#مح��ت_مافیا
کئی سالوں پہلے کی بات ہے مجھے معلوم ہوا میری یونیورسٹی کے کلاس فیلو دونوں بہن بھائی امریکہ شفٹ ہوگئے ہیں اور آج کل ان کے والد ایدھی اولڈ ایج ہوم میں ہیں
یہ سن کر میں تڑپ سا گیا کہ ایک عظیم باپ ایدھی اولڈ ایج ہوم کیسے پہنچ گیا
میں نے کسی طرح امریکہ رابطہ کیا اور ان کے بیٹے سے پوچھا یہ کیا کر دیا تو نے مجھے شدد دکھ اس لمحہ پر بھی ہو رہا ہے کہ آج اس موضوع پر ایک دوسرے سے بات ہو رہی ہے
اس نے بتایا میں مجبور تھا میں نے یہاں ایک انگریز سے شادی کر لی ہے
پوچھا بہن کہا ہے بتایا اس نے بھی کسی انگریز سے شادی کر لی ہے اور اسی کے ساتھ رہ رہی ہے
میں نے جواب دیا
تم دونوں نے اپنی دنیا تو تباہ کر ہی لی ہے لیکن اپنے ساتھ ساتھ اپنے باپ کو بھی کہیں کا نہیں چھوڑا اور فون بند کر دیا
اور پھر میں نے اگلے دن ایدھی ہوم جانے کا فیصلہ کیا
میں سہراب گوٹھ ایدھی ہوم پہنچا وہاں کا اندرونی ماحول خاصا پراسرار معلوم ہوا بہت انتظار اور برداشت کرتے کرتے دوست کے والد کی انفارمیشن مانگی شروع میں تو سب منع کر دیا لیکن جب میں نے کچھ شور مچاتے ہوئے فیصل ایدھی کا نام لیا تو رجسٹرڈ کھلنے لگے اور مجھے بتایا گیا وہ صاحب یہاں تھے لیکن چند دنوں پہلے انہیں سپر ہائی وے نوریہ آباد ایدھی ہوم شفٹ کر دیا گیا ہے
میں نے گھڑی میں وقت دیکھا شام ہونے کو تھی خیال آیا اندھیرا ہونے کو ہے اور رات میں ہائی وے اس کام کیلیے نکلنا ٹھیک نہیں
اگلے دن میں صبح آٹھ بجے گھر سے نکلا اور سپر ہائی وے سے نوریہ آباد ایدھی ہوم پہنچ گیا
اب وہاں کا ماحول ایسا تھا کہ آفس میں موجود بندہ مجھے ایسے دیکھ رہا تھا کہ جیسے میں کوئی خلائی مخلوق ہوں اور سیدھا چاند سے نوریہ آباد اتر کر ڈریکٹ ایدھی ہوم آگیا ہوں
میں نے اسے ہوش میں واپس لا��ے ہوئے بولا تم بھی انسان ہو میں بھی انسان ہوں چلو اب آگے کچھ کرتے ہیں
اپنے آنے کا مقصد بتایا اور مزید تمام ڈیٹیل جس کے بعد وہ بہت مشکل سے ہزار کا نوٹ لے کر انکل سے ملاقات کروانے پر رضا مند ہوا۔
اور اب میں انتظار میں ٹہلتا رہا اور دو گھنٹے گز�� گئے ایسی نوبت آچکی تھی کہ اب میں منتیں کرتا جیسے کہ بھائی ملاقات کروا دو۔
انتظار میں پورے دو گھنٹے گزر جانے کے بعد میں نے دیکھا بہت دور سے وہیل چیئر پکڑے کوئی بندہ میری طرف آرہا ہے اور وہیل چیئر پر کوئی بندہ بھی بیٹھا ہے میں دیکھتا رہا وہ نزدیک آتے رہے
حالانکہ میرے بالکل پاس آکر رک گئے اور لانے والے نے کہا یہ لیجئے لے آیا ہوں آپ یہاں آجائے اور بیٹھ جائیں
میں نے وہیل چیئر تھامی اب یہ ایک پارک جیسی جگہ تھی میں نے درخت کے نیچے چھاؤں میں وہیل چیئر روکی اور خود زمین گھاس پر بیٹھ گیا
اور انکل کو لانے والا ہم دونوں کی ملاقات کا جائزہ لینے کیلئے ہم سے ہٹ کر کچھ دور بیٹھ گی�� اور مسلسل ہمیں دیکھتا رہا جسے میں اگنور کرتا رہا۔
شروع میں تو میں انکل کو بالکل پہچانا ہی نہیں گورا رنگ سڑ کر کالا ہو چکا تھا اور اچھا خاصا صحت مند جسم سوکھ کر لکڑی جیسا بن چکا تھا۔
کوئی بھی بات شروع کرنے سے پہلے میں نے حالات کا بغور جائزہ لیا جس سے مجھے معلوم ہوا انکل کا جسم تو خاصا گندہ ہے اور بدبو بھی آرہی ہے
مگر انہیں ملاقات کروانے کاٹن کا نیا سوٹ پہنا کر لایا گیا ہے كلف لگا ہوا سوٹ
جسے دیکھ کر میں تمام اندرونی معاملات جلد سمجھ گیا کہ اندر کا ماحول کیا ہوگا۔
اب انکل نے خاموشی توڑی اور پوچھا تم کون ہو
میں نے عرض کیا میں عاطف ہوں آپ کے بیٹے کا دوست ہم یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے اور میں اکثر آئے دن آپ کے گھر آیا کرتا تھا اور اکثر آپ سے بہت ملاقاتیں ہوئیں۔
انکل نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا اور سر مسلتے ہوئے کہا ہاں کچھ کچھ یاد آرہا ہے ایسا ایسا
اس سے مجھے یقین ہوگیا یہ جو بھی مڈیسن ڈرگ ٹائپ یہاں موجود بندے کو دیتے ہیں اس کے استعمال سے ویسے ہی بندے کی یاداشت فنا ہوجائے۔
میں مزید باتیں کرنے لگا تو انکل نے کہا تم کچھ مت بولو وہ سامنے بیٹھا ہمیں دیکھ رہا ہے تمہارے جانے کے بعد وہ مجھے مارے گا
تم یہاں سے چلے جاؤ اور آیندہ یہاں کبھی مت آنا
اتنی سی بات پر میں مزید بھی سب جان گیا کہ اندر کیا کیا ظلم ہوتا ہوگا
اور جلد ہی میں نے انکل سے وعدہ لیا میں آپ کو لینے آؤں گا آپ میرے ساتھ میرے گھر چلے گے
انکل نے کہا نہیں یہ لوگ نہیں جانے دینگے یہ لوگ اندر ہمیں زنجیروں سے باندھ کر رکھتے ہیں اور زنجیروں سے ہی ہمارے جسم کو کھینچتے ہیں
میں نے نیچے پیروں کی طرف دیکھا تو پیروں میں زنجیروں کے کافی گہرے زخم تھے۔
میں نے اپنے تمام غصہ کو کافی کنٹرول کیا کیونکہ یہ معملہ غصہ دکھانے کا نہیں عقل مندی سے اپنے بندے کو اس قید سے باہر نکالنے کا تھا۔
میں نے انکل سے وعدہ لیا میں آؤں گا اور آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا
ظلم کی انتہا دیکھئے
صبح سویرے قریباً 4 ماہ کا بچہ اسپتال کے مین گیٹ پر بنا کسی وارث کے ایک فروٹ کی ٹوکری میں پایا گیا۔
اسپتال میں موجود اسٹاف نے کسی بچی سے کپڑے ادھار لے کر اس بچے کو پہنائے۔
خیر بچہ اس وقت اسپتال انتظامیہ کی تحویل میں ہے ایک ہفتہ کسی وارث کا انتظار کیا جائے گا اور اسکے بعد بچے کو لاہور میں کسی ٹرسٹ فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا جائے گا جہاں اس بچے کیلئے اچھے والدین کی تلاش کی جائے گی۔
بچے کی حرکات بتاتی ہیں کہ ماں کا دودھ بھی پیتا تھا اور ماں کی تلاش میں ہے۔
کافی حد تک امکانات ہیں کہ اغواء یا جائیداد کا معاملہ ہو گا کیونکہ اتنا خوبصورت بچہ کوئی کیسے یوں اسپتال کے دروازے پر چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ میری تو بڑی خواہش ہیں کہ بچے کے والدین مل جائیں۔
اگر اس بچے کی تصویر وائرل ہوتی ہے تو ہو سکتا ہے بچے کے حقیقی والدین مل جائیں۔ (اِن شاء اللّٰه)
اس پوسٹ کا مقصد بچے کی لواحقین کی تلاش ہے۔
سو اس پوسٹ کو دل کھول کر شیئر کریں
شکریہ ۔
*والدین کی خدمت....*!" 💔
پچھلے دنوں کہیں جانا تھا تو ینگو کار منگوائی۔ چلانے والا ایک سادہ سا پٹھان لڑکا تھا اور کار کی حالت بھی خراب تھی۔ راستے میں اس کی زندگی کے متعلق بات ہوئی تو اس نے کہا کہ میں دبئی میں کام کرتا رہا ہوں اور اب یہاں کراچی میں ینگو چلاتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ آپ دبئی چھوڑ کر کیوں آگئے؟ کہنے لگا کہ والدین بوڑھے ہیں، ان کی خدمت کی وجہ سے آ گیا۔ میں نے کہا:
اچھا ! مطلب یہ کہ آپ نے اپنے والدین (یہاں کراچی) اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں؟
جواب میں اس نے جو جملہ کہا، اُس جملے نے والدین کے حوالے سے میری سوچ ہی بدل کر رکھ دی۔ کہنے لگا:
بھائی ! ہم کون ہوتے ہیں والدین کو رکھنے والے؟ والدین نے ہمیں رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے ہمیں وجود دیا، پوری زندگی پالا ، بڑا کیا ، اب اگر ہم ان کی تھوڑی سی خدمت کر رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب تھوڑا کہ ہم نے انہیں رکھا ہوا ہے۔ ان کا شکریہ کہ وہ ہماری خدمت قبول کر رہے ہیں اور ہمیں اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔
میں نے گاڑی سے اترتے ہوئے اسے پانچ سو روپے بطور انعام دیے اور کہا کہ یہ جملہ:
"ہم کون ہوتے ہیں والدین کو رکھنے والے، والدین نے ہمیں رکھا ہوا ہے"،
میں زندگی بھر یاد رکھوں گا۔
والدین کی خدمت کے حوالے سے یہ وہ سوچ ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو رکھنی چاہیے تاکہ والدین کی خدمت کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھیں نہ کہ باعثِ زحمت یا حالات کی مجبوری۔
محمد اکبر
انتخاب: children's world
تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے عزیز و اقارب اور مقامی گروپس میں شیئر کیجئے ہو سکتا ہے آپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائے
منقول
اتنا بڑا احتجاج پی ٹی آئی چار سال میں نہی کر سکی یہ راولپنڈی میں استادوں کا احتجاج ہے حیرت ہے اس کا بلیک آوٹ ہے جہاز خریدتے وقت بتایا گیا کہ خزانوں سے پیسہ ابل رہا بہت پیسہ ہے تو ان بے چاروں کو معاوضہ تو مناسب ادا کر دیں یہ کونسا نئے جیٹ پر جھولا مانگ رہے
یہ کلپ دیکھنے کے بعد ۔۔۔ کیا گند کھول کے اے ہو وہ تو تمھاری سگی بہن تھی ۔۔
میں نے پورا پروگرام سرچ کیا اس امیپد پہ اللہ کرے یہ فیک سٹوری نکلے ۔۔۔
مگر ایسا کچھ نہی نکلا
یہ عورت ہمیشہ جیل میں جا کر ان مجرموں کی سٹوری سامنے لاتی ہے جو اپنا جرم قبول کر لیتے ہیں ۔۔
اک نوجوان لڑکا اپنی سگی بہن سے چار ماہ تک بدفعلی کرتا رہا ۔۔
یہ کلپ دیکھنے کے بعد ۔۔ روح تک کانپ جاتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس سبکا ذمہ دار کون ہے ؟ معاشرہ والدین کی تربیت یا دین سے دوری یا پھر وہ لوگ جو اس ملک کو مکمل لبرل یا ازاد خیال بنانے کے چکر میں ہیں ۔۔
بچہ بازی کیا ہے اور معاشرہ بچہ بازی کی لپیٹ میں کیوں ہے
یہ خاتون معاشرہ کے ایک بدبودار گٹر سے ڈھکن اٹھا رہی ہیں
اگر اس خاتون کی بات درست ہے تو واق��ی اس معاشرہ کو اصل والے تیزاب سے غسل دینے کی ضرورت ہے
پانچ دن پہلے آپریشن سے بچہ ہوا، ہسپتال نے فارغ کر دیا، ایک دفعہ بھی دوائی نہیں کھائی
خاوند کی دو دن بعد دیہاڑی لگتی ہے جس سے بچوں کیلئیے کھانا بنانا ہوتا ہے
ایسے ہی مریض ہم نے ہسپتالوں میں تڑپتے دیکھے ہیں، انفیکشن کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے
بی بی کو میڈیسنز کیلئیے پیسے پہنچائے
ابو فوت ہوئے، پھر امی بھی - میں چل پھر نہیں سکتا، اپنے بھائی پر بوجھ نہیں بننا چاہتا لہٰذا یہ چھوٹا سا سلسلہ بنایا ہوا ہے
ہماری دو بہنیں بھی ہیں جنکی شادیاں بھی کرنی ہیں
پانچ ہزار میرے کام کیلئیے بہت مدد گار ہو گا، اس سے کچھ آئیٹمز اور رکھ سکتا ہوں
اللّہ آپکو ڈھیروں آسانیاں دے
ایک رپورٹر نے فٹ پاتھ پر کتابیں بیچنے والے ایک دوکاندار کے پاس جا کر مائیک بڑھایا اور سوال کیا "آپ کے سورسز کیا ہیں؟ یہ پرانی اور نایاب کتابیں آپ کہاں سے لاتے ہیں؟"
دوکاندار نے مسکرا کر آہ بھری، پھر آسمان کی طرف دیکھ کر بولا۔ ہمارا سب سے بڑا ذریعہ لائق باپ کی نالائق اولاد ہے۔
یہ سنتے ہی رپورٹر، کیمرہ مین، اور اردگرد کھڑے لوگ ساکت رہ گئے۔ دوکاندار نے بات جاری رکھی "وہ باپ جو ساری زندگی ایک ��یک کتاب جوڑ��ا ہے، اپنی محنت کی کمائی سے علم کا خزانہ جمع کرتا ہے۔ اور پھر جب وہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے، تو اس کی اولاد ان ہی کتابوں کو اونے پونے داموں بیچ کر کے ایف سی سے چکن نگٹس کھا لیتی ہے۔۔۔"
خدا کا خوف کریں یہ اسلام آباد کی سڑکیں کھولیں، ایک باپ اپنی شدید بیمار بچی کو رات کی اس تاریکی میں پیدل اٹھائے بھاگتا ہوا ابھی ملا بچے کو ایمرجنسی اسپتال پہنچانا تھا�� اس ملک پر اللہ کیلئے رحم کھا لیں، مظاہرین لاہور میں ہیں تو یہاں کیوں لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے؟
#ApnaKamaoآج یکم مئی کا لیکچر بہت ہی بہےرین تھا۔ E-Commerce کے بارے ہمارے concepts کو کلئیر کیا گیا۔اور ایک اعتماد دیا گیا کہ اس کورس کو مکمل کر کے ہم یقینی طور پر اپنا آن لائن کاروبار شروع کر سکتے ہے۔سب سے بڑی بات یہ کہ One2One consultacy بھی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ PMML
سعودیہ میں اسلام کاتدریجی تیزرفتارارتقائی سفرجاری ھے.
سرزمین حجازمیں بت کدوں کی تعمیر
دنیا کی بدترین فاحشاوں کےکنسرٹس.
حجاز کو یہودیوں کے لئے کھلی چراگاہ بنانے کے ساتھ.
اب
عورتوں کانیم برھنہ بدن کےساتھ عمرہ کی ادائگی.
کل کلاں وھابی شیوخ شاید برھنہ طواف کی گنجائش بھی نکال لیں
Parachinar is a city in Pakistan where most of the population is Shia but they are surrounded by terrorists from all sides. No medicine can be brought in, or can’t Exact no foods supply is allowed, everything is closed. Due to this, 130 children have lost their lives and the total number is more 200 including cancer patients.
#ParachinarDharna #Shiagenocide
@Badass1ZQ1 مجھے آپ سے کوئی شکایت نہی ہے۔بلکہ آپ ایک بہت اچھی ٹیچر ہیں۔آپ کی پوسٹس سے مختلف سوشل معاملات میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا
اللہ پاک آپ کو ہمیشہ خوش و خرم اور تروتازہ رکھے۔آمین