@samiabrahim@NCCIAOFFICIAL اپ سے درخواست ہے کہ اس کا نوٹس لیں اور اگر نہیں تو اس کی کوئی معقول وجہ ہی بتا دیں کہ طاقتور کےلئے قانون اور ہے اور کمزور کے لئے اور
@KlasraRauf کلاسرا صاحب جب ہر بات پر تنقید ہو تو اصل اور حقیقی تنقید بھی اثر کھو دیتی ہے، اسلام اباد کا حسن اور ٹیکس جیسے معملات کو حقیقی پلیٹ فارمز پرمزید اجاگر کریں شکریہ
خیبرپختونخواہ میں مسلسل اقتدار میں رہنے والی تحریک انصاف کیا خیبرپختونخواہ میں ایک بھی ایسا سکول بنا سکی ؟
شہبازشریف کا ویژن لاکھوں عمران خانوں سے زیاد ہے
دیکھئے اسلام آباد دانش سکول اور ایسے ایک سکول خیبرپختونخواہ میں تلاش کر کے دیکھائیں
پشاور میں گرنے والی بلڈنگ کی انسپیکشن کرنے والے سرکاری ملازم کا بیان
* اب تک اس سانحے میں 20 بچے لقمۂ اجل بن چکے ہیں، جن میں ایک استانی بھی شامل ہے۔ اس واقعے سے میرا دل بے حد رنجیدہ ہے اور مجھ سے کچھ بولا بھی نہیں جا رہا۔
* میں آج آپ سب کے سامنے حاضر ہوا ہوں تاکہ اصل صورتحال بیان کر سکوں۔ دو سے تین سال پہلے مجھے احکامات دیے گئے تھے کہ جا کر اس عمارت کا معائنہ کروں اور رپورٹ پیش کروں۔
* جب میں وہاں گیا اور عمارت کی حالت دیکھی تو وہ اسکول تو کیا، کسی عام استعمال کے قابل بھی نہیں تھی۔
* جس کے بعد عمارت کے مالک خان محمد صاحب کو باقاعدہ نوٹس جاری کیا گیا۔ نوٹس میں صاف لکھا تھا کہ اس عمارت کو فوری خالی کیا جائے کیونکہ اس کی حالت انتہائی خستہ اور مخدوش ہے۔
* لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ میری بات ماننے کے بجائے وہاں کے ایم این اے اور ایم پی اے—فضل الٰہی صاحب اور آصف خان صاحب—نے خدا ان کا بیڑا غرق کرے، میرے لیے مسائل اور پریشانیاں کھڑی کر دیں۔ ان کے کارندے میرے پاس آ کر مجھے ڈراتے دھمکاتے اور ہراساں کرتے تھے۔
* یہ تقریباً چالیس پچاس سال پرانی خستہ حال عمارت تھی۔ مجھے دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس عمارت کے خلاف کوئی کارروائی کی تو تمہارا اور تمہارے بچوں کا جینا حرام کر دیں گے۔
* اس وقت میرے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی گئیں، میرا گھر پر رہنا، بازار جانا اور بچوں کا اسکول جانا محال ہو گیا تھا۔
* میں اس قدر تنگ آ چکا تھا کہ آخرکار میں نے دفتر سے لمبی رخصت لی، اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لیا اور مردان اپنے گاؤں منتقل کر دیا۔ تقریباً ڈیڑھ سے دو سال میں نے اسی اذیت اور پریشانی میں گزارے۔
* خدا ان کا بیڑا غرق کرے، میں اور کیا کرتا؟ میں تو صرف قانون اور قواعد کے مطابق اپنا فرض نبھا رہا تھا۔ مجھے جو احکامات ملے تھے، میں نے صرف ان کی تعمیل کی اور کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا تھا۔ یہ عمارت ہر لمحہ گرنے کے خطرے سے دوچار تھی۔
* صرف یہی ایک نہیں، بلکہ ایسی کئی پرانی اور مخدوش عمارتیں موجود ہیں جنہیں گرانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس دور میں مجھے اور میرے خاندان کو شدید ذہنی اور مالی اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔
* آج جب یہ سانحہ پیش آیا ہے تو میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، مجھ سے کوئی لفظ ادا نہیں ہو رہا۔ انتہائی افسوس کی بات ہے۔
* میں آج ان لوگوں کے لیے یہ بات کر رہا ہوں کہ ان ایم این ایز، وزراء اور بااثر شخصیات نے جو ظلم میرے ساتھ کیا تھا، آج وہی ہوا جس سے میں نے خبردار کیا تھا؛ آج وہ عمارت منہدم ہو گئی اور اتنے معصوم بچوں کی جانیں چلی گئیں۔
* مجھے گہرا صدمہ ہے۔ شکر ہے کہ اب پشاور میں گورنر راج نافذ ہو چکا ہے۔
* میری موجودہ حکومت اور حکومتِ پاکستان سے یہ پرزور اپیل ہے کہ ان تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کا محاسبہ کیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے اس وقت مجھے قانونی کارروائی کرنے سے کیوں روکا اور احکامات پر عمل کیوں نہیں ہونے دیا؟
* میں نے کیا گناہ کیا تھا؟ میں تو صرف اپنے بچوں کے لیے حلال روزی کمانے کی خاطر نوکری کر رہا تھا اور انصاف کے تقاضے پورے کر رہا تھا۔ اگر اس وقت میری بات مان لی جاتی اور یہ لوگ رکاوٹ نہ بنتے تو آج یہ معصوم پھول یوں ضائع نہ ہوتے۔
* خدا کے واسطے، میری حکومت سے التجا ہے کہ ان بااثر مجرموں کو سخت سے سخت اور عبرتناک سزا دی جائے، کیونکہ وہ سزا کے مکمل حقدار ہیں۔ انہی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آج معصوم بچے شہید ہوئے ہیں۔
* ان بچوں کے والدین اور ماؤں سے جا کر کوئی پوچھے کہ ان پر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ان بااثر لوگوں کی غفلت اور خودغرضی کی بھینٹ چڑھ کر یہ پھول جیسے معصوم بچے آج قبروں میں اتر گئے ہیں۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے۔
قائد PMLN سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے لندن میں سرگودھا سے تعلق رکھنے والے اور یونیورسٹی آف لندن میں ینگ سائنٹسٹ محمد اسد فرحان کی ملاقات، ینگ سائنٹسٹ محمد اسد فرحان وہ لیپ ٹاپ بھی ساتھ لے کر آئے جو 2013 میں انہیں نواز شریف حکومت سے ملا تھا۔
باڑہ چوک، خیبر میں توڑ پھوڑ اور بدامنی میں ملوث ہونے پر پی ٹی آئی سے وابستہ 42 شرپسند گرفتار، جن میں سے 25 غیر قانونی افغان ہیں
پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا ہے۔ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں ہے
@KlasraRauf سر ہر ناجائز کام جو نچلا عملہ کرتا ہے اگر اس کا حصہ اوپر نہ دیا جائے تو سزا سخت ہوتی اگر باقاعدہ حصہ وصولی کی جاتئ ہے تو سزا اپ کے سامنے ہے
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں کو تیرہ برس صرف دھرنے،انتشار، گالم گلوچ اور سستے ٹرینڈز ملے۔ آج اگر خیبر پختونخوا گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں سن رہا ہے تو یہ عوام کا نہیں،تیرہ سالہ نااہلی کا قصور ہے
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں سے سوال ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ایک ہی ملک میں ہیں،ایک ہی آئین اور ایک ہی قومی خزانے کے حصہ دار ہیں،پھر ایک صوبے میں ترقی کا سفر اور دوسرے میں تنزلی اور بدامنی کیوں؟ فرق وسائل کا نہیں، نیت اور اہلیت کا ہے۔
اگر پنجاب ستھرا ہو سکتا ہے تو خیبر پختونخوا کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں صفائی نہیں، صرف سیاست ہوئی۔
اگر پنجاب کے ہونہار بچوں کو اسکالرشپ مل سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کے بچوں کو کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں ترجیح بچے نہیں، دھرنے تھے۔
اگر پنجاب کی مائیں بے فکر ہیں تو خیبر پختونخوا کی مائیں خوف میں کیوں؟ کیونکہ وہاں توجہ عوام کی حفاظت پر نہیں، اسلام آباد پر چڑھائی پر رہی۔
اگر پنجاب میں گرین الیکٹرو بسیں چل سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں منصوبے زمین پر نہیں، صرف سوشل میڈیا پر چلے۔
اگر پنجاب کے گاؤں تک پختہ سڑکیں پہنچ سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا کی سڑکیں ادھوری کیوں؟ کیونکہ وہاں وعدے ہوئے، کام نہیں۔
اگر پنجاب میں مفت دوا، فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویلز دہلیز پر ہیں تو خیبر پختونخوا کا مریض بے بس کیوں؟ کیونکہ وہاں عوام کی صحت سے زیادہ اقتدار عزیز رہا۔
"کیوں" کا جواب ایک ہی ہے: تیرہ سالہ انتشار اور نااہلی!
پنجاب نے ثابت کر دیا کہ حکومتیں بڑھکوں سے نہیں، کام، کام اور کام سے چلتی ہیں۔خیبر پختونخوا کو اب انتشار نہیں، خدمت چاہیے۔