نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے۔
(سنن ابن ماجہ ، ۹۰۷)
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیمار کی عیادت کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم أذهب البأس رب الناس واشف فأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما ”اے اللہ! اے لوگوں کے رب! عذاب و تکلیف کو دور کر دے اور شفاء دیدے، تو ہی شفاء دینے والا ہے،
++👇
اُن ایمان والوں نے یقینا فلاح پالی ہے
جو اپنی نماز میں دِل سے جھکنے والے ہیں۔
اور جو لغو چیزوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
اور جو زکوٰۃ پر عمل کرنے والے ہیں۔
اور جو اپنی شرم گاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔
﴿سورۃ المومنون، ۱-۵﴾
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”اللہ عزوجل فرماتا ہے: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کا ضامن میں ہوں، اگر میں اس کی روح قبض کروں تو اس کو جنت کا وارث بناؤں گا، اور اگر میں اسے ( اس کے گھر ) واپس بھیجوں تو اجر یا غنیمت کے ساتھ واپس بھیجوں گا“۔
(ترمذی : 1620)
عبدالله بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ:
نبی کریم ﷺ کے عہد میں ہم حضرت ابوبکر ؓ کے برابر کسی کو نہیں قرار دیتے تھے، پھر حضرت عمر ؓ کو، پھر حضرت عثمان ؓ کو. اس کے بعد نبی ﷺ کے صحابہ پر ہم کوئی بحث نہیں کرتے تھے، اور کسی کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے.
بخاری 3698
(ابوداؤد 4627)
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
حضرت علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں:
دنیا گزر رہی ہے جبکہ آخرت آ رہی ہے، اور انسانوں میں دنیا و آخرت دونوں کے طلبگار ہیں. تم آخرت کے طلبگار بنو اور دنیا کے طلبگار نہ بنو، کیونکہ آج عمل (کا وقت) ہے اور حساب نہیں، جبکہ کل حساب ہوگا اور عمل نہیں ہوگا.
مشکوٰۃ 5215
(بخاری 6417)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول ﷺ!
لوگوں میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ ،
عرض کیا گیا: مردوں میں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے والد ( ابوبکرؓ ) ـ
(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر ١٠١)
اے ایمان والو ! جب جمعہ کےدن نماز کےلیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارےلیےبہتر ہے،اگر تم سمجھو۔
پھر جب نماز پوری ہوجائےتو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کافضل تلاش کرو،اور اللہ کو کثرت سےیاد کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔
﴿الجمعہ۔۹،۱۰﴾
نبی کریم ﷺبیمار ہوئے اور جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ ﷺنےفرمایا کہ ابوبکرؓسے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اس پر عائشہؓ بولیں کہ وہ نرم دل ہیں جب آپﷺکی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان کےلیے نماز پڑھانا مشکل ہو گا۔آپﷺ نےپھر فرمایا کہ ابوبکر سےکہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔
(بخاری،۶۷۸)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کون سا عمل بہتر ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔
پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد؟
فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
پھر پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد؟
فرمایا کہ حج مبرور۔
(صحیح بخاری،۱۵۱۹)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور (دوسروں کو) اس کی تعلیم دے.
بخاری 5027
(بخاری 5028؛ ابوداؤد 1452؛ ترمذی 2907، 2908؛ ماجہ 211، 212؛ مسند احمد 8328؛ مشکوٰۃ 2109)
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، اِلاَّ یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے وجود میں آئی ہو (تو وہ جائز ہے)، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین جانواللہ تم پر بہت مہربان ہے۔
﴿سورۃ النساء، ۲۹﴾
وہی ہے جو ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زبردست اقتدار کا بھی مالک ہے، اعلیٰ درجے کی حکمت کا بھی ۔
﴿سورۃ آل عمران ، ۶﴾