@GFarooqi السلام و علیکم ورحمتہ
محترمہ غریدہ صاحبہ مجھے کم امید ہے کہ آپ کمنٹس پڑھتی ہونگی، لہٰذا جواب کی اُمید نہیں۔
پیاری بہن آپ کو سوچنا ہوگا آپ صحافت نہیں کچھ اور کر رہی ہیں۔
@writetofahim پچھلے 2 مہنے سے صرف یہی ایک بات سوچ رہا ہوں کہ ہجرت کی جاؤ۔ اپنی تو زندگی گزار لی ہم نے مگر اپنی اولاد کے لیے اس ملک میں نہ انصاف دیکھتا نہ ہی منصفانہ موقع۔ اقرباء پروری اور رشوت ستانی عروج پر۔
انصاف کی کوئی توقع نہیں۔
ہمارے محترم دوست @drusmanbaloch کی ہنڈائی-سانٹافے کے نقصان سے متعلق آپ میری دو پوسٹس پڑھ چکے ہیں- ایک ہیڈلائٹ کی، دوسری بیس لاکھ کے ابتدائی اسٹیمیٹ کی-
آج ذرا ہنڈائی کے کسٹمر کیئر کی کہانی سنیں-
اسلام آباد آئی نائن آفس سے جواب ملنے کے بعد میں نے سوچا کہ شاید ہیڈ آفس لاہور میں کوئی معاملہ سنجیدگی سے دیکھے گا-
پہلی ای میل بھیجی- جواب نہیں آیا-
دوسری بھیجی- خاموشی-
تیسری، چوتھی، پانچویں… یہاں تک کہ تقریباً سات آٹھ ای میلز ہوگئیں لیکن جواب ندارد-
ڈاکٹر عثمان کا مطالبہ کوئی رعایت یا احسان نہیں تھا۔ وہ صرف یہ کہہ رہے تھے کہ گاڑی کی مکمل تشخیص کریں، تحریری رپورٹ دیں، اور یہ بتائیں کہ وارنٹی کیوں مسترد کی جا رہی ہے-
ڈاکٹر صاحب نے آخر میں ایک فائنل پری لیگل ای میل بھی بھیج دی کہ کم از کم اب تو کوئی ذمہ دار شخص تحریری جواب دے گا- مگر حیرت انگیز طور پر ہیڈ آفس کی طرف سے پھر بھی کوئی باقاعدہ جواب نہیں آیا-
ہیلپ لائن پر بھی تین مرتبہ فون کیا- ہر دفعہ تقریباً یہی تسلی ملی:
“جی سر، آپ کا معاملہ ہائی آفیشلز کو بھیج دیا گیا ہے، ہم دوبارہ یاد دہانی کروا دیتے ہیں، آپ سے جلد رابطہ ہوگا۔”
ڈاکٹر صاحب انتظار کرتے رہے لیکن فون نہ آیا-
آخر ایک صاحب نے انہیں کسٹمر کیئر کی متعلقہ محترمہ کا براہِ راست نمبر دیا اور کہا:
“آپ ان سے بات کرلیں، شاید کوئی حل نکل آئے۔”
ڈاکٹر صاحب نے سوچا چلیئے، آخری کوشش یہ بھی کر لیتے ہیں-
فون ملایا-
تعارف کروایا اور بتایا:
“میڈم، آئی نائن والوں نے اپنا جواب دے دیا۔ اس کے بعد میں نے ہیڈ آفس کو ایک ای میل کی، جواب نہیں آیا۔ دوسری کی، جواب نہیں آیا۔ پھر تیسری، چوتھی… اب تقریباً سات آٹھ ای میلز ہوچکی ہیں۔ آخری فائنل پری لیگل ای میل بھی بھیج دی، مگر آپ کے ہیڈ آفس سے کسی نے ایک لائن کا جواب تک نہیں دیا۔”
ڈاکٹر صاحب شاید یہ سننے کی توقع کر رہے تھے کہ:
“آپ کا کیس منگواتی ہوں، دیکھتی ہوں، ٹیکنیکل ٹیم سے بات کرتی ہوں…”
مگر سامنے سے جواب آیا:
“جی، جواب وہی ہے جو ہمارے آئی نائن اسلام آباد آفس نے آپ کو دے دیا ہے-”
ڈاکٹر صاحب واقعی چند لمحے خاموش ہو گئے-
سات آٹھ ای میلز- بیس لاکھ کا معاملہ- بار بار تشخیصی رپورٹ کا مطالبہ-
اور ہیڈ آفس کا جواب:
“جو وہاں بتا دیا، وہی جواب ہے۔”
ڈاکٹر عثمان نے فون بند کردیا-
چند لمحے بعد اچانک انہیں یاد آیا:
ارے! ساڑھے تین لاکھ والی ہیڈلائٹ کا معاملہ تو بتایا ہی نہیں-
دوبارہ فون ملایا اور کہا:
“میڈم، معذرت، دوبارہ زحمت دے رہا ہوں۔ ایک اور معاملہ بھی آپ کے سامنے رکھنا تھا…”
ڈاکٹر صاحب ابھی بات مکمل بھی نہیں کر پائے تھے کہ محترمہ نے خود کہا:
“وہ ہیڈلائٹ والا؟”
انہوں نے کہا:
“جی جی، وہی!”
پھر مختصراً بتایا کہ نہ کوئی واضح ایکسیڈنٹ، نہ باہر چوٹ کا نشان، مگر اندر ہیڈلائٹ کریک ہوئی، پانی داخل ہوا اور وارنٹی میں تبدیلی سے انکار کردیا گیا-
اس بار بی بی کا جواب کچھ مختلف تھا:
“دیکھیں جی، میں ان سے بات کرکے دیکھوں گی، مگر وعدہ نہیں کرتی-”
ڈاکٹر عثمان نے کہا:
“ٹھیک ہے بی بی، اللہ حافظ۔”
اب انکا سوال صرف اتنا ہے:
ایک بین الاقوامی برانڈ کا صارف سات آٹھ ای میلز کرے، لاکھوں روپے کا معاملہ ہو، بار بار تحریری تشخیص مانگے، اور ہیڈ آفس ایک ای میل کا جواب تک نہ دے-
کیا یہی کسٹمر کیئر ہے؟
وہ کسی سے احسان نہیں مانگ رہے-
صرف تین باتیں مانگ رہے ہیں:
🔸️ تشخیص کریں-
🔸️ تحریری رپورٹ دیں-
🔸️ اور اپنے صارف کو جواب دیں-
کیا ایک صارف کا اتنا حق بھی نہیں؟
بات اب صرف انکی ہنڈائی-سانٹافے کی نہیں رہی-
بات صارف کے حق، وارنٹی کے اعتماد اور کمپنی کی جواب دہی کی ہے-
اور کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی…
پیچھا کرنا جاری رہے گا-
اپنے دوست ڈاکٹر عثمان بلوچ صاحب کی فیس بک پوسٹ نظر سے گزری- پڑھ کر دکھ ہوا- پھر فون اٹھایا اور تفصیل سے گفتگو ہوئی- پہلے آپ ذیل میں انکی پوسٹ پڑھیں اور پھر آخر میں میرے اختتامی ریمارکس-
@drusmanbaloch لکھتے ہیں:-
"چالیس برس کی محنت کے بعد ایک دن میں نے اپنے ایک مہربان دوست، جو سرکاری ہیلتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہیں، سے کہا:
“کچھ رقم جمع ہوگئی ہے۔۔سوچ رہا ہوں انسٹی ٹیوٹ کے لیئے کوئی زمین لے لوں-”
وہ مسکرائے، کچھ لمحے مجھے دیکھتے رہے، پھر بولے:
“ڈاکٹر عثمان، ساری زندگی اداروں کے لیئے ہی سوچتے رہے ہیں- اب اپنے اور اپنی فیملی کے لیئے بھی کچھ کیجیئے- ایک اچھی گاڑی لے لیجیئے-”
انکی بات سیدھی میرے دل میں اتر گئی-
میں نے تقریباً ہر بڑا برانڈ دیکھا- گاڑیوں کا تقابلی جائزہ لیا، اسپسیفیکشنز پڑھیں، ہائبرڈ ٹیکنالوجی دیکھی، فیول سیونگ دیکھی… اور آخرکار دل "Hyundai Santa Fe Hybrid" پر آکر رک گیا-
گاڑی واقعی خوبصورت تھی- آرامده ایسی کہ لمبا سفر تھکاوٹ نہ لگے- فیچرز اتنے کہ آدمی ہر دوسرے دن کوئی نیا بٹن دریافت کرتا رہے-
مجھے Hybrid technology نے الگ متاثر کیا-
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ Hyundai نے مجھے اپنا برانڈ ایمبیسڈر کبھی نہیں بنایا بلکہ میں خود ہی مفت کا ایمبیسڈر بن گیا-
لوگوں کو بتاتا کہ مستقبل ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کا ہے- پٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم ہوگا- نئی ٹیکنالوجی یہی ہے- دوست گاڑی کے بارے میں پوچھتے تو بڑے شوق سے تعریف کرتا-
میں نے مینٹیننس بھی کبھی باہر سے نہیں کروائی- باقاعدگی کیساتھ کمپنی سے باہر کی بنسبت دگنی یا چارگنا زائد قیمت سے سروس کراتا رہا- سوچ یہی تھی کہ اچھی چیز لی ہے، خیال بھی ویسا ہی رکھا جائے-
پھر ایک دن گاڑی نے پہلا سوال پوچھ لیا-
گاڑی کی ہیڈلائٹ کے اندر پانی کے قطرے نظر آئے۔حیرت ہوئی- باہر کوئی خاص impact نہیں، ایکسیڈنٹ نہیں، مگر اندر نمی اور کریک..!!! جب ہنڈائی لے جائی گئی تو وہاں بھی حساب کتاب شروع ہوگیا- بات تقریباً ساڑھے تین لاکھ تک جا پہنچی-
دل میں خیال آیا، چلو۔۔ایک مسئلہ ہے، حل ہو جائے گا- مگر شاید وہ صرف ٹریلر تھا- اصل فلم ابھی باقی تھی-
بارش ہوئی- گلی میں کچھ وقت کے لیئے پانی آیا۔ گاڑی بند تھی، دروازے بند، شیشے بند- میں نے بھی یہی سمجھا کہ گاڑی ہے، گھر کا ڈرائنگ روم نہیں، کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہو گا-
لیکن جب پانی اترا اور دروازہ کھولا تو کہانی بدل چکی تھی-
کارپٹ پانی سے بھرا ہوا-
سیٹوں کے نیچے پانی کھڑا-
تمام بٹن خاموش-
سمارٹ چابی بے اثر-
بیٹری مردہ-
الیکٹرانک پارکنگ بریک مقفل-
گاڑی جو کچھ دیر پہلے ٹیکنالوجی کا نمونہ تھی، اچانک ایک خاموش سفید ڈھانچہ بن گئی-
فون کرکے ریکوری بلائی گئی- مشکل سےکسی طرح گاڑی ہنڈائی اسلام آباد آئی نائن پہنچائی گئی- وہاں اگلے مرحلے پر مجھے ایک کاغذ پکڑایا گیا- میں نے نیچے نظر دوڑائی-
Rs. 2,000,010
ایک لمحے کو لگا شاید میں نے صفر زیادہ پڑھ لیئے ہیں-
پھر بتایا گیا:
“یہ ابتدائی تخمینہ ہے… گاڑی کھلے گی، اگر اور چیزیں متاثر نکلیں تو ان کا مزید خرچ الگ ہوگا۔”
پھر پوچھا آپ چائے پئیں گے؟ میں نے کہا نہیں آج چائے نہیں پینی- پھر میں خاموش رہ گیا-
یعنی بیس لاکھ بھی اختتام نہیں ۔۔۔ آغاز ہے-
اب شاید معاملہ صرف ایک ریپئر بل کا نہیں رہا- شاید مجھے اس گاڑی سے ہی ہاتھ دھونا پڑیں- مگر اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے:
بند گاڑی کے اندر پانی آیا کیسے؟
اگر ربڑ کی سیلیں، موسمی بچاؤ کی اسٹرپس، دروازے, الائنمنٹ یا باڈی کی سیلیں درست تھے تو کمپنی ٹیکنیکل ٹیسٹ سے ثابت کردے اور اگر وہی کمزور تھے تو پھر ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا پورا بوجھ صارف کے سر کیوں؟
گاڑی وارنٹی پیریڈ میں-ہائبرڈ بیٹری بھی اپنی وارنٹی پیریڈ میں- پھر وارنٹی آخر کس دن کام آنی ہے؟
میں ہنڈائی سے رعایت نہیں مانگ رہا نہ ہمدردی اور نہ ہی خیرات- میں صرف وہی مانگ رہا ہوں جس کے اعتماد پر یہ گاڑی خریدی گئی تھی: یعنی وارنٹی اور درست ٹیکنیکل اسسمنٹ-
اور اب اصل امتحان @PakistanHyundai کا ہے- وہ چاہے تو اس ایک کیس کو مسئلہ سمجھ کر حل کرے اور ایک ناراض صارف کو دوبارہ اپنا ایمبیسڈر بنا لے- یا پھر خاموشی اختیار کرے-
اگر ایسا ہوا تو پھر عوام کو یہ بتانا ضروری ہوگا کہ اس آسائش، ان فیچرز اور اس ٹیکنالوجی کی چمک سے متاثر ہونے سے پہلے بعد از فروخت وارنٹی اور ریپئر کی لاگت کا اگلا امتحان بھی دیکھ لیجیئے- کیونکہ گاڑی خریدتے وقت بروشر بہت خوبصورت ہوتا ہے-
اصل کہانی اس دن شروع ہوتی ہے جب گاڑی خراب ہوتی ہے-
اور ابھی میری کہانی ختم نہیں ہوئی-
اصل فیصلہ ابھی باقی ہے- اور ہمارا موضوع بھی ہر روز یہی رہے گا"
ہم دوستوں کا فیصلہ ہے کہ آئندہ ہم میں سے کوئی بھی جاپانی اوریجن سے باہر کی کوئی سی گاڑی نہیں خریدے گا-
@Hyundai_Global
ابھی شفاءانٹرنیشنل ہسپتال کے چاروں طرف چکر لگا کر آیا ہوں،پولیس نے ہسپتال جانے والا ہر رستہ بند کر رکھا ہے،سڑکوں پر پھول ہی پھول،چاروں طرف لوگوں کا ہجوم،پولیس وقفے وقفے سے لاؤڈ سپیکر سے اعلان کر رہی ہےکہ سڑکیں اور چوک خالی کر دیں۔۔
@RoymukhtarRoy محترم بریلویت اہل سنت والجماعت ہے جو اسلام کی آمد سے موجود ہے۔
بریلویت صرف نیا نام ہے جو امام احمد رضا خان صاحب بریلوی رح کی نسبت سے پُکارا جاتا ہے۔