بنگلہ دیش کتنے ملکوں کے ساتھ اس وقت حالت جنگ میں ھے؟؟؟
بنگلہ دیشں کے خلاف کتنے ملک سازشیں کر رہے
بنگلہ دیش پر کتنے ملک کتنی دہشتگرد جماعتیں حملہ اور ہیں۔
چوتیے بلاک تو تم نے کر ہی جانا
چار پیسے انے ایک سو کالڈ چینل بنا لینے کا مطلب یہ نہں کہ تم جو بھونکو وہ سچ ہی ھو۔
اپنی طرف سے بڑی ڈانشوڑی جھاڑتا ھے
چوتیا جہاں دا
کوی آوارہ کتی کا بچہ اپکو یہ نہں بتاۓ گا کہ پٹرول 110 سے 65 پر جب آیا تو ایک سور کا تخم اور اس سور کی معشوقوں کے بچے دھرنے دے کر بیٹھ گے کہ جو 65 کا ھے اسکو ھم 45 کریں گے
پھر 165 کر گے ۔
گرد اتنی اُڑ چکی ہے کہ بیٹھنے میں وقت لے گی
لیکن ابھی بات نا کی گئی تو مزید گَرد اُڑائی جائے گی.
خاتون یونیورسٹی میں اسٹودنٹس افئیرز کی انچارج ہیں، طُلبہ کے مظاہرہ کرنے پر ان سے بدتمیزی ہوتی ہے، وہ ایک طالب علم سے کہتی ہیں تم اس ڈپارٹمنٹ کے ہی نہیں تو یہاں کیا کررہے ہو
طالب علم ان سے بدتمیزی کرتا ہے، ان کے منہ کو آتا ہے، خاتون ڈاکٹر آئینہ کہتی ہیں کہ اب ایک انچ میری طرف بڑھے تو تھپڑ رسید کردوں گی.
اسکے بعد دھکم پیل ہوتی ہے. پولیس ایسے مواقع خاص طور پر نجی ہسپتال اور کالج یونیورسٹی کے معاملات میں پَرے رہتی ہی ،سو یہاں بھی رہی.
خاتون اپنے خاوند کو فون کرتی ہیں، جو کہ نہیں کرنا چاہے تھا، معاملہ یونیورسٹی انتظامیہ یا بہت ہی بڑھے تو پولیس نمٹائے، گھر والوں کو جہاں ملازمت ہو وہاں نہیں لانا چاہے.
خاوند صاحب پہنچتے ہیں، وہ تو وردی میں ہوتے ہیں. زاتی گاڑی میں ہوتے ہیں لیفٹنٹ کرنل کے رینک لگائے ہوتے ہیں. قانونی رویہ اور طریقہ ہے کہ وہ وہاں ایسے نا پہنچتے. لیکن انسانی رویہ ہے کہ Panic میں گھر والوں کی کال آجائے تو آپ پہلے اپنی فوج یا پولیس کی وردی، جج کا گاؤن، صحافت کا کارڈ، مُفتی کی دستار اور وکیل کا کوٹ گھر اتارنے نہیں جاتے.
بہرحال قانون یہ ہے کہ وردی میں نہیں جانا چاہے تھا.
چارسدہ کا پٹھان، 26 سال نوکری، بیوی ہجوم کے درمیان اور طُلبہ مشتعل. کرنل اسفند یار ہاتھ پکڑتے ہیں اور مجمعے سے اپنی اہلیہ ڈاکٹر آئینہ کو نکال کر لے جارہے ہیں، سلو موشن وڈیو میں واضح نظر آرہا ہے.
اس ہی لمحے کچھ طُلبہ خاتون کی طرف بڑھتے ایک طالب علم علم انہیں اپنا بازو یا کوہنی سے دھیکلتا بھی ہے، کرنل اسفنديار اس ہی طالبعلم کو دکھیلتے ہیں، ایسے ایک طالبعلم پلاسٹک کا پائپ یا کوئی اور شے ڈاکٹر آئینہ اور کرنل اسفندیار کی طرف مارتا ہے، وہ رد عمل میں ہاتھ گھامتے ہیں پھر دھکم پیل ہوتی یے، کرنل اسفند کے گریبان تک ہاتھ پہنچتے ہیں، انکی وردی پھٹتی ہے.
وہ بندہ جس کے پاس ذاتی پستول تھا لیکن مجمعے میں داخل ہوتے ہوئے نہیں نکالی، بیوی کو لیجاتے ہوئے نہیں نکالی لیکن جب بیوی کو Mob کیطرف سے دھکے دیتے ہوئے دیکھا اور اپنی وردی پھٹتے دیکھی تو ہتھیار نکالا بھی اور ہوائی فائر بھی کی.
قانون اسے self defence اور سماج اسے انسانی رویہ یا غیرت کہتا ہے. قانون نمٹ لے گا اور انسانی رویہ پر سوشل میڈیا متضاد رائے رکھتا ہے کیونکہ اسفندیار کے ساتھ جو لاحقہ لگا یے وہ فوجی عہدہ ہے. کوئی وکیل صحافی جج مذہبی پیشوا یا سیاستدان لگا ہوتا تو رویہ کیسا ہوتا وہ بھی ہم سب کو معلوم ہے.
اس سارے وقوعہ میں پی ٹی آئی کلٹ، متعصب قوم پرست PTM اور دیگر slacktivists نے جو رویہ رکھا ہوا ہے وہ نا قانونی ہے نا انسانی رویوں کے مطابق، وہ بس سوشل میڈیا مہم ہے. اور اسی مہم میں جو مشہور کیا گیا وہ یہ ہے کہ کرنل کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے والا دراصل غیرت مند پشتون تھا
لیکن یہ بھی تو کوئی بتائے کہ بیوی کو mob سے نکالنے والا اور اپنی ��وکری و نام کو داؤ پر لگوانے والا بھی چارسدہ کا پشتون یے.
دوسرے کہتے ہیں جیسے عمران کے گلے میں ہاتھ ڈالا ویسے ہی کرنل کے گریبان میں ہاتھ ڈالتے ہوئے نوجوان کو دیکھا تو دل خوش ہوا.
لیکن یہ بھی کوئی جان لے کہ پھر نو مئی کو جس طرح منظم حملے ہوئے اس کے بدلے دل خوش ہونے کا سامان باقی یے؟
سرحد ی��نیورسٹی کے معاملات سے واقف صحافی ندیم عارف بٹ کی فیسبک پوسٹ
سرحد یونیورسٹی کا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان نے اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے شعبہ اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ ڈاکٹر آئینہ کو ہراساں کیا۔ ڈاکٹر آئینہ نے اس ناانصافی پر خاموش رہنے کے بجائے قانون اور اصول کا راستہ چنا اور انتظامیہ کے پاس باقاعدہ شکایت درج کرائی۔ یونیورسٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایچ او ڈی کو معطل کر دیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔
لیکن کہانی کا دوسرا اور تلخ رخ اس وقت سامنے آیا جب معطل شدہ ایچ او ڈی کی بحالی کے لیے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے یونیورسٹی میں احتجاج شروع کر دیا۔ ڈاکٹر آئینہ، جو کہ ایک ذمہ دار عہدیدار ہیں ، مظاہرین سے بات چیت کرنے اور صورتحال کو سنبھالنے کے لیے خود ان کے پاس گئیں۔ مگر وہاں قانون اور احترام کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ بات چیت تلخ کلامی میں بدلی اور بپھرے ہوئے ہجوم میں سے ایک لڑکے نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا اور سرِعام دھمکی دی کہ "آج ہم تمہاری عزت خراب کر دیں گے۔" ڈاکٹر آئینہ نے اس ہجوم سے، جہاں یونیورسٹی کے گارڈز بے بس اور ناکافی ثابت ہو رہے تھے، بمشکل اپنی جان اور عزت بچائی۔
پھر ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر کو فون کیا، جو پاک فوج میں ایک ا��سر ہیں۔ جب ایک غیرت مند شوہر اور فوجی افسر کے کانوں میں یہ الفاظ پڑے کہ اس کی شریکِ حیات کے گریبان پر ہاتھ ڈالا گیا ہے، تو اس کا دماغ گھوم گیا۔ غصے اور غیرت کی اس شدید لہر میں وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ ایک فوجی افسر ہیں انہوں نے نہ تو پولیس کو اطلاع دی اور نہ ہی اپنے ساتھ کوئی دستہ یا جوان لیے۔ وہ یہ سوچے بغیر کہ وہاں درجنوں بپھرے ہوئے طلبہ ان پر حملہ کر سکتے ہیں، تنِ تنہا یونیورسٹی کی طرف روانہ ہو گئے۔ ایسے حالات میں ایک غیور انسان کا دماغ نہیں، بلکہ اس کا دل اور جذبات فیصلہ کرتے ہیں۔
جیسے ہی یہ فوجی افسر یونیورسٹی پہنچے، ڈاکٹر آئینہ سہمے ہوئے قدموں سے بھاگتی ہوئی ان ��ے پاس گئیں اور روتے ہوئے اس نوجوان کی طرف اشارہ کیا جس نے ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا۔ فوجی افسر سیدھے اس لڑکے کی طرف بڑھے اور اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا: "تمہیں شرم نہیں آتی؟" اور ایک بڑے بزرگ کی طرح، جو کسی چھوٹے کو غلطی پر تنبیہ کرتا ہے، انہوں نے اپنی اسٹک سے اسے ایک دو بار ہلکا سا مارا۔
مگر وہ ہجوم تو پہلے ہی سے کسی اشتعال کے انتظار میں تھا۔ طلبہ نے فوری طور پر اس فوجی افسر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ افسر نے انہیں سمجھانے اور بات کرنے کی کوشش کی، لیکن نوجوان مار پیٹ پر اتراؤ تھے۔ اسی دھکم پیل میں کسی نے ڈاکٹر آئینہ کو زور دار دھکا دیا اور دو لڑکوں نے آگے بڑھ کر ان کے بازو پکڑنے کی کوشش کی۔ اپنی بیوی کو اس حال میں دیکھ کر وہ افسر ان کے سامنے ڈھال بن گیا، لیکن اس کوشش میں ڈاکٹر آئینہ زمین پر گر گئیں۔
بیوی کو زمین پر گرا دیکھ کر اور دانستہ طور پر اپنی فوجی وردی کو پھٹتا دیکھ کر افسر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اپنی اور اپنی زوجہ کی جان کو شدید خطرے میں پا کر، انہوں نے دفاعی طور پر اپنی پستول نکالی، ہجوم ��و پیچھے دھکیلا اور انہیں ڈرانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تاکہ بپھرا ہوا ہجوم پیچھے ہٹ سکے۔ یہ ہے پوری اور اصل کہانی ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ فوجی افسر اکیلا کیں گیا !! اگر فوجی افسر پلاننگ سے یہ سب کرنے جاتا تو ساتھ درجن بھر جوان لے جاتا
فوجی افسر غلط ہوکر بھی غلط نہیں ہے بلکہ اس نے اپنی عزت کا دفاع کیا ہے ۔ اگر وہ پولیس کو اطلاع کرتا وہ تاخیر سے پہنچتی تو کیا ہوتا ۔ اگر اس کی نیت طلبہ پر تشدد کی ہوتی تو وہ اپنے ساتھ آٹھ دس فوجی جوان لاسکتا تھا لیکن اس کی نیت تو صرف نوجوان کی سرزنش کی تھی کہ تمہارے گھر میں ماں بہن نہیں ہیں ۔ لیکن بات کو کیا سے کیا بنادیا گیا
اس معمالے پہ عمرانڈوز کی سوشل میڈیا پہ من گھڑت مہم جاری ہے
شہباز شریف نام کا وزیر اعظم ہے، عمران ریاض تھتھا
شہباز شریف کٹھ پُتلی وزیر اعظم نے، ثمینہ پاشا سٹابری
شہباز شریف کے پاس اختیار ہی نہیں ہیں ۔ذیشان موری
اصل طاقت اسٹبلشمنٹ کے پاس ہے ، طارق متین سور
اسٹبلشمنٹ کے بغیر شہباز شریف بولتا تک نہیں، سمی ابرھیم کھسرا
جو اسٹبلشمنٹ چاہے گی وہ ہو گا، صابر شاکر چوتیا
خان ساپ کی اصل لڑائی اسٹبلشمنٹ سے ہے ،عمر دراز گوندل کانا
اور خان ساپ کا علاج شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب نہیں ہونے دے رہے سہیل آفریدی سمگلر
اتنیاں نیازی بیویاں نہی بدلیاں جتنے یوتھیوں نے بیانیے بدل لیے 🖐️
انتہائی قابل احترام کامران بھائی!
یہ تاثر دینا کہ خیبرپختونخوا کو ترقیاتی بجٹ میں صرف 2 ارب روپے دیے گئے جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کو سینکڑوں ارب روپے دیے گئے، حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔
وفاقی ترقیاتی بجٹ (PSDP) کی تقسیم آبادی، جاری منصوبوں، قومی اہمیت کے منصوبوں، پسماندگی، آئینی ذمہ داریوں اور علاقائی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے، ��ہ کہ کسی صوبے یا قومیت کے خلاف تعصب کی بنیاد پر۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ میں:
قومی سطح کے منصوبوں کے لیے: 394 ارب روپے
بلوچستان: 241 ارب روپے
سندھ: 195 ارب روپے
آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان: 126 ارب روپے
خیبرپختونخوا: 98 ارب روپے
پنجاب: 72 ارب روپےمختص کیے گئے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بجٹ میں پنجاب کو سب سے زیادہ نہیں بلکہ چاروں صوبوں میں سب سے کم براہِ راست صوبائی ترقیاتی رقم دی گئی ہے، کیونکہ پنجاب اپنی آبادی، وسائل اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے ذریعے بڑی مقدار میں خود بھی ترقیاتی اخراجات کرتا ہے۔
مزید یہ کہ خیبرپختونخوا کو این ایف س�� ایوارڈ، ضم شدہ اضلاع (سابق فاٹا) کے لیے خصوصی فنڈز، دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور دیگر وفاقی معاونت بھی حاصل ہوتی ہے۔
اس لیے مسئلہ کو “پشتون بمقابلہ پاکستان” کا رنگ دینا نہ صرف غلط ہے بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ خیبرپختونخوا پاکستان ہے، پنجاب پاکستان ہے، سندھ پاکستان ہے، بلوچستان پاکستان ہے۔ ترقی کا مقصد تمام پاکستانیوں کی بہتری ہے، نہ کہ صوبوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا۔
جی ایسا ہی ہے
میاں شریف مرحوم اور ان کے ایک بھائی 1935 میں بہتر زندگی اور بہتر روزگار کی تلاش میں جب لاہور آئے تھے
واقعی غریب تھے
رات کے آخری پہر امرتسر سے لاہور پہنچے
مولانا احمد علی لاہوری کی مسجد میں نماز فجر ادا کی
اور پھر وہیں انتظار کرنے لگے
کیونکہ جس ریفرینس نے
+
سے پاکستان آئے
اور یہ ایسا بیغیرت اور احسان فراموش ہے
اپنے برے وقت میں کام آئے محسنوں پر زبان درازی کرتا رہا
وہ اس وقت اس معاملے پر ذاتی طور پر توجہ نہ دیتے
تو اسے وہاں سزا ہو جانی تھی۔
یہ 100 فیصد سچا واقعہ ہے
ملک میں بھول گیا
کینیڈا یا امریکہ تھا
****
اس صحافی نما مخلوق نے اصل خبر غائب کر دی
اگر 25 کلوواٹ یا اس سے زیادہ کا آن گرڈ سولر سسٹم لگوانا ہو
تو نیپرا کا NOC چاہئے ہوتا ہے
اس کی پہلے بھی فیس تھی
شاید 10000 کے قریب
اب 1000 روپے فی کلو واٹ کر دی گئی
یعنی 25000
جو 30 لاکھ کا آن گرڈ سولر لگوائے گا
اس کیلئے یہ معمولی رقم ہے
@GaziAmirGujar کیا کسی کو معلوم ہے کہ اس وقت دو حکومتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی حالانکہ وہ دونوں سخت سیاسی مخالف تھیں۔مل کر یہ کام کیا تھا۔ یہ مقدمہ ساڑھے پانچ سال چلتا رہا اور دونوں پارٹی کی حکومتوں نے ا�� کی بھرپور سپورٹ کی عالمی عدالت میں۔
غالبا احمر بلال صوفی صاحب نے یہ مقدمی جیتا تھا
انکی ہر بات انکی پچھلی بات اور پچھلے بیانیے کے خلاف ہوتا یے اور یہی انکی زلت کا ساماں بناتا یے۔
نواز شریف کےوقت توشہ خانہ کسی کے باپ کا مال نہیں عوام کا مال ہے
عمران کے وقت۔ اس سے کیا فرق پڑھتا ہے کسی نے چیز خرید لی وہ آگے بیچے یا چھوڑے۔
منافق عمران ریاض
تمام ایکس واسیوں کو مطلع کیا جاتا ھے کہ بے بنیاد پروپیگنڈوں سے اجتناب برتیں اور ان اکاؤنٹس کو لائیک ریٹویٹ نہ کریں جو ایران کے بارے میں غلط خبریں پھیلا رھےہیں کہ ایران نےہرمز کو بند کردیاھے حالانکہ ایسا کچھ نہی ھےکیونکہ پاسداران نےجہاں مائنز لگائی تھیں وہ ختم کر دیں ہیں تو پھر۔۔؟
جس کو تم صرف اسلام آباد کے 50 کلومیٹر کا وزیر اعظم بولتے تھے، آج پوری مسلم دنیا کے حکمران اس سے ملنے کی خواہش کرتے ہیں اور اس سے ملکر فخر محسوس کرتے ہیں!
بیشک اللہ جسے چاہے عزت دیتا ہے۔