محسن نقوی کو گالیاں دینے سے میاں صاحب نے منع کیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلوں کو الٹا سیدھا کہنے پر ٹویٹر کو سرکاری شکایت کے علاوہ پیکا بھی لگ سکتا ہے، خاں صاحب کے حوالے سے ہونے والی نئی صورتحال پر آپ سب رنجیدہ پٹواری حضرات محسن حجازی پر اپنا غصہ اتار سکتے ہیں، میں درویش آدمی ہوں۔
جیسے جون کے مہینے میں بغیر ہیلمٹ اور چادر کے انسان موٹر سائیکل چلائے چلا جارہا ہو اور شدید پیاس لگی ہو پھر اچانک ایک سردائی والا نظر آجائے اور پھر آپ کو تھوڑی سی بھنگ بھی ملا دے۔ جیسے آپ کسی غیر ملکی ائیرپورٹ پر اکیلے بیٹھے ہوں ایک دعا لیپا ایسی خاتون آپ سے سامنے پڑی خالی کرسی کا پوچھ کر بیٹھ جائے اور گفتگو شروع ہوجائے۔ جیسے انسان اپنا فالودے کا پیالہ ختم کردے اور ساتھ بیٹھا دوست کہہ دے یار مجھ سے ختم نہیں ہورہا یہ لو تم لے لو۔ جیسے انسان سردیوں والی جیکٹ نکالے اسکی اندر والی جیب میں بیس بیس پاونڈ کے چار نوٹ نکل آئیں۔ جیسے آپ کسی کو کھانے کی دعوت پر شہر کے مہنگے ترین اسٹیک ہاوس لے جائیں اور بل مہمان زبردستی ادا کردے۔ جیسے آپ کو کنجوس دوست سے کریڈ تحفے میں مل جائے۔ جیسے اس حبس میں رات کے دو بجے آپ پسینے میں بھیگے ہوئے اٹھیں بجلی بند ہو اور پھر اچانک بجلی آجائے۔ جیسے بٹوے میں سے ایک سکہ نکل آئے جس پر کالا کالا سا کچھ چپکا ہو۔ جیسے سوموار کو دفتر سے چھٹی مل جائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے
توں نوں نوں نوں نوں نوں مم ہم ہم ام ہم مم
آج یوں موج در موج غم تھم گیااس طرح غمزدوں کو قرار آگیا
جیسے خوشبوئے زلف بہار آگئی جیسے پیغام دیدار یار آگیا
یہ اصل خبر بلکل نہیں بلکہ اصل فیک خبر ہے، کیونکہ عدالت میں تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان اور ایڈوکیٹ جنرل نوید ملک نے نہ صرف کھل کر مخالفت کی بلکہ جب عدالت اس فیصلے کی جانب بڑھنے لگی تو دونوں لا افسران نے کہا کہ ہمیں تو درخواستوں پر نوٹس نہیں، جس پر جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ “آپ نے یہ بات صبح کیوں نہیں کی؟ آپ روسٹرم پر کھڑے ہر بات کا جواب بھی دے رہے ہیں، نوٹس نہیں تھا تو مخالفت کیسے کرہے ہیں؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ “آپ اسلام آباد کے سینئر ترین لاء افسر ہیں ایسے نہ کریں”۔ جس کے بعد عدالت نے دونوں لا افسران کے زریعے حکومتی اعتراض / مخالفت کو حکم نامے کا حصہ بھی بنایا۔
@fawadchaudhry@alimdar82 Actually, people like him, @AnsarAAbbasi, and @HassanAyub82 seem more worried about protecting the current regime’s reputation than the government officials or even PML-N workers themselves.