#بيان | سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک سکیورٹی چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔
مملکتِ سعودی عرب ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتی ہے اور برادر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور اس کے امن و استحکام کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کا اظہار کرتی ہے۔ مملکت جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ اور حکومت و عوامِ پاکستان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کرتی ہے۔
حرمةُ الأماكن المقدسة وقدسيتُها أمرٌ لا يمكن المساومة عليه، جمعية علماء الإسلام في السند.
ندين بشدةٍ الهجومَ المزعومَ الذي شنّه الحوثيون على مكة المكرمة، ونؤكد أن استهداف الأراضي المقدسة أمرٌ بالغ الخطورة ومثيرٌ للقلق بالنسبة إلى الأمة الإسلامية والإنسانية جمعاء، العلامة راشد محمود سومرو.
إن استهداف الأراضي المقدسة يُعدّ اعتداءً خطيرًا يمسّ مشاعر المسلمين في العالم، ويستوجب الوقوف بحزمٍ أمام كل ما من شأنه تهديد أمن الحرمين الشريفين، العلامة راشد محمود سومرو.
يجب احترام سيادة المملكة العربية السعودية وأمنها الإقليمي، والحفاظ على أمن أراضيها وسلامة مقدساتها، العلامة راشد محمود سومرو.
إن حماية الحرمين الشريفين مسؤوليةٌ مشتركة تقع على عاتق الأمة الإسلامية جمعاء، ونحن مستعدون لتقديم كل تضحية من أجل حماية الحرمين الشريفين وصون حرمتهما وقدسيتهما، العلامة راشد محمود سومرو.
إن أمن المملكة العربية السعودية وحماية الحرمين الشريفين مسؤوليةٌ تقع على عاتق الأمة الإسلامية بأسرها، وينبغي للدول الإسلامية أن تؤدي دورًا فاعلًا ومسؤولًا في حماية أمن المملكة العربية السعودية، العلامة راشد محمود سومرو.
كما ندعو الدول الإسلامية إلى توحيد صفوفها واتخاذ موقفٍ فاعلٍ من أجل حماية الحرمين الشريفين، والتأكيد على أن أمن مكة المكرمة والمدينة المنورة وسلامتهما من أهم القضايا التي تهمّ الأمة الإسلامية جمعاء، جمعية علماء الإسلام في السند.
صادر عن: المركز الإعلامي لجمعية علماء الإسلام في السند
@KSAMOFA@AmbassadorNawaf@KSAembassyPK@kbsalsaud@Badermasaker@Saudi_Moia@aliftasa@MWLOrg@MhmdAlissa@MoulanaOfficial@juipakofficial
دنیا کا ہر مسلمان حرمین شریفین کی حفاظت کیلئے میدان میں اترے گا ۔ قربانیاں دے گا ۔ آپنا خون بہائے گا ۔
مولانا فضل الرحمٰن صاحب حفظہ اللہ
#pakistanstandwithsaudiarabia
تاریخ میں پہلی بار مکہ مکرمہ میں خطرے کے سائرن بجنا پوری امت مسلمہ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے
ان نازک حالات میں سعودی عرب پر حملے قابل مذمت اور تشویشناک ہیں۔ امریکا کا سعودیہ کی مدد سے انکار امت کے خلاف اس کے ان روایتی مذموم عزائم کا حصہ ہے۔
مفتی تقی عثمانی
ملک تمہاری پالیسیوں کی وجہ سے ٹوٹا ہے،یہی ہماری فوج کی حکومت تھی، اور چار صوبوں کو ایک صوبہ کیاگیا، ون یونٹ لگا دیا گیا۔ مغربی پاکستان چار صوبوں والا، اب وہ صرف ایک صوبہ کہلائے گا، صوبہ مغربی پاکستان،،،،یہ بھی اسی فوج کی سوچ تھی۔
اور آج ان چار صوبوں کو توڑا جا رہا ہے، ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، یہ بھی ہماری فوج کی سوچ ہے۔ ویسے خامخواہ کاکے کو آگے کیا گیا، وہ بھی ان کی سوچ تھی، یہ بھی ان کی سوچ ہے۔
تم پاکستان کے مالک ہو، جب چاہو پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دو، اور جب چاہو چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ تو ہر فیصلے کے پیچھے تمہارے اپنے عزائم ہوتے ہیں، وہاں قوم کو مفاد نہیں ہوا کرتا۔
ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو اپنے ضمیر کی بات کریں گے۔ ہم خیرخواہی کی بنیاد پر بات کرتے ہیں، ہم آپ کی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں، ہم آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں۔
لیکن تمہارا مزاج بن گیا ہے کہ تمہیں خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے، لیکن تمہارے سامنے کوئی سیدھی بات کرے تو وہ تمہیں بری لگتی ہے۔
لیکن ہم ملک کو آپ کی ملکیت نہیں مانتے۔ یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے شہری ہیں، اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔
ہم اصولاً کسی یونٹ کے بنانے کے خلاف نہیں ہیں۔ یونٹیں بنتی رہتی ہیں، ہندوستان میں بھی بنی ہیں، افغانستان میں بھی بنی ہیں، دوسرے ملکوں میں بھی بنی ہیں، لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہیے۔
ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ فاٹا کو صوبے میں انضمام نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے کہا، دو تین آپشنز ہیں، یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی۔ یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے، ان کی منشا سے فیصلہ کیا جائے۔
لیکن آپ نے ان پر تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟
اس وقت باجوا صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے۔ اور جب میں نے ان کو جوابات دیے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔
آج ہمارا جنرل مجھے کہتا ہے، کسی اور کو نہیں، مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔
تمہاری مرضی ہے، تم جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو کچھ کرو، اور پھر تم جب چاہو کچھ اور طریقہ بناؤ۔ روز آپ کا فیصلہ آج ناگزیر ہے، اور کل وہ فیصلہ آپ کا غلط ہے۔
ایک فیصلہ تو بتا دو اللہ کے بندوں، جو تم نے کیا ہو اور اس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ کیوں ایسا کرتے ہو؟ آخر لوگوں سے پوچھو۔
یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ہم کہتے ہیں، ڈیبیٹ کرنی چاہیے۔ یک طرفہ آپ کوئی فیصلہ مسلط نہ کریں۔ یہ ملک عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے، عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔
صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟
نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتی۔
یہ ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ ازسرِنو پھر ہم معدنیات کے فیصلے بھی پھر سے کریں اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے بھی پھر سے کریں۔
تو ہم تو صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔ اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسئلہ مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ۔۔۔۔ اب بتاؤ، جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے، کابینہ کا ممبر ہے۔
اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی۔ ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ۔اس میں تضادات ہیں،
تو ذاتی نوکر، پاکستان ہم ان کے حوالے کر دیں؟ یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا لاہور میں خطاب
اب وقت اگیا ہے کہ مسلمان ایک ہو جائے ورنہ قیامت اپ کے سر پہ ہے
یہ خانہ کعبہ کے باہر کے مناظر ہیں اور مکہ میں جنگ کے بادل لانے والے خود کو مسلمان کہلواتے ہیں یہ کیسی جنگ جس میں اسرائیل محفوظ ہے اور مکہ مکرمہ پر حملوں کا خطرہ ہے
ذمہ داری کیساتھ کہتا ہو کہ مولانا فضل الرحمان نے نا اپوزیشن لیڈر بننے کی ڈیمانڈ کی نا ہی وزارت اعلی یا وزارتیں اور نا ہی سیٹ اڈجسمنٹ کی بات کی، انکی خواہش تھی کہ ساری اپوزیشن اکھٹی ہو۔
جنید اکبر خان
@ShafqatAyaz_PTI
اپ میڈیا فیلڈ میں نئے ہو،لیکن ایک پارٹی کی نمائندگی کرتے ہو، اس لئے موقف اختیار کرنے سے پہلے سوچ لیا کریں، اور بڑوں سے رہنمائی لیں
سب تیاری مکمل ہے ۔۔۔۔ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے لیکن مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب ہر حملہ پاکستان پر حملہ ہے کچھ معاملات کا اعلان نہیں کیا جاتا ان پر خاموشی سےعمل درآمد کیا جاتا ہے سعودی عرب نے جب بھی اشارہ کیا تو پاکستان مکہ معاہدے پر اس سرعت اور طاقت کے ساتھ عمل دار آمد کریگا کہ دنیا حیران رہ جائے گی
تازہ ترین مناظر ۔۔۔ کراچی میں شمع رسالت کے پروانوں کا راج
قائد ملت اسلامیہ، محافظ ناموس مصطفی حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا انتظار ،
ترجمان ختم نبوت حضرت مولانا عزیز الرحمن ثانی کا خطاب جاری
ٹوئٹر ایکس پر 9:15 پر ٹرینڈ کیلئے بھرپور تیاری کیجئے ۔۔۔
وقت نے ثابت کیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سچے اور کھرے مسلمان راہنما ہیں، ان پر الزام لگایا کہ ابراہیم اکارڈ میں شامل ہو رہے ہیں لیکن انکے عمل نے بتایا کہ وہ اس اکارڈ میں شامل نہیں ہو رہے۔
کہا گیا، وہ اسرائیل کو تسلیم کر رہے ہیں لیکن انکے عمل نے بتایا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے۔ مشہور کیا گیا کہ وہ امریکہ کے مفادات کے حامی ہیں آج دنیا دیکھ لے کون امریکہ کی گود میں بیٹھا ہے۔
عمان میں حوثیوں، ایرانیوں، امریکیوں اور اسرائیلیوں کی ملاقاتوں سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ یہ سب ایک تھے، ایک ہیں اور انکا ہدف سعودی عرب کو گھیرنا ہے۔ اللہ بادشاہ ہے، جس نے اب تک سعودی عرب کی مدد فرمائی ہے وہ آگے بھی ضرور فرمائے گا۔ سعودی عرب ہمیشہ زندہ آباد 🇸🇦♥️🇵🇰
◀️ مکہ مکرمہ پر حملہ عالمِ اسلام پر حملہ تصور ہو گا: مولانا فضل الرحمان
◀️ حکومت پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے اپنی پالیسی کا واضح اور فوری اعلان کرے: سربراہ جے یو آئی ف
تفصیل: https://t.co/LbmYHqu5CV
مکہ مکرمہ پر حوثیوں کا حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا۔ مکہ مکرمہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ کروڑوں اربوں مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔ خاکم بدہن اگر یہ حملہ ہوا تو بدبخت حملہ آور عالم اسلام کے غیض وغضب سے نہیں بچ پائیں گے۔ امت مسلمہ پوری شدت سے اس حملے کا بھرپور جواب دے گی اور سعودی عرب کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ مسلمان ممالک بالخصوص پاکستان اس نازک اور مشکل وقت میں سعودی عرب اور حرم مکی کے تحفظ میں صف اول کا کردار ادا کرے۔
پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے واضح پالیسی کا فوری اعلان کرے۔ امت مسلمہ کو آئے روز درپیش چینلجزسے مضبوط اور مؤثر اسلامی بلاک کے قیام کی ضرورت پہلے سے بڑھ کر محسوس کی جا رہی ہے۔
جمعیت علماء اسلام کے لاکھوں کارکن مملکت سعودیہ کے دکھ درد میں شریک ہیں۔ مولانا فضل الرحمن
مکہ مکرمہ پر حوثیوں کا حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا۔مکہ مکرمہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ کروڑوں اربوں مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔خاکم بدہن اگر یہ حملہ ہوا تو بدبخت حملہ آور عالم اسلام کے غیض وغضب سے نہیں بچ پائیں گے ۔
امت مسلمہ پوری شدت سے اس حملے کا بھرپور جواب اور سعودی عرب کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔مسلمان ممالک بالخصوص پاکستان اس نازک اور مشکل وقت میں سعودی عرب اور حرم مکی کے تحفظ میں صف اول کا کردار ادا کرے۔
پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے واضح پالیسی کا فوری اعلان کرے۔امت مسلمہ کو آئے روز درپیش چینلجزسے مضبوط اور مؤثر اسلامی بلاک کے قیام کی ضرورت پہلے سے بڑھ کر محسوس کی جا رہی ہے ۔
جمعیت علماء اسلام کے لاکھوں کارکن مملکت سعودیہ پر حملے کے دکھ درد میں شریک ہیں ۔سعودی عرب پر حملے نے امریکہ اور مغربی دنیا کے دوغلے رویے کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا ۔