محسن نقوی !! جن کے سربراہان نے استثناء لے لیا ہو اور ان کے نمائندے قانون سے بالاتر ہوں ان کے منہ سے " equality before law " جیسے جملے ادا ہونا دراصل قانون و آئین کی توہین ہے
’اگر آپ پارلیمانی نظام کا حصہ ہوتے تو جانتے‘: بابر سلیم سواتی کا محسن نقوی کو جواب اور سوشل میڈیا پر اراکین اسمبلی کی گرفتاری کے قانون پر بحث
https://t.co/vlIiy4Zvwc
I am surprised you dont know this rule also exists in National Assembly. Under Rule 103 of the Rules of Procedure and Conduct of Business in the National Assembly, 2007, the arrest of a Member of the National Assembly on a criminal charge or the detention of a Member under an executive order requires prior approval of the Speaker of the National Assembly. The rule specifically requires the concerned judge, magistrate or executive authority to seek the Speaker’s approval, along with the reasons for the proposed arrest or detention. Therefore, the arrest or detention of an MNA without obtaining the Speaker’s approval, where Rule 103 applies, is contrary to the express procedural requirement of the Rules of the National Assembly.
محترم وفاقی وزیر داخلہ
تو آپ کو یہ معلوم ہوتا کہ ممبران اسمبلی کو دیے گئے تحفظات کوئی نئی ایجاد نہیں، ہمیشہ سے پارلیمانی روایات اور قومی و صوبائی قوانین کا حصہ رہے ہیں۔اگر آپ کسی منتخب اور عوام کے نمائندہ پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہوتے
پارلیمانی استحقاق، بشمول صوبائی اسمبلی کے ممبر کو کسی فوجداری الزام پر گرفتار کرنے سے پہلے اسپیکر کی پیشگی اجازت، خیبر پختونخوا کی کوئی نئی ایجاد نہیں۔ یہ استحقاق مقننہ کی آزادی کے تحفظ، ایگزیکٹو کو پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دھمکانے یا خاموش کرنے سے روکنے، اور اسمبلی کو بغیر خوف و خطر کام کرنے کے لیے ہیں۔
یہ تحفظات طویل عرصے سے چلی آ رہی پارلیمانی روایات اور پہلے صوبائی قوانین پر مبنی ہیں۔ یہ کسی ایم پی اے کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے۔ الزام زدہ ممبر تحقیقات، مقدمہ اور عدالتی عمل سے مشروط رہتا ہے۔ اسپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی گرفتاری سیاسی انتقام یا ایوان میں خلل ڈالنے کی نیت سے نہ ہو۔
جب آپ رات کی تاریکی میں استثنیٰ (immunity) کا قانون پاس کروا لیں تو وہ آپ کے نزدیک بالکل درست ہے۔ جب آپ پارلیمنٹیرینز کو اغوا کریں، رشوت دیں اور فلور کراسنگ کروا کر صرف اپنے لیے قانون پاس کروا لیں تو وہ قانون بن جاتا ہے۔
لیکن جب تمام حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں اتفاقِ رائے سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس کریں تو وہ قانون نہیں رہتا؟ ہاں نا کمال ہے؟ ذرا سوچیں کہ آپ کیا موازنہ کر رہے ہیں اور کیا ٹویٹ کر رہے ہیں۔
آج ہم جمہوریت پر اس سے کہیں زیادہ سنگین حملہ دیکھ رہے ہیں: بغیر وارنٹ، چہرے ڈھکے ہوئے افراد منتخب ایم این ایز، ایم پی ایز اور پی ٹی آئی قیادت کے گھروں پر چھاپے مار کر اغوا کر رہے ہیں تاکہ پرامن احتجاج روکا جا سکے۔ کیا یہ جمہوریت ہے؟ جب 24 نومبر، 9 مئی اور 25 مئی کو گولیاں چلائیں گئیں اور قتل عام ہوئے تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ چند افراد کی چلائی ہوئی ریاست ہے، جہاں آئین محض کاغذ بن کر رہ گیا ہے۔
آپ دنیا کو پاکستان کے بارے میں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ امید دم توڑ رہی ہے۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔ دریں اثنا اقتدار والے ہر قسم کے استحقاق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ہم یہاں رہیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ جیسے لوگ حقیقی جمہوریت آنے پر اس ملک سے چلے جاتے ہیں۔ اب پاکستان کے لوگ ایک بار اور ہمیشہ کے لیے فیصلہ کریں گے کہ جمہوریت کیا ہے: عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے۔
آپ جن استحقاقات پر تنقید کر رہے ہیں، وہی آپ اور آپ کے ساتھی بھی مزے لے رہے ہیں۔ آپ میں سے کچھ نے پارلیمنٹ کے ذریعے خود کو استثنیٰ دلا رکھا ہے تاکہ کوئی ان سے سوال نہ کر سکے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا قانون ریاستِ مدینہ میں قابلِ قبول ہے؟ اگر یہ واقعی اسلامی ریاست ہے اور اس کا آئین اسلامی قانون کے تحت بنا ہے تو اسلامی تاریخ سے صرف ایک مثال بتائیں جہاں کسی فرد کو قانون سے استثنیٰ دیا گیا ہو۔ بس ایک مثال دے دیں۔
آپ اور آپ والے اکثر سوچتے ہیں کہ آپ کے الفاظ ہی قانون ہیں۔ نہیں میرے عزیز! صرف وہی قانون غالب آئے گا جو اسلامی شریعت کے مطابق ہو۔
چند روز قبل خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو ریکارڈ قانون سازی پر ایک بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا — ایسی قانون سازی جو عوام کی حقیقی نمائندگی اور جمہوریت کا عکس ہے۔ اس اسمبلی کے قیام کے بعد کسی پچھلی اسمبلی نے اس قسم کی ترقی پسند قانون سازی نہیں کی۔ یہ اعزاز نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے۔ اس بڑی کامیابی اور پاکستان کے عالمی سطح پر اچھے نام کی تعریف کرنے اور خوشی منانے کے بجائے آپ نے میرا پاسپورٹ بلاک کر دیا اور کئی ایم این ایز و ایم پی ایز کو اس کانفرنس میں شرکت سے روک دیا۔ وہ کانفرنس 56 ممالک، 186 اسمبلیوں اور تقریباً 80 ہزار پارلیمنٹیرینز کی نمائندگی کرتی تھی۔ مگر آپ کی واحد ترجیح یہ ہے کہ اپنے غیر قانونی فارم 47 کی نام نہاد حکومت کو انسانی حقوق اور اخلاقیات کو پامال کر کے کیسے طول دیا جائے۔
میں نے پاکستان کی ہر اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے منظور شدہ قانون کے مطابق آئی جی پی اور اضافی چیف سیکرٹری (ہوم) کو خط لکھا کہ کسی بھی گرفتاری سے پہلے میرے دفتر کو مطلع کیا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے یا خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔ یہ میرا آئینی فرض ہے۔ ایوان کے محافظ ہونے کے ناطے خیبر پختونخوا کے لوگ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں ان کے منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ کروں۔
معزز ٹیکس گزار! اپنے ٹیکس کی ادائیگی میں قانونی طریقے سے بچت کریں
قانون آپ کو کئی سہولتیں دیتا ہے جن سے آپ کا ٹیکس کم ہو سکتا ہے:
پنشن اسکیم میں بچت
رضاکارانہ پنشن اسکیم (VPS) میں رقم جمع کروائیں تو ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے۔ اپنی قابلِ ٹیکس آمدنی کے 20 فیصد تک کی رقم پر یہ فائدہ ملتا ہے۔ یعنی مستقبل کی بچت بھی اور آج ٹیکس میں کمی بھی۔
(سیکشن 63، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
بچوں کی ٹیوشن فیس
اگر آپ کی سالانہ قابلِ ٹیکس آمدنی 15 لاکھ روپے سے کم ہے تو بچوں کی ٹیوشن فیس کا 5 فیصد آپ کی آمدنی سے منہا ہو گا، ہر بچے کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 ہزار روپے تک۔ یہ سہولت والدین میں سے فیس ادا کرنے والے کسی ایک کو ملے گی۔
(سیکشن 60D، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
گھر کے لیے قرض
اگر آپ نے بینک یا کسی مالیاتی ادارے سے قرض لے کر اپنا گھر خریدا یا بنایا ہے تو اس قرض پر ادا کیے گئے منافع پر ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے۔ یہ سہولت ایک ذاتی گھر (2500 مربع فٹ رقبے تک) یا ایک فلیٹ (2000 مربع فٹ تک) کے لیے ہے، اور ایک بار حاصل کرنے کے بعد اگلے 15 سال تک کسی دوسرے گھر یا فلیٹ پر یہ سہولت نہیں ملے گی۔
(سیکشن 63A، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
خیرات اور عطیات
منظور شدہ فلاحی اداروں، سرکاری اسپتالوں، اسکولوں یا یونیورسٹیوں کو دیے گئے عطیات پر ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے، بشرطیکہ نقد عطیہ کراسڈ چیک کے ذریعے دیا گیا ہو۔
(سیکشن 61، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
زکوٰۃ
زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت ادا کی گئی زکوٰۃ آپ کی قابلِ ٹیکس آمدنی سے منہا ہو جاتی ہے۔
(سیکشن 60، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
میڈیکل الاؤنس
اگر آپ کا ادارہ مفت علاج یا علاج کے اخراجات کی واپسی کی سہولت نہیں دیتا تو بنیادی تنخواہ کے 10 فیصد تک میڈیکل الاؤنس ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔
(دوسرا شیڈول، حصہ اول، شق (139)(b)، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
سب سے اہم بات:
پنشن اسکیم اور عطیات کی رسیدیں اپنے ادارے کو دیں تاکہ ہر مہینے تنخواہ سے کم ٹیکس کٹے۔ باقی سہولیات کا دعویٰ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت کریں۔
(سیکشن 149، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
ان ٹیکس سہولیات سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا انکم ٹیکس گوشوارہ جلد از جلد جمع کروائیں۔
نوٹ: مذکورہ بالا تمام سہولیات کا حصول متعلقہ سیکشنز میں درج شرائط اور حدود سے مشروط ہے۔ (شرائط لاگو ہیں)
Pakistan has lost a man whose legacy lies deep beneath its soil. Tariq Majeed Jaswal led exploration at OGDCL & Pakistan Oil fields through remarkable periods of discovery. His internationally recognised research helped decode some of Pakistan’s most complex petroleum geology. But perhaps his greatest legacy is yet to unfold.
The wells he helped discover produced energy and the research he published produced knowledge. And the exploration roadmap he has left behind may produce discoveries for years to come.
Few professionals leave their signature beneath the soil of their country. Tariq Majeed Jaswal did. May his knowledge and service become Sadaqah-e-Jariyah and may his soul rest in peace. Ameen.
@fawadchaudhry Dear Fawad! How will you invest in Pakistan? They will demolish your house, put your name on ECL, freeze your accounts, put you in jail and courts castrated.
Analysis of Proposed civil service Reforms
1. Generalist PAS untouched.
2. PAS / PMS issue unresolved.
3. No reforms proposed for provinces where 90% services delivered.
4. 11 cadres proposed are provincial subjects but recruitment through FPSC.
@betterpakistan
وفاقی وزیر احسن اقبال @betterpakistan اور سیکرٹری صاحبان کی مجوزہ سول سروس ریفارمز کیوں ناکام ہو سکتی ہیں؟
ریپبلک پالیسی نے ان ریفارمز کی پانچ فالٹ لائنز بیان کی ہیں۔
پہلی فالٹ لائن یہ ہے کہ وفاق پاکستان میں کلونیل یونیٹری بیوروکریسی کی ساخت کو ایک دفعہ پھر محفوظ کیا گیا ہے؟
صوبائی اختیارات پر وفاقی سروسز کیسے قائم کی جا سکتی ہیں؟
Civil Service Reforms proposed by Committee headed by Ahsan iqbal.
Domain specialists/ functional specialization is appreciated
BUT
Edu, Health, Agri, Energy are provincial subjects, how officers of these proposed cadres can be recruited through Federal FPSC/ CSS?
Further, what about provincial engineering,IT,Environment depts?
@betterpakistan@nadeemhaque@Asad_Umar@abdul_aleemkhan@PMScivilservant
The blood of my people is where I draw the line. Today, Khyber Pakhtunkhwa mourns yet again. Families are grieving, and our people are bearing the unbearable cost of terrorism. And yet, instead of standing with the victims in this tragedy, we are being told to “learn from our losses.” What kind of insensitivity even is this? These are our people, our families and our children. First the reckless comment from CM Punjab @MaryamNSharif and now this. Enough.
My people have already sacrificed enough. If we cannot yet guarantee them security, the very least they deserve is solidarity, dignity and respect in their hour of grief