سیالکوٹ کے زندہ دل اور اپنے مخصوص اندازِ مزاح کے لیے مشہور شہریوں نے ایک بار پھر روایتی غصے اور پٹائی کے بجائے وہ انوکھا راستہ اپنایا جس نے دیکھنے اور سننے والوں کو بیک وقت حیران اور محظوظ کر دیا۔ عام طور پر گلی محلوں میں جب کوئی چور رنگے ہاتھوں پکڑا جائے تو عوام کا پہلا ردِعمل تشدد، گالی گلوچ اور قانون ہاتھ میں لینا ہوتا ہے، مگر سیالکوٹ میں پیش آنے والے اس واقعے میں شہریوں نے "غصے پر طنز" کو ترجیح دی اور چور کی ایسی تواضع کی جو شاید وہ ساری زندگی نہ بھول سکے۔
واقعہ کچھ یوں پیش آیا کہ ایک مبینہ موبائل چور کسی شہری کی جیب یا دکان سے موبائل فون ہتھیانے کی کوشش میں رنگے ہاتھوں دھر لیا گیا۔ جائے وقوعہ پر معمول کے مطابق فوری طور پر ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ چور خوف کے مارے کانپ رہا تھا اور کسی بھی لمحے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں شدید پٹائی کا منتظر تھا، مگر وہاں موجود نوجوانوں اور دکانداروں نے ایک بالکل غیر متوقع اور ڈرامائی موڑ اپنایا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ قانون ہاتھ میں لے کر مار پیٹ کرنے کے بجائے اس کا "شاہانہ اور پروقار پروٹوکول" کے ساتھ استقبال کیا جائے تاکہ اس کی ایسی سبکی ہو جو کسی جسمانی چوٹ سے بھی زیادہ گہری ہو۔
چور کو ایک خاص جگہ پر بٹھایا گیا یا اس کے ارد گرد ایک حلقہ بنا لیا گیا۔ پھر کیا تھا، قریبی دکانوں سے پھولوں کے ہار منگوائے گئے اور باقاعدہ مسکراہٹوں اور پرجوش نعروں کے ساتھ چور کے گلے میں ڈال دیے گئے۔ ہجوم نے ایسے تالیاں بجائیں جیسے کوئی بین الاقوامی کھلاڑی تمغہ جیت کر وطن واپس لوٹا ہو یا کوئی فاتح میدان مار کر آیا ہو۔ کچھ منچلے تو آگے بڑھے اور اسے "موبائل بازی کے شعبے میں نمایاں کارکردگی" پر مبارکبادیں دینے لگے۔
چور کی حالت اس وقت دیدنی تھی؛ اس کا چہرہ شرمندگی، خوف اور شدید الجھن کا مرکب بن چکا تھا۔ وہ سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا کہ اس کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے یا یہ پٹائی سے پہلے کا کوئی نیا نفسیاتی حربہ ہے۔ وہ گردن جھکائے ہاروں کے بوجھ تلے دب کر زمین میں گڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ اردگرد موجود لوگ اپنے موبائل کیمروں سے اس کی ویڈیوز بنا رہے تھے اور طنزیہ جملوں کے تیر برسا رہے تھے۔ "ماشاءاللہ، جوان نے نام روشن کر دیا!" اور "یہ ہیں ہمارے نئے ہیرو!" جیسے طنز کے نشتر چور کی انا کو چھلنی کر رہے تھے۔
یہ منفرد تماشا کچھ دیر تک جاری رہا، جس کے دوران نہ تو کسی نے چور پر ہاتھ اٹھایا اور نہ ہی کوئی خون خرابہ ہوا۔ تماشائیوں نے اپنی بھڑاس طنز، تالیوں اور قہقہوں کے ذریعے نکالی۔ اس طنزیہ استقبال کے بعد واقعے کی اطلاع پولیس کو دی گئی، جس نے موقع پر پہنچ کر ملزم کو باقاعدہ اپنی تحویل میں لے لیا اور قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔
سیالکوٹ کا یہ واقعہ دراصل ہماری سوسائٹی کے اس پہلو کو اجاگر کرتا ہے جہاں لوگ جرائم اور لاقانونیت سے عاجز آ چکے ہیں، مگر ساتھ ہی وہ وحشیانہ تشدد کے بجائے طنز و مزاح کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ یہ "شاندار استقبال" جسمانی تشدد سے پاک تھا لیکن اس نے چور کو سرِ عام اخلاقی طور پر اتنا بے نقاب اور شرمسار کر دیا کہ شاید وہ آئندہ کسی کا موبائل چھونے سے پہلے سو بار سوچے گا۔
ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
Fan : After watching your movies, I’ve noticed that your roles are usually quite intense. But in one of your films, Welcome, your character was so funny. How did that happen?
Nana Patekar ji : The director and writer of that film, Anees Bazmee, told me, “Nana ji, will you play this role in the film?” I said, “No.” Then he said, “It will suit you very well, Nana ji.
Our beloved Nana Patekar ji ♥️🙏
حالانکہ مراد علی شاہ کو ھیلی کاپٹر کے اندر کدال لے کر فصلوں کو پانی لگانا چاھئے تھا؟ ایسا ایسا بیہودہ Critic ملے گا X پر کہ بندہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ ان کو پڑھنا اور لکھنا کیسے آیا؟
"إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ"
ووٹ کو عزت دو کا سودا کرنا ہی تھا تو کم از کم اتنی تذلیل کر کے تو نہ کرتے۔
اب محترم نواز شریف صاحب کو اگلا اجلاس واسا کا بلانا چاہیئے اور لاہور میں جہاں جہاں سیوریج کے مسائل ہیں، انہیں اپنی نگرانی میں ٹھیک کروانا چاہئیے۔ اس بات کو لازمی یقینی بنانا چاہئیے کہ تمام گٹروں کے ڈھکن لازمی موجود ہوں
@FarhanKVirk Kia wo london beath k b galia deta tha
Kia wo ab pakistan ka mama bana hoa ha
Kia isne mumbai attack media py pakistan ko involved krar dea tha
Kia wo murre mai jandal ( indian) sy mulaqate krta tha
Kia bina visa k wo apne best friend ( modi) ko shadi py bula leta tha ?
@afnanullahkh@SohailAfridiISF Chal besharm admi teri kya oqat ha tu to baap ki seat py aya ha tu to counceler nai ban sakta or batmezi jeete hoye awam k nomindey k sath kr rahe or koi pouchne wala nai isko ye sare amm aik elected cm ko Taria laga raha .
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئترس پاکستان پہنچ گئے، ایئرپورٹ سے باہر آتے ہوئے وہ اپنا ٹرالی بیگ خود لے کر چل رہے ہیں، یہ کون لوگ ہیں جنہیں نہ پروٹوکول کی خواہش ہے، نہ اپنا سامان اٹھوانے کیلئے کسی دوسرے کے ہاتھوں کی، یہاں تو ہم پروٹوکول کی نمائش دیکھنے کے عادی ہیں۔۔!!