کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو سالوں بعد بھی نہیں ب��رتے 🥲زندگی بہت مشکل ہو گئ ہے اللہ ہمارے لئے آسانیاں فرمائے اللہ پاک ڈاکٹر عمران فاروق کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین یہ میرے ذات کی ویرانیاں یونہی نہیں ہیں مجھ سے بچھڑا ہے کوئ شخص بہاروں جیسا
کراچی کی کربناک صورتحال کاذمہ دارکون !!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
7 جولائی 2023ئ
کراچی کی گزشتہ 7سالوں سے جو کربناک، دل دکھانے والی امن وعامہ کی صورت حال جس طرح سے ہرگزرتے دن کے ساتھ خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے اس نے کراچی کاامن وسکون غارت اور تباہ کرکے رکھ دیاہے ۔ اس پرآشوب صورت حال کو الیکٹرونک اورسوشل میڈیا پر دیکھ کراوراخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کو پڑھ کربسااوقات اپنے آنسوؤں کوضبط کرنا بھی ناممکن ہوجاتاہے۔
کراچی کے معصوم شہریوں کوروزانہ صرف بڑی شاہراہوں پر ہی نہیں بلکہ ہرمحلے اورہرمحلے کی ہرگلی میں دن دہاڑے لوٹاجارہاہے ، ذرا سی مزاحمت پر ��ہریوں کوگولیوں کا نشانہ بناکرہلاک وزخمی کردیاجاتا ہے۔ شہریوں بالخصوص خواتین کے لئے گھروں سے نکلنا محال ہوگیا ہے، دن دہاڑے ان کے پرس چھینے جارہے ہیں، سینکڑوں کی تعداد میں موبائل فون گن پوائنٹ پر روزانہ چھینے جارہے ہیں اوراب تو صورتحال اتنی زیادہ خراب ہوچکی ہے کہ دن کے اجالے میں راہگیر خواتین ومعصوم بچیوں کی عصمتوں پر ہاتھ ڈالے جارہے ہیں، معصوم بچیوں کے اغوا کی وارداتیں روزمرہ کامعمول بن چکی ہیں۔
اس تمام تر اندوہناک صورتحال پرقابوپانے اورشہریوں کوجان ومال کاتحفظ فراہم کرنے میں پولیس، رینجرز اورحکومت سندھ قطعی طورپرناکام ہوچکی ہے۔ 22 اگست 2016ء سے پہلے ایسی خرا�� صورتحال نہیں تھی۔ کراچی کے عوام خوب جانتے ہیں کہ میں نے کراچی سمیت پورے سندھ میں '' اپنی اور اپنی گلیوں اورمحلوں کی حفاظت خودکرو '' کے پروگرام کے تحت بزرگوں اورنوجوانوں پر مشتمل محلہ کمیٹیاں تشکیل دی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ یونٹس،سیکٹرز اورزونوں کی سطح پر تمام ساتھی ہمیشہ چوکس وچوکنا رہتے تھے ۔ ہرگلی محلہ میں آنے جانے والے راستوں پرحفاظتی گیٹ لگائے گئے تھے جنہیں ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن کے دوران فوج اوررینجرز کے اہلکاروں نے اکھاڑپھینکا تھا۔نائن زیرو اورخورشید بیگم میموریل ہال میں ''ہرنسلی ولسانی گروپ '' کے دفاترقائم تھے جہاں ہروقت ذمہ داران موجود ہوتے تھے۔اگر کہیں بھی اور کسی بھی جگہ امن عامہ کاذرہ برابر کوئی مسئلہ علم میں آتاتھا تومتعلقہ علاقےسےتعلق رکھنے والے نسلی ولسانی گروپوں کے ذمہ دار فوراً بجلی کی رفتار سے وہاں پہنچ جاتےتھے اورہر چھوٹے سے بڑے مسئلہ کوحل کروادیا کرتے تھے لیکن 23 اگست 2016ء کی رات رینجرز، فوج اوردفاعی ایجنسیوں کے افسران واہلکاروں نے ایم کیوایم پر شب خون مارکراپنی سرپرستی میں ایم کیوایم پی (MQM-P) کے نام سے ایک اورنیاعلیحدہ گروپ تشکیل دے ڈالا جس میں شامل افراد نے اپنے اپنے ذاتی مفادات کے تحت مجھ سے،قوم سے، اسیروں اورلاپتہ افراد کے اہل خانہ کی غم سےنڈھال کیفیت کاسودا کرڈالا حتیٰ کہ شہیدوں کےخون سے غداری کاعمل کرتے ہوئے شہداء کے مقدس لہوکاسوداکرلیا اورشہدا کی بیواؤں،یتیم بچوں سمیت تمام لواحقین کو بے سہارا کردیا۔
میں یہاں اس امر کابھی ذکرکرناضروری سمجھتاہوں کہ کراچی کےامن کوغارت کرنے میں جتناپولیس، رینجرز اور حکومت سندھ کاہاتھ ہے اس سے بڑھ کر اس میں قوم کے غداروں کاہاتھ شامل ہے جنہوں نے اپنے ظرف وضمیر کاسوداکرکے اورقرآن مجید پر اٹھائے گئے اپنے حلف سے غ��اری کرکے کراچی کے معصوم شہریوں کودہشت گردوں، چوروں، ڈاکوؤں، لٹیروں کے رحم وکرم پر چھوڑدیاہے۔ جیساکہ آپ سب کو معلوم ہے کہ تحریک اورقوم سے غداری کاعمل کرنے والے غداروں کے رہنے سہنے کے انداز تبدیل ہوگئے اوروہ اپنے چھوٹےچھوٹےگھروں یافلیٹس کو چھوڑ کرڈیفنس کلفٹن جیسے دیگر پوش ایریاز میں رہائش پذیرہوگئےاور ایم کیوایم کے ''حقیقت پسندی اورعملیت پسندی '' کےفلسفہ اورعوام کے اجتماعی مفاد کویکسر فراموش کرکے محض اپنے مفادات کے حصول کے لئے کام کررہے ہیں۔
میں کراچی میں رہنے والے شہریوں سے درخواست کرتاہوں کہ وہ ایم کیوایم کی ایڈوائزری کونسل کے ارکان سے ملاقات کریں اورآپس میں رابطہ رکھیں اور ''اپنی مدد آپ '' کے اصول کے تحت اپنے مثالی اتحاداور تنظیم سازی کے لئے تیار ہوجائیں اور ایک نئے جذبہ کے ساتھ تنظیمی کام کوآگے بڑھائیں۔
آپ کااپنا
الطاف حسین
7 جولائی 2023
(لندن)
کہتے ہیں پرانی ایم کیو ایم نے بھتہ لیا،بوریاں بند کیں،ظلم کیا۔میں کہتا ہوں یہ سب کیا ہو نہ کیا ہو اتنا ضرور کیا کہ اس شہر کی ہر عورت کو بھرپور تحفظ دیا- کچھ زیادتیاں ایم کیو ایم نے بھی کی ہیں،ان کے لڑکوں سے بھی کچھ شکایات ہوں گی،مگر ایک جماعت کے طور پر انہوں نےعورت کی عزت کی
+++
مہاجروں کو غیر مسلح کر کے مہاجروں کے علاقے لانڈھی زمان آباد میں مسلح دہشت گردوں کی یلغار قانون نافذ کرنے والے ادارے نیند کی اغوش میں سوتے رہے اور دہشت گرد دہشت گردی کرتے رہے۔کراچی کو مقبوضہ کراچی بنانے میں غیروں کا نہیں اپنے ہی لوگوں کا بہت اہم کردار ہے۔
#karachi
جبری گمشدگیاں ایک سنگین معملہ ہے، ہزاروں مہاجر بلوچ پشتون سندھی پنجابی اس کا شکار ہوچکے ہیں، ایم کیؤ ایم کے قائد الطاف حسین نے اس حوالے سے عاصم منیر صاحب سے اپیل کی ہے جسکا @OfficialDGISPR کو فلفور نوٹس لینا چاہیۓ۔
#AltafAppealsForMissingPersons
اسٹبلشمنٹ کے جانوروں کی الائشیں کراچی میں پھیلی ہوئی ہیں اور تعفن پھیلا رہی ہیں اور جلد انکو قائد @AltafHussain_90 کے وفا پرست تلف کرکے شہر کی فضاء کو خوشگوار بنائنگے !!
👇👇👇
یکم جولائی 2023ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم جناب جنرل عاصم منیر صاحب!
چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان!
السلام علیکم وآداب عرض
عیدالاضحی کی دلی مبارکباد قبول کریں۔ اب میں آپ کی خدمت میں چند اہم گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
1۔ میں ��یدکے دن سے لیکر آج مورخہ یکم جولائی2023ء کے دن تک پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر فوج کے شہداء کے اہل خانہ کے بیانات دیکھ رہا ہوں ، شہداء کے لواحقین کے جذبات واحساسات غورسے دیکھ رہا ہوں۔ میں خود شہداء کے لواحقین میں شامل ہوں اور اپنی تحریک کے ہزاروں کارکنان کی شہادت کاصدمہ سہہ چکا ہوں لہٰذا میں ان شہیدوں کے لواحقین کے دکھ ، درد اورجذبات واحساسات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ اسی لئے یہ کہنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ملک کی سالمیت اور تحفظ کیلئے شہداء نے جوقربانیاں دی ہیں اس پر ان کے لواحقین کے بیانات میں اپنے پیاروں کی شہادت پر جس طرح فخر کااظہارکیا جارہاہے اور ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے بچھڑ جانے کا جو دکھ وکرب بیان کیاجارہا ہے اس پر مجھ سمیت پوری قوم کوشہداء کی شہادت پر فخرہے اور ان کے اہل خانہ کے اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے کے دکھ پر صدمہ بھی ہے۔
2۔ اب میں ان ماں باپ، بچوں ،بچیوں اورسہاگنوں کے دکھ وکرب کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے پیاروں کوفوج، ISI اور ملک کے دیگر سیک��ریٹی اداروں کے اہلکاروں نےان کے گھروالوں کےسامنے گرفتارکرلیاتھااورپھر انہیں لاپتہ کردیاگیا۔ بہت سے لاپتہ کیے جانےوالےافراد کو لاپتہ کئے 15سے 20 سال سے زائدکا عرصہ بیت چکاہے،ان لاپتہ افراد میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں 14 سال پہلے لاپتہ کیاگیاہے۔ شروع شروع کے دنوں اور آنے والی ہرعید کے موقع پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیارےمعصوم بچوں کویہ کہہ کہہ کرتسلیاں دے دیتے تھے کہ '' تمہارے ابو بیرون ملک گئے ہوئے ہیں اور وہ چھٹی نہ ملنےکےسبب اس عید پر گھرنہیں آسکے''۔
اسی طرح کے دلاسے دیتے دیتے آج ان کےمعصوم بچے باشعور، تعلیم یافتہ اورجوان ہوچکے ہیں ،ان کی مائیں اپنے بچوں کوج��کہ اب جوان ہوچکےہیں کیاجواب دیں؟ مزید کیاتسلیاں دیں ؟
ان لاپتہ افراد کےاہل خانہ کیلئےتو ہرآنےوالی نئی عید ،ان کے دکھی اورزخمی دلوں کواورزیادہ دکھی اوران کےزخموں کومزید تازہ کرنے کاسبب بنتی ہے ۔
3۔ چیف آف آرمی اسٹاف جناب جنرل عاصم منیرصاحب!
کوئی ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ بالخصوص معصوم بچوں کے دکھ اور کرب کی حالت کو دیکھے یا نہ دیکھے مگر اللہ تبارک وتعالیٰ تو ضروردیکھ رہا ہے ۔ ملک کے ہرچھوٹے بڑے سیاستدان نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کرکے وعدے وعید کئے حتیٰ کہ قسمیں تک کھائیں کہ ہم اپوزیشن میں رہ کر ان کی بخیریت گھرواپسی کیلئے بھرپورانداز میں آواز احتجاج بلند کرتےرہیں گے لیکن ا ن سیاستدانوں نےاپنے وعدے ذرہ برابربھی پورے نہ کیے ۔ اسی طرح ان سیاستدانوں نے لاپتہ افراد کےاہل خانہ سے قسمیں کھاکھاکر یہ وعدے بھی کیے کہ اگرہم اقتدار میں آگئے تولاپتہ افراد کو فوری بازیاب کرانا ہماری دیگر ترجیحات میں اولین ترجیح ہوگا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کےوعدے وعید اورقسمیں ہمیشہ کی طرح ا��تدار کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئیں اورانہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی اولین ترجیح کےاپنے وعدے کوسردخانےمیں ڈال دیا۔
محترم جنرل عاصم منیر صاحب!
میری آپ سےمؤدبانہ درخواست ہےاورآپ کواپنےحافظ قرآن ہونے کاواسطہ بھی ہےکہ ان تمام لاپتہ افراد کو فی الفور بازیاب کرانےکیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں ،اگر ان لاپتہ افراد پر کوئی الزام یا الزامات ہیں تو انہیں فوری طورپر عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کریں اور اگر لاپتہ کیے گئے افراد میں سے جوافراد چل بسے یامارے جاچکے ہیں تو کم ازکم ان کے پریشان حال اہل خانہ کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے احکامات جاری کریں یاپھر الیکٹرانک میڈیاپر لاپتہ کیےجانےوالےافراد کے اہل خانہ کو لاکر انہیں بھی اپنی دکھ بھری داستانیں سنانے کاموقع فراہم کریں ۔اس طرح کم ازکم وہ اپنی اپنی دکھ بھری داستانیں سنا کرہی اپنے دکھوں کا بوجھ ہلکااور اپنے اپنے غموں کا کچھ تو مداوا کرسکیں گے ۔
شکریہ
والسلام
احقر
الطاف حسین (لندن) یکم جولائی 2023ء
یکم جولائی 2023ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم جناب جنرل عاصم منیر صاحب!
چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان!
السلام علیکم وآداب عرض
عیدالاضحی کی دلی مبارکباد قبول کریں۔ اب میں آپ کی خدمت میں چند اہم گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
1۔ میں ��یدکے دن سے لیکر آج مورخہ یکم جولائی2023ء کے دن تک پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر فوج کے شہداء کے اہل خانہ کے بیانات دیکھ رہا ہوں ، شہداء کے لواحقین کے جذبات واحساسات غورسے دیکھ رہا ہوں۔ میں خود شہداء کے لواحقین میں شامل ہوں اور اپنی تحریک کے ہزاروں کارکنان کی شہادت کاصدمہ سہہ چکا ہوں لہٰذا میں ان شہیدوں کے لواحقین کے دکھ ، درد اورجذبات واحساسات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ اسی لئے یہ کہنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ملک کی سالمیت اور تحفظ کیلئے شہداء نے جوقربانیاں دی ہیں اس پر ان کے لواحقین کے بیانات میں اپنے پیاروں کی شہادت پر جس طرح فخر کااظہارکیا جارہاہے اور ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے بچھڑ جانے کا جو دکھ وکرب بیان کیاجارہا ہے اس پر مجھ سمیت پوری قوم کوشہداء کی شہادت پر فخرہے اور ان کے اہل خانہ کے اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے کے دکھ پر صدمہ بھی ہے۔
2۔ اب میں ان ماں باپ، بچوں ،بچیوں اورسہاگنوں کے دکھ وکرب کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے پیاروں کوفوج، ISI اور ملک کے دیگر سیک��ریٹی اداروں کے اہلکاروں نےان کے گھروالوں کےسامنے گرفتارکرلیاتھااورپھر انہیں لاپتہ کردیاگیا۔ بہت سے لاپتہ کیے جانےوالےافراد کو لاپتہ کئے 15سے 20 سال سے زائدکا عرصہ بیت چکاہے،ان لاپتہ افراد میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں 14 سال پہلے لاپتہ کیاگیاہے۔ شروع شروع کے دنوں اور آنے والی ہرعید کے موقع پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیارےمعصوم بچوں کویہ کہہ کہہ کرتسلیاں دے دیتے تھے کہ '' تمہارے ابو بیرون ملک گئے ہوئے ہیں اور وہ چھٹی نہ ملنےکےسبب اس عید پر گھرنہیں آسکے''۔
اسی طرح کے دلاسے دیتے دیتے آج ان کےمعصوم بچے باشعور، تعلیم یافتہ اورجوان ہوچکے ہیں ،ان کی مائیں اپنے بچوں کوج��کہ اب جوان ہوچکےہیں کیاجواب دیں؟ مزید کیاتسلیاں دیں ؟
ان لاپتہ افراد کےاہل خانہ کیلئےتو ہرآنےوالی نئی عید ،ان کے دکھی اورزخمی دلوں کواورزیادہ دکھی اوران کےزخموں کومزید تازہ کرنے کاسبب بنتی ہے ۔
3۔ چیف آف آرمی اسٹاف جناب جنرل عاصم منیرصاحب!
کوئی ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ بالخصوص معصوم بچوں کے دکھ اور کرب کی حالت کو دیکھے یا نہ دیکھے مگر اللہ تبارک وتعالیٰ تو ضروردیکھ رہا ہے ۔ ملک کے ہرچھوٹے بڑے سیاستدان نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کرکے وعدے وعید کئے حتیٰ کہ قسمیں تک کھائیں کہ ہم اپوزیشن میں رہ کر ان کی بخیریت گھرواپسی کیلئے بھرپورانداز میں آواز احتجاج بلند کرتےرہیں گے لیکن ا ن سیاستدانوں نےاپنے وعدے ذرہ برابربھی پورے نہ کیے ۔ اسی طرح ان سیاستدانوں نے لاپتہ افراد کےاہل خانہ سے قسمیں کھاکھاکر یہ وعدے بھی کیے کہ اگرہم اقتدار میں آگئے تولاپتہ افراد کو فوری بازیاب کرانا ہماری دیگر ترجیحات میں اولین ترجیح ہوگا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کےوعدے وعید اورقسمیں ہمیشہ کی طرح ا��تدار کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئیں اورانہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی اولین ترجیح کےاپنے وعدے کوسردخانےمیں ڈال دیا۔
محترم جنرل عاصم منیر صاحب!
میری آپ سےمؤدبانہ درخواست ہےاورآپ کواپنےحافظ قرآن ہونے کاواسطہ بھی ہےکہ ان تمام لاپتہ افراد کو فی الفور بازیاب کرانےکیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں ،اگر ان لاپتہ افراد پر کوئی الزام یا الزامات ہیں تو انہیں فوری طورپر عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کریں اور اگر لاپتہ کیے گئے افراد میں سے جوافراد چل بسے یامارے جاچکے ہیں تو کم ازکم ان کے پریشان حال اہل خانہ کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے احکامات جاری کریں یاپھر الیکٹرانک میڈیاپر لاپتہ کیےجانےوالےافراد کے اہل خانہ کو لاکر انہیں بھی اپنی دکھ بھری داستانیں سنانے کاموقع فراہم کریں ۔اس طرح کم ازکم وہ اپنی اپنی دکھ بھری داستانیں سنا کرہی اپنے دکھوں کا بوجھ ہلکااور اپنے اپنے غموں کا کچھ تو مداوا کرسکیں گے ۔
شکریہ
والسلام
احقر
الطاف حسین (لندن) یکم جولائی 2023ء
یکم جولائی 2023ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم جناب جنرل عاصم منیر صاحب!
چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان!
السلام علیکم وآداب عرض
عیدالاضحی کی دلی مبارکباد قبول کریں۔ اب میں آپ کی خدمت میں چند اہم گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
1۔ میں عیدکے دن سے لیکر آج مورخہ یکم جولائی2023ء کے دن تک پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر فوج کے شہداء کے اہل خانہ کے بیانات دیکھ رہا ہوں ، شہداء کے لواحقین کے جذبات واحساسات غورسے دیکھ رہا ہوں۔ میں خود شہداء کے لواحقین میں شامل ہوں اور اپنی تحریک کے ہزاروں کارکنان کی شہادت کاصدمہ سہہ چکا ہوں لہٰذا میں ان شہیدوں کے لواحقین کے دکھ ، درد اورجذبات واحساسات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ اسی لئے یہ کہنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ملک کی سال��یت اور تحفظ کیلئے شہداء نے جوقربانیاں دی ہیں اس پر ان کے لواحقین کے بیانات میں اپنے پیاروں کی شہادت پر جس طرح فخر کااظہارکیا جارہاہے اور ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے بچھڑ جانے کا جو دکھ وکرب بیان کیاجارہا ہے اس پر مجھ سمیت پوری قوم کوشہداء کی شہادت پر فخرہے اور ان کے اہل خانہ کے اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے کے دکھ پر صدمہ بھی ہے۔
2۔ اب میں ان ماں باپ، بچوں ،بچیوں اورسہاگنوں کے دکھ وکرب کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے پیاروں کوفوج، ISI اور ملک کے دیگر سیکوریٹی اداروں کے اہلکاروں نےان کے گھروالوں کےسامنے گرفتارکرلیاتھااورپھر انہیں لاپتہ کردیاگیا۔ بہت سے لاپتہ کیے ج��نےوالےافراد کو لاپتہ کئے 15سے 20 سال سے زائدکا عرصہ بیت چکاہے،ان لاپتہ افراد میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں 14 سال پہلے لاپتہ کیاگیاہے۔ شروع شروع کے دنوں اور آنے والی ہرعید کے موقع پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیارےمعصوم بچوں کویہ کہہ کہہ کرتسلیاں دے دیتے تھے کہ '' تمہارے ابو بیرون ملک گئے ہوئے ہیں اور وہ چھٹی نہ ملنےکےسبب اس عید پر گھرنہیں آسکے''۔
اسی طرح کے دلاسے دیتے دیتے آج ان کےمعصوم بچے باشعور، تعلیم یافتہ اورجوان ہوچکے ہیں ،ان کی مائیں اپنے بچوں کوجوکہ اب جوان ہوچکےہیں کیاجواب دیں؟ مزید کیاتسلیاں دیں ؟
ان لاپتہ افراد کےاہل خانہ کیلئےتو ہرآنےوالی نئی عید ،ان کے دکھی اورزخمی دلوں کواورزیادہ دکھی اوران کےزخموں کومزید تازہ کرنے کاسبب بنتی ہے ۔
3۔ چیف آف آرمی اسٹاف جناب جنرل عاصم منیرصاحب!
کوئی ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ بالخصوص معصوم بچوں کے دکھ اور کرب کی حالت کو دیکھے یا نہ دیکھے مگر اللہ تبارک وتعالیٰ تو ضروردیکھ رہا ہے ۔ ملک کے ہرچھوٹے بڑے سیاستدان نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کرکے وعدے وعید کئے حتیٰ کہ قسمیں تک کھائیں کہ ہم اپوزیشن میں رہ کر ان کی بخیریت گھرواپسی کیلئے بھرپورانداز میں آواز احتجاج بلند کرتےرہیں گے لیکن ا ن سیاستدانوں نےاپنے وعدے ذرہ برابربھی پورے نہ کیے ۔ اسی طرح ان سیاستدانوں نے لاپتہ افراد کےاہل خانہ سے قسمیں کھاکھاکر یہ وعدے بھی کیے کہ اگرہم اقتدار میں آگئے تولاپتہ افراد کو فوری بازیاب کرانا ہماری دیگر ترجیحات میں اولین ترجیح ہوگا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کےوعدے وعید اورقسمیں ہمیشہ کی طرح اقتدار کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئیں اورانہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی اولین ترجیح کےاپنے وعدے کوسردخانےمیں ڈال دیا۔
محترم جنرل عاصم منیر صاحب!
میری آپ سےمؤدبانہ درخواست ہےاورآپ کواپنےحافظ قرآن ہونے کاواسطہ بھی ہےکہ ان تمام لاپتہ افراد کو فی الفور بازیاب کرانےکیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں ،اگر ان لاپتہ افراد پر کوئی الزام یا الزامات ہیں ت�� انہیں فوری طورپر عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کریں اور اگر لاپتہ کیے گئے افراد میں سے جوافراد چل بسے یامارے جاچکے ہیں تو کم ازکم ان کے پریشان حال اہل خانہ کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے احکامات جاری کریں یاپھر الیکٹرانک میڈیاپر لاپتہ کیےجانےوالےافراد کے اہل خانہ کو لاکر انہیں بھی اپنی دکھ بھری داستانیں سنانے کاموقع فراہم کریں ۔اس طرح کم ازکم وہ اپنی اپنی دکھ بھری داستانیں سنا کرہی اپنے دکھوں کا بوجھ ہلکااور اپنے اپنے غموں کا کچھ تو مداوا کرسکیں گے ۔
شکریہ
والسلام
احقر
الطاف حسین (لندن) یکم جولائی 2023ء
یکم جولائی 2023ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم جناب جنرل عاصم منیر صاحب!
چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان!
السلام علیکم وآداب عرض
عیدالاضحی کی دلی مبارکباد قبول کریں۔ اب میں آپ کی خدمت میں چند اہم گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
1۔ میں ��یدکے دن سے لیکر آج مورخہ یکم جولائی2023ء کے دن تک پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر فوج کے شہداء کے اہل خانہ کے بیانات دیکھ رہا ہوں ، شہداء کے لواحقین کے جذبات واحساسات غورسے دیکھ رہا ہوں۔ میں خود شہداء کے لواحقین میں شامل ہوں اور اپنی تحریک کے ہزاروں کارکنان کی شہادت کاصدمہ سہہ چکا ہوں لہٰذا میں ان شہیدوں کے لواحقین کے دکھ ، درد اورجذبات واحساسات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ اسی لئے یہ کہنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ملک کی سالمیت اور تحفظ کیلئے شہداء نے جوقربانیاں دی ہیں اس پر ان کے لواحقین کے بیانات میں اپنے پیاروں کی شہادت پر جس طرح فخر کااظہارکیا جارہاہے اور ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے بچھڑ جانے کا جو دکھ وکرب بیان کیاجارہا ہے اس پر مجھ سمیت پوری قوم کوشہداء کی شہادت پر فخرہے اور ان کے اہل خانہ کے اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے کے دکھ پر صدمہ بھی ہے۔
2۔ اب میں ان ماں باپ، بچوں ،بچیوں اورسہاگنوں کے دکھ وکرب کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے پیاروں کوفوج، ISI اور ملک کے دیگر سیک��ریٹی اداروں کے اہلکاروں نےان کے گھروالوں کےسامنے گرفتارکرلیاتھااورپھر انہیں لاپتہ کردیاگیا۔ بہت سے لاپتہ کیے جانےوالےافراد کو لاپتہ کئے 15سے 20 سال سے زائدکا عرصہ بیت چکاہے،ان لاپتہ افراد میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں 14 سال پہلے لاپتہ کیاگیاہے۔ شروع شروع کے دنوں اور آنے والی ہرعید کے موقع پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیارےمعصوم بچوں کویہ کہہ کہہ کرتسلیاں دے دیتے تھے کہ '' تمہارے ابو بیرون ملک گئے ہوئے ہیں اور وہ چھٹی نہ ملنےکےسبب اس عید پر گھرنہیں آسکے''۔
اسی طرح کے دلاسے دیتے دیتے آج ان کےمعصوم بچے باشعور، تعلیم یافتہ اورجوان ہوچکے ہیں ،ان کی مائیں اپنے بچوں کوج��کہ اب جوان ہوچکےہیں کیاجواب دیں؟ مزید کیاتسلیاں دیں ؟
ان لاپتہ افراد کےاہل خانہ کیلئےتو ہرآنےوالی نئی عید ،ان کے دکھی اورزخمی دلوں کواورزیادہ دکھی اوران کےزخموں کومزید تازہ کرنے کاسبب بنتی ہے ۔
3۔ چیف آف آرمی اسٹاف جناب جنرل عاصم منیرصاحب!
کوئی ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ بالخصوص معصوم بچوں کے دکھ اور کرب کی حالت کو دیکھے یا نہ دیکھے مگر اللہ تبارک وتعالیٰ تو ضروردیکھ رہا ہے ۔ ملک کے ہرچھوٹے بڑے سیاستدان نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کرکے وعدے وعید کئے حتیٰ کہ قسمیں تک کھائیں کہ ہم اپوزیشن میں رہ کر ان کی بخیریت گھرواپسی کیلئے بھرپورانداز میں آواز احتجاج بلند کرتےرہیں گے لیکن ا ن سیاستدانوں نےاپنے وعدے ذرہ برابربھی پورے نہ کیے ۔ اسی طرح ان سیاستدانوں نے لاپتہ افراد کےاہل خانہ سے قسمیں کھاکھاکر یہ وعدے بھی کیے کہ اگرہم اقتدار میں آگئے تولاپتہ افراد کو فوری بازیاب کرانا ہماری دیگر ترجیحات میں اولین ترجیح ہوگا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کےوعدے وعید اورقسمیں ہمیشہ کی طرح ا��تدار کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئیں اورانہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی اولین ترجیح کےاپنے وعدے کوسردخانےمیں ڈال دیا۔
محترم جنرل عاصم منیر صاحب!
میری آپ سےمؤدبانہ درخواست ہےاورآپ کواپنےحافظ قرآن ہونے کاواسطہ بھی ہےکہ ان تمام لاپتہ افراد کو فی الفور بازیاب کرانےکیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں ،اگر ان لاپتہ افراد پر کوئی الزام یا الزامات ہیں تو انہیں فوری طورپر عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کریں اور اگر لاپتہ کیے گئے افراد میں سے جوافراد چل بسے یامارے جاچکے ہیں تو کم ازکم ان کے پریشان حال اہل خانہ کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے احکامات جاری کریں یاپھر الیکٹرانک میڈیاپر لاپتہ کیےجانےوالےافراد کے اہل خانہ کو لاکر انہیں بھی اپنی دکھ بھری داستانیں سنانے کاموقع فراہم کریں ۔اس طرح کم ازکم وہ اپنی اپنی دکھ بھری داستانیں سنا کرہی اپنے دکھوں کا بوجھ ہلکااور اپنے اپنے غموں کا کچھ تو مداوا کرسکیں گے ۔
شکریہ
والسلام
احقر
الطاف حسین (لندن) یکم جولائی 2023ء
یکم جولائی 2023ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم جناب جنرل عاصم منیر صاحب!
چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان!
السلام علیکم وآداب عرض
عیدالاضحی کی دلی مبارکباد قبول کریں۔ اب میں آپ کی خدمت میں چند اہم گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
1۔ میں ��یدکے دن سے لیکر آج مورخہ یکم جولائی2023ء کے دن تک پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر فوج کے شہداء کے اہل خانہ کے بیانات دیکھ رہا ہوں ، شہداء کے لواحقین کے جذبات واحساسات غورسے دیکھ رہا ہوں۔ میں خود شہداء کے لواحقین میں شامل ہوں اور اپنی تحریک کے ہزاروں کارکنان کی شہادت کاصدمہ سہہ چکا ہوں لہٰذا میں ان شہیدوں کے لواحقین کے دکھ ، درد اورجذبات واحساسات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ اسی لئے یہ کہنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ملک کی سالمیت اور تحفظ کیلئے شہداء نے جوقربانیاں دی ہیں اس پر ان کے لواحقین کے بیانات میں اپنے پیاروں کی شہادت پر جس طرح فخر کااظہارکیا جارہاہے اور ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے بچھڑ جانے کا جو دکھ وکرب بیان کیاجارہا ہے اس پر مجھ سمیت پوری قوم کوشہداء کی شہادت پر فخرہے اور ان کے اہل خانہ کے اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے کے دکھ پر صدمہ بھی ہے۔
2۔ اب میں ان ماں باپ، بچوں ،بچیوں اورسہاگنوں کے دکھ وکرب کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے پیاروں کوفوج، ISI اور ملک کے دیگر سیک��ریٹی اداروں کے اہلکاروں نےان کے گھروالوں کےسامنے گرفتارکرلیاتھااورپھر انہیں لاپتہ کردیاگیا۔ بہت سے لاپتہ کیے جانےوالےافراد کو لاپتہ کئے 15سے 20 سال سے زائدکا عرصہ بیت چکاہے،ان لاپتہ افراد میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں 14 سال پہلے لاپتہ کیاگیاہے۔ شروع شروع کے دنوں اور آنے والی ہرعید کے موقع پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیارےمعصوم بچوں کویہ کہہ کہہ کرتسلیاں دے دیتے تھے کہ '' تمہارے ابو بیرون ملک گئے ہوئے ہیں اور وہ چھٹی نہ ملنےکےسبب اس عید پر گھرنہیں آسکے''۔
اسی طرح کے دلاسے دیتے دیتے آج ان کےمعصوم بچے باشعور، تعلیم یافتہ اورجوان ہوچکے ہیں ،ان کی مائیں اپنے بچوں کوج��کہ اب جوان ہوچکےہیں کیاجواب دیں؟ مزید کیاتسلیاں دیں ؟
ان لاپتہ افراد کےاہل خانہ کیلئےتو ہرآنےوالی نئی عید ،ان کے دکھی اورزخمی دلوں کواورزیادہ دکھی اوران کےزخموں کومزید تازہ کرنے کاسبب بنتی ہے ۔
3۔ چیف آف آرمی اسٹاف جناب جنرل عاصم منیرصاحب!
کوئی ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ بالخصوص معصوم بچوں کے دکھ اور کرب کی حالت کو دیکھے یا نہ دیکھے مگر اللہ تبارک وتعالیٰ تو ضروردیکھ رہا ہے ۔ ملک کے ہرچھوٹے بڑے سیاستدان نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کرکے وعدے وعید کئے حتیٰ کہ قسمیں تک کھائیں کہ ہم اپوزیشن میں رہ کر ان کی بخیریت گھرواپسی کیلئے بھرپورانداز میں آواز احتجاج بلند کرتےرہیں گے لیکن ا ن سیاستدانوں نےاپنے وعدے ذرہ برابربھی پورے نہ کیے ۔ اسی طرح ان سیاستدانوں نے لاپتہ افراد کےاہل خانہ سے قسمیں کھاکھاکر یہ وعدے بھی کیے کہ اگرہم اقتدار میں آگئے تولاپتہ افراد کو فوری بازیاب کرانا ہماری دیگر ترجیحات میں اولین ترجیح ہوگا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کےوعدے وعید اورقسمیں ہمیشہ کی طرح ا��تدار کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئیں اورانہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی اولین ترجیح کےاپنے وعدے کوسردخانےمیں ڈال دیا۔
محترم جنرل عاصم منیر صاحب!
میری آپ سےمؤدبانہ درخواست ہےاورآپ کواپنےحافظ قرآن ہونے کاواسطہ بھی ہےکہ ان تمام لاپتہ افراد کو فی الفور بازیاب کرانےکیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں ،اگر ان لاپتہ افراد پر کوئی الزام یا الزامات ہیں تو انہیں فوری طورپر عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کریں اور اگر لاپتہ کیے گئے افراد میں سے جوافراد چل بسے یامارے جاچکے ہیں تو کم ازکم ان کے پریشان حال اہل خانہ کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے احکامات جاری کریں یاپھر الیکٹرانک میڈیاپر لاپتہ کیےجانےوالےافراد کے اہل خانہ کو لاکر انہیں بھی اپنی دکھ بھری داستانیں سنانے کاموقع فراہم کریں ۔اس طرح کم ازکم وہ اپنی اپنی دکھ بھری داستانیں سنا کرہی اپنے دکھوں کا بوجھ ہلکااور اپنے اپنے غموں کا کچھ تو مداوا کرسکیں گے ۔
شکریہ
والسلام
احقر
الطاف حسین (لندن) یکم جولائی 2023ء
الطاف حسین کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی کراچی اور حیدرآباد کے سب سے مقبول رہنما ہیں اور اگر انھیں ’فری ہینڈ‘ دیا جائے تو وہ کراچی میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کریں گے۔ پڑھیے بانی ایم کیو ایم کا بی بی سی کو دیا گیا خصوصی انٹرویو
https://t.co/eEeY67TjKD
آخر کب تک الطاف حسین کے نام پہ سیاست کرینگے؟ 8 سال ہوگئے کچھ تو کمال کرکے دکھائں اب کمال صاحب🙏🏻 پہلے تو کبھی الیکشن ہارے نہیں تھے، اب ایک یو سی تو جیت کے دکھائں۔
ہوا میں تھوکنے والا ہمیشہ بھول جاتا ہے کہ تھوک پلٹ کر اسی کے منہ پہ آنی ہے.
عظیم احمد طارق کی ایم کیو ایم مرکز بہادر آباد میں پیش آیا واقعہ
ذرائع کے مطابق بزرگ نے مصطفی کمال کی تقریر پر احتجاج کیا اور پنڈال میں سوالات کیے تھے۔
پھر کیا ہوا؟ مکمل ویڈیو دیکھیں
#AzeemAhmedTariq#Mqm#ZarayeNews