To the disappointed followers of PTI:
There is nothing to be disappointed in yesterday Hospital Transfer Saga. This is why:
1. Most important news- Imran Khan was alive and physically in shape. It matters most to me. Hell with the rest of the politics.
2. The Government committed a blatant court violation by taking him to PIMS and not allowing Dr Faisal Sultan to be part of the medical board. A strong base for Contempt of Court even if theoretical.
3. The narrative of "Deal and Dheel" by many pro-establishment journalist like Ghareeda Farooqi was done and dusted.
4. The propaganda related to the interview of Zulfi Bukhari to Reuters regarding "Imran khan if freed will change narrative about Establishment and the Army chief" was also buried in the darkness of Islamabad.
5. The hatred of the people against this government and the establishment proliferated as they were deceived while showering flowers and petals on the roads to the the Shifa Hospital. This will help the upcoming street movement on Sep 27.
6. This deception further alerted the international media and forums about the ill-faith of the government that whet were they hiding by not taking him to a Private hospital when he was already taken out of the jail.
7. The whole drama will help the quicker formation of the opposition alliance in the parliament.
So, cheer up. Imran khan even transferred to Shifa Hospital would not have stayed there longer as his beloved wife was sick and incarcerated back in Adiala; he would never leave her alone there.
I see a ray of hope in all this darkness of night of 21 Aug. So cheer up as
" میرا یار زندہ - صحبت باقی"
-----------------------------------------------------
@MoeedNj@ryangrim@MarioNawfal@soulful7867@MirMAKOfficial@mehdirhasan
بہادر لوگ لڑتے ہیں آپ نعرے لگاتے ہیں رہا کرو رہا کرو عمران خان کو رہا کرو۔۔آپ کے کہنے پر وہ رہا کر دیں گے؟
جو ظالم لوگ ہوتے ہیں اُن کے خلاف لڑنا پڑتا ہے۔۔اِس دھرتی پر عمران خان جتنا بہادر لیڈر پہلے کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔۔
مظہر برلاس
@mazhar_barlas
عمران خان کے طبی معاملات پر عالمی سطح پر فوری اپیل دائر
سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کا الزام
محمد و احمد آئینی کارپوریٹ و ٹیکس وکلاء کی اقوام متحدہ سے رجوع
عمران خان کی صحت میں بگاڑ عالمی انسانی حقوق اداروں کو تشویش سے آگاہ کر دیا گیا
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر اور ورکنگ گروپ برائے من مانا حراست کو اپیل
متعلقہ UN Special Rapporteurs اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے بھی فوری مداخلت کی درخواست
سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی
سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کثیرالجہتی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا مطالبہ
ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو طبی معائنے اور علاج میں شامل کرنے کی ہدایت
عمران خان کے مکمل طبی ریکارڈ فراہم کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم
ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں اور ہفتے میں دو مرتبہ بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے کی ہدایت
سپریم کورٹ کے واضح احکامات پر مکمل اور فوری عملدرآمد کا مطالبہ
عمران خان کی صحت کے حوالے سے مزید تاخیر ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے
زیر حراست شخص کو طبی سہولیات کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے
عمران خان کو سیاسی نہیں خالصتاً طبی بنیادوں پر علاج فراہم کیا جائے عالمی اپیل
جیل میں مطلوبہ علاج ممکن نہ ہو تو فوری طور پر ماہر طبی مرکز منتقل کیا جائے
عمران خان کے علاج میں کسی سیاسی یا انتظامی مداخلت کی گنجائش نہیں
آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10، 10A، 14 اور 25 کے تحفظات کی نشاندہی
عمران خان کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی اداروں سے فوری کردار ادا کرنے کی اپیل
سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ عالمی انسانی حقوق اداروں کے سامنے پہنچ گیا
عالمی اداروں سے حکومت پاکستان اور جیل حکام سے فوری جواب طلب کرنے کی درخواست
عمران خان کی صحت، علاج، اہل خانہ سے رابطے اور قانونی رسائی کی نگرانی کا مطالبہ
گھمبیر طبی صورتحال میں فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں عالمی اداروں سے اپیل
بین الاقوامی اپیل کا مقصد فوری انسانی حقوق مانیٹرنگ اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانا ہے
عمران خان کے معاملے پر ملکی قانونی کارروائی کے ساتھ عالمی سطح پر بھی آواز بلند کر دی گئی
@UNHumanRights@volker_turk@UN_HRC@UN_SPExperts@amnesty@amnestypress@UN@GovtofPakistan@CMShehbaz@GovtofPunjabPK@MaryamNSharif@TararAttaullah@KhSaad_Rafique@MIshaqDar50
میرا بطور چیئرمین اب حق نہیں بنتا کہ میں اس ہاؤس میں آپ کیساتھ رہوں نہ ہی یہ باقی بیٹھے میری ساتھیوں کا بنتا ہے , میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں میں اپنے ووٹرز کا سامنا نہیں کرسکتا کیونکہ جس شخص کے نام اور بل بوتے پر ہم سب آئے ہیں اسکے ساتھ جس طرح کا سلوک ہو رہا ہے اور اس پر ہمیں کونے میں لگا دیا گیا ہے ۔
قائمقام چیئرمین گوہر علی خان
"مجھے بار بار کہا کہ یہ بہت ظلم کررہے ہیں ، جیل میں جو ڈاکٹرز آئے نے کہا کہ یہ بیماری نہیں human contact نہ ہونے کی وجہ سے ہورہا ہے دو دن اخبار دیا پھر بند کردیا،عمران خان کی ایک آنکھ پر پٹی لگی ہوئی تھی"۔ڈاکٹر عظمیٰ خان
"عدلیہ کی توہین ہم نہیں کر رہے اس حکومت نے کی جنہوں نے ججز کے فیصلے کو اٹھاکر ردی کی ٹوکری میں پھینکا، ہم نے تو صرف عوام کو وہ دھوکہ بتایا جو ہمارے ساتھ ہوا"۔وزیراعلی سہیل آفریدی
سپریم کورٹ نے اپنے آرڈر میں میڈیکل رپورٹس پر بات کرنے سے منع کیا تھا۔ نہ میڈیکل رپورٹس فیملی کو ملیں اور نہ فیملی نے اور نہ ہی خان صاحب کے ڈاکٹرز نے ان پر کوئی بات کی۔