیا۔ یقین کریں، انسان تو کیا، ایک بے زبان جانور بھی اُس درد کو محسوس کر سکتا ہے۔
خدارا! سیاسی وابستگی، اختلاف اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت کے نام پر ہماری آواز بنیں۔ ہمارے ان بے گناہ لوگوں کے لیے آواز اٹھائیں۔ ان کی چیخیں دنیا تک پہنچائیں۔
ویڈیو دیکھیں، پھر خود فیصلہ کریں کہ یہ درد کتنا گہرا ہے۔ 💔😭
#کرم #انسانیت #انسانی_حقوق
حسنین گھر کی رونق تھا۔ حسنین اب تک خواب دیکھا کرتا تھا۔ اس کی ننھی آنکھوں نے ابھی دنیا کو پوری طرح دیکھا بھی نہیں تھا۔ حسنین اپنی ماں کا لاڈلا تھا۔ اس نے اپنی ماں سے بلند پروازوں کے وعدے کیے تھے، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ وہ ننھے پھول کی طرح جل جائے گا۔
اب ننھے، پیارے حسنین کا حال کچھ یوں ہے۔
کیا اس کی یہ حالت کوئی ماں دیکھ سکتی ہے؟
کیا حسنین کو اس حال تک پہنچانے والوں کے سینوں میں ذرّہ بھر بھی انسانیت باقی ہے؟ کیا ان کے دل دھڑکتے ہیں؟
اگر انسانیت زرہ بر بھی ہے، تو پھر حسنین کے مکمل اور حتمی علاج کے لیے اب تک کچھ کیوں نہیں کیا گیا؟ ڈالرز کی بوریوں کے باوجود حسنین کے علاج اور زندگی بچانے کے لیے مدد کیوں نہیں کی گئی؟
حسنین کی زندگی برباد ہو چکی ہے، مگر اس ننھی جان کو باقی زندگی گزارنے کے لیے ریاست اور مقامی FC وینگ سے مدد، علاج اور انسانیت کی ضرورت ہے.
یہ ظلم کچھ یوں ہوا تھا !!،،
تین ماہ قبل، 26 مئی کو عیدِ بزرگ کی رات شمالی وزیرستان، شیواہ تحصیل، ملک شاہی گاؤں میں موجود مومن چیک پوسٹ کے قریب بچھائی گئی لینڈ مائن کے دھماکے نے حسنین نامی ایک معصوم بچے کی دنیا اجاڑ دی۔
حسنین اسکول کا طالب علم تھا۔ وہ کہا کرتا تھا: “میں بڑا ہو کر پائلٹ بنوں گا، ہوا میں اڑوں گا، اور ہوا سے باتیں کروں گا۔” مگر افسوس کہ ریاستی فورسز کی مبینہ غفلت نے اس کی تمام امیدیں اور خواب چھین لیے۔ اس دھماکے میں وہ اپنے دونوں ہاتھ اور ایک آنکھ سے مستقل طور پر معذور ہوگیا۔ اب ہوا میں اڑنا تو دور کی بات، وہ زمین پر بھی دوسروں کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
حسنین کے ساتھ اب تک شیواہ ونگ یا میران شاہ 7 ڈیو کی جانب سے ایسی کوئی مدد نہیں کی گئی جس سے حسنین کو اپنی باقی زندگی کے لیے کوئی سہارا مل سکے یا اس کا بنیادی علاج ممکن ہو۔
ملک شاہی گاؤں میں موجود مومن چیک پوسٹ پر ایک طویل عرصے سے ریاستی فورسز تعینات تھیں، لیکن گزشتہ تین ماہ سے شیواہ 241 ایف سی یونٹ نے اس چیک پوسٹ کو اس وقت دھماکے سے اڑا کر خالی کر دیا جب وہاں موجود اہلکاروں نے مبینہ طور پر اپنے ہی بارود نصب کیے تھے۔ بعد ازاں چیک پوسٹ کے آس پاس سینکڑوں لینڈ مائنز چھوڑ دی گئیں، جن میں سے ایک نے حسنین سمیت ایک ماں کو مستقل طور پر معذور کر دیا، جبکہ بڑی تعداد میں گھریلو جانور بھی ہلاک ہوئے۔
#JusticeForHassnain
#StopPashtunGenocide
#StandWithTheVictims
یہ اس خوبصورت بچے کی صرف تین ماہ پہلے کی تصویر ہے، جو آج لینڈ مائن کا شکار ہو چکا ہے۔ پشتونخوا کی ہر گلی اور کوچے میں ایسی بے شمار داستانیں بکھری پڑی ہیں، جنہیں بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ 💔
اللہ نہ کرے حوالدار منیب فاروق یا جاوید چوہدری اپنے بیٹے اور بیوی کی لاش پر ماتم کر رہے ہوں اور TV پر بیٹھے اینکرز انہیں کہہ رہے ہوں تم اور تمہارا بیٹا دہشتگرد تھے
یہ بلوچ فوج کی دہشتگردی تو نہیں بھولیں گے لیکن تمہاری سہولت کاری بھی کسی دہشتگردی سے کم نہیں
بلوچستان میں گزشتہ شب 2 بجے ایک پاکستانی فوجی فضائی حملے نے سوراب کے گاؤں گواندھن کو نشانہ بنایا، جس سے مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے اور 28 بلوچ شہری شہید ہو گئے، جن میں 9 بچے، 7 خواتین اور 12 مرد شامل ہیں، جبکہ 17 افراد زخمی ہوئے۔
#FascismUnderAsimLaw#PakistanUnderMartialLaw https://t.co/BddUWz1w95
بلاول کے سندھ کی ترقی کے مناظر اپنی جاگتی آنکھوں سے ملاحظہ کریں، پیپلزپارٹی سندھ کو واپس اٹھارویں صدی میں لے گئی ہے
عمر کوٹ سندھ ہسپتال میں مریض کو آکسیجن لگانا پڑی تو اس کے منہ پر آکسیجن ماسک لگا کر ماسک کو سائیکل کے ٹائر میں ہوا بھرنے والے پمپ کے ساتھ جوڑ دیا گیا
اب مریض کو آکسیجن ٹرانسفر ہونے کا پروسیجر آپ اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں،
ماشاء اللہ مولوی صاحب نے بہت اچھا جواب دیا قرآن اور حدیث سے ہی اس کو واپس جواب دے دیا مولوی صاحب نے ماشاء اللہ ۔ ..!
#ناحق_قید_کے_3سال#RightsMovementAJK
جنوبی وزیرستان کی تحصیل سروغہ کے علاقے احمد وام میں پاکستانی فوج کے ڈرون حملے میں ایک ہی خاندان کی دو خواتین دو بچے اور بزرگ شہید ہو گئے
غریب پشتونوں کی لاشیں ایک ٹریکٹر ٹرالی میں رکھی گئی ہیں
14 اگست کی تیاری کرنے والوں ،یہ ہے ہماری حقیقت۔ ہمارے گھر مٹا دیے گئے، ہمارے سکول تباہ کر دیے گئے، اور ہمارا اپنا وطن بھی ہم سے چھین لیا گیا۔ آخر ہم کس آزادی کا جشن منائیں؟ پچھلے 26 برسوں میں ریاست نے ہمیں قتل کیا، بے گھر کیا، لوٹا، اور ہر سطح پر کمزور کیا۔ اور جب ہم نے ان مظالم پر آواز اٹھائی تو ہمیں غدار قرار دے دیا گیا۔ تیراہ میں گھروں ، سکولوں اور مدرسوں کو اڑایا جا رہا ہے۔