ہندوستان سے آنیوالے اردو نارمل نہیں ہیں گھر باھر تختی لگی ہوگی نواب سید علی خان اور کھانے کو روٹی نہیں، مہاجر محنت نہیں کرتے انہیں چاھئیے اپنے علاقوں کے گرد جنگلے لگائیں آدھے مہاجر مذھبی ہیں جماعت کو ووٹ دیتے ہیں آدھوں کو سمجھ ہی نہیں کہ کیا کرنا ہے
شبر زیدی
یار محمد نیازی صاحب @YarMKNiazi ٍمیں اپر چترال میں 16 سال سے زیرِ تعمیر بونی بزُند روڈ کا معاملہ اٹھایا تھا، جو کہ پی ایس ڈی پی پراجیکٹ ہے اور اسے خیبر پختونخوا کا محکمہ سی اینڈ ڈبلیو بطور ایگزیکیوٹنگ ایجنسی تعمیر کرا رہا ہے۔36 کروڑ روپے کا منصوبہ بڑھ کر ایک ارب 71 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے، لیکن ابھی تک ایک کلومیٹر سڑک بھی پی سی ون کے مطابق تعمیر نہیں ہوئی، جبکہ چند کلومیٹر پر اسفالٹ کیا گیا ہے۔معاملہ اٹھانے پر آپ نے وزیراعلیٰ صاحب
@SohailAfridiISF@CMKPUpdates@KPChiefMinister
کے نوٹس میں لا کر اس حوالے سے وزیراعلی کی جانب سے ہدایات جاری کروائی تھیں۔ علاقے کے لوگوں کے مسلسل احتجاج، وزیراعلی خیبر پختوانخوا کی ہدایات اور علاقے کے لوگوں کی وفود کی صورت میں سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو اور چیف انجینئر نارتھ کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد اپریل کے آخری ہفتے میں اس پراجیکٹ پر کام تو شروع ہو گیا ہے لیکن لوگ اس منصوبے پر کام کے معیار اور رفتار سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔۔ ایک ایکسکیویٹر، ایک ٹریکٹر ، پانچ ٹرک کے ساتھ سات مزدور کام کر رہے ہیں،،، اگر کام کی رفتار یہی رہا تو اس منصوبے کی تکمیل میں مزید 16 سال لگیں گے۔۔ دوسری جانب کام کا معیار کیسا ہے اس کو آپ آج ہی کی تصاویر میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو براہ راست وزیراعلی صاحب کے انڈر ہے اور گنڈاپور صاحب کی وزارت اعلی میں سہیل آفریدی صاحب سی اینڈ ڈبلیو ہی کے وزیر تھے۔۔ اگر وزیراعلی صاحب کے محکمے میں ہی اگر منصوبوں کا یہ حال ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ باقی منصوبوں کا کیا حال ہوگا۔۔ سائیٹ پر مشینری بڑھانے کا مطالبہ کرکے علاقے کے عمائدین جب سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو سے تیسری مرتبہ ملے تو سیکریٹری صاحب کے ان مطالبات پر کام دھرنے کے بجائے ان کو دھمکایا کہ آپ لوگ چاہتے ہیں کہ جو مشینری موجود ہیں وہ بھی ہٹایا جائے،، لوگوں نے درخواست کی کہ سر جس طرح کام ہو رہا ہے اس طرح ہی اس 28 کلومیٹر منصوبے پر 16 سال لگ گئے اور 36 کروڑ کے پراجیکٹ پر ایک ارب 60 کروڑ خرچ ہونے کے باجود سڑک کا ایک کلومیٹر بھی پی سی ون کے مطابق مکمل نہیں ہوا ہے۔۔ بہرحال اس منصوبے میں نہ سیکریٹری صاحب اور نہ ہی چیف انجینئر نارتھ یا ایکسین سی اینڈ ڈبلیو اپر چترال کی دلچسپی ہے۔۔ بلکہ ایکسین پر تو علاقے کے لوگ کرپشن اور بدعنوانی کے سنگین الزمات لگا رہے ہیں۔
جناب @SohailAfridiISF@KPChiefMinister@CSKPOfficial
سے گزارش ہے کہ اس منصوبے پر جس رفتار سے اور جس معیار کا کام ہو رہا ہے اس کا نوٹس لیں اور محکمے سی اینڈ ڈبلیو کے حکام خصوصاً چیف انجینئر نارتھ اور ایکسین سی اینڈ ڈبلیو اپر چترال کی جوابدہی کریں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ان پر متعلقہ ٹھیکیدار کی بے جا سرپرستی کے الزامات کیوں لگ رہے ہیں اور متعلقہ منصوبے میں کام کرائے بغیر ادائیگیاں کرنے کے ثبوت تو محکمے کی انٹرنل آڈٹ میں سامنے آئے ہیں،،لیکن آج تک کسی کے خلاف بھی ایکشین نہیں لیا گیا ہے؟
وزیراعلی صاحب سے گزارش ہے کہ ایکسین اور چیف انجینئر نارتھ کو پابند کریں کہ وہ یقینی بنائیں کہ متعلقہ ٹھیکیدار مطلوبہ مشینری فوری طور پر سائیٹ پر پنچا کر کام کی رفتار تیز کریں، معیار بہتر کریں۔۔ سر کام شروع ہوئے تیسرا ہفتہ ہے سی اینڈ ڈبلیو کا چپڑاسی بھی اس سائیٹ پر کام کی نگرانی کے لیے نہیں آیا۔۔ گزارش ہے کہ محکمے کے افسران کو پابند کریں کہ وہ کام کی مسلسل نگرانی کریں اور اس کے معیار کو بہتر بنائیں۔۔کرش کی جگہ بڑے بڑے پتھر بجھا کر جس طرح کی کمپیکشن ہو رہی ہے ایسا تو بلوچستان میں بھی شاید نہیں ہوتا ہوگا۔۔
@AsadQaiserPTI@saarbab@JunaidAkbarMNA@FaisalKTarakai@PTIofficial@MeenakhanAfridi@IKPeshawar@TheLehaz@PakhtunDigital@iaqeelyousafzai
کی توجہ بھی اس جانب مبذول کراتے ہیں کہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں اور اپنا کردار ادا کریں۔
بونی بزند روڈ (ضلع اپر چترال، خیبر پختونخوا) پر جاری ’انتہائی معیاری کام‘ کا ایوارڈ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو , چیف انجینئر بارتھ، ایکسین سی اینڈ ڈبلیو اپر چترال کو ملنا چاہیے کیونکہ ان کی چھتر چھایا میں متعلقہ ٹھیکیدار اپنی من مانی کر رہا ہے۔ یہ تصاویر آج یعنی 12 مئی کے کمپیکشن کے کام کی ہیں، اور جو کچھ آپ کو سڑک پر دکھ رہا ہے وہ کرش یعنی روڑی ہے (اگر اسے کرش کہا جاسکے) جس سے روڈ کے بیس یعنی کمپیکشن کا کام ہو رہا ہے۔ چونکہ خیبرپختونخوا میں ایمانداروں، کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کرنے والوں اور گورننس و شفافیت کے پرچارکوں کی حکومت ہے، اس لیے ہم ان کے کرائے گئے کام اور اس کے معیار پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ خیال رہے کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو براہِ راست وزیراعلیٰ سہیل آفریدی @SohailAfridiISF@KPChiefMinister پاس ہے، اور گنڈاپور صاحب کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں بھی سہیل آفریدی صاحب اس محکمے کے وزیر تھے۔ موجودہ ایکسین سی اینڈ ڈبلیو بھی انہی کے تعینات کردہ ہیں اور اس کا اقرار وہ خود کر چکے ہیں۔
اس سال ٹھیکیدار کام شروع کرنے پر راضی نہیں تھا جس کا اقرار چیف انجینئر سی اینڈ ڈبلیو نارتھ کر چکے ہیں، لیکن علاقے کے لوگ ڈیڑھ مہینے تک احتجاج کر کے، عدالتی احکامات لا کر، سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو سے ملاقات کر کے اور وزیراعلیٰ ہاؤس سے بھی احکامات جاری کرا کے کام شروع کروانے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن جو کام ٹھیکیدار کر رہے ہیں کیا واقعی اسے کام بھی کہا جا سکتا ہے؟
میرے خیال میں لوگوں کو احتجاج ختم کر کے خاموش بیٹھنا چاہیے کیونکہ ایسے کام سے کام نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ اس کام کی نگرانی کرنا، اس میں معیاری میٹیریل کے استعمال کو یقینی بنانا اور اس کی رفتار و معیار کو برقرار رکھنا محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا کام ہے، لیکن کام شروع ہوئے تقریباً تین ہفتے ہو رہے ہیں مگر ایک بار بھی سی اینڈ ڈبلیو کا کوئی سب انجینئر سائٹ پر نگرانی کے لیے نہیں آیا۔ لوگ خود نگرانی کر رہے ہیں، لیکن جب وہ کام کے معیار اور رفتار پر سوال اٹھاتے ہیں تو سی اینڈ ڈبلیو والے عدالت جا کر کہتے ہیں کہ علاقے کے لوگ کام میں مداخلت کر رہے ہیں۔ اب یہ لوگ جائیں تو کہاں جائیں؟
@YarMKNiazi@IKPeshawar@MeenakhanAfridi@salmanAraja@CSKPOfficial@DCUpperChitral@AsadQaiserPTI@Zulfikarmza@ZubairAlikhanUN@JunaidAkbarMNA@saarbab@sherafzalmarwat
FIFA President Infantino just tried to force the representative of Palestine to stand with Israel and take a picture at the 76th FIFA Congress
Palestine refused instead shouting out "We are suffering"
FIFA is a sick organization and the World Cup should be boycotted by everyone
Embarking on timely tour of Islamabad, Muscat, and Moscow.
Purpose of my visits is to closely coordinate with our partners on bilateral matters and consult on regional developments.
Our neighbors are our priority.
نیتن یاہو کو بڑا جھٹکا
سپین، آئرلینڈ اور سلووینیا کے بعد بیلجیئم نے بھی اسرائیل کے ساتھ ایسوسی ایشن معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کر دیا
ہم یورپی یونین کو آمادہ کریں گے کہ جب تک اسرائیل ایک ذمہ دار ریاست کا رویہ نہیں اپناتا، اس کے ساتھ تمام معاہدے معطل کردیے جائیں۔
I had a warm and constructive conversation with President Dr. Masoud Pezeshkian this evening on the evolving regional situation.
I appreciated Iran’s engagement, including its high-level delegation to Islamabad for the historic talks, and recent discussions with Field Marshal Syed Asim Munir in Tehran.
I also shared insights from my recent engagements with leaders of Saudi Arabia, Qatar and Türkiye.
I assured him that, with the support of friends and partners, Pakistan remains fully committed to its role as an honest and sincere facilitator of lasting peace and regional stability.
یار محمد نیازی صاحب @YarMKNiazi نے اپر چترال میں 16 سال سے زیرِ تعمیر بونی بزُند روڈ کا معاملہ اٹھایا تھا، جو کہ پی ایس ڈی پی پراجیکٹ ہے اور اسے خیبر پختونخوا کا محکمہ سی اینڈ ڈبلیو بطور ایگزیکیوٹنگ ایجنسی تعمیر کرا رہا ہے۔36 کروڑ روپے کا منصوبہ بڑھ کر ایک ارب 71 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے، لیکن ابھی تک ایک کلومیٹر سڑک بھی پی سی ون کے مطابق تعمیر نہیں ہوئی، جبکہ چند کلومیٹر پر اسفالٹ کیا گیا ہے۔معاملہ اٹھانے پر آپ نے وزیراعلیٰ صاحب @SohailAfridiISF@CMKPUpdates@KPChiefMinister کے نوٹس میں لا کر اس حوالے سے ہدایات جاری کروائی تھیں۔ ان ہدایات کے اجرا کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، لیکن نہ ہی سی اینڈ ڈبلیو کا محکمہ، چیف انجینئر نارتھ اور ایکسین ٹس سے مس ہوئے ہیں اور نہ ہی متعلقہ ٹھیکیدار۔وزیراعلیٰ صاحب کے پاس سی اینڈ ڈبلیو کا محکمہ بھی ہے، تو پھر ان کی ہدایات کے باوجود کام شروع کیوں نہیں ہوا؟ کیوں سی اینڈ ڈبلیو کے افسران اور چیف انجینئر متعلقہ ٹھیکیدار کی پشت پناہی کر کے وزیراعلیٰ کے پی، جو کہ سی اینڈ ڈبلیو کے وزیر بھی ہیں، کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں؟گزارش ہے کہ اگر چیف منسٹر صاحب کے احکامات کے باوجود عملدرآمد کا یہ حال ہے تو پھر سی اینڈ ڈبلیو کے محکمے میں کیا ہو رہا ہے؟ پی ٹی آئی کے رہنما شکیل خان جب سی اینڈ ڈبلیو کے وزیر تھے تو انہوں نے کئی انکشافات کیے تھے۔ کیا محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی موجودگی میں وہی کچھ ہو رہا ہے؟گزشتہ سال دسمبر میں چیف انجینئر نارتھ نے عدالتِ عالیہ پشاور میں یقین دہانی کرائی تھی کہ مذکورہ منصوبے پر کام مارچ میں شروع ہو جائے گا اور اس کے لیے فنڈز کا کوئی مسئلہ نہیں، کیونکہ مطلوبہ رقم سی اینڈ ڈبلیو کے اکاؤنٹ میں موجود ہے۔مارچ میں پشاور ہائی کورٹ میں یقین دہانی کے باوجود کام شروع نہیں کیا گیا، اور 26 مارچ 2026 کو اس معاملے کی سماعت کے دوران ایک بار پھر چیف انجینئر نارتھ عدالت کے سامنے پیش ہو کر یقین دہانی کرائی کہ فنڈ کا کوئی مسئلہ نہیں اور کام اپریل کے پہلے ہفتے میں ضرور شروع کرا دیا جائے گا۔لیکن عدالت میں کی گئی یقین دہانی اور عدالتی احکامات کے باوجود، اور فنڈز موجود ہونے کے باوجود، اپریل کا تیسرا ہفتہ ختم ہو رہا ہے مگر کام شروع نہیں ہو سکا۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورننس، شفافیت اور ترقیاتی کاموں کی صورتحال کیا ہے۔ حالیہ عرصے میں سی اینڈ ڈبلیو ایک کرپٹ ترین محکمے کے طور پر سامنے آیا ہے، اور اس کے منصوبوں میں کرپشن، خردبرد اور عدم شفافیت کی شکایات صوبے بھر سے سامنے آ رہی ہیں، جبکہ محکمے کو خود وزیراعلیٰ صاحب لیڈ کر رہے ہیں۔ہم @SohailAfridiISF@KPChiefMinister@CSKPOfficial@MeenakhanAfridi سے گزارش کرتے ہیں کہ 16 سال گزرنے کے باوجود خیبر پختونخوا کا محکمہ سی اینڈ ڈبلیو 28 کلومیٹر سڑک تعمیر نہیں کر سکا، اور اس منصوبے کی لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اس کے باوجود منصوبہ تکمیل سے محروم ہے۔ہم @AsadQaiserPTI@saarbab@JunaidAkbarMNA@FaisalKTarakai@PTIofficial کی توجہ بھی اس جانب مبذول کراتے ہیں کہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں اور اپنا کردار ادا کریں۔
@TheLehaz@IKPeshawar@tarikwaheed@tariqafaq@MKAchakzaiPKMAP@MehmoodJan1@khalidmabbasi@faizanlakhani@FaizullahSwati@Wabbasi007@ZubairAlikhanUN@BaristerDrSaif
Commander of Iran's Khatam Al-Anbiya Central Headquarters Major General Ali Abdollahi meets with Pakistan's Chief of Army Staff Field Marshal Syed Asim Munir in Tehran.
Follow Press TV on Telegram: https://t.co/LWoNSpkc2J
"اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات کے دوران امریکی نائب صدر نے ایک بار اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی براہِ راست گفتگو کی۔ سفارتی حلقوں میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جا رہی ہے، اسی گفتگو کے بعد امریکی وفد کا رخ سخت ہوگیا اور مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔" اسلام آباد بیٹھک پر معروف صحافی افتخار گیلانی @iftikhargilani کی دی وائر انڈیا @thewire_in کے لیے انکشاف انگیز خصوصی رپورٹ
"امریکہ ایران مذاکرات میں دونوں ممالک کے کم و بیش 400 افسران نے حصہ لیا۔ تہران کی تیاری کا عالم یہ تھا کہ ایٹمی معاملات سے متعلق ایک ڈاکیومنٹ 100 صفحات پر مشتمل تھا۔ امریکی نائب صدر نے مذاکرات میں کم از کم 12 مرتبہ ٹرمپ اور ایک مرتبہ اسرائیلی وزیراعظم سے براہ راست بات کی۔ ترکی نے پس پردہ اہم کردار ادا کیا۔ طیب اردوان نے 20 سربراہانِ مملکت سے بات کی تو ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے دس دن میں 150 ٹیلیفونک رابطے کئے۔"
اسلام آباد بیٹھک پر معروف صحافی افتخار گیلانی @iftikhargilani کی دی وائر انڈیا @thewire_in کے لیے انکشاف انگیز خصوصی رپورٹ
Additional US-Iran peace talks “could be happening over next two days” in Pakistan’s capital, President Trump told The Post on Tuesday.
“You should stay there, really, because something could be happening over the next two days, and we’re more inclined to go there,” he said of Islamabad. “It’s more likely, you know why? Because the field marshal is doing a great job.”
https://t.co/KSACI3q3lJ
Trump signals possible new Iran talks in Pakistan: NY
US President Donald Trump told the New York Post on Tuesday that a second round of Iran talks could happen in Pakistan "over the next two days," after a first round ended at the weekend without a deal.
"You should stay there, really, because something could be happening over the next two days, and we're more inclined to go there," Trump was quoted as saying in a phone interview with a Post reporter in Islamabad.
After saying in an initial call that talks were unlikely to return to Pakistan, the Post said Trump called back minutes later to say it was "more likely" they would go back to Islamabad because the country's army chief Asim Munir "is doing a great job."