جو مولانا فضل الرحمان یہ کہتے تھے کہ عمران نیازی پاکستان میں گولڈ سمتھوں کا ایجنٹ ہے تو ان کے اس بیان پر شدید تنقید کیتی جاتی تھی لیکن آج قوم یوتھ کی پہلی مما نے بتلا دیا ہے کہ عمران خان کو گولی یہودیوں کے قریب ہونے کے سبب ماری گئی ہے
چلیں آج مولانا کی یہ بھی بات سچ ثابت ہوگئی
“میرے بچوں کے پاپا کو پاکستان میں گولی صرف اس وجہ سے ماری گئی کہ وہ یہودیوں کے قریب تھے”جمائما گولڈ سمتھ کے اس بیان کے بعد اب ڈاکٹر اسرار احمد کا وہ بیان سن لیجئیے جو انہوں نے کئی دہائیاں پہلے عمران خان کے متعلق دیا تھا
کہانی گئی جے مُک اور کِلا گیا جے ٹھک کیمرہ تلمبہ پہنچ گیا ہے
نوازشریف کو ہرانے والے نوازشریف کا نام مٹانے والے کئی آئے اور کئی گئے نوازشریف کل بھی عوام کے دل میں بستا تھا نوازشریف اج بھی عوام کے دل میں بستا ہے
#پھر_سے_نوازشریف
سورہء نمل۔ آیت 18.ترجمہ👇
“یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی پرآئےتو ایک چیونٹی نےکہا اے چیونٹیو! اپنےگھروں میں داخل ہوجاؤ، کہیں سلیمان اوراسکےلشکرتمھیں کچل نہ دیں اوروہ شعورنہ رکھتےہوں۔”
تفسیر👇
سورہءنمل کی چندآیات میں حضرت سلیمان علیہ السلام اورچیونٹی کاواقعہ بیان کیاگیاہے۔(یاد رہے کہ حضرت سلیمان پرندوں اورکیڑے مکوڑوں کی زبان سمجھتےتھے)۔ایک مرتبہ حضرت سلیمان اپنےلشکرکےساتھ ایک ایسی وادی پرسےگزرےجہاں چیونٹیاں بکثرت تھیں۔جب چیونٹیوں کی ملکہ نےحضرت سلیمان کےلشکرکو دیکھاتوکہنےلگی:اے چیونٹیو!اپنےگھروں میں داخل ہوجاؤ، کہیں حضرت سلیمان اورانکےلشکر بےخبری میں تمہیں کچل نہ ڈالیں۔ملکہ چیونٹی نےیہ اس لئےکہاکہ وہ جانتی تھی کہ حضرت سلیمان نبی ہیں،جبر اور زیادتی آپکی شان نہیں ہے۔لیکن ہوسکتاہےکہ وہ گزرتےہوئےاس طرف توجہ نہ کریں ۔ حضرت سلیمان
نےچیونٹی کی یہ بات تین میل دورسے سن لی کیونکہ ہوا ہرشخص کاکلام آپکی سماعت تک پہنچاتی تھی۔ جب آپ چیونٹیوں کےقریب پہنچےتو مُسکراۓاورآپ نےاپنےلشکروں کوٹھہرنےکاحکم دیایہاں تک کہ چیونٹیاں اپنےگھروں میں بہ حفاظت داخل ہوگئیں۔حضرت سلیمان کایہ سفر ہوا پرنہ تھابلکہ پیدل اور سواریوں پر تھا۔
یہ ہی تو مسئلہ ہے کہ متحد ہوں۔۔۔مسلمان کفار سے زیادہ منافقت کا شکار ہیں۔۔۔ورنہ انکو اقوامِ متحدہ ہونے کی ضرورت ہی کیوں ہو۔۔۔متحد ہوں تو اپنی ایک آرگنائزیشن اور اپنا ایک بنک بنا لیں تو دنیا تلوے چاٹے انکے۔۔۔وہسے وہ ایک فوج تو بنی تھی اسکا کیا ہوا۔۔پتہ کریں ذرا 🤔😑🤐
تم نے گِرتے ہوۓ پتوں کو تو دیکھا ہو گا
اپنی ہر سانس وه ٹہنی پہ گنوا دیتے ہیں
کِتنے بے رحم شجر ہیں نئے پتوں کیلئے
پُرانے پتوں کی وفاؤں کو بُھلا دیتے ہیں۔۔۔
دولت تنہائی بھی آنے سے تیرے چھن گئی
اب تو میرے پاس اے جان وفا کچھ بھی نہیں
دل پہ لاکھوں لفظ کندہ کر گئی اس کی نظر
اور کہنے کو ابھی اس نے کہا کچھ بھی نہیں