کیا آپ جانتے ہیں ؟ سن 1989 میں جاپان کے شہر اوبے میں کاٹا-کُن نامی ایک پالتو پیلیکن روزانہ اڑ کر خودکار طریقے سے قریبی کنڈرگارٹن اسکول پہنچ جاتا تھا اور بچوں کے ساتھ ایک طالب علم کی طرح وقت گزارتا تھا۔
چونکہ اس پرندے کو انسانوں نے خود پال کر بڑا کیا تھا، اس لیے وہ بچوں سے بے حد محبت کرتا تھا، کلاس رومز میں ٹیچر کے پیانو کی دھنوں پر ناچتا اور اسکول کے صحن میں بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا۔ اس انوکھی اور سچی دوستی پر جاپان میں باقاعدہ ایک ڈاکیومنٹری اور مشہور کارٹون فلم بھی بنائی گئی، اور سال 2008 میں اس کی موت تک وہ پورے جاپان کا ایک محبوب قومی ہیرو بنا رہا۔
Best All in One Research Assistant. From finding gaps to creating full literature reviews with line by line citations to the exact sources you have been trying to find.
Try for free today and gain access to powerful AI tools made for researchers with a database of 350M+ Sources.
مولانا ظفر احمد عثمانی ایسے دور میں ہندوستان سے حج کرنے کے لئے حجاز مقدس گئے تھے، جب لوگ بحری جہازوں میں سفر کر کے حج کا فریضہ ادا کرنے جاتے تھے۔
واپسی پر انہوں نے یہ واقعہ قلمبند کیا ہے ۔*
فرماتے ہیں کہ میں ساری عمر کسی محفل میں (ایسا) لاجواب نہیں ہوا، سوائے ایک موقع پر جب ہم حج کرنے (کے دوران) مدینہ طیبہ گئے تو اس وقت مسجد نبویۖ سے ملحقہ اپنا خیمہ لگایا اور وہاں رہائش رکھی اور ادھر سے ہی مسجد نبویۖ میں آ جاتے، چونکہ شدید گرمیوں کا موسم تھا۔ جب ہم تمام حاجی اکٹھے ہو کر شام کا کھانا کھاتے تو اس وقت وہاں سے گرم موسم کی وجہ سے تربوز خرید لیتے اور کھانے کے بعد اسے کھاتے اور اس کے چھلکے باہر پھینک دیتے۔اس دوران ہم نے کیا دیکھا کہ ایک سات آٹھ سالہ بچہ آتا اور چھلکوں کے ڈھیر میں سے چھلکے اٹھاتا، جو ہلکی سرخی مائل گری رہ جاتی، اسے کرید کرید کر کھا لیتا۔*
جب یہ معمول دو روز تک دیکھا تو میں نے پیار سے اس بچے سے پوچھ لیا کہ بیٹے تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ تو بچے نے کہا میں ایک یتیم بچہ ہوں، میرے والد فوت ہو چکے ہیں۔ میری والدہ نے عقدثانی کر لیا ہے۔ گھر میں غربت اور فاقے ہیں، میں مدینے کا بچہ ہوں اور میزبان ہونے کی حیثیت سے مہمانوں سے مانگتے شرم آتی ہے۔ لہذا میں اس بچی کھچی گری سے پیٹ بھر لیتا ہوں ۔ مولانا لکھتے ہیں کہ مدینے کے بچے کی اس فہم و فراست نے ہمارے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ آنکھیں آنسووں سے بھیگ گئیں۔ بچے سے کہا کہ بیٹا اگر آپ مناسب سمجھو تو آپ ہمارے ساتھ آ کر کھانا کھا لیا کرو ۔ بچہ انکاری تھا، مگر ہمارے پیار بھرے بھر پور اصرار پر ہاں کر دی۔ مدینے کا یہ بچہ روز آ جاتا، ہمارے ساتھ کھانا کھاتا۔ آہستہ آہستہ شناسائی بڑھتی گئی۔ بچے سے انس ومحبت پروان چڑھا تو میں نے بچے کو پیشکش کر دی کہ بیٹا آپ میرے ساتھ ہندوستان آ جاؤ ۔ میں وہاں آپ کو درس میں رکھ کر پڑھاؤں گا ۔کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک آپ کی تعلیم کا بندوبست کروں گا، تو بچے نے کہا کہ میں اپنی والدہ سے بات کر کے آپ کو آگاہ کروں گا۔ جب ہماری واپسی کا وقت آ گیا تو وہ بچہ اپنی والد ہ سے اجازت لے کر سامان سفر باندھ کر آ گیا۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔ بچے کو ساتھ لیا، بچہ قافلے کے ہمراہ چل رہا تھا تو دوران سفر میرے ساتھ محو گفتگو تھا۔*
*سوال کر رہا تھا کہ چاچاجی وہاں ہندوستان میں سکول اچھے ہیں؟ میں نے کہا کہ بیٹا بہت اچھے ہیں۔ وہاں مجھے اچھے کپڑے پہننے کو ملیں گے؟ میں نے کہا کہ ہاں بیٹا۔ اس نے پوچھا کہ مجھے وہاں فٹ بال کھیلنے کے گراؤنڈ میسر آئیں گے؟ جی ہاں بیٹا ہندوستان میں فٹ بال کھیلا جاتا ہے۔بچے نے کہا کہ مجھے وہاں طرح طرح کے معیاری کھانے اور اچھی رہائش ملے گی؟ میں نے کہا کہ کیوں نہیں بیٹا یہ سب سہولتیں آپ کو ملیں گی ۔اس دوران چلتے چلتے سامنے گنبد خضریٰ نظر آ گیا بچے کی نظر پڑی تو سوال کر دیا کہ چاچا جی یہ سامنے والا گنبد بھی وہاں ملے گا؟ میرے پاؤں سے زمین نکل گئی۔ بچے کے اس سوال نے مجھے لاجواب کر دیا اور میں نے تڑپ کر کہا کہ بیٹا اگر یہ گنبد وہاں مل جاتا تو مجھے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟*
بچے نے میرا جواب سنا تو اپنا ہاتھ چھڑایا اور کہا:
"چاچا جی مفلسی، بےبسی اور یتیمی قبول ہے۔ مگر سرکارِ مدینہ کا دامن چھوڑ نا کسی صورت گوارا نہیں۔ میں مدینے کو نہیں چھوڑ سکتا۔"
علامہ صاحب لکھتے ہیں کہ بچہ ہمیں روتے ہوئے دم بخود چھوڑ کر بھاگا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ علامہ صاحب باقی مانندہ زندگی، یہ واقعہ لوگوں کو سنا سنا کر روتے رہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جعلی نوٹ نہیں پکڑ سکے، سلیم مانڈوی والا
جب گورنر اسٹیٹ بینک فیل ہو گئے تو عوام کا کیا بنے گا
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی میڈیا سے گفتگو
گورنر اسٹیٹ بینک کو 5 ہزار روپے کے تین نوٹ دیے تھے سلیم مانڈوی والا
گورنر سے کہا تھا کہ جعلی نوٹ کا پتہ کرکے دکھائیں سلیم مانڈوی والا
گورنر جعلی نوٹ کا پتہ نہیں لگا سکے سلیم مانڈوی والا
لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ ایپ کے ذریعے جعلی نوٹ کا پتہ کریں سلیم مانڈوی والا
جب گورنر جعلی نوٹ نہیں پکڑ سکتا تو عوام کیسے پکڑیں گے سلیم مانڈوی والا
پہلے ایک ہزار روپے کا نوٹ جعلی ملتا تھا سلیم مانڈوی والا
اب پانچ ہزار روپے کا نوٹ بھی جعلی آ رہا ہے سلیم مانڈوی والا
بینکوں کے سسٹم سے جعلی نوٹ نکل رہے ہیں سلیم مانڈوی والا
اے ٹی ایم سے جعلی نوٹ نکلتے ہیں سلیم مانڈوی والا
ایک عام آدمی جعلی نوٹ لے کر کہاں جائے سلیم مانڈوی والا
کہا جاتا ہے کہ پولیس کے پاس ایف آئی آر کٹوائیں سلیم مانڈوی والا
پولیس والا عام آدمی کو ہی اندر بٹھا دے گا سلیم مانڈوی والا
مولانا اردو ادب کا بہت ذوق رکھتے ہیں لمبے اسفار میں مصری قرآء کرام کی مشق والی تلاوت قرآ کریم سننا اور شدت ذوق سے اسکو دُہرانااور ادبی کلام سے محظوظ ہونا قائد محترم کو بہت پسند ہوتاہے ۔
مولانا فضل الرحمان وہ باتیں کررہے ہیں جو آجکل کوئی نہیں کرتا ۔ مولانا کے اُٹھائے گئے نکات وزن رکھتے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ مولانا کی دلیری کے پیچھے کیا محرک ہے ؟ محرک کے بارے میں کھوج اپنی جگہ مولانا کی نپی تلی بات اور ذمہ دار سیاست کو سلام
خدا کی قسم جمہوریت کی ایسی وضاحت پہلے کبھی نہیں سنی، جمہوریت کو کفر کہنے والوں یہ ضرور سن لے۔ ان شاء اللہ اسکے بعد کفر کا فتویٰ نہیں لگاؤ گے۔ مولانا صاحب کی #جےیوآئی_ورکرزکنونشن_پشاور سے خطاب
ہم پاکستان کی مضبوط دفاعی قوت کے قائل ہیں، لیکن ہم سیاست میں ان کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔ اس سے ہمارا اتفاق نہیں ہے۔
ہمارے ملک میں جو قانون سازیاں ہوتی ہیں، ابھی تازہ قانون سازی ہوئی ہے، جس میں اس تیزی کے ساتھ قانون سازی کی گئی ہے کہ بعد میں جب ہم نے اس کا مطالعہ کیا تو وہاں بحث ہوئی نہ، میرے خیال میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بھی اس کو باریکی سے نہیں دیکھا۔ لیکن جو اس کی شکل سامنے آ رہی ہے، اس سے اندازہ لگ رہا ہے کہ یہ قانون سازی آئین کی بھی خلاف ہے، آئین سے متصادم ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے اس میں کہ یہ قانون، جس میں فوج کے اندر کے نئے انتظام اور ان کے اختیارات کا ذکر کیا گیا ہے، اس میں وزیراعظم کے انتظامی اختیارات، جو ان اداروں میں ہونے چاہئیں، چاہے بری فوج کے اندر ہو، چاہے فضائیہ کے اندر ہو، چاہے بحریہ کے اندر، وہ بھی وہاں ایک شخص کے اندر مرکوز کر دیے گئے۔
اور پھر یہ قانون تمام قوانین پر بالاتر ہوگا، یعنی اگر کسی قانون کا اس قانون سے تصادم ہوگا تو وہ غیر مؤثر ہو جائے گا۔ اب پہلے غیر مؤثر تو بناؤ نا! غیر مؤثر بھی نہیں بنایا، وہ اپنی جگہ پر موجود ہیں، وہ دفعات بھی موجود ہیں اپنی جگہ پر، اور نیا قانون لا کر کہہ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی دفعہ اور شق اس قانون سے متصادم ہوگی تو غیر مؤثر ہوگی۔ لیکن اب تک اس کی نہ نشاندہی کی گئی ہے، نہ اس کو غیر مؤثر کیا گیا، نہ اس پر ترمیم کی گئی۔
آپ بتائیں کہ یہ ایک قانونی تضاد ہے یا نہیں؟ اور یہ قانون سب پر بالاتر ہوگا۔ اب پتہ نہیں، یہ تو قانون دان جانے کہ کیا قانون کی دنیا میں اس طرح کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں، لیکن میں آئین کے حوالے سے جانتا ہوں کہ جس زمانے میں پارلیمنٹ میں یہ بات آئی کہ قرآن و سنت سپریم لا ہونے چاہئیں اور بالاتر قانون ہونا چاہیے، قرآن و سنت کو، تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب نسیم حسن شاہ مرحوم نے یہ فیصلہ دیا کہ نہیں، آئین کی تمام دفعات برابر ہیں اور کوئی ایک دفعہ بھی دوسرے دفعہ پر بالادست نہیں ہو سکتی۔
شریعت کے حوالے سے تو تمام دفعات آئین کے برابر ہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ اور مقتدرہ کو طاقت اور اختیارات کا ارتکاز، اور پھر تمام قوانین پر اس کی بالادستی، اس کے لیے قانون سازی ہو گئی۔
پاکستان اس لیے بنا تھا؟ آپ اپنے ادارے کے اندر انتظامی تبدیلیاں لائیں، اس سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔ آپ آرمی چیف بھی ہو، آپ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہو، آپ فیلڈ مارشل بھی ہو، اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں۔ لیکن وہ اختیارات جو پارلیمنٹ کے ہونے چاہئیں، وہ مقتدرہ کے اندر ایک فرد کو دے دیے گئے ہیں۔
اب اس کا اختیار اپنی بری افواج پر بھی، فضائیہ پر بھی اور بحریہ پر بھی تسلط کر دیا گیا ہے، اور وہ تمام اختیارات رکھے گا؛ کسی کو برخاست کرنے کا، کسی کی ملازمت میں اضافہ کرنے کا، کسی کے استعفے کو منظور کرنا، نہ کرنا، تمام اختیارات اس کو دے دیے گئے ہیں، جبکہ یہ کنٹرول، یہ کمانڈ، یہ وفاقی حکومت کا ہوا کرتا تھا، اور وفاقی حکومت نے اپنے اختیار ان کے حوالے کر دیے ہیں۔
اور پھر آگے کہتے ہیں کہ اگر کسی قانون سازی کی ضرورت ہوگی تو وفاقی حکومت کرے گی۔ یعنی اس میں پارلیمنٹ کو بھی نکال دیا گیا ہے۔ تو قانون سازی اور اس حوالے سے آئین میں ترمیم اور تبدیلی اور اس قسم کی چیزیں، وہ بھی حکومت کے حوالے کر دی گئی ہیں، کیونکہ حکومت کو اپنے راستے پہ لانا اور بوٹ کے نیچے دبانا ان کے لیے شاید آسان ہے۔
ہم چیزوں پر اختلاف کر رہے ہیں، ہم اصولی اختلاف کر رہے ہیں۔ ہم کسی کو گالی تو نہیں دے رہے، کسی کے ساتھ جھگڑا تو نہیں ہے ہمارا۔ لیکن اگر ہم پارلیمنٹ کے اندر ہیں تو ہمیں پارلیمنٹ کے اندر تو اس پر میں مزید بھی کام کرنا چاہتا ہوں، اور اسی وجہ سے میں لیڈر آف اپوزیشن کے دفتر میں گیا اور میں نے ان کو سمجھایا کہ اگر ہم اس طرح بکھرے بکھرے نظر آئیں گے اور پارلیمنٹ کے اندر بھی ہماری کوئی مشترکہ حکمتِ عملی نہیں ہوگی تو پھر یہ سب کچھ ہوتا رہے گا۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 23 اگست 2026
جنگی سازو سامان میں آپ ایٹم بم بنائیں، خدا نے قوت کے حصول کی ترغیب دی یے تاکہ دشمن پر آپ کی دھاک دشمن پر بیٹھی رہے لیکن استعمال میں احتیاط کرنے کو کہا ہے۔ ہم دفاعی قوت کے منکر نہیں لیکن اگر میں بطور سیاسی کارکن فوج کے ادارے میں مداخلت نہیں کرسکتا تو پھر فوج کو بھی سیاست میں مداخلت کا حق حاصل نہیں، مولانا فضل الرحمٰن
اسلام آباد: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی پریس کانفرنس
پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان، قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن، سینیٹ میں لیڈر آف دی اپوزیشن تشریف لائے ہیں، میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور ان کی تشریف آوری پر ان کا شکر گزار ہوں۔
ہم نے اس اصول پر اتفاق کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ایک جوائنٹ اپوزیشن ہونی چاہیے تاکہ پارلیمنٹ کے اندر کی بزنس میں ہماری ایک مشترکہ حکمت عملی ہو اور ہمارے اقدامات مشترکہ ہوں، باہمی مشاورت کے ساتھ ہوں، تاکہ اپوزیشن ایک مؤثر کردار ادا کر سکے۔
ہمارے سامنے جو ملک کے مسائل ہیں، امن و امان کا مسئلہ ہے اور خاص طور پر دو صوبوں کے اندر جس طرح کی حالت جنگ ہے اور جس کی وجہ سے حکومتی رِٹ چیلنج ہو رہی ہے، شہریوں کی زندگی اجیرن ہے، ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے اور حکومت کی طرف سے صرف طفل تسلیاں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
اب یہ طفل تسلیاں تو ہم گزشتہ بیس سالوں سے سن رہے ہیں۔ کتنے آپریشنز ہوئے، دہشت گردوں کے خلاف، امن و امان کے قیام کے لیے، حکومتی رِٹ کو مضبوط بنانے کے لیے، لیکن اب تک ہمیں وہ مقصد حاصل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ کچھ بھی ہمیں نظر نہیں آ رہا، کوئی کامیابی نظر نہیں آ رہی اور اس وقت بھی یہی گفتگو تھی اور آج بھی یہی گفتگو ہے۔ الفاظ میں کوئی فرق نہیں، طفل تسلیوں میں کوئی فرق نہیں، لیکن نتیجہ صفر ہے اور کسی قسم کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آ رہی ہے۔
اس سے جو ہماری معیشت پر برا اثر پڑ رہا ہے اور ملک کے کاروباری طبقے کو چاروں صوبوں میں جو مشکلات درپیش آ رہی ہیں، بالخصوص جو ہمارے قبائلی علاقوں کے تاجر ہیں، وہ جس طرح بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اس حوالے سے پاکستان ایک انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔
ہماری مغربی سرحد بند ہے، تجارت اور کاروبار کے دروازے بند ہیں۔ ہماری مشرقی سرحد بند ہے، کاروبار کے کوئی مواقع موجود نہیں ہیں، تجارت کے کوئی مواقع موجود نہیں ہیں۔ چین ناراض ہے، ہم نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے اور آج اگر ہم ان سے درخواست کر رہے ہیں کہ ایک سو ستر ارب ڈالر ہمیں معاف کر دیں تو وہ ہماری درخواست کو مسترد کرتا ہے۔
ایران کے جو حالات ہیں، وہ اس وقت پاکستان کے لیے اچھے یا برے حالات میں کوئی بے بس نظر آ رہا ہے۔ اس طرح پاکستان کو ان غلط پالیسیوں نے محصور کر کے رکھ دیا ہے اور خطے میں پاکستان ایک غیر محفوظ اور محصور ریاست کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
کب تک خاموش رہا جائے؟ کب تک ہم مصلحتوں کا شکار رہیں؟ کب تک ہم ملک کے داخلی سیاسی مفادات پر نظر رکھیں اور ملک پر نظر نہ رکھیں؟
بیانیہ جو اس وقت پاکستان کے لوگوں کو دیا جا رہا ہے، سرکار کی طرف سے وہ غلط بیانیہ ہے۔ وہ لوگوں کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں، غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ اس قسم کے کوئی حالات نہیں ہیں جو وہ ہمیں بتا رہے ہیں۔ تو نہ ہمارا ملک امن و امان، نہ ہمارے ملک کی معیشت اس قابل ہے۔ صوبوں کی باتیں کی جا رہی ہیں، کس طرح کی جا رہی ہیں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کس امید پر اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں، کس امید پر یہ باتیں ہو رہی ہیں۔
تو یہ ساری چیزیں وہ ہیں کہ ابھی تک ہم مطمئن نہیں ہیں۔ نہ صوبوں کے لیے کوئی تیاری ہے، نہ صوبوں کے لیے کوئی ماحول موجود ہے۔ آگ لگی ہوئی ہے اور لگی ہوئی آگ کے اندر آپ کہتے ہیں، آؤ گھر میں اس طرح تقسیم کریں، یہ نہیں ہو سکتا۔
کشمیر میں اس وقت جو صورتِ حال راولاکوٹ پر ہے، تین مہینے ہو رہے ہیں، دھرنا بیٹھا ہوا ہے۔ عوام کی بات کو سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ مثبت بات بھی کریں تو مثبت بات بھی سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جب آپ بات چیت نہیں کریں گے تو پھر جو شدت پسند عناصر ہیں، ذرا انتہا پسند اور سخت گیر لوگ ہیں، وہ آگے آئیں گے اور پھر حالات اور گھمبیر ہوتے چلے جائیں گے۔
یہ حالات کیوں ملک کے لیے بنائے جا رہے ہیں؟
لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے ہم اپنا بیانیہ قوم تک پہنچائیں گے، حقائق قوم تک پہنچائیں گے اور ایک طرف ایک قسم کی بات ہمارے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ آئیں بات کریں۔ تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔ میرے خیال میں یہاں دو ہاتھ نہیں ہیں کہ جو قریب ہو کر تالی بجا سکیں۔ یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کی گونج آ رہی ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ نہ ان کے پاس کچھ ہے کہ وہ کسی کو کچھ دے سکیں۔
تو یہ اس وقت ہمارا اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔ اس کے بعد، ان شاء اللہ، یہ ساری چیزیں اپنے اپنے پارٹیوں کے سامنے بھی جائیں گی اور ان کو اعتماد میں لیا جائے گا، اور پھر اس کے بعد اگلی ہماری جو میٹنگ آئے گی، اس میں اگلے آئندہ مستقبل کے فیصلے ہوں گے۔
سابق ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے ساغر چاولہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کے دستِ مبارک پر مشرف بہ اسلام ہو گئے۔
مولانا فضل الرحمان نے نومسلم کو کلمہ توحید پڑھایا اور اسلام کے بنیادی عقائد کی تعلیم دی۔
مولانا فضل الرحمان نے نومسلم کا نام عبداللہ ساغر رکھ دیا اور انہیں دین اسلام پر ثابت قدم رہنے کی دعاء دی۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے نومسلم کو مبارکباد بھی پیش کی۔
اس پروقار تقریب میں مفتی مصباح الدین ایم این اے، اقبال اعوان، مفتی زاہد شاہ، ڈاکٹر ضیاء الرحمان، مفتی عبدالشکور، احمد سعید، نصیب اللہ خان کاکڑ، ضیاء اللہ، زبیر عباسی، سیف اللہ عثمانی، ملک سفیر عالم اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔
میں نے صرف اپنے لاپتا پالتو جانور کی واپسی کی اپیل کی تھی اور کمیونٹی نے مدد کی۔ اس پر بھی سیاست چمکانا تمہاری گرتی ہوئی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ ویسے Max تم سے ہزار گنا بہتر ہے، کیونکہ وہ نہ تو جعلی انگوٹھے لگا کر جیل جاتا ہے اور نہ ہی عوام کا پیسہ لوٹ کر ملک سے فرار ہوتا ہے۔ #میکس_گھر_آگیا_اب_تم_بھی_آجاو