آلو کا پٹھا یہاں آپکے اپنے صوبے میں آئے روز پوری کی پوری بسیں غائب ہورہی ہیں ، انکو اغواء کیا جارہا ہے
یہاں تمہیں فکر نہیں ایک جنرل کی حفاظت کی فکر لگی ہے
کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے
#مرد_آہن_مولانا#معدنیات_کے_سمگلرز#مولانا_آن_فائر#مولاناکی_للکار
کور کمانڈر ہاؤس اور آئی جی کی رہائش گاہ کے باہر سیکیورٹی خدشات کے باعث حفاظتی دیواریں تعمیر کی گئی ہیں، یہ تجاوزات نہیں۔ کسی بھی شہری کو خطرہ ہو تو حکومت سے اجازت لے کر ایسی دیوار تعمیر کر سکتا ہے
مین آج تک سوچتا تہا کہ ملک مین دہشتگردی کیوں نہین تھم رہی
اور دہشتگردی کے خلاف ہماری ریاست کیوں ناکام ہوجاتی ہے
انڈیا کو چند منٹ مین مات دینے والا ملک اپنے ملک مین مٹھی بھر لوگوں کو کیوں کنٹرول نہین کرپارہاہے
کل دو وڈیوز دیکہی جن سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مولانا صاحب کے لوگ مرکز کی حفاظت کے لئے بندوق اٹھائے ہوئے ہین تو پکا یقین ہوگیاکہ ایسے لوگ کہان ہوتے ہین اور کون انکی پرورش کرتاہے
عجیب بات جس مولاناصاحب کو تین خودکش حملوں کا سامنہ کرنا پڑا صرف اس لئے کہ وہ بندوق اٹھانے کے مخالفت کی کیون کرتاہے
صرف اس لئے ڈاکٹر خالد محمود شہید سے لیکر مولانا ادریس شھید تک اپنے اہم رہنمائوں کے جنازے اٹھانے پڑے کہ انہون نے مسلح گروہوں کی حوصلہ شکنی کیوں کی
صرف اس لئے ایک جلسہ عام سے سو سے زائد کارکنان کے جنازے تک اٹھا لئے کہ کوئٹہ لاھور کراچی پشاور کے علماء سے پاکستان مین مسلح جھاد کے خلاف فتوی کیون جاری کروایا اور جمہوریت آئین اور پارلیامینٹ کے ساتھ کیوں کہڑا ہے ؟
آج اسکو اسلحہ کے ساتھ نتھی کرنے والو
مولانا صاحب نے بھت پہلے آپ لوگوں کو بتادیاتھا کہ جہان ہو وہین رک جائو وگرنہ گولیان تمہاری ہونگی سینے ہمارے ہونگے لیکن ہم آپکو ملک کے نام پر ملک سے ہی ملکی مفادات سے ہی عوام سے ہی کہیلنے کی اجازت نہین دین گے
سوال مولانا صاحب کا جو تھا وہ ہے اور اس سولا کا جواب دو معدنیات کس کو بیچ رہے ہو ؟؟؟
#سینہ_سپر_مولانا
#معدنیات_کے_سمگلرز
#تیرے_پروپیگنڈے_پر_تھو
#پیراشوٹر_چہیتا_نقوی
#جنریٹر_کو_عزت_دو
فیصل کریم کنڈی صاحب اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ھوکر اتنا ھی بولیں جتنا آپ برداشت کرسکیں ورنہ جمعیت کا ایک ایک کارکن جواب دے گا بھی اور لے گا بھی۔
ادھر ادھر کی باتوں کے پیچھے چھپنے کی بجائے اصل بات کا جواب دو میرے قائد نے پوچھا ھے کہ فاٹا اور KP کی معدنیات کتنے میں اور کس کو بیچی ھیں
#سینہ_سپر_مولانا
#معدنیات_کے_سمگلرز
#تیرے_پروپیگنڈے_پر_تھو
#پیراشوٹر_چہیتا_نقوی
#جنریٹر_کو_عزت_دو
رات کو تین تین بجہ گلی مین لفنگے کہڑے کرکے بولتے ہو محلہ دار بھت پریشان ہیں
ارے کم ظرفو ایسے کیسے محلہ دار ہیں جو دس سال سے پڑوسی ہین روزانہ آنے جانے پر تو انکو منہ نہین چہپانا پڑتا اور اب وڈیو بنانے پر منہ بھی چھپانا پڑ رہاہے تو رات کو تین بجہ آپکو کیمرہ میں بھی فکس کرنے پڑ رہے ہیں ھمت ہے مرد کے بچے ہو تو آئو دن دھاڑے محلہ داروں سے مولانا صاحب کا کردار پوچھو تم سمجھتے ہو ایسی گھٹیا حرکتوں سے مولانا صاحب تم سے سوال کرنا چھوڑ دے گا سوال تو ہوگا کہ پاکستان کے قسمت کے فیصلے پارلیامینٹ سے باہر کون کرتاہے ؟کیون کرتاہے ؟کب تک کرے گا؟اور ملک کی ملکیت معدنیات کا حساب بھی تمہین عوام کو دینا ہوگا
ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے اگر سمجھتے ہو مولانا صاحب چپ ہو جائین گے تو اپنے پرانے آبائو اجداد سے معلوم کرلو جو آپ سے پہلے آپکی جگھ مسند نشین تھے مولانا صاحب کے خلاف انہون نے بھی ایسی ہی حرکتیں کی تھی اور پہر وقت آنے پر ھاتھ جوڑ کر مولانا سے معافی بھی مانگی تھی
#سینہ_سپر_مولانا
#معدنیات_کے_سمگلرز
#تیرے_پروپیگنڈے_پر_تھو
#پیراشوٹر_چہیتا_نقوی
#جنریٹر_کو_عزت_دو
وردی والے سیاستدان براہ َِ راست جو لڑائی لڑنے سے گریز کرتے تھے ۔۔۔اب اس لڑائی کے لئے انہیں مسلم لیگ نون کی صورت میں کرائے کا لشکر مل چکا ہے۔۔۔ اس لڑائی کا نتیجہ کچھ بھی ہو ۔۔۔ نقصان مسلم لیگ نون اور جمہوریت کا ہو گا
مولانا کے سوالات، حکمرانوں کے الزامات اور جنریٹر کا تماشا
تحریر: مولانا راشد محمود سومرو
(نوٹ: مصنف جمعیت علمائے اسلام سندھ کے جنرل سیکریٹری ہیں)
ملکی سیاست میں عجیب تماشا جاری ہے۔ ایک طرف مولانا فضل الرحمٰن پر اسلام کی تجارت کرنے، اقتدار کے بھوکے ہونے اور اسمبلیوں کی نشستیں مانگنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف مولانا کی جانب سے معدنی وسائل، جعلی انتخابات، دہشت گردی اور آئینی بالادستی کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب دینے کے بجائے ان کی ذاتی اور سیاسی زندگی کو بحث کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید کرنے والوں کو ان کی سیاسی تاریخ بھی دیکھنی چاہیے۔ مولانا کے طویل پارلیمانی سفر میں اقتدار کے ایوانوں میں محدود وزارتوں اور حکومتی عہدوں پر گزارا گیا عرصہ کتنا رہا ہے، جبکہ اپوزیشن میں ان کی سیاسی جدوجہد کا دورانیہ اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہا ہے۔ اس کے باوجود آج انہیں اقتدار کا بھوکا قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے مخالفین کی سیاست اقتدار کے بغیر گویا سانس ہی نہیں لے سکتی۔اصل تکلیف یہ نہیں کہ مولانا اقتدار میں کیوں نہیں ہیں، بلکہ اصل تکلیف یہ ہے کہ انہوں نے معدنی وسائل کا حساب کیوں مانگا؟ خیبرپختونخوا کے وسائل کے بارے میں سوالات کیوں اٹھائے؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے دعوؤں کے باوجود ناکامیوں اور دہشت گردی کے اسباب کا حساب کیوں مانگا؟ آئین اور پارلیمنٹ کی بے توقیری کے خلاف آواز کیوں اٹھائی؟ اور جعلی اسمبلیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیوں کیا؟مولانا سے نشستوں کا حساب مانگنے سے پہلے معدنی وسائل کا حساب دیا جائے۔ اسلام کی تجارت کے فتوے لگانے سے پہلے اپنی سیاسی دکانوں کا حساب بھی کھولا جائے۔ نیب، ایف آئی اے اور عدالتوں میں سیاسی رہنماؤں کے خلاف زیرسماعت یا ماضی میں زیرسماعت رہنے والے مقدمات کی فائلیں بھی دیکھی جائیں۔ پاناما، وکی لیکس اور ڈان لیکس سمیت مختلف معاملات میں سامنے آنے والے الزامات اور انکشافات کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ خواجہ آصف اور محسن نقوی کی تقاریر، گورنر راج کے معاملات، جنریٹر ہٹانے کے نوٹس، حج کوٹے کے الزامات اور وزارت مواصلات کے 16 ماہ کی کارکردگی کے حوالے سے تحقیقات جیسے معاملات مولانا فضل الرحمٰن کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ مولانا نے عوام کے حقوق کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے ہیں، ان کے جواب دینا ہوں گے۔
محسن نقوی کی تقریر اور ریاستی سرپرستی کا سوال، سینیٹ آف پاکستان کے ایوان میں محسن نقوی کی تقریر کے بعد ایک اہم سوال دوبارہ سامنے آیا ہے۔ اگر ماضی میں سیاسی لوگوں کو پیسے بھی ریاست دیتی تھی، نوکریاں بھی ریاست دیتی تھی اور ٹکٹ بھی ریاست دیتی تھی، تو پھر ملک کے سیاسی نظام میں ریاستی سرپرستی کا کردار کیا رہا ہے؟ مولانا فضل الرحمٰن 2018ء سے یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ ملک میں سیاسی معاملات کے پیچھے کون ہے اور اقتدار کی سیاست کس طریقے سے چلائی جاتی ہے؟ اگر ریاستی سرپرستی میں سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے ایسے اعترافات سامنے آتے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ سیاسی کاروبار کب بند ہوگا؟ محسن نقوی کی تقریر سے مولانا کے مؤقف کی تائید کا تاثر ضرور پیدا ہوا ہے، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ ماضی کے سیاسی معاملات، ریاستی سرپرستی اور اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے حقائق واضح کیے جائیں۔ ملک میں سیاسی جماعتوں کو عوامی ووٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے، نہ کہ کسی غیرمرئی سرپرستی کی بنیاد پر۔
خواجہ آصف! تاریخ کے سبق دینے کے بجائے سوالات کے جواب دیں، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ کے اوراق کھولنے کا عمل صرف مخالفین کے لیے مخصوص نہیں ہوتا۔ جنرل ضیاء الحق سے وابستگی پر معافی مانگنے کے بعد جنرل پرویز مشرف کے دور میں اپنے سیاسی کردار اور ان سے حلف لینے کے معاملے کو بھی یاد کرنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمٰن اقتدار کی کرسی کا حساب نہیں، بلکہ اسمبلیوں کی خرید و فروخت، معدنی وسائل، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتائج اور حکومتی پالیسیوں کا حساب مانگ رہے ہیں۔ لہٰذا تاریخ پر لیکچر دینے کے بجائے سوالات کے جواب دیے جائیں۔
15۔
قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کا جواب دلیل سے دو، الزام سے نہیں۔ ابابیلوں کا پیغام واضح ہے: مؤقف پر قائم رہو!
#مولانا_آن_فائر
#لچر_پروپیگنڈہ_برگیڈ
#لولی_لنگڑی_لیگ
#مندر_کا_گھنٹہ_نقوی
#کوئی_شرم_ہوتی_ہے
خیبر پختونخوا میں بدامنی کے خاتمے کے لیے بنایا گیا منصوبہ کب نافذالعمل ہوگا؟صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہو گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں پیش آنے والے الگ الگ واقعات میں 5 پولیس اہلکار ش۔ہید ہو گئے۔
30..10..2026
چناب نگر
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما شاہین جمیعت محافظ ختم نبوت حضرت مولانا حافظ حمداللہ صاحب عالمی مجلس تحفظ خ ت م ن ب و ت کانفرنس پہنچنےپر کارکنوں کا شاندار استقبال
خواجہ آصف صاحب!
جنرل ضیاء سے وابستگی پر تو آپ نے معافی مانگ لی، کیا آپ جنرل مشرف کے دور میں اپنی سیاست کو بھی یاد کر لیجیے!
جنرل مشرف سے حلف لینا یاد تو ہوگا آپکو
خواجہ صاحب!
مولانا صاحب نے کرسی نہیں،
اسیمبلیوں کی خرید و فروخت
معدنیات اور دھشتگردوں کے خلاف ہونے والی جنگ کے نتائج اور رزلٹ کا حساب مانگا ہے؛ جواب دیجیے، تاریخ پر لیکچر نہیں
اگر تاریخ کے اوراق کو کہولیں گے تو سیاہی آپ کے چہرہ کا مقدر بنتی نظر آئے گی ھمارے چہروں پر نہیں
#مولانا_آن_فائر
#لچر_پروپیگنڈہ_برگیڈ
#لولی_لنگڑی_لیگ
#مندر_کا_گھنٹہ_نقوی
#کوئی_شرم_ہوتی_ہے
30..10..2026
بروز جمعہ چناب نگر ضلع چنیوٹ پنجاب
شاھین جمعیت محافظ ختم نبوت سینیٹر مولانا حافظ حمد اللہ صاحب کی آج عالمی مجلس تحفظ خ ت م ن ب و ت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
سٹیج پر مولانا علامہ ناصرخاقوانی صاحب
مولانا مفتی محمد حسن صاحب
مولانا اللہ وسایہ صاحب و دیگر اکابر موجود ہے
خواجہ آصف صاحب پرسوں سے ایسی آگ میں جل رھے ھیں کہ نہ انکو دن کو قرار ھے نہ رات کو۔کبھی اپنے اکاؤنٹ سے اپنی جوابی تقریر پوسٹ کرکے اپنی تعریفیں شروع کردیتے ھیں کبھی بیان دیتے ھیں کہ میں مولانا صاحب سے دوستی خراب نہیں کرنا چاھتا پھر رات کو پھر نیند میں مولانا صاحب کی تقریر یاد آجاتی ھے پھر اٹھتے ھیں اور کہتے ھیں مولانا صاحب مذھب کو سیاست کے لیے استعمال کرتے ھیں، عجیب قسم کی حالت میں مبتلا ھوگئے ھیں۔
یہ بات آپ کو اس وقت یاد نہیں آئی جب ان کو اپنا سربراہ بنارھے تھے اس وقت یاد نہیں آئی جب وہ آپ کو جیلوں سے نکال رھے تھے اس وقت یاد نہیں آئی جب آپ کو حکومت کے ایوانوں میں بٹھا رھے تھے
کوئی شرم ھوتی ھے کوئی حیا ھوتی ھے
#مولانا_آن_فائر
#لچر_پروپیگنڈہ_برگیڈ
#لولی_لنگڑی_لیگ
#مندر_کا_گھنٹہ_نقوی
#کوئی_شرم_ہوتی_ہے