سوال سادہ سا ہے، جب عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمیتیں 28 فروری پہ واپس چلی گئیں ہیں تو پاکستان میں پیٹرول 252 روپے پہ واپس کیوں نہیں آیا؟ چالیس پچاس روپے کا منافع کون کھا رہا ہے؟
فراڈ یا برانڈز کی ملی بھگت
یہ فراڈ گزشتہ روز لاہور کی ایک فیملی سے ہوا۔ فیملی نے بچوں کے معروف برانڈ Minnie Minors سے کچھ کپڑے آرڈر کیے جن کی کل قیمت 16,290 روپے بنتی تھی۔ اب جس روز برانڈ نے جس وقت آرڈر ڈلیور کرنا تھا اس سے تقریبا ایک گھنٹہ قبل اسی ایڈریس پر رائیڈر آرڈر لیکر پہنچتا ہے گھر کی بل دیتا ہے گھر والے آرڈر دیکھتے ہیں اس پر کسٹمر کی وہی ساری تفصیلات فون نمبر، نام، ایڈریس موجود ہوتی ہے جو انہوں نے منی مائنر پر آرڈر کرتے وقت درج کروائی تھیں گھر والے وہ تفصیل دیکھ کر رقم دیتے ہیں اور آرڈر وصول کرلیتے ہیں۔ وہ آرڈر ویسے ہی رکھ دیا جاتا ہے کہ کچھ دیر بعد کھولیں گے۔
کچھ دیر بعد ایک اور رائیڈر آرڈر لیکر پہنچ جاتا ہے۔ گھر والے بتاتے ہیں کہ وہ اپنا آرڈر لے چکے تو رائیڈر کہتا ہے کہ آرڈر تو اس کے پاس ہے جس پر گھر والے پہلا پیکج چیک کرتے ہیں تو اس میں ناکارہ کپڑے ہوتے ہیں تو انکو پتہ چلتا ہے انکے ساتھ فراڈ ہوچکا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کسٹمر نے ڈیٹا منی مائنر کو فراہم کیا وہ فراڈیوں کے ہاتھ کیسے لگا؟ کیا منہ مائنر کا عملہ اس میں ملوث ہے؟ کیا اس برانڈ کا سسٹم محفوظ نہیں ہے کہ وہاں سے ڈیٹا لیک ہوا؟ عام شہری کے لئے مسئلہ یہ ہے کہ وہ اب اسکے خلاف قانونی کارروائی کرے تو کیا کرے؟قانونی کارروائی پر خرچ، مشکلات الگ ہیں جس کے باعث یہ فراڈ روز بروز بڑھ رہے ہیں۔
#MinnieMinors
حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں کمی کردی نئی قیمت 231 روپے 71 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔۔۔ امیروں کی سواری کا فیول عام آدمی کے پٹرول سے 69 روپے سستا۔۔۔
یہ وطن تمہارا (ایلیٹ کلاس کا) ہے
ہم(غریب،عام لوگ) ہیں خوامخواہ اس میں۔
کسی استاد نے جرم کیا ہے تو محکمانہ ایکشن لیں آپ محکمے کے وزیر ہیں کوئی اپوزیشن لیڈر نہیں کہ یوں تقریریں کریں، آپ کے پاس عہدہ اختیار ہیں ایکشن لیں۔ میں اعداد و شمار کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ اس وقت پنجاب حکومت جو نان سیلری بجٹ سکولز کو دے رہی ہے اس بجٹ میں سکول نہیں چل سکتے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سرکاری سکولز اور اساتذہ کو ناکام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ پرائیوٹ شعبہ اچھا نظر آئے۔ وزیر تعلیم کو پیف پارٹنر سکولز میں جعلی انرولمنٹ کے حوالے سے بھی بتانا چاہیے۔
ویڈیو کس شہر کی ہے یہ کنفرم نہیں، کہا جا رہا ہے کوٹ ادو کی ہے، جہاں حق مہر کی ادائیگی کا مطالبہ کرنے والی اِس خاتون کو چپل میں پانی ڈال کر پینے پر مجبور کیا گیا، خاتون پانی پیتے ہوئے کہتی ہے’’اللہ تیرا آسرا‘‘، آخرت تو بھول ہی گئے ہیں لوگ۔۔!!
Despite international oil prices at the pre war level, in Pakistan petrol price still remains Rs 300 per litre. Why not pass the benefit to people
Economic Spokesperson TTAP
Muhammad Zubair Umar
آپ کو یہ سُن کر حیرت ہوگی کہ پاکستان میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا بھی ایک باقاعدہ نظام موجود ہے۔
افسوس کہ یہ نظام شاید کہیں گم ہو چکا ہے، کیونکہ مہنگائی تو نظر آتی ہے، مگر قیمتوں پر مؤثر نگرانی کہیں دکھائی نہیں دیتی!
معذرت وزیراعظم صاحب!
پیٹرول کی قیمت بڑھاتے وقت آپ کی گفتگو ایسے تھی جیسے عوام کے دکھ میں بےہوش ہی نہ ہو جائیں۔
آج کم کرنے کا وقت تھا تو پیٹرولیم کمپنیاں اور FBR وغیرہ آپ کے چہیتے نکلے۔عوامی مفاد سے آپ کا کچھ لینا دینا نہیں۔ آپ صرف اشرافیہ کے مفاد کے نگران ہیں
@CMShehbaz@PakPMO
کیا اہلُبیت کو قتل کرنے والا ہی یزید کہلا سکتا ہے لیکن بے گناہ پاکستانیوں کے معاشی قاتل کو یوم عاشور پر کس نام سے قوم یاد کرے گی
وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باوجود آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد حکومتی فیصلے پر مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 299.50 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 311.47 روپے فی لیٹر برقرار رہے گی۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 2.65 ڈالر کمی کے بعد 69.27 ڈالر فی بیرل، برینٹ کروڈ 3.03 ڈالر کمی کے بعد 72.23 ڈالر فی بیرل جبکہ مربن خام تیل 2.76 ڈالر کمی کے بعد 66.30 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
ذرائع کے مطابق عالمی قیمتوں میں کمی کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40 روپے فی لیٹر تک کمی کی تجویز بھی وزیراعظم کو بھجوائی گئی تھی، تاہم حکومت نے موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے قیمتوں میں کمی کے خلاف اپنا مؤقف حکومت کے سامنے رکھا، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ماضی میں عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول مہنگا کیا گیا تو کمپنیوں کی جانب سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا، لیکن اب عالمی منڈی میں کمی کے باوجود صارفین کو اس کا مکمل فائدہ نہیں دیا جا رہا۔
حکومتی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف عوامی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں صارفین کا مطالبہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہو رہا ہے تو اس کا براہِ راست ریلیف پاکستانی عوام تک بھی پہنچنا چاہیے۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت مختلف عوامل، جن میں عالمی قیمتیں، شرح مبادلہ، ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی شامل ہیں، کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتی ہے۔ #ڈٹ_جاو_حسین_کے_انکار_کیطرح #PetroLPrice @AliPervaiz450@CMShehbaz@AAliZardari
حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ بلیک میل آئل کمپنیوں کو دیا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھ کر ایک بار پھر عوام کو تکلیف اور پیٹرول مافیا کو ریلیف دیا گیا ہے۔
حکومت کا پٹرول قیمتوں پر عوام کو ریلیف دینے سے گریز شرمناک فیصلہ ہے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر کر 70 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ چکی ہے مگر حکومت عوام کو فائدہ پہچانے سے انکاری ہے۔ اس سے زیادہ عوام دشمن بات کیا ہوگی کہ جنگ کے دنوں میں بھی عوام سے پٹرولیم لیوی وصول کی گئی۔ 11 ماہ میں لیوی وصولی کا ظالمانہ سال کا ھدف بھی پورا کر لیا، پھر بھی لیوی ختم نہیں کی۔ یہ گورننس نہیں لوٹ مار اور غریبوں اور مڈل کلاس لوگوں پر ڈاکا ہے۔ حکومت نے ثابت کردیا وہ عوام کی نہیں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی نمائندہ ہے۔