اے اللہ! میری کمر نہ توڑنا، میری عیب گیری نہ کرنا، میرے پوشیدہ امور کو ظاہر کر کے رسوا نہ کرنا۔ اے میرے رب! اگر تیری اعلانیہ نافرمانی کی تو میری بخشش فرما، اگر چھپ کر کی اس کی پردہ پوشی فرما۔ اے عیبوں کو چھپانے والے! اے گناہوں کو بخشنے والے!
جب لائبہ نے بی ایس آنرز فزکس میں گولڈ میڈل لیا تو اسلامک یونیورسٹی کی انتظامیہ نے سعودی عرب میں مزید تعلیم یعنی ماسٹرز کے لیے اسکالرشپ کی آفر دی لیکن ذہین طالبہ کو پتہ تھا کہ سعودی تو خود اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ امریکہ جاتے ہیں اس لیے اس نے آنکھوں میں سائنسدان بننے کے خواب سجائے موٹر سائیکل پر دودھ بیچتے والد کا سر فخر سے بلند کرنے کے لیے امریکی یونیورسٹی ہاورڈ میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا، اس مقصد کے لیے مختلف لوگوں سے رابطے کیے تاکہ کوئی راستہ نظر آئے، اسی دوران آن لائن ایک شخص سے رابطہ ہوا جس نے بعد ازاں بلیو ایریا اسلام آباد میں ملاقات کرکے خود کا تعارف سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ کے طور پر کروایا جو بعد میں خود کو حساس ادارے کا افسر بھی ظاہر کرتا رہا، کرائے کے فلیٹ میں مقیم والدین نے بیٹی کی خواہش پر پلاٹ بیچ کر 21 لاکھ نقد دیئے جبکہ ماں کا زیور بینک میں رکھوا کر اور کچھ قرض اٹھا کر 70 لاکھ نعمان نامی شخص کو دے دیئے، اس کی جانب سے ہاورڈ یونیورسٹی میں سکالرشپ پر ایڈمیشن لیٹر بھی فراہم کر دیا گیا، معاملہ آگے بڑھا تو طالبہ نے امریکہ جانے کے لئے امریکی ایمبیسی میں ویزہ اپلائی کیا، جب مقررہ دن پر ایمبیسی پہنچی تو وہاں جا کر دوران انٹرویو پتہ چلا کہ دستاویزات کو جعلی ہیں، جس کے بعد لائبہ نے اپنے ماموں کو آخری پیغام دیا کہ میرے والد کو فراڈ کا نہ بتانا وہ مر جائیں گے اور تقریبا دوپہر دو بجے گھر سے نکلی اور تھانہ رمنا کے قریب اتوار بازار کے عقب میں گرین بیلٹ پر خود کا خاتمہ کر لیا۔۔۔
معاملہ سوشل میڈیا پر زیر گردش آنے پر پہلے ایف آئی اے نے نوٹس لیا، ڈاریکٹر اسلام آباد مرحومہ کے گھر پہنچے، معلومات اکٹھی کیں، بعد ازاں وزیراعظم نے نوٹس لیا، آئی جی اور چیف کمشنر کو بلا کر فی الفور ملزم کی گرفتاری کی ہدایت کی، محسن نقوی اور طلال چوہدری بھی افسوس کے لیے مرحومہ کے گھر پہنچے ہیں، نڈھال باپ کو دلاسہ دے رہے ہیں، ملزم کا نام سٹاپ لسٹ میں ڈال کر گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں لیکن بہتر مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے ایک اور نوجوان اپنی جان کی بازی ہار گیا، کاش کے ہمارے تعلیمی ادارے اس معیار کی تعلیم دیں، نوکریاں ملیں، اچھا روزگار ہو، میرٹ پر مواقع ملیں تو یقین مانیں کوئی ایک نوجوان بھی بیرون ملک جانے کے لیے یوں اس حد تک نہ جائے
یہ ہے ہمارا مستقبل۔۔۔۔💔
میرے ساتھ ہونیوالے فراڈ کامیرے والد کو نا بتانا،وہ مرجائیں گے ۔۔یہ ہے وہ آخری میسج جو اس طالبہ نے اپنے ماموں کو کیا ۔۔۔
اسلام آباد کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ نے گزشتہ روز مبینہ طور پر خود کشی کر لی جسکی لاش جی ٹین اتوار بازار کے قریب سے برآمد ہوئی۔۔۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ لائبہ جی ٹین میں رہائش پذیر تھی کل تقریباً 2 بجے گھر سے نکلی تھی۔۔۔اہلخانہ کہتے ہیں کہ لائبہ نے اسلامی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کیساتھ بی ایس کیا،مزید پڑھائی کیلئے بیرون ملک جانا چاہتی تھی ، ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ کروانے کیلئے 70 لاکھ روپے مانگے۔۔غریب باپ موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے بچوں کو پڑھا رہا تھا۔خود کرایے کے فلیٹ پر رہنے والے والد نے پلاٹ بیچ کر 21 لاکھ کیش ایجنٹ کو دیا۔۔باقی رقم کا انتظام کرنے کیلئے طالبہ کی والدہ کا زیور بینک میں رکھوایا گیا۔۔طالبہ نےیونیورسٹی میں داخلے کے ڈاکومنٹس چیک کروائے تو سب جعلی نکلے۔۔۔
اس ایجنٹ کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کوئی اور اپنے ادھورے خوابوں اور بھاری دل کے ساتھ اس دنیا سے رخصت نہ ہو ۔۔۔