Maulana Fazlur Rehman has made Imran Niazi a politically dead body in Pakistan.
Now millions of Tariq Jameel, Lafaha Journalist, my body and my will cannot revive him.
#فحاشی_کی_دلالی_نامنظور
مولانا صاحب کی کل والی حقائق پر مبنی بیان کو اسٹیبلشمنٹ اتنا دل پر لے بیٹھی ہیں کہ اس دفعہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی نئی نویلی مریم نواز شریف اور قابل اعتماد مہرے محسن نقوی کو میدان میں اتارنا پڑا۔۔
اب کھیل کا مزہ آئیگا کیونکہ اب ان جیسوں کی تشریفیں لال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#معدنیات_حساب_دو
#ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
پٹواریوں کا الزام ہے کہ مولانا صاحب پی ٹی آئی کو بچانے یا انکی حمایت کر رہے ہیں،تو پٹواریوں سے عرض کہ جب اسٹیبلشمنٹ تمہاری منجھی ٹوک رہی تھی اور تمہاری باجی کے کمرے کے دروازے توڑ رہے تھے تو یہی مولانا صاحب تمہاری حمایت بھی کر رہے تھے،
تو جناب مولانا صاحب کا منشور ہے ہر مظلوم کی حمایت کرنا اور ظالم کی مخالفت،
اور یہاں تو کسی پارٹی کی حمایت یا مخالفت کا سوال ہی نہیں ہے، بلکہ تمہاری پارٹی نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر ایک غیر جمہوری قوت کے حکم پر ایک صوبے میں گورنر راج لگا کر جمہوریت کا جنازہ نکالا ہے،
اب جس مولانا فضل الرحمن صاحب نے جمہوریت پسندی کی سزا میں خود کئیں بار قاتلانا حملے سہے، اپنے ہزاروں ورکرز اور علماء کو شہید کروایا، اب تم پٹواری اس مولانا صاحب سے کیسے امید رکھ سکتے ہو کہ تمہارے اس جمہوریت پر شب خون مارنے والی پالیسی پر تمہاری حمایت کریں گے۔
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#معدنیات_حساب_دو
#ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
Why Different Standards for Different Provinces?
Maulana Fazlur Rehman questioned why emergency measures are being discussed in the context of Khyber Pakhtunkhwa while Balochistan faces serious security challenges of its own. Security policy must be explained through consistent principles, clear objectives and measurable results.
Address by JUI Chief Maulana Fazlur Rehman at the Mufti Mahmood Conference in Multan.
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ #نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا #معدنیات_حساب_دو #ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
Public Resources Must Serve the Public
Maulana Fazlur Rehman raised questions about provincial ownership and the management of natural resources. Any change in administrative authority should be transparent, legally justified and consistent with the interests of local communities. Public wealth must be managed with public accountability.
Address by JUI Chief Maulana Fazlur Rehman at the Mufti Mahmood Conference in Multan.
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#معدنیات_حساب_دو
#ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
رانا ثناء اللہ نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے بیان کی تردید کر دی۔ نون لیگ کی پالیسی بھی عجیب ہے؛ ایک ہاتھ سے مولانا فضل الرحمٰن کو دور دھکیلتی ہے تو دوسرے ہاتھ سے انہیں گلے لگانے کی کوشش کرتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی سیاسی حکمتِ عملی سے اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حلیفوں کو مشکل صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔
محسن نقوی کے الزامات کا پوسٹ مارٹم
________
ن لیگ کے حوالے سے مشہور ہیں کہ جب وہ زیر عتاب اتے ہیں تو فوطے پکڑنے میں بھی دیر نہیں کرتے اور جب ان کو ڈنڈے پر بیٹھا کر آگے کیا جاتا ہے تو ان کے گردن میں سریا آ جاتا ہیں۔۔
محسن نقوی جیسے نوکر آپ کے سگے نہیں ہو سکتے
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#معدنیات_حساب_دو
#ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
مریم نواز صاحبہ! 2013ء کے انتخابات کے بعد آپ کے والد محترم نے اسٹبل��منٹ کے کہنے پر تحریکِ انصاف کو خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کا موقع دیا، حالانکہ مولانا فضل الرحمان صاحب ان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے تھے۔
دہشت گردوں کی پشت پ��اہی کی بنیاد آپ کی جماعت نے رکھی تھی، اس لیے دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی جماعت کی تاریخ بھی یاد رکھیے۔ آپ کی جماعت اور آپ کو اقتدار میں لانے والوں سے ایسے طرزِ عمل کی توقع بعید از قیاس نہیں۔
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#معدنیات_حساب_دو
#ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
��حترمہ مریم نواز صاحبہ، جمعیت علماءاسلام اور ھمارے قائد مولانا فضل الرحمن صاحب نے واضح اور دو ٹوک انداز میں خیبر پختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو سیاست اور جمھوریت کے لیے زھرقاتل سمجھتے ھوئے مخالفت کی ھے اور اسے مسترد کیا ھے لیکن اگر دھشت گردی کے خلاف جنگ ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کا کرائیٹریا تھا تو پھر بلوچستان میں تو بدترین حالات ھیں وھاں کیوں نہیں لگایا گیا؟؟؟
جنرل ضیاءالق مرحوم نے خود کو صدر منتخب کرنے کے لیے ریفرنڈم میں سوال پوچھا تھا کہ اگر آپ اسلام کا نفاذ چاھتے ھیں اور اگر جواب ھاں ھے تو میں صدر ھوں، لگتا ھے رائیونڈ کے محلات ابھی بھی انکی بھٹکتی روح آپ کی ٹویٹ میں آگئی ھے اور آپ نے بھی دھشت گردی کی حمایت ومخالفت کو اسی طرح گورنر راج اور ایمرجنسی سے مشروط کردیا ھے جس طرح جنرل ضیاء نے اسلام کو اپنی صدارت سے مشروط کردیا تھا
جمعیت علماء اسلام کی دی جانے والی شہادتوں اور قربانیوں کا اعتراف تو آپ خود کررھی ھیں اور ھماری لاء ا��فورسمنٹ ایجنسیز کے بعد سب سے زیادہ قربانیں تو جمعیت کی قیادت کا کارکنوں نے دی ھیں تو پھر شہادتوں اور شہیدوں کی عظمت کا سبق ھمیں کوئی اور کیسے پڑھا سکتا ھے
محترمہ مریم نواز صاحبہ ھم جمعیت والے تو اس وقت بھی شہادتیں دے رھے تھے اور افواج کے جوان اس وقت بھی سینوں پر گولیاں کھا رھے تھے جب آپ کے جلسوں میں “یہ جو دھشت گردی ھے “ والے مخصوص نعرے لگتے تھے جب آپ کے والد میاں نواز شریف سرعام فوج کے کردار کو نہ ماننے کی تقرریں کیا کرتے تھے جب آج کے وزیر دفاع خواجہ آصف فوج کا فنڈ بند کرنے کے مطالبے کیا کرتے تھے۔
افواج پاکستان کے سربراہ کے کردار کو ھندوستان کے خلاف جنگ میں اور حرم��ن الشریفین کے تحفظ کے حوالے سے سب سے پہلے میرے قائد مولانا فضل الرحمن صاحب نے سراھا تھا اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ھونے کا اعلان کیا، لیکن آپ نے ان کے کردار کے کیا کیا کہ یہ تک کہہ دیا کہ مجھے ھندوستان سے اتنا خطرہ نہیں جتنا دوسرے صوبوں کے پاکستانی بھائیوں سے ھے اور پھر بھی آپ خیرخواہ اور ھم بدخواہ؟؟
جہاں تک آپ نے KP میں کزشتہ تیرہ سالہ دور اقتدار اور ناکامیوں کی بات کی ھے تو محترمہ یہ سوال تو آپ کو اپنے والد محترم سے پوچھنا چاھئیے کہ انہوں نے مولانا صاحب کی مخالفت کے باجود اس کی بنیاد رکھنے کا سبب کیوں بنے تھے۔
محترمہ آپ لوگوں کو پاکستانی قوم کے سامنے واضح کرنا ھوگا کہ کس بین الاقوامی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے جمھوریت پر شب خون مارا گیا اب آپ لوگ دھشت گردی کے پیچھے نہیں چھپ سکتے جواب تو دینا ھوگا
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#معدنیات_حساب_دو
#ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
مریم بی بی
جنوری سے لیکر جون تک 2014 مین آپکے والد گرامی نے باقاعدہ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کئے ان کے شرائط کو تسلیم کیا معاھدہ کیا اور آپ الزام مولانا صاحب پر لگارہی ہین کہ مولانا صاحب نے دھشتگردوں کے سرپرستوں کی حمایت کی ہے تاریخ کے آئینہ مین اپنا چہرہ دیکھ لیں سیاہی ہی سیاہی نظر آئے گی
https://t.co/xIBRh2wmzq
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#معدنیات_حساب_دو
#ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
پرویز خٹک وزیر اعلی اور اسکی حکومت قبول
محمود خان وزیر اعلی اور اسکی حکومت قبول
علی امین گنڈاپور وزیر اعلی اور اسکی حکومت قبول
ان تینوں کو لائے بھی آپ خود تھے وہ بھی مولانا صاحب کے مقابلہ مین لائے تھے
اب سھیل آفریدی اور اسکی حکومت کیوں قبول نہین یہ سوال اسی مولانا صاحب نے پوچ��ا ہے جس مولانا صاحب کے خلاف آپ ہی اس سھیل آفریدی کو بھی لائے تھے تو اس سوال پر اب آپ کیوں ناراض ہورہے ہیں
ھمت ہے تو جواب دو
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#معدنیات_حساب_دو
#ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
تنخواہ دار بریگیڈ کی جب کبھی شامت آتی ہے تو وہ مولانا کے رضاکاروں کے ساتھ ٹکر لینے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں مولانا کی ملتان میں کی جانے والی گھن گرج کے بعد تنخواہ داروں کے پٹے کھول دیئے گئے مگر دوسری طرف یہ دیکھ لیں کہ مفت میں مورچہ سنبھالنے والوں نے کیا کر دکھایا ۔۔ ٹاپ ٹرینڈنگ دیکھ لیں ۔۔۔ نااہل بریگیڈ کی چھترول مسلسل جاری ہے
کہا بھی تھا ان کو صرف مسجد تک محدود مولوی سمجھنے کی غلطی نہ کریں یہ سوشل میڈیا کے ایسے جنگجو بن چکے ہیں جو ضرورت پڑنے پر مار مار کر عقل ٹھکانے لگا دیتے ہیں
سامنے والوں کو شاید عزت افزائی کا شوق تھا ۔۔لو پھر تھالی بھر بھر کر عزت نوش فرماؤ
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#معدنیات_حساب_دو
#ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
@juipakofficial@MoulanaOfficial@JUIAnswersBack@JUI_NW
جب پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا تو سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کی تائید کی،جب ترکی اس میں شامل ہوا تو اس وقت بھی ہم نے تائید کی، اس لئے کہ جمعیۃ علماء اسلام کا منشور وزارتِ خارجہ کے اصولوں کی روشنی میں ایک اسلامی بلاک کی بات کرتا ہے۔
لیکن وہ راستہ بھی رک گیا، اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ جس ایران اور مصر نے اس اتحاد میں شامل ہونا تھا، وہ سلسلہ رک گیا ہے، اور سعودی عرب پر حملے ہو رہے ہیں،حرمین پر حملے ہوئے ہیں،مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ پر راکٹ آئے ہیں، دو تین دن قبل ریاض میں ہوائی اڈے پر راکٹ آئے اور احرام کے اندر عمرہ کرنے والے لوگ جو قطار میں کھڑے تھے، شہید ہو گئے۔
ایسے حالات میں ہم اس قسم کے جارحانہ حملوں کی مذمت کرتے ہیں، اور سعودی حکومت ہو یا عوام ہم ان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں،حرمین شری��ین کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لیے بھی ان شاء اللہ سب سے آگے ہوں گے۔
ہم نے پارلیمنٹ کا راستہ اختیار کیا ہے اور آج عوام اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ پارلیمانی سیاست، جمہوریت اور عوام کی سیاست کو کون سی قوت سبوتاژ کر رہی ہے،اب یہ مخفی نہیں رہا۔
ایک طاقتور قوت اپنی ذات میں طاقت کے ارتکاز کے ساتھ تمام عوامی اور سول اداروں کے اختیارات اپنے اندر مرتکز کرنے کی کوشش کر رہی ہے،یہ روش ٹھیک نہیں ہے۔
جو طاقت ور قوتیں زیادہ اختیارات اپنے کندھوں پر لاد رہی ہیں ان پر وہ وقت بھی قریب ہے جب یہ خود اس دباؤ کے نیچے دب جائیں گے اور اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکیں گے۔
ملکی سیاست میں ہم توازن کے قائل ہیں،ہم کسی کی نفی نہیں کر رہے،فوج کا ادارہ بھی ناگزیر ہے، بیوروکریسی بھی ناگزیر ہے اور پارلیمانی و جمہوری سیاست بھی ناگزیر ہے،لیکن تمام اداروں کے درمیان توازن ہونا چاہیے،تب جا کر ملک چلے گا اور استحکام آئے گا۔
شہباز شریف صاحب کے ساتھ صبح سات بجے ملاقات ہوئی،میں نے تفصیلی بات کی،انہوں نے میرے استدلال کو تسلیم کیا پھر نو بجے دو گھنٹے کے اندر اندر وہ پھر گئے،ایسے مجبور حکمران ہیں، وہ جس گھوڑے پر سوار ہیں اس کی لگام ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔
آپ جعلی حکومت ہیں، آپ ہارے ہوئے لوگ ہیں، جو لوگ آپ کو دھاندلیوں کے ذریعے اقتدار میں لائے ہیں یہ کرسی ان کی مرہون منت ہے اور آپ حق نمک ادا کر رہے ہیں اور کچھ نہیں ہے۔
آج ہمیں ان تمام حالات کی طرف دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اس ملک اور وطن عزیز کو ان کے حوالے کر دیں؟ جیسے چاہیں ہماری قسمت کے ساتھ کھیلتے رہیں گے، جس طرح چاہیں ہمارے نظام کو تل چٹ کرتے رہیں گے، ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا اور میں یہ واضح طور پر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ:
ابھی آنکھوں کے شمعیں چل رہی ہیں، پیار زندہ ہے
ابھی مایوس مت ہونا، ابھی بیمار زندہ ہے
ہزاروں زخم کھا کر بھی میں ظالم کے مقابل ہوں
خدا کا شکر ہے، اب تک دل خوددار زندہ ہے
کوئی بیعت طلب جا کر خبر دے کہ میں زندہ ہوں
جب تک جرات انکار زندہ ہے
پاکستان پیپلز پارٹی جو کہتی ہے کہ جمہوریت میری شناخت ہے، جس جماعت کی شناخت جمہوریت ہے اسی نے سن 1970 کے الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا،اسی نے بنگال کی اک��ریت کو تسلیم نہیں کیا،اسی نے بٹے ہوئے پاکستان کے اندر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا اور صوبہ سرحد میں راتوں رات گورنر کو تبدیل کر دیا اور اس کے نتیجے میں مولانا مفتی محمود تھے جس کے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ ایک لمحے کے لیے بھی مزید حکومت جاری رکھی جائے اور اپنی وزارت کے منصب سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا،جب بھی کسی صوبے میں گورنر راج لگا ہے تو یہ جمہوریت کی علم بردار پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے نامدار سربراہ آصف زرداری ہی کی قسمت میں آیا۔
آئین چاروں صوبوں کی خودمختاری کی بات کرتا ہے،فیڈریشن کے تحت تمام صوبے اپنے وسائل پر اختیار رکھتے ہیں،اپنی قانون سازی پر اختیار رکھتے ہیں،آئین صوبوں کے عوام کو اختیار دیتا ہے اور ہر صوبے کے وسائل پر وہاں کے عوام وہاں کے بچوں کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن جب بھی دیکھا صوبوں کے اختیار پر شب خون مارا گیا ہے
آج ایک بار پھر صوبہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج نافذ کیا گیا ہے،ایک صوبہ ہے آدھے میں گورنر راج اور آدھے میں ایمرجنسی ہے،دو ہزار سترہ میں جب فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جا رہا تھا تو ہم نے ایک اختلاف رائے کیا تھا کہ فاٹا کے عوام سے پوچھا جائے، لیکن فاٹا کے عوام سے نہیں پوچھا گیا،میاں نواز شریف صاحب کے ذہن میں انضمام فاٹا عوام کے فائدہ میں تھا، آخرکار وہ صوبہ بن گیا اس صوبہ کے پہاڑ اور اس پہاڑوں کے نیچے معدنی ذخائر زخائر وہ صوبہ خیبر پختونخوا کی ملکیت بن گئے، انضمام کے بعد ان تمام ذخائر اور وسائل پر صوبہ کے عوام کا حق ثابت ہو گیا، آج کیا وجہ ہے کہ پورے صوبہ میں گورنر راج نہیں لگایا جا رہا اور صرف قبائلی علاقہ سابق فاٹا اور چار ضلعے صرف یہ بتانے کے لیے،یہ دھوکہ دینے کے لیے قوم کو کہ یہاں تو بدامنی ہے، اگر بدامنی ہی وجہ ہے تو آج کل تو آپ کو کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں زبردست مار پڑ رہی ہے اس کو کیوں باہر رکھا ہے؟
آپ کی چوری ہم جانتے ہیں، بدامنی کی بات کرتے ہو، دہشت گردی کی بات کرتے ہو، اگر بات بدامنی کی ہے تو بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے زیادہ خراب ہیں، اگر گورنر راج اس لیے لگایا جا رہا ہے کہ بدامنی ہے، اگر ایمرجنسی اس لیے لگائی جا رہی ہے کہ بدامنی ہے تو پھر اس کا زیادہ حقدار صوبہ بلوچستان ہے،جہاں اپوزیشن کی حکومت ہو آپ وہاں پر ان کی حکومت کو اڑانے اور وہ فاٹا جس کے ذخائر و وسائل صوبے کا حصہ بن چکے تھے آپ نے ایمرجنسی لگا کر ان کے تمام وسائل کو وفاق کے تابع بنا دیا ہے، کل جس ہاتھ سے آپ نے ان کو کچھ دیا تھا آج دوسرے ہاتھ سے آپ نے واپس چھین لیا ہے۔ یہ ملک تمہاری ملکیت ہے؟ تمہارے باپ دادا کی ملکیت ہے؟ یہ عوام تمہارے نوکر ہیں؟ عوام تمہیں جانور نظر آتے ہیں؟ جیسا چارہ چاہو ان کے سامنے ڈال دو، یاد رکھو! آپ کے اس غیر جمہوری اور جابرانہ اقدام کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔
ملتان کی شام مولانا کے نام
مولانا فضل الرحمن نے ملتان کا میلہ لوٹ لیا
جے یو آئی کا بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ
پنخاب کی سرزمین پر یہ اجتماع مسلم لیگ (ن) کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے