17 اکتوبر کو علی امین گنڈاپور کے وکیل راجہ ظہور نے بیان دیا تھا کہ گنڈاپور صاحب کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ دو روز پہلے علی امین گنڈاپور کور کمیٹی اجلاس میں شریک تھے اور آج وہ ٹوئٹس بھی کررہے ہیں۔
پوچھنا یہ تھا گرفتاری کے دوران آن لائن میٹنگز میں شرکت اور ٹویٹ کرنے کی اجازت ہوتی ہے؟
سلمان اکرم راجہ صاحب کے ٹوئٹ کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ گورنر راج پر خاموش خیبرپختونخوا کے ایم پی ایز بھی بول پڑے ہیں۔
رُکیں ۔۔۔
یہ گورنر راج کے خلاف نہیں بولے، علی امین گنڈاپور کے دفاع میں بول رہے ہیں۔
مراد سعید کی والدہ پچھلے کئی سالوں سے کوما میں ہیں ان کے بھائی پچھلے 3 سال سے کینسر جیسے موزی مرض سے لڑ رہے ہیں یہ تو فیصل کریم کنڈی بتائیں گے یہ کہتے ہیں گورنر راج دہشتگردوں سے لڑنے کے لئے لگایا ہے یا مراد سعید کی ماں کو گھر سے نکالنے کے لئے لگایا ہے ؟ یہ شہباز شریف بتائیں کیا مراد سعید کی ماں کو گھر سے نکالنے کے لئے KPK میں ایمرجنسی لگائی ہے ہم کیا اس ملک میں مثالیں قائم کر رہے ہیں آج کہ بوڑھی مائیں بھی ہمارے غصے غضب اور جبر سے محفوظ نہیں ہیں ہم آج اتنے بڑے ظالم ہو گئے ہیں کہ ہم لوگوں کے گھروں میں انکی مائیں بھی نہیں رہنے دیں گے
اسدطور
پی ٹی آئی کے وہ تمام ایم پی ایز جو بلوں میں چھپے ہوئے تھے ، اچانک سلمان اکرم راجہ صاحب کے خلاف ایکٹیو ہو گئے ہیں، 10 دن سے ہر غیر آئینی، غیر قانونی اقدام پر یہ ایم پی ایز ایسے چپ تھے جیسے دنیا میں ہی نہیں ہیں لیکن اچانک متحرک ہو گئے ہیں
خیبر پختونخواہ کے گورنر راج کی حکومت نے اس وقت بھی آئینی طور پر فعال صوبائی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کو سرکاری گھر خالی کرنے کا حکم دے دیا، ڈپٹی سپیکر نے بیدخلی کی نوٹس کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ رٹ درخواست میں ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخواہ اسمبلی ثریا بی بی کی سرکاری رہائش گاہ پر محکمہ ہاؤسنگ کے عملے اور پولیس کا ریڈ اور گھر کو تالہ لگانے کا انکشاف۔ اس سے پہلے بھی ڈپٹی سپیکر کے پی کے اسمبلی کیخلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ زیادہ سنگین بات صوبائی اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی کا اغوا اور لاپتہ ہونا ہے جس پر پشاور ہائی کورٹ نے حکومت سے محض جواب طلب کرتے ہوئے دس دن بعد کی تاریخ رکھ دی ہے۔
ڈپٹی اسپیکر جو آج بھی ڈپٹی اسپیکر ہے لیکن کے پی کی نئی رجیم کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہو سکتا ہے رکاوٹ ہو اس لئے ڈپٹی اسپیکر کا گھر بھی خالی کروایا جاُرہا ہے
علیمہ خان صاحبہ، ڈاکٹر عظمی خان اور نورین نیازی صاحبہ کی غیر قانونی حراست کے خلاف آئینی پٹیشن لاہور ہائیکورٹ دائر کر دی گئی۔ آج کیلئے مقرر نہیں ہو سکی اس پر اب سماعت صبح ہو گی۔
11 اکتوبر سے لاپتہ / حفاظتی تحویل وزیر اعلی سہیل آفریدی گرفتار ہیں یا کہاں ہیں ؟؟ پشاور ہائیکورٹ نے 3 نومبر تک (اس وقت تک 22 دن ہو چکے ہوں گے) جواب مانگا ہے
کیا ہائیکورٹس کو اس قسم کی درخواستیں ایسے ہی سننی ہوتی ہیں ؟؟ ان میں تو urgency ہوتی ہے
عادل خان بازئی کو جمال احسن خان اور دیگر ایم این ایز کے ہمراہ لانگ مارچ سے قبل گرفتار کیا گیا تھا اس گرفتاری کے بعد ابھی تک عادل بازئی سے فیملی تک کی ملاقات نہیں کروائی گئی
اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے عادل بازئی کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے تو اب تک ان پروڈکشن آرڈرز پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا
پاکستان میں اسمبلیوں کی اہمیت اور وقعت کو فوجی بوٹوں تلے روند دیا گیا ہے، ان اسمبلیوں میں مزید رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا
علیمہ خان، ڈاکٹر عظمی خان اور نورین نیازی صاحبہ کی 30 دن کی نظر بندی 19 اکتوبر کو ختم ہوگئی لیکن انہیں رہا نہ کیا۔ ہم نے جیل حکام اور ڈی سی دفتر رابطہ کیا لیکن آج تک خواتین کی مزید حراست کی وجہ یا آرڈر ہمیں نہیں دیا۔ ان کی اس غیر قانونی حراست پر آج لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
مراد سعید کے گھر جا کر ان کی بزرگ معذور والدہ کو بے گھر کر دیا گیا 💔 سامان باہر پھینک دیا گیا!!
ظالمو خدا سے ڈرو, اس کا قہر جب نازل ہوگا تو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی انشاءاللہ۔
یہ وہ لمہ تھا جب کریمہ بلوچ کا جنازہ لے کے جا رہے تھے تو فورسز نے سارے آنے جانے کے تمام راستے سیل کر دئیے تھے. وہاں مقامی ابادی میں بلوچوں کی زیادہ تعداد لاپتا ہے. تو کریمہ کے جنازے کو عورتوں نے اٹھایا تھا.
یہ ہے ریاستی ظلم جبر.
اہم خبر ، گورنر راج ایمرجنسی کے خلاف بیرسٹر گوہر و دیگر کی درخواستوں پر سماعت کا پشاور ہائیکورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کر دیا عدالت نے وفاق ، اٹارنی جنرل ، ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 نومبر سے پہلے جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا
بنوں سے 1 لاکھ 47 ہزار ووٹس حاصل کرنیوالے منتخبMNA مولانا نسیم علی شاہ کو 3MPO کے تحت ہری پور جیل بھجوا دیا گیا۔
ڈیٹینشن آرڈر کے مطابق ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے، پبلک سیفٹی نہیں رہی، عوامی شکایات پر اٹھایا گیا، 4 امن پاسون کرنیوالا امن کیلئے خطرہ بن چکا۔
قانون اور آئین سے متصادم چل رہا ہے۔
آپ نے اتنے دفعات کے تحت اٹھالیا، ثبوت کیا ہے؟
ڈپٹی کمشنر صاحب فرماتے ہیں، ثبوت میرے سامنے رکھے گئے، تو اس بنیاد پر
I am convinced with the above mentioned order about culprit who can be serious threat to people's safety.
یہ وہ کالا قانون ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد خیبرپختونخواہ کے عوام کا جینا محال کئے رکھا ہے، غیرجمہور اور ڈکٹیٹر نے اس کالے قانون کو ہتھیار بنا کر عوام کے حقوق کو سلب و غصب کئے رکھے ہیں، اس قانون کے زد میں صرف آج مولانا صاحب نہیں عرصہ دراز سے سب اس کے شکار بن رہے ہیں۔
اس ڈیٹینشن پر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے مشہور اقوال یاد آجاتے ہیں جو قرآن میں ذکر ہے
يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ(سورۃ یوسف)
اے میرے جیل کے ساتھیو! کیا الگ الگ معبود بہتر ہے یا وہ الله پاک جو ایک ہیں اور انتہائی غالب ہیں۔
الحمدللہ، ہم ایک اللہ کے ماننے والے ہیں، جتنا بھی ظلم و جبر کا ماحول ہو، فسطائیت کا مقابلہ ہو، کسی صورت مقابلہ کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
انشاءاللہ، ایم این اے صاحب، عمران خان، پارٹی لیڈرشپ اور بنوں گل کے عوام کےساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے، ڈٹ کر کھڑے ہیں، اور کھڑے رہینگے۔
مقتدرہ کیلیے ایک ہی پیغام ہے
فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ، قَالَ كَلَّاۚ-اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ
(سورۃ الشعراء)
گنڈا پور سرکار میں SIFC کی طرف سے ایک ڈرافٹ آیا تھا کہ آپ لوگ 2017 کے مائنز اور منرلز ایکٹ میں تبدیلی کریں اور اس کی بنیاد پر بہت سارے اختیارات وفاق کو دینا چاہتے تھے لیکن ہم نے بھرپور مخالفت کی اور وہ چیز ڈراپ ہوئی۔ اب گورنر راج کی آڑ میں سب ہونے والا ہے، نثار باز خان
پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اسوقت غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان صاحب اور پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں وزیر اعلی سہیل آفریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر، ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے جب تک تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔ جنید اکبر صاحب خیبر پختونخواہ میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں۔ انکا تقرر عمران خان صاحب نے خود کیا ہے۔ انکی غیر موجودگی میں صوبے کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان صاحب قائم مقام صدر ہیں۔ سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیر اعلی ہیں۔ وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہو گی۔ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں انکے شر سے۔