عفت جی! ایسی عورتیں کہاں ہوتی ہیں؟ میرے خیال سے آپ نے معاشرے کا ایک خاص سیگمنٹ دیکھا ہے جو ایسی عورتوں پہ مشتمل ہوتا ہے۔ ہماری زیادہ خواتین کی تعداد بہت empowered اور dominating ہے۔ آپ کے اس معاشرے کی ہی بات ہے کہ اولاد جوان ہو جائے تو باپ کو گھاس نہیں ڈالتی ماں کے گرد 1/2
پنجاب کی ترقی پر کوئی سمجھوتہ نہیں! وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت: نئی سڑک بننے کے بعد کھدائی اور توڑ پھوڑ پر پابندی، مین ہول اور ��ٹر کے ڈھکن سڑک کی سطح کے برابر، ڈرینج، سائن ایج اور لین مارکنگ لازمی۔ سڑکوں کا معیار، خوبصورتی اور شہری سہولت اولین ترجیح۔
سرحد یونیورسٹی والے سارے سٹوڈنٹ جو دنگا فساد میں ملوث تھے اب یونیورسٹی سے نکالے جا چکے ہیں قوم یوتھ کے سوشل میڈیا گدھوں نے ڈالر کما لئے اور اب ان بچوں کا مستقبل تاریک کروا کر سائیڈ پر نکل گے ہیں
سب سےپہلےتواسکاشکریہ اداکریں کیونکہ صحافی کااس سےملنااعزازسے کم نہیں یہ ہےقاری محمود کیپٹن بھی رہےاورجب سےسروس میں رہےانکاریکارڈہےجہاں رہےکسی بڑےسکینڈل سےانکانام ضرورجُڑانندی پورسےرنگ روڈپھرخوراک پھرITابھی ہاوسنگ کاگُل کھلناباقی ہےدومرتبہ گرفتاربھی رہےایک بارنیب اورایک باراینٹی کرپشن رنگ روڈمیں توانکی برطرفی کی سفارش کی گئی تھی آدھی PTIکی سوسائٹیاں نکلیں اورانکےسگےبھائی کی بھی نکل آئی تھی سوسائٹی بندہ چونکہ کاریگرہےاس نےڈیزائن بدل کرزلفی کیساتگ ساتھ چونکہ توقیرشاہ کوبھی احسان مندکیااسلیےشہبازشریف اورتوقیرشاہ آگئےتو قاری محمود نہ صرف ریسکیوہوگئےبلکہ پھرسےاہم عہدےپربھی رہےاورکشمنرپنڈی جس نےرنگ روڈمیں انکوذمہ دارلکھاتھاوہ ابھی تک ptiرہنماوں زلفی بخاری وغیرہ کےکیےعدالتی کیسسز ایک ایک کرکےجیت رہےہیں مگرپچھلےساڑھےچارسال سے OSDاوربرطرفی کی زدمیں ہیں نام بھول گیاشاہ صاحب ہاورڈکےپڑھےتھےخیراب قسمت کی دیوی قاری کوپھرایکسپوزکرنےہرتُل گئی ہےکیونکہ وہ جب جب بولےگاآپکوحیران کریگا
خیربڑی دلچسپ داستان ہےکبھی پوری سنائینگےآپکو
درجہ چہارم کے ایک سرکاری ملازم کے بیٹے نے لاہور کے فارن آفس سے اپنی اسناد کی تصدیق کروانی ہے ، دفتر کے باہر ایجنٹ 7دنوں تک تصدیق کروانے کا 43ہزار روپے مانگ رہا ہے ، شاید اسی لئے فارن آفس والے سیدھے طریقے سے لوگوں کے کاغذات کی تصدیق نہیں کرتے تاکہ ایجنٹ نیٹ ورک شاد و آباد رہے
اس وقت پنجاب حکومت پر جو تنقید ہوتی ہے کہ کابینہ میں مخصوص نشستوں والے شامل ہیں تو پھر مریم نواز بھی الیکشن لڑ کے وزیر اعلیٰ کیوں بنیں؟ وہ بھی مخصوص نشست سے آ جاتیں۔جنرل نشست اور مخصوص نشست والوں کو ایک ترازو میں نہیں تولہ جا سکتا۔ یہ نئی روایات ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ نواز شریف کا غل�� فیصلہ ہے۔ یہ منتخب نمائندوں کو بے توقیر کیا گیا ہے۔
شہباز سپیڈ : پمز میں 14 نومولودوں کی غفلت و لاپرواہی کے باعث ہلاکتوں کو 1 دن 13 گھنٹوں سے زائد کا وقت گذر گیا ہسپتال کے کسی ذمہ دار کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہو سکی ۔ کیا ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ان کے نائب کو ہتھکڑی لگانا ہے جو مل نہیں رہی ؟ ہسپتال کے ٹاپ افسران تو وزیراعظم اور حکومت سے بھی زیادہ طاقتور ہیں ، ان کے پیچھے واقعی بڑے طاقتور لوگ لگ رہے ہیں؟
کاشف عباسی کی اہلیہ مہر بخاری کا پمز کے باہر پروگرام دیکھا ہے جہاں لوگ بتا رہے وہ باجوڑ سے بنوں سے پشور سے آئیں ہیں اب سوال تو یہ بھی کرنا بنتا ہے کہ 13 سالہ حکومت والوں نے وہاں ایسی سہولتیں اب تک کیوں نہ دی کہ مریض کو اسلام آباد اور پنجاب کا رُخ کرنا پڑ رہا ہے ؟
میڈیا کے دلے یہ سوال کیوں نہیں پوچھتے اپنے کوٹھوں پر نک دا کوکا بیچتے وقت ؟
ذرا سوچیں کہ سانحہ پمز کا عمران خان کو کتنا فائدہ ہو سکتا ہے تو آپ کو اس سانحے کے پیچھے ایک طے شدہ منصوبہ بندی نظر آئے گی۔ یہ بات جانتے سارے ہی ہیں لیکن کہہ کوئی نہیں رہا۔
چند دن ٹھہر جائیں، PTI آپ کو سانحہ پمز کے تمام اخباری تراشے ساتھ لگا کر سپریم کورٹ میں یہ کہتی نظر آئے گی کہ یہ دیکھیں پمز میں تو حالات ہی ایسے ہیں، اس لئے پمز کی بجائے شفا ہسپتال ہی عمران خان کو منتقل کیا جانا چاہیئے۔۔۔
جب تک 10/12 کے قریب اعلی سرکاری افسران کی اکتوبر 2026 تک ریٹائرمنٹیں مکمل نہیں ہو جاتیں، تب تک ڈیپ اسٹیٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے والے یہ چند اعلی سرکاری افسران آپ کو اپنے ایجنٹ اور ٹائوٹ کیلئے کچھ نہ کچھ کر جانے کی خاطر نہ جانے کتنے مزید پاکستانیو کی زندگیوں سے کھیلتے نظر آئیں گے، یہ بھیڑیئے ہیں، بھیڑیئے۔۔ یہ اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کیلئے کسی کی بھی جان لے سکتے ہیں۔ انکی ریٹائرمنٹوں کے بعد سب سکون ہو جائے گا۔
اللہ رب العالمین متاثرہ خاندانوں کو اس عظیم دکھ اور غم کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سرحد یونیورسٹی کی طالبہ کا آڈیو نوٹ بھی منظر عام پر آ گیا۔
پروفیسر جدون نامی افغانی قوم پرست اپنے پسندیدہ بچوں کو مہینہ مہینہ چھٹیوں کے بعد بھی نمبر لگا کر پاس کردیا کرتا تھا۔
ایسی حرکتیں کرکے یہ قوم پرست پروفیسر بچوں کو ساتھ ملاتے ہیں، پھر انکو ریاست مخالف استعمال کیا جاتا ہے
یہ وہ لڑکا ہے جس کو باقی پرچوں میں A گریڈ ملا جبکہ بیالوجی میں "0" ۔
اس نے اسی پرچے کی طرح ایک اور پرچہ لکھ کر اور ڈائگرام بنا کر پشاور ہائی کورٹ کے جج اعجاز انور کے سامنے رکھ دیا۔
بورڈ نے کہا والد کے ساتھ معاملہ حل ہوگیا۔۔جج نے کہا ایسے کیسے معاملہ حل ہوسکتا ہے۔زمہ داران کے خلاف کاروائی ہوگی۔
فاضل جج نے متعلقہ بورڈ کے زمہ داران کو "حقیقی پرچے" کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔
ویسے بڑا شرارتی بچہ ہے۔
ہم پمز کو رو رہے تھے یہاں سندھ کے ولیکا اسپتال میں استعمال شدہ سرنج لگانے سے سینکڑوں بچوں کو ایڈز ہوگیا ہے ۔ یہ بچے معمولی بیماریوں کے علاج کیلئے لائے گئے تھے مگر ڈاکٹر استعمال شدہ سرنج لگاتے رہے ۔ کئی بچے جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ آواز اٹھائیں اب خاموش نہ رہیں ۔ ہیش ٹیگ بھی استعمال کریں ۔ اب کسی معاملے پر خاموش رہنا خود پر ظلم ہے اس ملک کیساتھ ظلم ہے یہ سارے نااہل ہیں
#JusticeForValikaChilderns
آج آزاد ڈیجیٹل کے صحافی شاہد قریشی سرحد یونیورسٹی کے باہر رپورٹ کر رہے تھے جب پروفیسر جدون نامی افغانی قوم پرست کے لوگوں نے انکو اغوا کیا اور چار گھنٹے یونیورسٹی میں قید رکھا
یہ سارا گند افغانی قوم پرستوں کا پھیلایا ہوا ہے، ریاست کو ان بیشرموں کے خلاف سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے
پمز ہسپتال سانحہ میں مجھے حادثے سے زیادہ منظم دہشتگردی محسوس ہو رہی ہے۔ پمز ہسپتال کا سارا ریکارڈ اور عملہ سیل کیا جائے۔
یہ حادثہ نہیں طے شدہ منصوبہ لگتا ہے۔ مبینہ طور پر دروازے بند کر بچے شہید کیے گئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو محرکات اور مجرم دونوں کو اذیت ناک سزا دی جائے۔
#PIMS
جس طرح کل سے بھولڑو پمز کے معاملے پر دموں کے ذریعے شاخوں پر لٹکے ہوئے ہیں، گل پلازہ میں اسی طور یہ انہی ٹہنیوں پر پاوں رکھتے ہوئے بھاگ کے گڑھی خدابخش میں جا کے چھپ گئے تھے۔
کوئی بات نہیں ایسا ہو جاتا ہے ہو جاتا ہے: فرمودات آپا شہلا رضا
انتہائی شرمناک
اگر یہ صحافی سچ بتا رہا ہے تو اسلام آباد پولیس اکیڈمی نے سندھ حکومت کو ایک مراسلہ بھیجا ہے کہ
سندھ پبلک سروس کمیشن کے جو ڈی ایس پ�� لیول کے افسران امتحان پاس کرکے پولیس اکیڈمی میں ٹریننگ کیلئے پہنچتے ہیں انکی حالت یہ ہے کہ انہیں لفظ پولیس تک کے سپیلنگ نہیں آتے۔
یہ اس صدی کا سب سے بڑا سکینڈل ہے فیس بک انسٹا وغیرہ والی کمپنی میٹا پر امریکی ریاستوں نے مقدمہ کیا میٹا سولہ ارب ڈالر جرمانہ دے گا ان پر الزام تھا ایسے ایلگورتھم استعمال ہوئے جس سے بچے سوشل میڈیا addiction کا شکار ہو گے یعنی ان کو عادی بنایا گیا ہے