ماڈل بازار اور جنگ
ذمہ داروں کو لو لگ گئی
تجاوزات کی جگہ نیا قبضہ مافیا متحرک ۔
ماڈل بازار راولپنڈی کسٹمرز غیر محفوظ ۔
ہتھ ریڑھی مافیا نے ناک میں دم کر دیا ۔
پہلے صارفین کو یہ جرمانہ 6 ماہ بھرنا پڑتا تھا ، اب اگر میٹر پر یونٹس 200 کی حد کراس کرگئے تو ہمیشہ کے لیے پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے نکل جائیں گے ۔
200 یونٹس کا بل : 3600
201 یونٹس کا بل : 9,800
وہ بھی کیا دن تھے جب سابق خاتون سوئم بشری پنکی کے سابق کھسبینڈ خاور مانیکا کی شان میں گستاخی کرنے پر ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو ٹھڈے مار کر نکال دیا گیا تھا اور آج اسی پنکی پیرنی کے بچے قانون کی حکمرانی کا درس دے رہے ہیں
زمین ملی تو بنجر
آج بھی لوگ موجود جو اس نظام کے منہ پر سچ کہنے کی جرت کرتے ہیں
تھوڑی سہی مگر یہ آوازیں بہت ضروری جو جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہتی ہیں
اس نے اپنا حق ادا کر دیا اب ہمارا فرض اسے ہر طرف پھیلا دیں
عوام پر ظلم ہوتا دیکھ کر IMF بھی تڑپ اُٹھا ہے کہ انی دیوں جس ریٹ پر تیل خریدتے ہو جو لاگت آتی ہے اُس کے حساب سے ٹیکس لگا کر عوام کی بجاؤ
یعنی کہ گزشتہ رات دونوں وزیر IMF پر مدعا ڈال رہے تھے اب IMF نے ان پر آلو رکھ دیا ہے
وڈے میاں صاحب ویکھ رے او ایناں دی یکیاں ؟
معرکہ حق مئی 2025 کے دوران یوتھیے ایسی باتیں اور حرکتیں کر رہے تھے آج یہ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر پاکستان کے لیے جنگ ہم نے لڑی، پاکستان کے لیے جنگ لڑی یا پاکستان ساتھ جنگ لڑی؟؟؟
#BunyanUmMarsoos
کمبوڈیا میں کال سینٹر میں پھنسے ان 54پاکستایوں کو اسحاق ڈار کی مداخلت پر بچا لیا گیا ہے کمبوڈیا کی حکومت نے چھاپا مار کر ان کو رہا کروا دیا ہے ویسے یہ مشرقی بعید کے ملک کمبوڈیا جو تھائی لینڈ سے آگے وہاں یہ پاکستانی پہنچے کیسے ہیں ؟
رجب گند فیملی کو اپنی تو پرائیویسی کا خیال نہیں لیکن یوں کسی دوسرے کی پرائیویسی کو ڈسٹرب کرنے پر انہیں عقل سکھانی چاہیے،پیچھے بیٹھی فیملی کو ایف آئی اے کو رپورٹ کرنی چاہیے
🚨اب سمجھ آئی اصل گیم کیا ہے؟؟ ایئرپورٹس پر عوام کو کیوں زلیل کیا جارہا ہے ؟ یہ FIA اہلکار جو اقرار الحسن کو کہتا ہے کہ "اپکا حال جواد احمد والا ہوگا" یہ وہ یوتھیے ہیں جو جان بوجھ کر عوام کو زلیل کرتے ہیں تاکہ عوام اس حکومت کے خلاف کھڑی ہو یہ حکومت بدنام ہو۔ ایک تو کھلا پیسہ بنا رہے دوسرا عوام کو حکومت کے خلاف کر رہے دونوں کام بڑی صفائی سے یہ کر رہے اور محسن نقوی صاحب سوچتے ہیں ہم عوام کی خدمت کررہے ہیں؟ وزیر اعظم شہباز شریف صاحب اور محسن نقوی صاحب فوری اس بات کا نوٹس لیں نہیں تو سرکار عوام کجھل ہوگی تو جانتے ہیں ناں نقصان کس کا ہے؟
اب پتہ چلا ایئرپورٹس پر عوام کو کیوں زلیل کیا جارہا ہے ایک سال سے ؟ یہ FIA اہلکار جو اقرار الحسن کو کہتا ہے کہ "اپکا حال جواد احمد والا ہوگا" یہ وہ یوتھیے ہیں جو جان بوجھ کر عوام کو زلیل کرتے ہیں تاکہ عوام اس حکومت کے خلاف کھڑی ہو یہ حکومت بدنام ہو۔ ایک تو کھلا پیسہ بنا رہے دوسرا عوام کو حکومت کے خلاف کر رہے دونوں کام بڑی صفائی سے یہ کر رہے اور محسن نقوی صاحب سوچتے ہیں ہم عوام کی خدمت کررہے ہیں؟ وزیر اعظم شہباز شریف صاحب اور محسن نقوی صاحب فوری اس بات کا نوٹس لیں
@CMShehbaz@MohsinnaqviC42
ہم سید اقرار الحسن @iqrarulhassan بھائی کو اس یوتھیا کا بہترین علاج کرنے پر سلام پیش کرتے ہیں!
محترم محسن نقوی صاحب، کچھ توجہ یہاں بھی کریں۔ یہ سب آپ کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے، کیسے کیسے زہریلے یوتھیا رکھے ہوئے ہیں @MohsinnaqviC42
اگر تمام آئی پی پیز کے معاہدے قانون کے مطابق اس سال ختم ہو جائیں، جیسا کہ ان کے معاہدوں میں لکھا ہوا ہے، تو موجودہ گرمیاں مہنگی بجلی کی آخری گرمیاں ہیں۔ موجودہ بحران اس لئے پیدا کیا جا رہا ہے، تا کہ ان آئی پی پیز کے معاہدوں میں ناجائز توسیع کی جا سکے۔
🚨🚨Who Is Behind the Anti-Pakistan Propaganda Operating from Tehran?
@IranAmbPak@IRIMFA_EN@IRIMFA_SPOX @IraninPakistan
A matter of grave concern requires urgent clarification from Iranian authorities.
An account operating under the name “Jimmy Virk” @JimmyVirkk widely believed to be a Pakistani national (reportedly Gul Jamas from Toba Tek Singh), currently based in Tehran and linked with an Iranian media outlet has been running a sustained, highly derogatory and inflammatory campaign against Pakistani state institutions.
This campaign has crossed all limits. It is not limited to criticism; it includes deeply offensive language, personal attacks, and repeated targeting of senior Pakistani leadership, including Field Marshal Asim Munir. More concerning is the deliberate attempt to distort ongoing peace efforts by spreading misinformation and portraying hostility as if it reflects Iran’s official position.
Such conduct raises serious and unavoidable questions:
1: Is this individual acting with any formal or informal backing from Iranian institutions?
2:Why is Iranian territory being used to run a coordinated hate campaign against Pakistan?
3:Does the Government of Iran endorse or tolerate narratives that undermine a sensitive peace process in the region?
At a time when Pakistan is actively working toward de-escalation and regional stability, this kind of propaganda directly sabotages trust, fuels tensions, and damages bilateral relations.
We urge the Ministry of Foreign Affairs of Iran and the Embassy in Islamabad to:
A: Immediately clarify the status and affiliations of this individual
B: Publicly and unequivocally distance Iran from this hateful and misleading campaign
C: Take necessary steps to prevent misuse of Iranian soil for targeting a friendly neighboring state
This is no longer a minor issue of social media rhetoric it has become a matter of diplomatic sensitivity and regional stability.
A prompt, transparent response is essential. Continued silence will only deepen concerns and raise serious questions about intent.
اگلے چند مہینوں اور سالوں میں کچھ IPPs کے معاہدے ختم ہونے کی خبر ہے. مجھے اسمبلیوں میں بیٹھے مافیا پہ شدید شک ہے کہ یہ لوگ یہ معاہدے خاموشی سے دوبارہ نہ کرلیں. ان پہ ہم سب نے نظر رکھنی ہے اور باقی معاہدے بھی ختم کئے جائیں. عوام ان معاہدوں کی وجہ سےخودکشیوں پہ مجبور ہوچکے.
جب سلیب سسٹم پر عوام کی تنقید تیز ہوئی تب بھی راتب خور اچانک سرگرم ہوئے تھے میرے خلاف بھی کمپین شروع کی کہا کہ تین سو یونٹ والے تو تھوڑے لوگ اکثریت دو سو یونٹ سے کم والی غریب لوگ یہ ان کا یونٹ مہنگا کروا رہا اور پھر سب ان کی باتوں میں آ گے اب سکیب تو وہیں سو یونٹ والے پر فکسڈ چارج لگ چکا ہے غریب کا بل بھی چار ہزار سے کم نہی آ رہا کرایہ میٹر لگ چکا ہے سولر پر بھی وہی گروپ سرگرم ہو چکا ہے اب آپ کی مرضی ان کی مانتے اور نیا ٹیکا لگوا لیتے ہیں یہ تو اپنی قیمت ساتھ ساتھ وصول لیتے ہیں