"دو ٹکےکی عورت آتی ہے اور ایک قابل پروفیسر کی تذلیل کرتے ہوئے کہتی ہے کہ شکر کرو، میں تمہیں ہتھکڑی نہیں لگوا کر جا رہی" -
ڈاکٹر عامر وہ بات کھل کر کہتے ہوئے جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے لیکن کہنے کی جرات کوئی کوئی دلیر انسان کر سکتا ہے۔
Outstanding video made by one of the youngest members of PTI Social Media Team!
“I will comeback” Imran Khan
The greatest comeback of the century
Perfect day to release it - April 10th; the day when Pakistan came together for Imran Khan & democracy.
جب بھی زندگی میں مشکلات آئیں، مایوسی ہو، دلبرداشتہ ہوں اور ایسے لگے جیسے زندگی بے معنی ہے تو ایک بار حوالدار منیب کی زندگی کو دیکھ لیں۔ مجھے یقین ہے ایسی ذلت آمیز زندہ لاش کو دیکھنے کے بعد آپ یقیناً اللہ کا کروڑوں بار شکر ادا کریں گے۔
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔
اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟ پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔
وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کا اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔
دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔
اپنی عوام پر واردات کون ڈالتا ہے یہ سب کو پتہ ہے۔ اس لیے بے چارے ہر مہینے روتے دھوتے پریس کانفرنس کرنے پر مجبور ہوتے ہے۔ ترس آنے لگا ہے انکی ذہنیت پر۔۔۔
موصوف نے نیشبل میڈیا پر ہمارے ٹیکسز پر پلنے کا لحاظ کیے بغیر ایک شہری پر اتنے سنگین الزام لگائے۔ کس نے ان صاحب کو یہ اختیار دیا؟ انکا حلف آئین میں دیا گیا ہے اور یہ پریس کانفرنس پہلی نہیں ہے جہاں موصوف نے کھلے عام اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔
اتنے سچے ہے ہمارے بہادر محافظ صاحب تو عوام کو جواب دے کہ اصل میں باہر سے “ڈوریاں” کس کی چلتی ہے۔ جزیرے کس نے خریدے؟ پاپا جانز کس کو کہا گیا؟ سروس کے بعد بیرون ملک عیاشیہ کس نے کی؟ 1948 سے 2010 تک کس نے امریکہ سے 21.3 billion ڈالر وصول کیے؟ اپنے شہریوں کو ڈالروں کے عوض کس نے بیچا؟ ایک پروفیسر کو ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کر کے تحویل میں ہی اسے “دہشتگرد” بنا کر زبردستی ویڈیوز کس نے بنوائی اور کیوں؟
میڈیا پر باتیں کرنی ہے، آئین کی دھجیاں اڑانی ہے، تو جواب بھی دینا سیکھنا ہوگا۔ ادھر سیاستدان سے لے کر وکیل جواب دہ ہے تو صاحب اپنے آپ کو مقدس گائے نا سمجھے۔
انکو اب بڑا ہوجانا چاہیے۔
آج مجھے اور میرے کراچی دفتر کے دیگر ساتھی وکلاء کو سٹی کورٹ کراچی میں اپنے موکل رجب بٹ کے ساتھ عدالت میں پیشی پر عدالتی احاطے میں ھماری موجودگی میں چند وکلا نے رجب بٹ پر جان لیوا حملہ کیا جس سے وہ زخمی ھو گیا اور اسکے ساتھ مسلسل زدورکوبی کو منع کرنے کے باجود مسلسل جاری رھا-
وکلا کا یہ غیر پیشہ ورانہ رویہ، قانون کو ھاتھ میں لینا ملک بھر میں وکلاء کی شناخت و ساکھ انتہائی کمزور کر رھا ھے-
ملک میں وکلاء کی لیڈرشپ کو وکلا کو پرائیوٹ سائلین اور فریقین کے ساتھ زور بازو کی بجائے تعلیمی طور پر اپنے حقوق کا دفاع بنانے پر زور دینا ھوگا- یہی واحد راستے ھے-
آئے روز وکلاء خود فریقین بن کر اس طرح اگر پرائیوٹ سائلین پر عدالتوں کے احاطوں میں مسلسل حملہ آور ھوں گے تو انکی عزت میں بے پناہ مسلسل کمی مزید ھوگی-
یہ ایک افسوناک پہلو ھے جس کی کسی پڑھے لکھے معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں-
“Every Pakistani should study the Hamood ur Rahman Commission Report and get to know who was the true traitor, General Yahya Khan or Sheikh Mujibur Rahman.” - Founding Chairman PTI Imran Khan
#غدار_کون_تھا
🔴 URGENT: Humanitarian Emergency Outside Adiala Jail
Former PM Imran Khan’s sisters — women in their 70s — are sitting outside the jail in freezing winter nights, simply asking to see their brother, who has been kept in solitary confinement in open defiance of court orders.
Tonight, the crackdown has turned brutal:
⚠️ Water cannons used on peaceful protesters
⚠️ Severe police crackdown on a peaceful sit-in
⚠️ Reports that Member of National Assembly Shahid Khattak has been injured — allegedly with a broken leg
⚠️ Journalists pushed back from the scene
Elderly women, elected officials, and peaceful citizens are being assaulted outside a jail — for demanding basic human rights.
We urge global media and human-rights institutions to act: This is no longer politics. This is state brutality unfolding in real time.
@UNHumanRights@hrw@amnesty@BBCWorld@CNN@AJEnglish@guardiannews@nytimes@kthalps@realZalmayMK@zeteo_news@UNHumanRights@TuckerCarlson@State_SCA@StateDept@cenkuygur@AnaKasparian@TYT@McCainInstitute@freedomhouse@BBCUrdu@washingtonpost@SwissAmbUN_GVA
#ImranKhan #HumanRights #Pakistan
Mehmood Khan Achakzai and Allama Raja Nasir Abbas are extremely respectable to me. They are pro-democracy and principled individuals. I am surprised that their notification has not yet been issued. I direct Pakistan Tehreek-e-Insaf’s parliamentary group to protest this matter before the Speaker and Chairman Senate so that their notification as Leader of the Opposition may be issued. Moreover, for any movement against the existing system, PTI must fully comply with any call issued by Tehreek Tahaffuz-e-Ayeen Pakistan.
I hereby dissolve the PTI Political Committee. The party’s Secretary-General, Salman Akram Raja, has full authority to constitute a new, concise committee that will devise political strategy and ensure its implementation.
I nominate Shahid Khattak as Pakistan Tehreek-e-Insaf’s Parliamentary Leader in the National Assembly.
In the Pakistan Bar elections, PTI must unite to fully support those candidates nominated by Salman Akram Raja and Hamid Khan. In Khyber Pakhtunkhwa, the matters of the lawyers, the bars and the ILF shall be reviewed personally by Sohail Afridi, who will take whatever decisions are necessary for improvement.
Agriculture is the backbone of our economy, and its current state is alarming. The way the rights of farmers are being plundered is extremely regrettable.”
Conversation with his sister by the unjustly imprisoned former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, after one month of solitary confinement in Adiala Jail (December 2, 2025) 2/2
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2