ہر اک ہجوم میں تنہائیوں کا شور ملا،
وفا کے شہر میں مطلب کا ہی دستور ملا،
جو دل کے زخم تھے، وقت نے خاموشی سے سی دیے،
ہمیں شکست میں بھی جینے کا اک غرور ملا۔
حصارِ عشق ہے ، دامِ ہوس کی بات نہیں
ملن ہے روح کا ، یہ دسترس کی بات نہیں
زہے نصیب ، بصد شوق کر قیام یہاں
یہ دل کا تخت ہے، قید و قفس کی بات نہیں
گمان تھا کہ سہولت سے بھول جاؤں گی
تجھے بُھلانا مگر میرے بس کی بات نہیں
#متاعِ_دل
پھر ایک دن سمجھ آتا ہے کہ دل کا خالی ہونا... زندگی کا خالی ہونا نہیں ہے.... بس دل نے کچھ دیر کے لیے دنیا سے اپنے دروازے بند کیے ہیں.... تاکہ وہ اپنے اندر بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹ سکے...
#خیال_قوس_قزح
آ چَل ماہی میرے سامنے آ کے بَہہ
تیرا رَج رَج کے دیدار کراں
پا اَکھیاں تیریاں اَکھیاں وِچ
ہر جنمِ دا اِظہار کراں
تُوں حُکم کریں ، میں جی آکھاں
تیری ہر گَل دا اعتبار کراں
تیرے لَیکھ دا نیک ستارا بَناں
تینوں ساری زندگی میں پیار کراں
شب بخیر
#متاعِ_دل
قید ہمیشہ زنجیروں کی نہیں ہوتی،
کچھ قیدیں خوف اور مانوس تکلیفوں کی بھی ہوتی ہیں۔ شاید اسی لیے کچھ لوگ رہائی کے دروازے کھلنے کے باوجود باہر نہیں نکلتے، "کیونکہ قید اُن کے اندر بس چکی ہوتی ہے"
#متاعِ_دل
دلوں کو کھینچ رہی ہے کسی کی مست نگاہ
یہ دل کشی ہے تو پھر عذر مے کشی کیا ہے
مذاق عشق کو سمجھو گے یوں نہ تم ناصح
لگا کے دل کہیں دیکھو یہ دل لگی کیا ہے
#متاعِ_دل