آج تک ہمارے علماء نے سائنس کی inquisition کی روش کو ترک کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ آج تک انہوں نے نہیں سوچا کہ سائنسی نظریات کو عقیدے کی کسوٹی پر پرکھنا غلط ہے۔ ہمارے علماء بلاجھجک سائنس کو عقیدے کے کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں اور ہم ان سے یہ سوال پوچھنے کی جرات نہیں کر سکتے کہ قوم کے ذہنوں کے ساتھ ایسا کھلواڑ کرنے کا حق آپ کو کس نے دیا!!
ن لیگ کو غالبا بدعا ہے کوی, یعنی یا تو اسکی تنقید سے ڈر گئے ہیں اور بھول گئے ہیں کہ یہ صدیق جان لیول کا ہی بے سر و پا کا نقاد ہے یا پھر اسکی موٹی آواز سے گالیاں سن کر متاثر ہوگئے ہیں ورنہ اسکی آفرينش نا ممکنات میں سے تھی_ @KhawajaMAsif@MaryamNSharif
شرابی ملا کے بھائی حسن معاویہ جو اس کے ساتھ مل کر توہین مذہب کا دھندہ چلاتا ہے پر ایف آر درج ہوئی۔
یہ جھوٹے ہیں جھوٹے الزام لگاتے ہیں پولیس ان سے ڈرتی ہے ایف آئی اے ان کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔
ان کی دیدہ دلیری اس خبر سے چیک کریں۔
یہ آج تک گرفتار نہیں ہوا نہ کیس چلا۔
میاں داؤد کے بیان پر افسوس اور ناپسندیدگی والی میری ٹویٹ پر پی ٹی آئی اکاؤنٹس کے گالی گلوچ والےکمنٹس اتنے عجیب تھے کہ اُن کا جواب نہیں دیا جاسکتا تھا .
اس لئے وہ کمنٹس ہائیڈ اور اکاؤنٹس بلاک کرنے پڑے،
اختلاف دلیل اور احترام کےساتھ کریں
ان کی نشاندہی کر کے ان کو گرفتار کریں ان کے شناختی کارڈ پاسپورٹ بلاک کریں اور ان سے اس نقصان کا مکمل خرچہ وصول کریں
اس کو پھیلائیں تاکہ ادارے ان کے خلاف نوٹس لیں
Finally @memphisbarker published the story that we all knew long time ago.
This is Tahir Ashrafi’s British passport that has since been renewed.
Tahir Ashrafi runs the blasphemy business since ages.
He is good cop his brother Hasan Muavia is the bad cop.
Yet they roam freely.
ارباب اختیار سے گزارش۔
چار بار ہارٹ اٹیک سے گزرا ھوں۔
سارا پاکستان جانتا ھے
پانچ مہینوں سےکمر کے مھروں کی تکلیف میں مبتلا ھو ں 77 برس کی
عمر میں بیماریوں سے لڑوں یا مھنگای کےعذاب سے۔
ارباب اختیار کی توجہ کی ضرورت ہے ۔
راشد محمود
پرایڈ اف پرفارمینس۔۔
@MaryamNSharif
عجب کرپشن کی گجب کہانی : کل جیو نیوز پر اور پھر TalkShock پر وزارت خارجہ کی رپورٹ کی روشنی میں بتایا کہ کسطرح عوام سے سرکاری کاغذات کی تصدیق کے لیے مبینہ طور 12 ارب روپوں کا ٹیکہ لگایا گیا ۔اس مبینہ کرپشن میں سیکرٹری خارجہ آفس سمیت دفترخارجہ کے اہم افسران ملوث تھے ۔ آج وہ تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈی جی آڈٹ ڈاکٹر احمد علی سروہی کو پچھلی تاریخ میں معطل کردیا گیا ۔ یعنی جس نے کرپشن کی نشاندہی کی اسے ہی معطل کردیا گیا ۔ کیا اس معاملے میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی خاموشی ان کی نیم رضامندی یا سرپرستی کی علامت تو نہیں ؟ شاید وہ امریکہ کے سفر میں ہوں انہیں پتہ نہ ہو ؟ پھر بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ ایکشن ضرور لیں گے ۔آج کا TalkShock بھی ضرور دیکھیے گا
@CMShehbaz@MIshaqDar50
Saba Mehboob, 21, #Christian woman shot dead in her #Rawalpindi home for rejecting a #Muslim neighbour’s advances. Her teenage brother then abducted & threatened.
Just another day, another atrocity against Christian women in #Pakistan.
https://t.co/Y0W5ymACYA
🚨Silence from @elonmusk@TRobinsonNewEra@RupertLowe10@RealDannyTommo@KemiBadenoch and other Islamophobes on this news:
A former church leader who abused his position of trust to assault young men has been jailed.
John Grant, 77, was sentenced to a total to eight and a half years imprisonment for offences relating to the indecent and sexual assaults of four victims committed between 1970 and 2008. Dominique Burrell, for the Crown Prosecution Service, said: “The way John Grant abused his position as a trusted religious leader to prey on young men in his community was calculated and predatory.
"He targeted teenagers through youth groups, and befriended vulnerable young men in financial hardship - all to create opportunities so that he could assault them. He manufactured these relationships for his own gratification and it would have been clear that none of the victims consented to his sexual touching and inappropriate behaviour.
“Grant’s offending has had a lasting impact on the victims in this case, and I would like to commend them all for speaking about what happened to them. We understand it can be difficult to come forward, but it is because of the strength of their evidence that we have been able to hold him to account.
“I hope his conviction sends a clear message that the CPS will pursue justice and prosecute those who commit sexual offences, no matter how long ago the abuse took place.”
Grant, of Haringey, London, was prosecuted by the Crown Prosecution Service (CPS) following an investigation by the Metropolitan Police.
During the offending period, Grant held senior positions as a Deacon at a Baptist church in the north east of England and, from 1984, at a Baptist church in north London.
Through these roles, he became involved in youth groups, using his position to manipulate teenagers into situations where he could assault and inappropriately touch them.
The defendant also offered help to vulnerable young men who were experiencing financial hardship, before sexually assaulting them.
Grant’s offending was first reported to police in November 2023. During the investigation, further victims and witnesses came forward.
Sadly, one victim had since died. However, the victim had made disclosure of the abuse to someone close to him and prosecutors successfully argued his evidence should be admitted under the hearsay provisions, and his voice was heard as part of the prosecution case.
During the three-week trial, the prosecution presented a meticulously constructed case that drew together multiple strands of evidence which supported the victim’s accounts.
Despite the defendants' denials throughout, the jury found him guilty of 11 counts.
چار نئے بجلی گھروں سے چالیس سال کے معاہدے کر کے نون لیگ پتلی گلی سے نکلی جائے گی اور اگلے چالیس سال بھی بجلی کے معاملے پر آپ لوگ تاوان بھرتے رہیں گے اور یہی اویس لغاری کسی اور حکومت کا وزیر بن کر کہہ رہا ہو گا پچھلی کرپٹ حکومت نے یہ سب معاہدے غلط کیے مگر اب ہم مجبور ہیں
“A Jewish Foreign Secretary Just Announced a Trade Ban on Israeli Settlements. Give Ed Miliband Credit, as the Bad-Faith Attacks on Him Escalate”
In which I argue that charges of antisemitism don’t work against the new UK foreign secretary.
Sorry Israel! https://t.co/2cGJJronq7
مورخ حیران اور پریشان ہے کہ ایڈیٹر نے سرورق پر یہ فقرہ کیوں کندہ کردیا ہے کہ “ بچے مت دیکھیں “
ایڈیٹر تینوں مولا نے لینا ای
https://t.co/KQ3vMgOxsK via @YouTube
کیا یہ ھتھکڑیاں صدیق جان کو لگی تھیں جس نے جنگ کے دوران ریاست مخالف بیانیہ پھیلایا؟کیا کسی ایک یوتھیوبر کو یہ ھتھکڑیاں لگیں جو ریاست مخالف بیانئے پر مستقل لگے ھوئے ھیں؟
صحافی بلال غوری پر مقدمہ قابل شرم ہے۔۔۔۔۔
👇👇👇
ایک لمحے کیلئے مان لیا کہ صحافی بلال غوری نے 1 ہزار فیصد غلط بولا، جھوٹ بولا (حالانکہ وی لاگ میں ایسا کچھ نہیں ہے ، ان کی ٹویٹس میں بھی ایسا کچھ نہیں ہے) لیکن پھر بھی ہر اس شخص کو شرم آنی چاہیئے جس نے بلال غوری جیسے صحافی کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی منظوری دی۔ ایک ایسا صحافی جو مسلسل ریاست کا ساتھ دے رہا ہو، فوج کے اہم فیصلوں پر فوج کے ساتھ کھڑا ہو، فوج کیخلاف پراپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف سوشل میڈیا پر لڑتا ہو۔۔۔۔۔ اس صحافی کو ایک وی لاگ پر مقدمہ درج کر کے اٹھا لینا قابل شرم اور احسان فراموشی کی بدترین مثال ہے۔۔
بلال غوری کیخلاف مقدمے سے ایک سبق یہ بھی سیکھنا چاہیئے کہ فوج اور حکومت کو سوشل میڈیا پر اپنی لڑائیاں خود لڑنی چاہیئے، آپ کی خاطر کوئی کسی سے کیوں مخالفت مول لے؟ آپ کا کیا پتہ کہ آپ ایک غلطی پر فوری آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں۔۔۔ آپ کو ایک غلطی تو نظر آ جائے لیکن 100 دفعہ ساتھ دینا بھول جائے۔۔۔ مطلب آج بھی ہر اس پاکستانی کو آپ سے احسان فراموشی کی توقع رکھنی چاہیئے جو صرف آپ کے دفاع کیلئے سوشل میڈیا پر مخالفتیں لیتا ہے۔۔۔
بلال غوری کیخلاف مقدمہ درج کروانے والوں کو شرم اس لئے بھی آنی چاہیئے کہ میجر جنرل فیصل نصیر صاحب کی نئی ذمہ داری پر بلال غوری کے وی لاگ سے زیادہ جھوٹ، پراپیگنڈا اور سکینڈلائزیشن درجنوں PTI کے حامی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس نے کیا اور یہ ہمیشہ ہی کرتے ہیں لیکن کبھی ریاست کو مقدمہ درج کرنے کا احساس نہیں ہوا۔
بلال غوری کی ایف آئی آر پڑھنے کے بعد میں نے اسکا وی لاگ ایک ناقد کی نظر سے دیکھا یہ جاننے کیلئے کہ اس نے کہاں اور کیا غلطی کی ہے لیکن مجھے اسکی گفتگو بہت متوازن لگی، کوئئ سنسنی خیزی تھی اور نہ ہی توہین عزت کا پہلو، اگر بلال کی بات بھی گراں گزر رہی ہے تو یہ انتہائی تشویش کی بات ہے اگر بلال جیسے لوگوں کی زبان بندی ہو گی تو فیک نیوز پھیلانے والوں کی دکان مزید چمکے گی، یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ مسئلہ حقائق کا نہیں بلکہ حمایت کا ہے کہ جو غیر جانبدار ہوگا اسکا حشر زیادہ بُرا ہوگا، نہ جانے مجھے کیوں ایسے لگتا ہے کہ جس شخص نے بھی یہ مشورہ دیا وہ جنرل صاحب کا دوست نہیں دشمن تھا، بجائے اسکے کہ آج کوئی اور موضوع زیر بحث ہوتا ہم اسے ڈسکس کر رہے ہیں مزید یہ کہ اگر کوئی بات گراں بھی گزری تھی تو اسکا چرچا اب ہر طرف ہو رہا ہے
افسوسناک خبر، بلال غوری رات دو بجے سے لاپتہ ہیں E/11-4 میں رہائش پذیر ہیں اپنے گھر کے گراونڈ فلور کو ہی دفتر بنایا ہوا ہے جبکہ رہائش فرسٹ فلور پر ہے اہل خانہ کو گمشدگی بارے تب پتہ چلا جب وہ گراونڈ فلور سے غائب پائے گئے عینک اور پرس چھوڑ گئے بلال اور اسکے موبائل بارے کچھ پتہ نہیں کہ کون لے گیا ہے انکے قریبی عزیز شالیمار تھانے گمشدگی کی ایف آئی آر کرانے گئے انہوں نے درخواست رکھ لی ہے لیکن پرچہ درج نہیں کیا @mbilalghauri