@TTAP_OFFICIAL
گورنر جنرل پاکستان محسن نقوی کومحمود خان اچکزئی کا کرارا جواب!
"میرے گھر آنے والا شخص جنرل فیصل نصیر تھا۔ میری نشست سمیت چاروں صوبائی نشستیں انہوں نے ہم سے چھین لیں۔
جنرل فیصل نصیر صاحب نے نکل کر کہا تھا کہ انہیں ایک بھی نشست نہیں دیں گے۔
میری نشست پر بلوچستان کا جو لڑکا ہارا ہوا تھا، اسے جتوایا گیا۔ چار نشستیں تو انہوں نے ویسے ہی چھین لیں لیکن جب قومی اسمبلی کی نشست پر اس ریٹرننگ افسر کوکہا گیا،تو اس نےکہا کہ دیکھو
"میرے پاس پستول ہے"،
یہ ہمارے علاقے کا بوڑھا آدمی ہے، اور یہ نشست جیتا ہوا ہے، میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس نے کہا کہ اس پستول سے یا میں خود کو مار لوں گا، یا آپ مجھے مار دیں، تب ہی میں یہ نتیجہ تبدیل کروں گا۔
میں اس طرح میں فارم 47 کے تحت آیا ہوں۔
-----------------------------------------
عظیم قائد! لاکھوں جانوں کی قربانی سے بننے اور قائم رہنے والا ملک بدقسمتی سے پُگ چکا ہے۔
جنرل فیصل نصیر! ایک "کھلا رُستم" نکلا، پاکستان کی خدمت کے ریکارڈ توڑے۔
اگر وہ نشان پاکستان یا ہلال پاکستان جیسے ایوارڈ سے محروم ہے؟ تو یہ جنرل صاحب کی خدمات کی توہین ہے۔ ایک ادمی نے 8 فروری کی رات کو فیصلہ کرناتھا کہ 25کروڑ لوگوں پر کونسا نظام ٹھوسنا ہے۔ یہ اُس فیصلہ کا نتیجہ کہ بقول فیصل ووڈا بوٹ کا نام بلند ہے، بوٹ کا ہی اعجاز ہی کہ پارلیمان ،ساری قومی وصوبائی حکومتیں عدالتیں آج علی الاعلان فخریہ طور پر "بوٹ" کی نوک پر ہیں۔ ایک شخص کا فیصلہ کہ کس حلقہ سے کس کو جیتنا تھا اور کس کو ہارنا تھا۔ ایک شخص نے پاکستان کی سیاست کو درست کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور یونٹی فیتھ ڈسپلن کی طاقت پر آئین پاکستان کو روندا اور اپنے حلف کو توڑا کہ اس ایک شخص کی ترجیح پاکستان نہیں اس کی نوکری تھی۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
یہ کہنا غلط ہے کہ سہیل آفریدی مذاکرات میں رکاوٹ تھے۔ سہیل آفریدی نے ایک سال تک اپنی پارٹی کا پریشر برداشت کیا اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی پوری کوشش کی، لیکن ایک سال تک انکی عمران خان سے ملاقات تک نہیں کروائی گئی، اسکے بعد انکے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا، وفاق کی سیکیورٹی پالیسی کی مخالفت اکیلے سہیل آفریدی نے نہیں کی، کے پی اسمبلی میں ہونے والے جرگے پر صوبے کی تمام جماعتوں کے دستخط موجود ہیں۔ جب سہیل آفریدی کو ہاں یا نہ کا آپشن دیا گیا تو انہوں نے کرسی کے ساتھ چپکے رہنے کے بجائے اپنے لوگوں کی امنگوں کو فوقیت دی اور حکومت قربان کی۔
پاکستان کی تاریخ میں اگر کسی جماعت نے جمہوریت کے نام پر سب سے زیادہ جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ "روٹی، کپڑا اور مکان" کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والی اس جماعت کا اصل کردار ہمیشہ اقتدار کی ہوس، اسٹیبلشمنٹ سے سودے بازی اور عوامی مینڈیٹ کی چوری رہا ہے۔
بنگالیوں کا مینڈیٹ چوری کرنا،
1970 کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے شفاف اور فیصلہ کن مینڈیٹ تھا۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے اس مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ "ادھر ہم، ادھر تم" کا نعرہ لگا کر ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اگر بھٹو بنگالیوں کا مینڈیٹ تسلیم کر لیتے تو پاکستان کبھی نہ ٹوٹتا۔ لیکن اقتدار کی بھوک نے ملک کو توڑ دیا، اور پھر اسی ٹوٹے ہوئے ملک کے وزیراعظم بن کر بھٹو نے خود کو فاتح سمجھا۔
محترمہ فاطمہ جناح پر غداری کا الزام،
1965 میں جب مادرِ ملت فاطمہ جناح نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا تو پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اس وقت ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تھے۔ ایوب کی آمریت کو مضبوط کرنے والی اس کابینہ کا حصہ رہ کر بھٹو نے فاطمہ جناح کے خلاف مہم میں حصہ لیا۔ مادرِ ملت کو غدار اور بھارت کا ��یجنٹ قرار دینے کی مہم اسی آمرانہ سوچ کا نتیجہ تھی، جسے بعد میں بھٹو نے اپنی سیاست کا حصہ بنا لیا
تین بار عوامی حکومت ختم کر کے گورنر راج
پیپلز پارٹی نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر ہمیشہ عوامی حکومتوں کو ختم کیا۔ بلوچستان میں سردار عطا اللہ مینگل کی منتخب حکومت کو برطرف کر کے گورنر راج لگانا، پھر صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) میں عوامی حکومت کو ختم کرنا، اور بعد کے ادوار میں بھی گورنر راج کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو روندنا، یہ سب پیپلز پارٹی کے جمہوری دعووں کی قلعی کھولتا ہے۔ جو جماعت خود کو جمہوریت کی چیمپئن کہتی ہے، اس نے تین بار عوامی حکومتوں کا گلا گھونٹا۔
بلوچستان آپریشن،
بھٹو دور میں بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔ ہزاروں بلوچوں کو قتل کیا گیا، گھر تباہ کیے گئے، اور بلوچ قوم کے زخم آج تک نہیں بھرے۔ یہ وہ آپریشن تھا جس نے بلوچستان میں احساسِ محرومی کو مستقل نفرت میں بدل دیا۔ آج بھی بلوچستان جل رہا ہے تو اس کی بنیاد بھٹو دور کے اس آپریشن نے رکھی تھی۔ پختون خواہ میں آپر��شن کرکے لاکھوں پختنوں کو قتل عام کیا ،
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اغوا: جمہوریت پر بدترین ڈاکہ،
تاریخ نے خود کو ایک بار پھر دہرایا ہے، اور اس بار یہ ظلم پہلے سے زیادہ شرمناک انداز میں ہوا۔ 5 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے خیبر پختونخوا کے عوام نے جس وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنا مینڈیٹ دے کر منتخب کیا، اسے سرِ عام اغوا کیا گیا۔
یہ کوئی عام سیاسی اختلاف نہیں تھا، یہ عوام کے ووٹ پر ڈاکہ تھا، یہ آئین کی توہین تھی، یہ جمہوریت کے منہ پر طمانچہ تھا۔ ایک منتخب وزیراعلیٰ کو اٹھا کر، دباؤ ڈال کر، خوفزدہ کر کے استعفیٰ لینا، یہ وہی غلیظ کھیل ہے جو پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کھیلا ہے۔ پہلے بنگالیوں کا مینڈیٹ چوری کیا، اب پختونوں کا مینڈیٹ چوری کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی کا اغوا اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کے حواری آج بھی عوامی مینڈیٹ سے خوفزدہ ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ عوام کے ووٹ سے کبھی نہیں جیت سکتے، اس لیے وہ اغوا، دھمکی، فارم 47 اور گورنر راج کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خود کو مظلوم اور جمہوری کہا، لیکن اس کا اصل ��یکارڈ یہ ہے: بنگالیوں کا مینڈیٹ چوری کیا، مادرِ ملت کو غدار کہا، ایوب کی کابینہ میں بیٹھ کر آمریت کو تقویت دی، منتخب حکومتیں گرائیں، بلوچستان میں آپریشن کیا، ملک توڑا، اور آج بھی اسی مینڈیٹ چوری کے نظام کی محافظ بنی ہوئی ہے۔
یہ جمہوریت نہیں، یہ اقتدار کی ایک لمبی اور خون آلود داستان ہے۔
پھر تاریخ نے بھٹوں کو خودکشی پر مجبورکیا.
پختون خوا (PTI حکومت) بجٹ کا 9% پولیس پر خرچ کر رہا تھا، پنجاب میں 3.6% بجٹ پولیس کیلئے ہے، سندھ میں 5.5% اور بلوچستان میں 8% بجٹ پولیس پر خرچ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب نواز لیگ کے وزرا بتاتے ہیں کہ پختون خوا حکومت پولیس کو بجٹ نہیں دے رہی تھی، اس لیے بھی ایمرجنسی بھی لگائی
تحریک انصاف نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا، اب کیا ہو گا؟ چاہے جس جج کے پاس بھی لگے کوئی فرق نہیں پڑتا، جب محسوس ہوا کہ تحریک انصاف کو ریلیف مل سکتا ہے فورآ وفاقی آئینی عدالت وہ کیس پشاور ہائیکورٹ سے اپنے پاس منگوا لے گی اور پھر آگے کیا ہو گا اس کے لئے کسی ایکسپرٹ کی ضرورت نہیں وہ ایک ریڑھی والا بھی جانتا ہے، جس ملک میں عدالتوں کا یہ حال کر دیا جائے اس ملک میں ��نصاف کی توقع کی جا سکتی ہے؟ مطلب پاکستان کی کسی بھی عدالت سے وفاقی آئینی عدالت کیس منگوا کے کیس اڑا دے، اور اس حالت کی ذمہ دار ن۔لیگ اور پیپلز پارٹی ہے، ان دونوں جماعتوں نے اس قوم کیساتھ، اس قوم کی نسلوں کیساتھ غداری اور ظلم کیا ہے، انشاء اللہ ان دونوں کا واسطہ انہی عدالتوں سے پڑے گا ان کیساتھ جو سلوک ہو گا وہ دنیا دیکھے گی، پوری دنیا میں دیکھ لیں کہیں عدالتوں کا اتنا برا حال نہیں ہو گا جو پاکستان میں بنایا گیا ہے، باقی وہ جج جو 34 لاکھ روپے تنخواہ اور مراعات لے رہا ہے، 10 کروڑ کی مرسیڈیز بھی ہے گھر کے لئے گاڑی الگ ہے، ٹرانسپورٹ، یوٹیلیٹی بلز یہاں تک کہ ان کے جنریٹروں ک�� تیل تک فری ہے وہاں سے انتہائی معذرت کیساتھ بادی النظر میں مبینہ طور پر انصاف کی توقع ہو سکتی ہے؟
"یہ سراسر غیرآئینی غیر قانونی ایمرجنسی اور گورنر راج ہے آئین کا آرٹیکل 232 کہتا ہے کہ یہ اس صورت میں لگا سکتے ہیں جب ملک کے اندر ایسا کوئی داخلی انتشار ہو صوبے کے اندر ایسا داخلی انتشار ہو جو صوبائ�� حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو اور صوبائی اسمبلی خود تقاضا کرے خود قرارداد پاس کرے جو کہ نہیں ہوا دوسرا یہ کہ ملک پر کوئی بیرونی یلغار ہو کوئی بیرونی طاقت نے حملہ کیا ہوا اس لیے ہم تقاضا کرتے ہیں کہ کس ملک سے یلغار ہوئی حملہ ہوا جس کی بنا پر گورنر راج لگایا گیا۔ آرٹیکل 234 کہتا ہے حکومتی مشینری ناکام ہوجائے تو ایسا بھی کچھ نہیں تھا" @salmanAraja
مہر بخاری نے نون لیگ کو ایکسپوز کر دیا۔2021 میں نواز شریف نے لندن میں پارٹی کی ایک میٹنگ رکھی تھی، جس میں انہوں نے کابل میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی تھی اور اس بات کو سراہا تھا کہ طالبان کے ساتھ کابل میں مذاکرات ہونے چاہئیں
میں نے تو گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی دھمکیوں والے پہلے دن سے ہی کہا تھا یہ سارا چکر معدنیات اور ریئر ارتھ منرلز کا ہے، امریکہ کے پاس یہ ریئر ارتھ منرلز نہیں ہیں، چین نے ایکسپورٹ بند کر دی ہے اب اس کی نظریں پاکستان پر ہیں، لیکن اگر اسے بیچنے ہیں تو قوم کو، پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر بیچو، چوری چھپے سے تو مسائل بڑھیں گے
چینلز پر بیٹھنے والے سینئر صحافیوں کو ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔ ایسی بے تُکی باتیں (سہیل آفریدی کی گرفتاری میں میرا ہاتھ) نہ کی جا��یں۔ میرے ساتھ پی ٹی آئی نے اپنی commitment پوری کی لیکن حکومت نے back out کیا، مولانا فضل الرحمٰن
جب جنرل ایوب امریکہ کو پختونخوا میں فوجی اڈہ دے رہا تھا، عمران خان اسکول پڑھ رہا تھا۔ جب بھٹو پشاور کے قلعہ بالا حصار میں افغان شدت پسندوں کو جنگی ٹریننگ کرا رہا تھا،عمران خان کرکٹ کھیل رہا تھا۔ جب جنرل ضیا الحق افغانستان میں امریکہ کا جہاد لڑ رہا تھا،عمران خان دنیا کا بہترین آل راونڈر بن رہا تھا۔ جب نواز شریف مستقبل کے دہشت گردوں کی فتح پر کابل ایئرپورٹ پر سجدے کر رہا تھا اور ان کی مدد سے کشمیر آزاد کروا رہا تھا،عمران خان پاکستان کے لئے ورلڈ کپ جیت رہا تھا، جب بے نظیر بھٹو طالبان بنا کر انہیں اپنے لڑکے کہلوانے کا کریڈٹ لے رہی تھی،عمران خان غریب مریضوں کے لئے کینسر اسپتال بنا رہا تھا۔ جب جنرل مشرف امریکہ کی جنگ میں کود کر فاٹا اور پختونخوا میں آگ لگا رہا تھا،عمران خان اس ظلم کے خلاف عملی طو پر سڑکوں پر تھا، جیل بھی گیا۔
1956 سے لیکر 2001 تک فوجی اسٹیبلشمنٹ، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی پالیسیاں پختونخوا میں دہشت گردی اور آگ لگانے کی ذمہ دار ہیں
عمران خان کو پختونخوا میں دہشت گردی کا ذمہ دار کہنے والے جعلی دانشورو، گودی صحافیو اور جرنیلی سیاست دانو !!!
تم اپنی پیدائش کا ذمہ دار بھی عمران خان کو کیوں نہیں قرار دے دیتے۔ یقین کرو، وہ، اللہ کا ایک سادہ اور گناہ گار بندہ ہے،مائنڈ نہیں کرے گا۔
تحریک انصاف کے ورکرز کیلئے اب عمران خان اور سہیل آفریدی کا نام لینا بھی گناہ ٹھہرا
پرامن احتجاج کی کال دینے والوں کی پکڑ دھکڑ
ہشتنگری میں کارکن نعرے بازی کرکے بھاگنے پر مجبور