ٹرنک اور پیٹیاں بنانے والے بھائیوں تک یہ پیغام پہنچاو کہ جب بھی ٹرنک یا پیٹی بناو تو اسکی کنڈی الٹی لگاو،کیونکہ الٹی کنڈی ٹرنک یا پیٹی کے بند ہونے پر خود بخود بند نہیں ہوگی،جس سے ان معصوم بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں جو کھیل کود میں ان ٹرنک اور پیٹیوں میں چھپ کر جانیں گنوا دیتے ہیں۔۔
Imam killed after being thrown from moving train in India
Maulana Tousif Raza Mazhari was found dead near railway tracks close to Bareilly on April 26.
While railway authorities termed it an "accidental fall" from a moving train, his family alleged he was assaulted and thrown off during the journey.
His wife, Tabassum Khatoon, claimed she witnessed the attack on a video call, during which he said a group of intoxicated men had caught him, abused him and accused him of theft.
After an audio recording of the call was widely circulated online. In the 32-second audio, Mazhari was heard purportedly saying: “Tabassum, call the cops immediately, these people are thrashing me badly.”
Tabassum said, “When I told my husband to seek help from other passengers, he replied that no one came forward to help.”
Mazhari, an imam and madrasa teacher from Kishanganj, had travelled to Bareilly to attend a religious event.
*"کوڑے سے کرن تک" - چھوٹے شاہد اور باجی ڈاکٹر کی کہانی*
*1. کراچی کا کچرا کنڈی اور 9 سال کا شاہد*
لیاری، کراچی۔ 9 سال کا شاہد۔ قد اتنا کہ کچرے کے ڈرم میں جھانکنے کے لیے اینٹ پر کھڑا ہونا پڑتا۔ باپ نشے میں مر گیا تھا۔ ماں لوگوں کے گھر برتن مانجھتی تھی۔
گھر میں ایک ہی خواب تھا: 17 سالہ بڑی بہن *سدرہ* ڈاکٹر بنے۔ سدرہ 12ویں میں اول آئی تھی۔ دماغ کمپیوٹر جیسا، مگر فیس کے پیسے نہیں تھے۔
صبح 5 بجے شاہد بوری لے کر نکلتا۔ کچرا کنڈی، گلی، دکان۔ پلاسٹک، لوہا، گتا چنتا۔ شام کو کباڑیے کو بیچ کر 80-100 روپے ملتے۔
*2. باجی کی کتابیں اور بھائی کی بوری*
سدرہ کا میڈیکل کا داخلہ ہو گیا۔ فیس 2 لاکھ سالانہ۔ ماں رو پڑی: "بیٹا، معاف کر دے۔ ہم غریب ہیں۔"
شاہد نے ماں کی گود میں سر رکھا۔ "امّی، آپ روؤ مت۔ باجی ڈاکٹر بنے گی۔ میں ہوں نا۔"
اگلے دن سے شاہد نے 2 شفٹیں لگائیں۔ صبح 4 سے 8 کچرا۔ پھر اسکول۔ شام 4 سے رات 10 بجے تک پھر کچرا۔ رات کو اسٹریٹ لائٹ کے نیچے بیٹھ کر خود بھی پڑھتا۔
سدرہ روتی، "چھوٹے، تو پڑھ لے۔ میں کام کر لیتی ہوں۔"
شاہد ہنستا، "باجی، دو دماغ خراب کرنے سے بہتر ہے ایک ڈاکٹر پکا بن جائے۔ تو بس پڑھ۔"
*3. سردی، طعنے اور ضدی بھائی*
سردیوں کی رات۔ شاہد کو بخار 104۔ مگر وہ بوری لے کر نکلا۔ کباڑیا بولا، "مر جائے گا پاگل۔"
شاہد بولا، "چچا، میری باجی کے ہاتھ میں اسٹیتھوسکوپ ہوگا تو ہی میرا بخار اترے گا۔"
محلے والے طعنے مارتے: "کچرے والا، بہن کو ڈاکٹر بنائے گا؟ خواب دیکھ۔"
شاہد جواب نہ دیتا۔ بس روز شام کو سدرہ کی فیس کے پیسے گنتا اور شکر کرتا۔
*4. 8 سال بعد، سول ہسپتال*
8 سال گزرے۔ شاہد اب 17 کا ہو گیا۔ خود میٹرک میں اول آیا۔ لیکن کالج نہیں گیا۔ "باجی کا فائنل ایئر ہے۔"
نتیجہ آیا۔ سدرہ MBBS میں ٹاپ کیا۔ پورے کراچی میں نام۔ اخبار میں فوٹو: "کچرا چننے والے کی بہن بنی ڈاکٹر"۔
سول ہسپتال میں پہلی نوکری۔ پہلی تنخواہ 85 ہزار۔ سدرہ نے لفافہ شاہد کے ہاتھ پر رکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
"یہ تیرے کچرے کی کمائی ہے چھوٹے۔ میرے ہاتھ میں جو اسٹیتھوسکوپ ہے نا، اس کی ڈور تیری بوری سے بندھی ہے۔"
*5. آج*
آج *ڈاکٹر سدرہ* لیاری میں "شاہد کلینک" چلاتی ہے۔ غریبوں کا مفت علاج۔
اور شاہد؟ اس نے کچرا چننا نہیں چھوڑا۔ اب اس کی اپنی کباڑی کی دکان ہے۔ 20 بچے اس کے پاس کام کرتے ہیں۔ شرط ایک ہی: "دن میں 2 گھنٹے میری دکان پر پڑھو گے۔ فیس میں دوں گا۔"
دیوار پر ایک فریم لگا ہے۔ ایک طرف سدرہ کی ڈگری، دوسری طرف شاہد کی پھٹی ہوئی بوری۔
*"کوڑے سے کرن تک کا سفر۔ محبت ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے۔"*
شاہد کہتا ہے: "لوگ کہتے ہیں میں نے بہن کو ڈاکٹر بنایا۔ سچ یہ ہے کہ باجی کے خواب نے مجھے انسان بنایا۔" کاپی
کراچی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ پاکستانی نژاد ٹیک انٹرپرینیور صالح آصف کی شریک بنیاد کردہ اے آئی اسٹارٹ اپ Cursor عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، کیونکہ SpaceX نے کمپنی کو 60 ارب ڈالر میں خریدنے کا آپشن حاصل کر لیا ہے۔ اگر خریداری مکمل نہ ہوئی تو SpaceX کمپنی کے ساتھ 10 ارب ڈالر کی شراکت داری کرے گی۔ (Reuters)
Cursor ایک جدید AI کوڈنگ ٹول ہے جو سافٹ ویئر ڈویلپرز کو کوڈ لکھنے، ایڈٹ کرنے اور خودکار انداز میں پروگرامنگ میں مدد دیتا ہے۔ دنیا بھر کی ہزاروں کمپنیاں اور لاکھوں ڈویلپرز اسے استعمال کر رہے ہیں، جن میں Nvidia، Adobe، Uber، Shopify جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔ (Dawn)
صالح آصف کا تعلق کراچی سے ہے۔ انہوں نے Nixor College سے تعلیم حاصل کی، بعد ازاں MIT (Massachusetts Institute of Technology) میں داخلہ لیا، جہاں انہوں نے اپنے تین دوستوں کے ساتھ مل کر Anysphere نامی کمپنی قائم کی، جس نے بعد میں Cursor تیار کیا۔ (Dawn)
فوربز کے مطابق صالح آصف کا نام 2026 کی ارب پتی شخصیات کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے، اور ان کی تخمینی دولت 1.3 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ (Forbes)
Cursor کی تیز رفتار کامیابی نے اسے دنیا کی نمایاں AI کمپنیوں میں شامل کر دیا ہے، جبکہ SpaceX کے ساتھ ممکنہ معاہدہ پاکستانی ٹیلنٹ کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
اس دس سال کے بچے کو پچھلے ہفتے اسرائیلی اغوا کر کے لے گئے تھے۔
کل اس کی لاش واپس کردی۔
فقط دس سال کا بچہ۔ فقط دس سال کا۔
ہے کوئ اس دُنیا میں جو اسرائیلیوں کو لگام ڈال سکے ؟ ہے کوئ ؟ https://t.co/761JyTI2KR
اس نوجوان کو اپنوں سے ملاتے میں مدد کریں
انکو اپنا نام تک یاد نہیں ہے
والد ٹوکری بنانے کا کام کرتا تھا
بھائی کو الٹے ہاتھ پر کتے نے کاٹا تھا
گھر پاس اس سادہ سا اسکول بنا ہوا تھا
کراچی میں کسی رشتےدار کے پاس ملنے آتے تھے۔
بس اللہ کا نام لیں اور شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
23 April 2026
#waliullahmaroof
ایک چھوٹی سی لڑکی کو اسرائیلیوں نے گولی مار کر شہید کردیا۔ اُس کی لاش کے ساتھ اُس کا بڑا بھائی بیٹھا ہوا ہے۔
یہ بچی فقط پانی لینے گئی تھے۔ اُس کے پانی لینے والا ڈِبّہ بھی قریب ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس خبیث اسرائیل کی ٹرمپ دو دن پہلے تک خوشی سے تعریف کررہا تھا۔ ہم اٗس ٹرمپ کا یقین کریں ؟
چینی پروفیسر نے دعوی کیاہے کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد والوں نے مجھے PhD تھیسز کیلیے ہائر کیا۔ تمام کام مکمل ہونے کے بعد مجھے ایک ٹکا نہیں دیاگیا۔
وہ بیچارہ تمام متعلقہ لوگوں سے رابطہ کی کوشش کررہاہے لیکن کوئی جواب نہیں!
افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس نے نہ صرف یہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی بلکہ باقی بین الاقوامی پروفیسرز کو متنبع کیا ہے کہ پاکستان کی اس یونیورسٹی سے ڈیل کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچیں!
ماشاءاللہ پوری دنیا میں ہمارے چرچے ہوں گے
پاکستان اسٹیل ملز میں اربوں کی منظم چوری کی ایف آئی اے کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت پر ایف آئی اے نے فوری انکوائری کا آغاز کیا اور ابتدائی تحقیقات میں اہم شواہد حاصل کرلیے، تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ اسٹیل ملز سے قیمتی مشینری، کیبلز، اسکریپ مواد اور دیگر اہم انفرااسٹرکچر کو بغیر کسی گیٹ پاس کے مسلسل باہر نکالا جاتا رہا تھا جو سکیورٹی اور ڈی ایس ایف اہلکاروں کی غفلت یا ممکنہ ملی بھگت کی واضح نشاندہی کرتا ہے، مزید برآں 36 ٹن سرکاری مٹیریل سے لدے 22 وہیلر ٹریلر کی برآمدگی نے اس منظم نیٹ ورک کی وسعت کو بے نقاب کردیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں ایک مربوط گروہ کے ذریعے کی جا رہی تھیں جس میں اندرونی ملازمین، سکیورٹی اسٹاف اور اسکریپ ڈیلرز کے مابین گٹھ جوڑ شامل تھا۔
#TOKAlert #PakistanSteelMills
سندھ حکومت نے عوام کےٹیکس کے پیسے سے 12 ارب حب کینال پر ضائع کر دیے۔ ڈیزائن اور تعمیراتی خامیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ مکمل ناکام ہو گیا۔
اب وہی پرانا کینال جو 1980 کی دہائی میں بنایا تھا، اسے بحال کر دیا گیا ہے اور وہ پرانا کینال آج بھی زیادہ موثر اور بہتر ثابت ہو رہا ہے!
کچھ دن پہلے مئر صاحب نے بار بار کوشش کی کہ اس “نئے حب کینال منصوبے ناکامی کی خبر کو جھٹلائیں،
ان کے دَلارے KMC اکاؤنٹ نے اس خبر کو چلانے والوں کو منافق اور جھوٹا کہا۔ آج یہ خبر دوبارہ سے اخباروں کی زینت بن گئی ہے۔اب ایسا کریں ان اخبار والوں کے دفاتر بھی “سیل” کروادیں۔
اس سے پہلے 34 میں سے کسی گورنر نے اپنے سیاسی رہنما کی تصویر اپنے آفس میں کبھی نہیں لگائی ۔ جو چودہ سال رہے انہوں نے کبھی اپنے بانی 🤐 کی بھی تصویر نا لگائی کیونکہ ریاستی دفتر کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ اور یہ دفتر ہے گورنر ہاؤس کا باغیچہ بھی نہیں ہے
ویسے ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن گورنر ہاؤس خالد مقبول صدیقی کی آمد پر موجودہ گورنر سندھ کے دوست چند عیار مکار وکلاء نے درخواست لگائی کہ گورنر ہاؤس ریاست کا مقدس ادارہ ہے یہاں سیاسی ایکٹیویٹی نہیں ہوسکتی تو پوچھنا یہ تھا کہ نواز شریف صاحب کی تصویر سیاست نہیں تو حصول برکت کے لیئے لگائی ہے اب کوئی وکیل بھی نہیں بولے گا کیونکہ یہاں وکیل پیٹی بند بھائی ہے جس سے پیپلز پارٹی کی سیٹنگ اچھی ہے
1986 میں بھارت کا ایک پانچ سالہ بچہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ریلوے اسٹیشن پر تھا۔ وہ ایک بینچ پر بیٹھا بھائی کے واپس آنے کا انتظار کرتے کرتے سو گیا۔ مگر اس کا بھائی کبھی واپس نہ آیا۔
جب وہ جاگا تو اپنے بھائی کو ڈھونڈتے ہوئے ایک خالی ٹرین کے ڈبے میں جا پہنچا، یہ سوچ کر کہ شاید وہ اندر ہو۔ وہاں وہ دوبارہ سو گیا۔
جب آنکھ کھلی تو دروازے بند تھے، اور ٹرین چل چکی تھی۔
یہ ٹرین تقریباً دو دن تک نہ رکی۔ جب آخرکار رکی، تو وہ بچہ کولکتہ پہنچ چکا تھا، اپنے گھر سے تقریباً 1500 کلومیٹر دور۔
وہ اتنا چھوٹا تھا کہ اپنا پورا نام بھی نہیں جانتا تھا، نہ پڑھ سکتا تھا، نہ اپنے شہر کا نام بتا سکتا تھا۔
ہفتوں تک وہ اکیلا سڑکوں پر بھٹکتا رہا۔ کبھی اسٹیشن کی بینچوں کے نیچے سوتا، کبھی بچے کھچے کھانے سے پیٹ بھرتا۔ آخرکار اسے ایک یتیم خانے پہنچا دیا گیا، اور اسے لاپتہ بچہ قرار دے دیا گیا۔ کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کہاں سے آیا تھا۔
کچھ عرصے بعد آسٹریلیا کے جزیرے تسمانیہ سے ایک جوڑے نے اسے گود لے لیا۔ انہوں نے اسے محبت بھرا گھر دیا، نئی زندگی دی، اور اس کا نام سارو بریئرلی رکھا۔
وہ دنیا کے دوسرے کنارے پر بڑا ہوا، مگر اپنے ماضی کو کبھی نہ بھولا۔
اس کے ذہن میں بچپن کی چند دھندلی تصویریں ہمیشہ زندہ رہیں:
ایک ریلوے اسٹیشن کے قریب پل، پانی کی ٹینکی، گلیوں کا نقشہ، اور اپنے گھر والوں کے چہرے۔
جب وہ پچیس برس کا ہوا تو اسے Google Earth ملا۔
اس نے اندازہ لگایا کہ ٹرین دو دن میں کتنی دور جا سکتی تھی۔ پھر کولکتہ کے گرد نقشے پر ایک دائرہ بنایا، اور اس دائرے میں آنے والی ہر ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ شہروں کو دیکھنا شروع کیا۔
کئی ہفتوں تک وہ تیس تیس گھنٹے سیٹلائٹ تصاویر میں گھورتا رہتا، صرف اس امید میں کہ کوئی منظر اس کی یادوں سے مل جائے۔
اس کے آسٹریلوی گھر والوں کو بھی معلوم نہ تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ وہ بس انٹرنیٹ دیکھ رہا ہے۔
پھر 2011 میں، برسوں کی تلاش کے بعد، اچانک اسے وہ سب نظر آیا۔
ایک پانی کی ٹینکی۔
ایک پل۔
اسٹیشن کے بعد ایک نالہ۔
یہ کھنڈوا شہر کا علاقہ گنیش تلائی تھا۔
اس نے نقشے پر زوم کیا… اور وہ سڑکیں پہچان لیں، جن پر وہ بچپن میں چلا کرتا تھا۔
وہ فوراً بھارت گیا، شہر کی گلیوں میں گھومتا ہوا اپنے گھر تک پہنچا۔ دروازے پر زنجیر لگی تھی۔ اسے لگا شاید بہت دیر ہو چکی ہے۔
پھر چند لوگ باہر آئے، اور ان میں سے ایک اسے ایک عورت کے پاس لے گیا۔
وہ اس کی ماں تھی۔
25 سال بعد ماں اور بیٹا ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔
مگر اس لمحے اسے ایک اور سچ معلوم ہوا۔
اس رات جس بھائی کا وہ اسٹیشن پر انتظار کر رہا تھا، گڈو، وہ ٹرین کی زد میں آ کر اسی رات وفات پا گیا تھا۔
اس کی ماں نے پچیس سال دونوں بیٹوں کو ڈھونڈا۔
ایک کے بارے میں جان لیا۔
دوسرے کے لیے دعا کرنا کبھی نہ چھوڑی۔
سارو کی یہ حیرت انگیز کہانی بعد میں کتاب A Long Way Home بنی، اور پھر اسی پر فلم Lion بنائی گئی، جسے چھ اکیڈمی ایوارڈ نامزدگیاں ملیں۔
جب پاکستانیوں کو ہم نے بارہا بتایا تھا کہ تمہیں غلام بنانے کیلئے 2015 سے کام ہورہا ہے "ون ورلڈ ون گورنمنٹ" پر پاکستان کا طاقتور طبقہ اس شرط پر راضی ہوا کہ یہاں "مالک انھیں ہی رکھا جائیگا اور عوام غلام ہونگے" طاقتور طبقہ کا خیال تھا کہ عمران خان کا سسرال یہودی وابستگی رکھتا ہے تو وہ اس شیطانی منصوبہ کی حمایت کریگا لیکن الٹ ہوگیا عمران خان نے اپنی سیاست کو یہودی تعلقات سے علیحدہ کرتے ہوئے امریکی اور یہودی لابی کی بالادستی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کو ایک آزاد خارجہ پالیسی کا حامل ایک فلاحی اسلامی ریاست بنانے پر کام شروع کیا جسکی وجہ نہ صرف انکی حکومت گرادی گئ بلکہ انھیں نشان عبرت بنایا گیا میں اس حوالے سے مسلسل خبردار کرتا رہا ہوں کہ پاکستان کی عوام کو غلام بنانے کیلئے پاکستان کے طاقتور طبقہ اور سیاستدان اپنے عالمی یہودی آقاوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیا ہے اب انہی کے اشارے پر کام کررہے ہیں اسی لئے ایک منظم پروگرام کے تحت پاکستان کے عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری میں مبتلا کرکے اس حال پر لایا جارہا ہے جہاں عوام ہر چیز سے لاتعلق ہوکر صرف ایک وقت کی روٹی کیلئے مجبور ہوجائیں قوم کے لفافی تجزیہ نگار کہتے تھے فیصل صاحب ایسا کچھ نہیں ہے ملک ترقی کریگا کیونکہ عاصم منیر اور شہباز نے حقیقی یہودی ایجنٹ کو جیل میں ڈال دیا ،،، اب ملک کی ترقی ایسی ہوئی کہ 27 ویں ترمیم کے ذریعے چیف صاحب عوام کے زمینی خدا بن گئے 25 کڑوڑ عوام کی سیاست ، معیشیت حتی کہ ایمان بھی انکے اختیار میں چلا گیا اور ہم کفار کے حمایتی اور سہولتکار بن گئے اب کل پاکستان کی معیشت کو وزیر خزانہ نے روتھ شیلڈ خاندان ( اشکنازی یہودی بینکنگ خاندان) کے حوالے کردیا ،،، کیونکہ یہودی ایجنٹ عمران تھا ۔۔ کیا اب بھی جہلا پر مشتمل ہجوم یہ ہی سمجھے گا کہ یہودی ایجنٹ عمران خان ہی ہے ۔۔۔۔ ؟
نندی پور پراجیکٹ/57 ارب کی 95 میگا واٹ بجلی
آپ کو علم ہے کہ ن لیگ کا مشہور زمانہ نندی پور پاور پراجیکٹ جو 57 ارب میں مکمل ہوا اس نے اب تک کتنی بجلی پیدا ہوئی ہے؟
95 میگا واٹ جی صرف 95 میگاواٹ اور یہ منصوبہ نواز شریف کے دور میں چلنے کے پانچ روز بعد ہی بند ہوگیا تھا اور تب سے ابتک بند ہے۔پراجیکٹ کی مشینری فرنس آئل کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی اور اسے گیس پر بھی چلایا جا سکتا تھا مگر انجینئرز نے پلانٹ کو کروڈ آئل سے چلانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ٹربائن صرف پانچ روز چلنے کے بعد تباہ ہو گئی۔اس سے پیدا ہونے والی بجلی تب 42 روپے فی یونٹ میں پڑنی تھی۔ن لیگ ایسے پراجیکٹ کو ترقیاتی پراجیکٹ کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اسکا ٹھیکہ ایک چینی بلیک لسٹ کمپنی کو دیا گیا تھا۔
احسن اقبال آپ کی ساری زندگی جھوٹ پر مبنی ہے۔ میں نے وقت لیا آپ کو جواب دینے میں۔ کچھ لحاظ کے تقاضے تھے۔ مگر اب جواب دے رہا ہوں۔ نواز شریف کی جس ترقی کے سفر کا ڈھول آپ پیٹ رہے ہیں اس نے ملک کو تباہ کر دیا۔ آج پاکستان اس قرضوں کے جال میں ان کی غلط پالیسی اور آپ جیسے پلاننگ کے مشیروں کی وجہ پھنسا ہوا ہے۔ دو پراجیکٹ جس کے لیے وہ کریڈٹ مانگتے ہیں وہ پاکستان کا ناسور تھے۔ پہلا لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے پہلے نوے کی دہائ اور پھر اپنی تیسری گورنمنٹ (2014-15) میں کیے آئ پی پی کے کرپٹ معاہدے تھے۔ اس میں ریاست کا مفاد نہی دیکھا گیا اور ان سیٹھوں کو جو یا رشتہ دار تھے یا پارٹنر نوازا گیا۔ اب بھی ہم ان کو دو ہزار ارب سالانہ سے زیادہ منافع دے رہے ہیں چاہے وہ اک یونٹ بھی بجلی نہ بنائیں۔ چھیالیس ہزار میگا واٹ بجلی کی کہیسیٹی ہے مگر پچیس بھی نہی بنا پا رہے۔ اس جرم کا کون زمہ دار ہے۔ دوسرا جو سڑکوں کا جال بنانے کا تمغہ لیا جاتا ہے۔ مودی نے اسی ہزار کلومیٹر سڑکیں بھارت میں بنائیں مگر اپنے پیسے سے۔ ہم نے اس کے مقابلے بہت کم بنایا مگر ڈالر کے قرضے میں۔ میں مال بنانے کا الزام نہی لگا رہا مگر ملک اس وقت ان دو بڑے پراجیکٹ کی وجہ سے قرضے کے جال میں پھنسا ہے۔ ہمارا ڈیبٹ یعنی قرضہ بحران جس سے ہمارا کرنٹ اکائونٹ، تجارتی اور بجٹ خسارے جنم لیتے ہیں۔ یہ کہنا کہ موقع نہی ملا۔ کتنا موقع چاہیے۔ پچھلے چار سال سے پورا موقع تھا۔ نہ عدالت نہ اپوزیشن نہ پارلیمان نہ میڈیا۔ ایسا موقع تو آمریت میں نہی ملا۔ کیا کیا آپ نے۔ قرضے چتالیس ہزار ارب سے اسی ہزار ارب تک ہو گئے۔ پاکستان کی تاریخ چھوڑیں مونجھوداڑو کے زمانے سے پنتالیس فیصد غربت پانچ دریاؤں کے دھرتی میں نہی دیکھی گئ۔ بائیس فیصد بیروزگاری۔ پچاس سال میں پہلی دفعہ ساری بڑی فصلوں میں گراوٹ۔ اس پر بھی آپ شرمندہ نہی بلکہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہمیں موقعہ نہی ملا۔ اگر میرے کسی خیال سے اختلاف ہو تو میں کئ دفعہ آپ کو ٹی وی پر بلا چکا کہ مجھے غلط ثابت کر لیں۔ محظ پراپیگنڈا نہ کریں۔ مزید جواب پر میں پھر حاظر ہوں۔ اب اس جواب کو کتنا تھراٹل کروائیں گیں۔
This is an astonishing condemnation of Israeli actions on the biggest international political platform with Pakistan calling Israel a ‘serial violator of the UN Charter and int law’.
گوجرانوالہ، تھانہ اروپ کی حدود میں افسوسناک واقعہ
تین سالہ دو سگے بھائی محمد اور مصطفی گھر کے قریب بارش کے پانی سے بنے جوہڑ میں ڈوب کر جان کی بازی ہارگئے۔
معاشرے کو بہتر بنانے کے دو بنیادی اصول:
درگزر کرنا اور عزت دینا۔
ان کے بغیر کوئی بھی رشتہ قائم نہیں رہ سکتا، حتیٰ کہ میاں بیوی کا بھی نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔”
(ترمذی: 1919)
ہماری زمین سے تیل اور گیس دریافت ہو گئی لیکن بااثر لوگوں نے ہماری زندگی اجیرن کردی ہے ۔۔۔۔ اٹک کے گاؤں جنڈ کے غریب شخص کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی حیران کن کہانی ۔۔۔ جنڈ ضلع اٹک کے رہائشی تنویر گل کے بقول ۔۔۔ کچھ عرصہ قبل ہمارے علاقے میں گیس کمپنی پی پی ایل کھدائی کرنے آئی تو ہماری ذاتی ملکیتی زمین سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ۔ علاقہ کے کچھ لوگوں نے ہم سے کوڑیوں کے مول زمین لینا چاہی مگر ہم نے انکار کردیا تو پھر علاقہ پٹواری جاوید اختر نے کچھ غنڈوں اور پولیس کے ساتھ ملکر ہماری زمین پر جعلی کاغذات اور علاقہ پولیس کی مدد سے قبضہ کر لیا ، اس ناانصافی پر میں نے اسسٹنٹ کمشنر اٹک کو درخواست دی انہوں نے جانچ پڑتال کروائی اور اپنی رپورٹ میں مخالفین کے قبضے کو غیر قانونی قرار دے دیا ساتھ ہی پولیس کو ہدایت کی کہ اصل مالکان کو قبضہ واپس دلایا جائے لیکن پولیس کی بااثر لوگوں سے ملی بھگت کی وجہ سے کوئی کارروائی نہ ہوئی الٹا مجھ پر مختلف نوعیت کے چار مقدمات مختلف تھانوں میں درج کرکے مجھے گرفتار کر لیا گیا ۔ 6 دن حراست میں رکھا گیا اس دوران تش۔دد کیا گیا اور زمین کی ملکیت سےدستبردار ہونے اور اس پر قبضے کا کسی فورم پر ذکر نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگرمیں نے انکار کردیا تو پولیس نے جعلی مقدمات میں چالان کرکے جیل بھیج دیا ۔ تنویر گل کے بقول میرے بوڑھے والدین اور بیوی نے بھاگ دوڑ کرکے بڑی مشکل سے میری ضمانت کروائی ۔۔۔۔
تنویر گل نے وزیراعلیٰ مریم نواز سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے ، انکی اہلیہ نے وزیراعلیٰ صاحبہ سے اپیل میں کہا ہے کہ یا تو ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ، ہمارا حق ہمیں دلایا جائے اور ہماری جان کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور یا پھر ہمیں صاف انکار کردیا جائے تاکہ ہم پاکستان چھوڑ کر کسی اور ملک کی طرف رخ کر جائیں ۔