مقامی آبادی کے جو لوگ مسلمان ہوئے، ان کو غیر ملکی مسلمانوں نے بھی مساوی مقام نہیں دیا اور انہیں سماجی طور پر پس ماندہ رکھا۔ بعض علاقوں میں تو اس قدر تعصب اور سختی برتی جاتی تھی کہ نچلی ذاتوں کے مسلمان کھانے پینے یا مجلسی آداب میں اشراف کی تقلید بھی نہیں کر سکتے تھے اور ہندو مذہب کے برہمن کی طرح اچھوتوں پر جو پابندیاں تھیں، وہ ان پر بھی تھیں۔ مثلا آخری دور تک سہارنپور میں یہ حالت تھی کہ وہاں کے امراء و اشراف کی جانب سے نچلے طبقوں کے مسلمانوں کے لئے یہ پابندیاں تھیں کہ وہ : اب بھی وہ کھانا نہیں پکا سکتے جو کہ امراء کے ہاں خاص طور سے پکائے جاتے تھے جن میں پلاؤ، قورمہ وغیرہ شامل تھے۔ انہیں اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ کسی بڑے آدمی کی دعوت کریں، کیونکہ دعوت تو وہیں ہوتی ہے کہ جہاں دونوں کا درجہ سماجی طور پر ایک ہو۔ ایک نچلی ذات کے مسلمان کو کوئی حق نہیں تھا کہ وہ ایک اعلیٰ ذات کے مسلمان کو گھر پر بلائے۔ اپنے بچوں کے نام بڑے آدمیوں کے بچوں کی طرح نہیں رکھ سکتا تھا، اس لئے غریب لوگوں کے بچوں کے نام کلو خیراتی، خدا بخش، اللہ رکھا وغیرہ ہوتے تھے۔ ان کو اجازت نہیں تھی کہ اشراف اور بڑے لوگوں کو اسلام علیکم کہہ کر مخاطب کرتے، کیونکہ یہ طرزِ تخاطب صرف برابر کے لوگوں کے لئے تھا، چھوٹے درجہ کے لوگ "آداب" اور "بندگی" کہا کرتے تھے۔
اس سے اس بات کا پورا پورا اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان معاشرہ میں کبھی بھی مساوات نہیں رہی اور سماجی حیثیت سے یہ اعلیٰ و نچلی ذاتوں میں بٹا رہا۔ خاص طور سے وہ لوگ جو مقامی تھے اور مسلمان ہوئے، انہیں کبھی بھی عزت سے نہیں دیکھا گیا اور انہیں ہمیشہ حقیر سمجھا گیا۔ حالانکہ ان میں اکثر نے خود کو غیر ملکی بھی بنایا، مگر پھر بھی ان کا سماجی رتبہ غیر ملکی مسلمانوں کے برابر نہ ہو سکا۔
برصغیر میں مسلمان معاشرے کا المیہ : ڈاکٹر مبارک علی
#kashanasexscandal
In the video titled "AFSHAN LATIF Reveals Shocking Truth About KASHANA Orphanage," Afsan Latif, a former superintendent of the Kashana orphanage, shares her harrowing experiences and allegations against Imran Khan and his political party. Latif claims that she was arrested for resisting the sexual exploitation of underage girls at the orphanage, which she describes as a hub for child trafficking. She highlights the lack of proper records for the girls, raising serious concerns about their backgrounds and the circumstances of their arrival at the facility. An audit report further reveals that several girls were married off without any documented information about their spouses, indicating a troubling absence of oversight. #childtrafficking, #PakistanPolitics, #KashanaOrphanage, #ImranKhanScandal, #socialjustice, #childprotection, #whistleblower, #humanrights, #orphanageabuse, #AfshanLatif, #PakistaniSociety, #governmentcorruption, #investigativejournalism, #safeguardingchildren, #darksideofpolitics
اس اخروٹ نے مئی کی جنگ میں کہا تھا، کہ یہ پنجابیوں کی جنگ ہے پنجابی لڑیں، پھر پنجابی نہ روئے نہ بھاگے، بلکہ فوج کے شانہ بشانہ لڑے، اور ڈٹ کے لڑے۔ اور اب جب دشمن ملک افغانستان نے حملہ کیا ہے تو ان کا فرض تو یہی تھا کہ یہ بھی اپی جعلی جھوٹی پانچ ہزار سالہ تاریخ اور انگریز کی کتابوں میں دی گئی نام نہاد بہادری لے کر فوج کے ہمراہ دشمن کے ساتھ لڑتے، لیکن یہ حرام خور محافظوں پر جھپٹ پڑے۔ اپنی جنگ لڑو ناں، تمہارا پنجابیوں سے زیادہ نقصان تو نہیں ہو جو ہمارا سنتالی میں ہوا تھا، ہمارے تب دس لاکھ افراد شہید ہوئے تھے اور تمہارے ڈاکو اباو اجداد ان لٹے ہوئے پنجابیوں کی مزید لوٹ مار کرنے پہاڑوں سے اترے تھے۔ لڑتے موت پڑتی ہے؟؟ دوکمرے کا مکان دو ہزار ڈالر میں القاٰٰعدہ کو کرائے پر دینے اور ان کے ساتھ ہزار ہزار ڈالر میں بیٹیاں بیاہنے والے ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ میں خودکش حملے کے لئے بچے دینے والے اب دوسروں کو اپنے ڈالر پکڑنے کا طعنہ دیں گے تو برا تو لگے گا۔ پٹنے والا پشتون، مرنے والا پشتون، ڈالر پکڑنے والا پشتون، ہم کہاں سے آ گئے تمہارے گند میں؟؟؟؟
میر صاحب آپ معاملے کو جس زاویے سے دیکھ رہے ہیں در اصل حقائق اس سے مختلف ہیں اور یہی سوال تو ہم مسلسل اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایمل ولی اور مولانا فضل الرحمن وغیرہ بھی ان اضلاع میں پی ٹی آئی کی طرح جلوس"بخیرو عافیت" گزار لیں گے؟
اگر نہیں ! تو پھر "پس پردہ معاملے" کو سمجھنا بھی چاہیئے۔
ایران کے شہریوں سے درخواست کرتا ہوں پُرامن رہیں احتجاج ختم کریں اپنے گھروں کو جائیں دشمن کی باتوں میں نہ آئیں ۔ راجہ ناصر عباس 08/01/2026
جس مُلک میں احتجاج مر جائے اعتراض مر جائے وہ قبرستان بن جاتے ہیں ۔ راجہ ناصر عباس
یہ پاکستان میں کس کے ایجنڈے پر ہے ؟
انیق ناجی کے اپنے والد نے نذیر ناجی نے نواز شریف پر درجنوں کالم لکھ رکھے ہیں وہ نواز شریف کو شیر شاہ سوری کہتے تھے میرے پاس ان کے اس دور کے کالم کا پورا پلندہ ہے اور ان کالم کا معاوضہ آٹھ پلاٹ انیق ناجی کے والد نے وصول کئے تھے اس کے علاوہ نوازشریف نے انیق ناجی کے والد کو اکادمی ادبیات کا چیئرمین بھی بنایا حالانکہ وہ صرف مڈل پاس تھے وہ واحد انڈر میٹرک چیر مین اکادمی ادبیات تھے اور ان کا بیٹا تعلیم کا طعنہ مار رہا ہے ؟
واقعی یہ نزیر ناجی کا بیٹا ہے
استعفیٰ دینے کے بعد میرے خلاف کارروائی کا ایک باقاعدہ سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ سب سے پہلے میری ڈھائی سالہ سروس کا آڈٹ بٹھا دیا گیا۔
میں ہر ویک اینڈ پر کراچی اپنے گھر جاتا تھا اور اس حوالے سے وزیرِ داخلہ کو باقاعدہ تحریری طور پر آگاہ کرتا تھا کہ میں اپنی ذاتی مصروفیت کے لیے کراچی جا رہا ہوں اور اس سفر کے تمام اخراجات اپنی جیب سے برداشت کروں گا۔
اس کے باوجود میرے ٹی اے/ڈی اے سمیت سفری اخراجات کی مکمل چھان بین کی گئی، متعلقہ لوگوں سے پوچھ گچھ ہوئی اور میرے دورِ سروس کے معاملات کو کھنگالا گیا۔ مقصد واضح تھا کہ کسی نہ کسی طرح میرے خلاف کوئی بے ضابطگی نکالی جائے۔
لیکن الحمدللہ، میں مطمئن تھا کیونکہ میرا دامن صاف تھا۔ مکمل تحقیقات اور تمام تر چھان بین کے باوجود میرے خلاف کوئی مالی بے ضابطگی یا کرپشن کا ثبوت نہیں مل سکا۔
میرے لیے یہ سب سے بڑا اطمینان ہے کہ مشکل وقت میں بھی میں اپنے کردار اور اپنی دیانت داری پر قائم رہا، اور تحقیقات کے بعد بھی میرے خلاف کچھ ثابت نہیں ہو سکا۔
سکول میں ناظرہ پڑھانے کیلئے ایک ایڈ دیا
مقامی کچھ لڑکیوں نے اپنے کاغذات جمع کیئے۔
انٹرویو میں ایک لڑکی پر شک ھوا
پوچھا افغانی تو نہیں
وہ بولی نہیں مگر افغانی ھو تو کیا ھو گا
میں بولا افغانی کو جاب نہیں دینی
اس نے پو چھا کیوں؟
میں بولا احسان فراموش ہیں پاکستان کو گالی دیتے ہیں
پنجاب کے لوگ کھلے دل کے مالک اور مہذب قوم ہیں۔ یہاں ڈیڑھ کروڑ سے زائد پشتون اور قریب دو کروڑ بلوچ رہتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔
کچھ پشتون قوم پرست اور بلوچ قوم پرست عناصر بلوچستان میں پنجابیوں کے قتلِ عام کی مذمت کرنے کے بجائے اس پر خوش ہوتے ہیں، پنجابیوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں، مگر BLA اور TTP کی دہشت گردی پر خاموش رہتے ہیں۔
پاکستان تمام برادریوں کا مشترکہ گھر ہے۔ مشکلات کے باوجود یہاں مثالی بقائے باہمی موجود ہے۔
یہ قوم پرست اور نسل پرست عناصر نہ عام پشتونوں کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ عام بلوچوں کی۔ یہ کبھی بھی عام پشتونوں اور بلوچوں کے پاکستان کی دیگر برادریوں، خاص طور پر پنجابی برادری، کے ساتھ تعلقات، رشتہ داریوں اور سماجی روابط خراب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
کل پرسوں تعکیم بیچنے والا دلال میاں عامر محمود چیخ رہا تھا کہ پنجاب کے فلاں شہر میں یونیورسٹی نہیں بنا سکے فلاں شہر میں کالج نہیں بنا سکے 😡
تعلیم بیچنے والے اس دلال کے اپنے کالجوں میں بچیوں کا استحصال ہو رہا ہے، احتجاج کرنے پر بچیاں غائب کروائی جا رہی ہیں دلے یہاں توجہ دے 😡🖐🏿
اسلام آباد جیسا چھوٹے سائز کا شہرعملی طور پر ایک صوبہ ہی ہے۔ یہاں کے حالات دیکھ کر خود اندازہ لگا لیں چھوٹے صوبے بنانے سےگورننس کتنی بہتر ہوجائے گی۔
یہی اشرافیہ چھوٹے صوبوں میں بھی ایسی ہی گورننس کرے گی کیونکہ توجہ ان کی سوچ اور پڑھائے جانے والے سلیبس بدلنے کی بجائے جغرافیائی باؤنڈریز پر ہے تاکہ مزید اشرافیہ سرکاری پروٹوکول اور وسائل استعمال کر سکے۔
حکمرانی کرنے والے لوگوں کی ذہنیت بدلیں تب ہی کولیپسڈ سسٹم تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس اشرافیہ کو دُنیا کا بہترین سسٹم دے دیں، کارکردگی ایسی ہی رہے گی۔
It’s not the gun but man behind the gun
زندگی میں کبھی موقع ملا تو اس نوجوان کو ڈھونڈ کر اس کا ماتھا ضرور چوموں گا۔۔۔۔
لہجے میں کیا دلیری ہے۔۔۔۔ کتنی جرات اور دلیل کے ساتھ پاکستان کا دفاع کر رہا ہے اور یہودی فتنے کو ٹھوک کر رہا ہے
جب تک ایسے نوجوان موجود ہیں، تب تک پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔۔۔
#ProudPakistani
ہری پور میں اغواء اور زیادتی کے بعد قتل ھونے والی معصوم بچی کی لاش 15 دن بعد کنویں سے ملی گئی اس زیادتی اور قتل کے کیس پر تمام یوٹیومرز اور صحافی خاموش رہے کیونکہ یہ جُرم خیبرپختونخوا میں ہوا تھا پنجاب میں ھوتا تو انہوں نے کہرام مچا دینا تھا مسلم لیگ ن کے بابر نواز نے مقامی لوگوں ساتھ ملکر دھرنا دیا تب جا کر پولیس نے اسکی لاش کو ڈھونڈا اور کہا جا رہا ملزمان کا تعلق پی ٹی آئی سے ھے
میں نے ۔۔ نئے ماڈل کے آئی فون ہاتھ میں اٹھا کے، کئی کئی کروڑ کی گاڑیوں میں بیٹھ کے آتے ہوئے بڑے بڑے عہدوں والوں کو سیمیناروں میں پاکستان کی برائیاں کرتے دیکھا اور سُنا ہے ۔۔ مگر وہ اس سائیکل والے بزرگ کی ٹوٹی ہوئی چپل کے برابر بھی نہیں ہیں۔
جو بھی انسان اس وڈیو کلپ کو دیکھے گا وہ شدید ذہنی صدمے اور دکھ سے دوچار ہوگا ۔انسانیت سے اس کا اعتبار اٹھ جائیگا ۔یہ حد ہے۔پنجاب اور پنجابیوں کےخلاف نفرت میں یہ تمام انسانی حدیں پار کرگئے ہیں ۔اور کہیں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہےہیں ۔ان کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں ۔چولستانی نہروں کی آڑ میں پنجاب کےخلاف شدید نفرت پھیلائی گئی ۔ہر طرح کی دھمکیاں اور گالیاں دی گئیں اور یہ سب کچھ انتہائی منظم تھا۔پنجاب کو انہوں نے سرائیکی صوبہ اور ببرلو دھرنوں کے ذریعے مسلسل ٹارگٹ کررکھا ہے ۔ ساری دنیا کا میڈیا اور سوشل میڈیا ان خبروں کا گواہ ہے کہ ببرلو دھرنا کے ذریعے پنجاب ،خیبرپختونخواہ اور افغانستان پر سندھ پنجاب بارڈر اور کراچی پورٹ ایک ماہ کیلئے بند کردی گئی ۔اور سندھو دیش کا ٹریلر چلایا گیا۔ریاست پنجاب کے بحیثیت ایک صوبہ کے آئینی حق کا تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ۔اور پنجاب اور KPKکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا ۔جبکہ ان کے مقابلے پہ پنجاب انسانیت ، بھائ چارہ،برداشت اور امن کا گھر ہے۔نفرت کا ایساکھلا پرچار آئین ،قانون اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔. Note.This video clip is being shared for the information and awareness of general public
سہیل آفریدی سے ملاقات کرنے والے اینکر صحافی کہتے ہیں ہمیں توقع نہیں تھی انٹرویو آن ائر جائے گا بھائی جہنوں نے آپکو بھیجا تھا انہوں نے انٹرویو کو بھی آن ائر کرنا تھا آپ یہ بتائیں آپ نے خیبر پختونخوا میں ہونے والی کرپشن پہ بات کی گورنس کے حوالے سے بات کی پتنگ کی بات کی حیات آباد میں سہیل آفریدی کے بھائیوں نے جو کرپشن کی دوکان کھولی ہوئی ہے اس متعلق کوئی بات کی ؟ یہ فرمائشی انٹرویو تھا اور اسکا مقصد کیا ہے وہ بھی ہم جانتے ہیں حماد حسن
(++
جاری )