اب نمازِ جنازہ میں شرکت بھی دہشت گردی تصور ہو سکتی ہے
پنجاب پولیس کا ایک اور شرمناک کارنامہ، نمازِ جنازہ میں شرکت پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا,,مظفر گڑھ میں پروفیسر شفیع خان کے جنازے میں شریک ہونے پر محمد یونس رضوی صاحب پر تھانہ سیت پور نے مقدمہ درج کیا
🔺21 اگست 2020
تاریخ کا وہ درخشاں دن ہے جب بابا جان نور اللہ مرقدہ نے مسجد وزیر خان جا کر اس کے تقدس کو بحال فرمایا اور ملتِ اسلامیہ کے دلوں میں غیرتِ ایمانی کی شمع روشن فرمائی۔ یہ محض ایک جمعہ نہیں تھا بلکہ طاغوتی قوتوں کے خلاف غیرتِ دین کا ایک عظیم اعلان تھا۔
#TLP
جیل سے عدالت جانے کا منظر ۔۔۔۔!!
عظیم قائد و مرشد کا اس طرح دیدار کیا جاتا ہے
حضور قبلہ امیر المجاھدین حضرت علامہ خــادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کے پیشی کے مناظر
بس اللہ ہی ہے جو ان ظالموں کی چالوں کو ان کے اپنے اوپر ہی اُلٹا کر دے اور ان کے خلاف ایسی خفیہ تدبیر فرمائے کہ یہ خود بھی حیران رہ جائیں کہ ہم نے تو کچھ اور سوچا تھا مگر یہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم
21 اگست 2020 بروز جمعہ قبلہ بابا جان علیہ الرحمہ اللہ کے گھر کا تقدس بحال کرنے مسجد وزیر خان گئے تھے۔
آج 21 اگست 2026 بروز جمعہ اسی اللہ کے گھر کو سیل ہوئے 45 جمعے گزر گئے، جہاں سے اسی مردِ مجاہد نے حق کی آواز بلند کی تھی۔ 💔😢