تحریک انصاف کے بیرونی مداح مذکرات کے ناکامی پر کیوں خوش ہے ؟
اسکی وجہ یہ تو نہیں ہے کہ وہ کسی نہ کسی طور زیک گولڈ اسمتھ کے کمپین سے منسلک ہیں ؟
آپ بتائیں
امریکی نائب صدر کے پریس کانفرنس سے پہلے کسی بھی تجزیہ نگار کے پاس کوئ خبر نہیں تھی
لہذا اب جو تجزیہ کر کے ارسطو بن رہے ہیں
سب اپنا سودا بن رہے ہیں
اور یہ بات بھی یاد رکھیں ذرائع کی خبر ہمیشہ نصف جھوٹی یا پیڈ ہوتی ہے
اسرائیل اور ایک مخصوص سیاسی پارٹی مذکرات کے ناکامی چاہتے تھے
اسرائیل اسلامی دنیا سکون نہیں چاہتا جبکہ مؤخر ذکر پاکستان میں ہیجان سی کیفیت چاہتے ہیں جبکہ ڈالر خور یوٹیوبر اس سے اپنے ڈالر کماتے ہیں
11 سال بعد براہ راست مذاکرات !
فریقین کے وفود اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ پہلے ایرانی وفد کی آمد ہوئی۔ جس کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ ان کا استقبال پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و ریاستی قیادت نے کیا جن میں وفاقی وزراء، اسپیکر قومی اسمبلی اور سیکورٹی حکام شامل تھے۔ اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ کی موجودگی نے اس سفارتی عمل میں عسکری ادارے کے کلیدی کردار کو نمایاں کیا۔ چند گھنٹوں بعد امریکی وفد بھی اسلام آباد پہنچا، جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ ان کے استقبال میں بھی اعلیٰ حکومتی شخصیات کے ساتھ قومی سلامتی کے مشیر اور عسکری قیادت شریک رہی۔ بعد ازاں جارڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کی علیحدہ آمد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکی وفد مختلف سطحوں پر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔
ہمارے حکام نے دونوں ممالک کے وفود کے لیے الگ الگ ملاقاتوں کا شیڈول ترتیب دیا ہے، جہاں وزیر اعظم شہباز شریف خود پہلے ایرانی وفد اور بعد ازاں امریکی وفد سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کریں گے۔ یہ حکمت عملی اس حساس سفارتی مرحلے میں احتیاط اور توازن کے پیش نظر اختیار کی گئی ہے۔ اس کے بعد قومی امکان ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز جلد ہوگا، جو کہ ایران جوہری معاہدہ 2015ء کے بعد یعنی 11 سال بعد براہ راست ملاقات ہوگی۔ یہ یقینا ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان رابطے اکثر بالواسطہ ذرائع سے ہی ہوتے رہے ہیں۔
پاکستان اس پیش رفت کو اپنی حالیہ سفارتی کامیابیوں کا تسلسل قرار دے رہا ہے، جہاں اس نے پہلے دونوں ممالک کو جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اپنے حالیہ خطاب میں اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ اس جنگ بندی کو ایک جامع معاہدے میں تبدیل کیا جائے جو خلیجی خطے میں پائیدار استحکام کی راہ ہموار کرے۔
دوسری جانب اس عمل میں پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کا کردار بھی نمایاں ہے، جنہوں نے پس پردہ سفارتی و سیکورٹی رابطوں کے ذریعے فریقین کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ عسکری قیادت کی براہِ راست موجودگی اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان اس عمل کو محض سفارتی نہیں بلکہ اسٹرٹیجک سطح پر بھی نہایت اہمیت دے رہا ہے۔
اسلام آباد میں جاری یہ سرگرمیاں ایک نازک مگر اہم سفارتی موڑ کی نشاندہی کر رہی ہیں، جہاں کامیابی کی صورت میں نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات بھی روشن ہو سکتے ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق یہ عمل نہایت پیچیدہ ہے اور اس کے نتائج کا دارومدار آنے والے چند دنوں کی پیش رفت پر ہوگا۔ خاص کر اسرائیل اسے سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اس نے رات لبنان پر حملے روکنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر صبح پھر بمباری شروع کردی ہے۔ اس وقت بھی لبنان کے مختلف علاقون پر بمباری جاری ہے۔ جس سے متعدد افراد شہید و زخمی ہوگئے اور کئی رہائشی عمارتیں ملیامیٹ ہوگئیں۔ مذاکرات کی کامیابی کے لیے اسرائیل کو لگام دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضمن میں امریکا ہی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اگر وہ واقعی مذاکرات میں مخلص ہے تو اسے اپنے اس ناجائز بغل بچے کو کنٹرول کرنا ہوگا۔
پٹرولیم مصنوعات میں کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے ۔
حکمران تاجر بن کر سوچیں گے تو ایسے ہی فیصلے کریں گے ۔
عوام کی فلاح وبہبود کو مدنظر رکھ کر فیصلے کریں ۔
قیمتیں بڑھاتے وقت عالمی منڈی اور قیمتیں کم کرتےہوئے آئی ایم ایف ، ایسے فیصلے قوم کو منظور نہیں ۔
آئی ایم ایف کی بجائے عوام اور اپنے ملک کے مفادات سامنے رکھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے ۔
اشرافیہ ،وزیروں اور مشیروں کے لاؤ لشکر کم کرکے عوام کو ریلیف دیں
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
جمعیۃ علماءاسلام تحصیل لیہ کی جماعت نے محبتوں کا اظہار کیا پروگرام میں شرکت کی دعوت دی بالخصوص ممنون ہوں امیدوار ایم پی اے جےیوآئی سٹی لیہ ملک سیف اللہ شاہین صاحب کا جنہوں نے اپنے اس عظیم الشان پروگرام میں شریک ہونے کےلیے رابطہ بھی کیا______