مدد کی اصل خوبصورتی تب ہے جب دینے والے کے دل میں اخلاص ہو اور لینے والے کی عزت محفوظ رہے۔ اللہ تعالیٰ معیار بھی دیکھتے ہیں اور نیت بھی، اس لیے جو دیں، خوش دلی اور احترام کے ساتھ دیں۔
@OfficialShehr
https://t.co/DlBXleUPzi
@MaidahMuhammad سمپل، آج وہی پرانا ہندوستان ہوتا، اور یہ اسی طرح مسلمانوں کو لوٹ کھسوٹ رہے ہوتے کسی نئے حافظ کے ساتھ۔۔ بےغیرتی اور بےحیائی تو ان کی گھٹی میں ہے۔۔
اللہ کی فوج کے سربراہ نے ناحق قید میں ، ملک کے ہیرو اور سابق وزیراعظم عمران خان سے تمام سہولیات چھین کر، ملاقاتوں پر پابندی لگا کر اور ان کے ساتھ جیل میں ہر طرح کا غیر انسانی سلوک کرنے کے بعد، ان کی عید کی نماز اور اور جمعہ کی نمازوں پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔۔!!
#ڈٹ_جاو_حسین_کے_انکار_کیطرح
میں جرنلزم چھوڑ چکا ہوں، میں دوبارہ نہیں کروں گا ریکارڈ کر کے رکھ لیں۔ ابصار عالم
اسکو جب حکومت میں لائے تھے تو تا حیات حکومت میں رکھنے کے اتنے وعدے کئے ہوں گے کہ اس نے یہ تک کہہ دیا کہ ریکارڈ کر کے رکھ لو میں دوبارہ جرنلزم نہیں کروں گا۔ پھر جب ٹشو کی طرح استعمال کر کے پھینکا گیا اور گھر کا آٹا ختم ہوا تو پھر بے شرمی سے واپس جرنلزم میں آ گیا۔
سوال صرف یہ نہیں کہ کربلا میں کون حسینی تھا اور کون یزیدی؛ یہ تو تاریخ کا فیصلہ ہے اور تاریخ اپنا فیصلہ سنا چکی۔
اصل سوال یہ ہے کہ آج جب حق ہمارے سامنے آتا ہے تو ہمارا رویہ کیا ہوتا ہے؟
کیا ہم حق کو پہچان کر اس کا ساتھ دیتے ہیں؟
یا حق کو جانتے ہوئے مصلحت، خوف، مفاد اور خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں؟
یا پھر اپنے تعصبات، وابستگیوں اور خواہشات کی خاطر حق کے مقابل کھڑے ہو جاتے ہیں؟
کربلا کا میدان ختم ہو گیا، لیکن حق و باطل کا امتحان ختم نہیں ہوا۔
یزید اور حسینؑ کے نام تاریخ کا حصہ بن گئے، مگر ان کے راستے آج بھی زندہ ہیں۔
ہر دور میں کچھ لوگ حق کا ساتھ دینے کی قیمت ادا کرتے ہیں، کچھ حق کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں، اور کچھ طاقت، مفاد اور گروہی وابستگی کی خاطر حق کے مقابل کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اس لیے کربلا کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ 61 ہجری میں کون کس صف میں تھا؛
کربلا کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آج جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو ہماری وفاداری حق کے ساتھ ہوتی ہے یا اپنے مفاد کے ساتھ؟
کیونکہ تاریخ کے اوراق میں ہمارا نام نہیں لکھا جائے گا کہ ہم نے حسینؑ سے محبت کا دعویٰ کتنا کیا تھا؛
فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ جب حق کو ہمارے کردار، ہماری آواز اور ہماری قربانی کی ضرورت تھی تو ہم کس صف میں کھڑے تھے۔
میں فوج کے خلاف کسی کو نہیں بولنے دوں گا سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق
یہ رہے فوج کے خلاف بولنے والے ان میں ایک وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئی ایک وزیر دفاع بن گیا خود سپیکر بن گیا ایک پاکستان کا صدر بن گیا
"کچھ عرصہ قبل حکومتی کیمپ میں ن لیگ کے سمجھے جانیوالے صحافی نے سندھ کے لوگوں کے بارے میں عجیب وغریب گفتگو شروع کردی۔ پنجاب کی عظمت کے گن گائے گاتے جاتے رہے، او خیبرپختونخوا سے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیانات دئیے جاتے رہے۔ کبھی کسی پر احسان فراموشی کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو کسی پر غداری کی تہمت دھردی جاتی ہے، یہ سب غالبا اسلئے ہورہا ہے کہ اس حکومت کی بنیاد ہی عمران خان کی نفرت کی بنیاد پر رکھی گئی ہے۔لہٰذا اب ہر وہ شخص جو اس حکومت کے نقطہ نظر یا اس حکومت کے طرز عمل سے اختلاف کرے ، قابل نفرت گردانا جاتا ہے، چونکہ یہ گروہ سیاست کاراں مسائل تو حل نہیں کرسکتا، اسلئے نفرت فروشی میں ہی اپنی بقاء چاہتا ہے"- حبیب اکرم
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
"خواجہ صاحب کو وزیر کلچر لگا دینا چاہیے۔ وہ تھیٹر کے آدمی ہیں۔ شیخ رشید کی طرح اس ماحول میں خوش رہیں گے۔ انہیں وزیر دفاع رکھنا ملک کے دفاع کے لیے خطرہ ہے۔ نون لیگ کی کمزوری ہے کہ خواجہ کابینہ کا حصہ ہیں، مگر اب یہ خواجہ دنیا بھر میں ایک مذاق بن چکا ہے۔ اس کی بھتیجی نے پورے ملک کو بیچ دیا اور اسے شرم نہیں آتی۔ کیسے کوئی کمپنیوں کے ساتھ ایسا فراڈ کر سکتا ہے؟ خواجہ صاحب اب ہوش مند نہیں رہے۔ اس بے چارے سے جان چھڑا لینا ضروری ہے۔ ایسا بے ہوش شخص جو کچھا ڈال کر نہر میں چھلانگ لگائے، وہ اس ملک کا وزیر دفاع نہیں ہو سکتا۔ اسے کلچر کا وزیر بنا دیں، یہ خوش رہے گا تھیٹر کی دنیا میں۔"۔عامر متین
@AmirMateen2
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
پاکستانی سرکاری ہائی اسکول کا جائزہ اور مصنوعی ذہانت کا دور!
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان میں آؤٹ آف سکول چلڈرن ان بچوں سے بہتر ہیں جو کہ سرکاری سکولوں میں ہیں۔ اور یہ سرکاری سکولوں کی مکمل ناکامی کی داستان ہے۔
پاکستان کے بیشتر سرکاری ہائی اسکولوں کا جائزہ لیا جائے تو پہلی نظر میں ان کی عمارتیں، وسیع کلاس رومز، کھیل کے میدان اور تدریسی عملہ کسی حد تک موجود نظر آتا ہے۔ اربوں روپے کا سالانہ خرچہ بھی موجود ہے۔ پنجاب کی حد تک تک انفراسٹرکچر موجود ہے جبکہ بلوچستان کی حد تک حالات مایوس کن ہیں۔ لیکن جب انتظام، تدریس اور طلبہ کی حقیقی نشوونما کا جائزہ لیا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ واش روم غیر معیاری ہیں، صاف پانی اور صحت بخش خوراک کا مناسب انتظام نہیں، جبکہ اسکول کا مجموعی ماحول بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے تقاضے پورے کرتا نظر نہی آتا ۔
اصل مسئلہ عمارت یا وسائل کا نہیں بلکہ اسکول کے تصور کا ہے۔ ایک ہیڈ ٹیچر عموماً ایک اچھا استاد تو ہو سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ ایک مؤثر تعلیمی منتظم بھی ہو۔ تعلیمی ادارے صرف تدریس سے نہیں بلکہ مضبوط تعلیمی انتظام، وژن اور مسلسل بہتری سے چلتے ہیں، اور یہی پہلو ہمارے سرکاری اسکولوں میں سب سے زیادہ کمزور ہے۔
اس سے بھی زیادہ بنیادی مسئلہ نصاب کا ہے۔ بچوں پر بے شمار مضامین کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، مگر یہ سوال کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ جو کچھ پڑھ رہے ہیں، اس میں ان کی عملی زندگی کے لیے کیا موجود ہے؟ کیا یہ نصاب اکیسویں صدی کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے؟ کیا یہ تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے، تخلیقی صلاحیت، ابلاغ، مالی خواندگی اور عملی ہنر پیدا کرتا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر یہ محض معلومات کی منتقلی ہے، تعلیم نہیں۔
میٹرک تک پہنچنے والا طالب علم کم از کم اتنا اہل ضرور ہونا چاہیے کہ وہ زندگی کے بنیادی فیصلے کر سکے، کسی ہنر کے ذریعے روزگار حاصل کر سکے، اور معاشرے میں ایک باوقار شہری کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکے۔ افسوس کہ ہمارے بیشتر سرکاری اسکول ایسے نوجوان تیار کر رہے ہیں جن کے پاس نہ عملی ہنر ہے، نہ تنقیدی سوچ، اور نہ ہی زندگی کی بنیادی مہارتیں۔ نتیجتاً وہ مزید ڈگریوں کے تعاقب میں لگ جاتے ہیں، مگر روزگار کی منڈی میں پھر بھی غیر مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
سرکاری اسکولوں کی ہزاروں ایکڑ قیمتی اراضی بھی پوری طرح استعمال نہیں ہو رہی۔ دوپہر کے بعد یہ ادارے بند ہو جاتے ہیں، حالانکہ انہیں کمیونٹی سینٹرز، اسکل ڈویلپمنٹ مراکز، لائبریریوں، کھیلوں، ادبی سرگرمیوں اور بالغوں کی تعلیم کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف عوامی سرمایہ بہتر انداز میں استعمال ہوگا بلکہ اسکول اپنی حقیقی سماجی حیثیت بھی حاصل کریں گے۔
جب تک اسکول کے پورے یونٹ کو ازسرِنو تشکیل نہیں دیا جاتا، نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جاتا، تعلیمی انتظام کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار نہیں کیا جاتا، اور طلبہ کی شخصیت و مہارتوں کی تعمیر کو مرکزی مقصد نہیں بنایا جاتا، تب تک سرکاری اسکول صرف ملازمین کی تعیناتی کا نظام رہیں گے، قومی ترقی کا ذریعہ نہیں۔
لہذا ضرورت یہ ہے کہ سکول کو بطور ادارہ فی یونٹ کامیاب کریں تاکہ تعلیمی و سماجی اہداف حاصل کئے جا سکیں۔ اس ضمن میں Teaching Administrative Service کے ذریعے ایجوکیشن ایڈمنسٹریٹرز بطور سربراہانِ ادارہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گورننس پر بہترین کام ریپبلک پالیسی کی گورننس بکس میں دستیاب ہے، جو وینگارڈ بکس، ریڈنگز، سنگِ میل، کتاب سرائے، سعید بک مارٹ اسلام آباد اور ملک کے نامور کتب خانوں پر دستیاب ہیں۔
آپ کتابیں ان کی ویب سائٹس سے خرید سکتے ہیں۔