The moment that defined Pakistan’s sporting history, led by the man who would later lead the nation.
Imran Ahmed Khan Niazi, a champion on the field and Pakistan's legitimate Prime Minister, inspired generations with one unwavering belief: never stop fighting.
عمران خان کی تصویر برداشت نہیں عمران خان کی اواز برداشت نہیں عمران خان کا پیغام برداشت نہیں
ائیں مل کر ایک دفعہ پوری دنیا میں دوبارہ سے اس ہیش ٹیگ کو پھیلائیں خان صاحب کی تصویروں کے ساتھ
ایسے ہی جیسے ہم نے امپورٹڈ حکومت نامنظور کا ہیش ٹیگ چلایا تھا
#FreeImranKhan
اج اپ سب لوگوں کے ٹائم لائن پر یہ تصویر نظر انی چاہیے جن کو خان صاحب کی کامیابیوں سے ۔۔۔ان کے چہرے سے تکلیف ہے۔۔ ان کو ان کی اوقات دکھائیں
#FreeImranKhan
احکامات خداوندی
Do’s and Don’ts
*لا تكفرون:* مت کفر کرو
*لا تسرفوا:* مت اسراف کرو
*لا تحزنوا:* مت غم کرو
*لا تتمنوا:* مت تمنا کرو
*لا تعتدوا:* حد سے آگے مت نکلو
*لا تھنوا:* تم نہ سستی کرو
*لا تنھر:* مت ڈانٹ ڈپٹ کرو
*لا تسبوا:* مت گالی دو
*لا تقھر:* سختی نہ کیا کر
*لا تخشوا الناس:* مت ڈرو لوگوں سے
*لا تقربوا الفواحش:* مت قریب ہو برائیوں کے
*لا تبتئس:* مت مایوس ہو
*لا تخف:* مت خوف کھا
*لا یسخر:* مت مذاق کر
*لا تغرنکم الحیاۃ الدنیا:* تمہیں زندگانی دنیا دھوکے میں نہ ڈالے
*لا تزکوا أنفسکم:* مت پاکیزہ جانو اپنے نفسوں کو
*لا یسرقن:* مت چوری کرو عورتوں
*لا یغتب:* مت غیبت کرو
*لا تفرقوا:* مت تفرقہ ڈالو
*لا یخافون لومة لايم:* اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواه بھی نہ کریں گے
*لا تقل لهما اف:* مت ان دونوں (والدین) کو اُف تک کہو
*لا تقتلوا النفس:* مت قتل کرو کسی جان کو
*لا تفسدوا فی الأرض:* مت فساد کرو زمین میں
*لا تأکلوا الربا:* مت سود کھاؤ
*لا ینقضون المیثاق:* مت پختہ عہدوں کو توڑو
اڈیالہ جیل سے بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا پیغام
(5 جولائی 2024)
۱-
میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا ماننے والا ہوں۔ حقیقی آزادی کی جنگ سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ ایک سال ہونے والا ہے مجھے چکی میں ٹھہرایا ہوا ہے،سخت گرمی کے باوجود میں شکایت نہیں کروں گا۔میں وقت کے یزید کی کبھی غلامی نہیں کروں گا۔ جیل میں مرنے کیلئے تیار ہوں ،جب تک زندہ ہوں میں یہ جنگ لڑوں گا۔
۲-
آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت کیسز کی سماعت کے دوران پسند نا پسند نہیں ہونی چاہئے۔ قاضی فائز عیسٰی کا تعصب کھل کر سامنے آچکا ہے۔ جسٹس گلزار کے 5 رُکنی بینچ کے مطابق بھی قاضی فائز عیسیٰ ہمارے کیس نہیں سُن سکتے، جبکہ ہمارے وکلاء بھی بارہا اس امر پر اپنے اعتراضات اٹھا چکے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے مقدمات کے ہر بینچ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی شمولیت نا صرف ہمارے آئینی و قانونی حق کے عین منافی ہے بلکہ انصاف کی روح کے بھی برخلاف ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اگر مستعفی نہیں ہوتے تو بنچز سے علیحدگی اختیار کرلیں۔
۳-
اگر اس فراڈ الیکشن کی تحقیقات ہو جاتی ہیں تو چیف الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگ جائے گا۔پورا مُلک جانتا ہے کہ ۲۰۲۴ کا الیکشن پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ تھا لیکن چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ الیکشن کمیشن کی تعریف کررہے ہیں، جس الیکشن کمیشن نے ملک کا سب سے فراڈ الیکشن کرایا ہمیں انصاف کیلئے اُسی کے پاس بھیجا جا رہا ہے۔میں ایک نئے غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے نیچے پھر سے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرتا ہوں ۔
ملک پر اس وقت جنگل کے بادشاہ کا تسلط ہے۔ ہر ادارے میں مداخلت نے ملک کا نظام درہم برہم کر رکھا ہے۔ پہلے پاکستان میں ہائبرڈ نظام تھا اب آمریت نافذ ہے۔ یہ لوگ تعصب اور انتقام کی آگ میں پاگل ہو چکے ہیں۔ پورے پاکستان کی طرح اڈیالہ جیل پر بھی ان کے ہرکاروں کا قبضہ ہے۔ سپرٹینڈنٹ جیل ایجنسیز کی نوکری کر رہا ہے۔ ملک میں دہشتگردی عروج پر ہے جبکہ ان کے کرنل اور میجر یہاں جیل میں بیٹھے ہوئے ہیں۔کل جیل میں بیٹھے کرنل کی ایما پر سپرٹینڈنٹ جیل نے ۳ گھنٹے انتظار کے باوجود میری ٹیم کو مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ اگر ملاقات ہوتی تو میں ان کے اختلافات ختم کروا دیتا۔ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی چھوٹی حرکتوں سے میری پارٹی کمزور ہوگی۔ جس پارٹی کو عوام کی حمایت حاصل ہو اسے کوئی جابرانہ ہتھکنڈہ کمزور نہیں کر سکتا۔
بھوک ہڑتال کے حوالے سے مشاورت کر رہا ہوں۔ اگر اسٹیبلشمنٹ اڈیالہ جیل کے معاملات اور میرے کیسز سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرتی تو بھوک ہڑتال کروں گا۔
پارٹی رہنماؤں کو میری ہدایات ہیں کہ اپنے اختلافات عوام میں لے کر نہ جائیں۔ اگر آپ اختلافات عوام میں لیکر جائیں گے تو آپ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جائیں گے۔
۴-
مذاکرات تب ہوتے ہیں جب کسی مسئلے کا حل نکلے، ہم شہباز شریف سے مذاکرات کریں گے تو جعلی فارم ۴۷ کے سہارے کھڑی اُن کی حکومت تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی۔ طاقتور طبقہ چاہتا تھا کہ میں گارنٹی دوں کہ اقتدار میں آکر ان پر ہاتھ نہیں ڈالوں گا۔
عاصم منیر نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا جنازہ نکال دیا ہے، بجٹ کے بعد ان کی سیاست ختم ہو گئی ہے۔ ان کے ساتھ وہ ہو گیا ہے جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں ہونا چاہئے۔
۵-
اب ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ کانگریس اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مداخلت کا بیانیہ بناتے ہیں جبکہ خود افغانستان پر حملے کی احمقانہ دھمکیاں دیتے ہیں۔
امن و امان قومی معاملہ ہے، ملک کی خاطر تحریک انصاف اے پی سی میں شرکت کرے گی اور جعلی حکومت کا مؤقف سنے گی۔ عزم استحکام آپریشن پر ہمارے تحفظات موجود ہیں، اس آپریشن سے ملک میں عدم استحکام بڑھے گا۔
جب تک افغان حکومت ساتھ نہ دے طویل بارڈر پر یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں، ہمارے دور میں این ڈی ایس اور غنی حکومت آپس میں ملے تھے، میں اس کے باوجود افغانستان گیا اور بات چیت کی۔آپ طالبان کے خلاف آپریشن کریں گے وہ بھاگ کر افغانستان کے اندر چلے جائیں گے، جب تک آپ کو افغانستان سے تعاون نہیں ملے گا آپ اس آپریشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے- بلاول بھٹو اور موجودہ وزیر خارجہ افغانستان کیوں نہیں گئے؟ افغانستان سے تعلقات کی بحالی ہماری فوری ضرورت ہے ۔
1/2
“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025
"چارسدہ، خیبر اور کرک کے جلسوں میں عوام کی بھرپور شرکت قوم کے شعور اور اپنے حقوق کے دفاع کے عزم کی عکاس ہے۔ عوامی رابطہ مہم کو بہترین انداز میں جاری رکھنے پر میں جلسے کے تمام منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ تحریک انصاف کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ مل کر حقیقی آزادی کی تحریک کو مزید تیزی سے آگے بڑھانا چاہییے۔
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے بطور اپوزیشن لیڈرز تا حال نوٹیفکیشنز جاری نہ ہونا باعثِ تشویش ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انہیں فوری طور پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر نوٹیفائی کیا جائے۔
آج ایک بار پھر میرے وکلاء، میری فیملی اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈرز کے باوجود مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں واپس لوٹا دیا گیا جو کہ ناصرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ عدالتی احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ میرے خلاف قائم بے بنیاد مقدمات کی سماعتیں بھی اپنے آخری مراحل میں ہیں، جس کے بعد ممکنہ طور پر مجھے ایک بار پھر قیدِ تنہائی میں ڈال دیا جائے گا۔
میں پارٹی کے تمام کارکنان اور سینئر وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اس کھلی توہینِ عدالت کے خلاف فوری طور پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں اور پٹیشنز دائر کریں۔ اسی طرح القادر ٹرسٹ کیس میں تاخیری حربوں کے حوالے سے بھی ہدایت کرتا ہوں کہ اس کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا جائے اور سماعت کی تاریخ لیے بغیر عدالت سے باہر نہ آئیں۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لیے میری ہدایت ہے کہ صوبے کی ضرورت کے مطابق خود اپنی مختصر کابینہ تشکیل دیں۔ میں نے کابینہ کے لیے کوئی بھی نام تجویز نہیں کیا، سہیل آفریدی کے پاس اپنی مرضی کی ٹیم چننے کا مکمل اختیار ہے۔
پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور پیغامات صرف سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی جاری کئے جائیں تاکہ کسی قسم کی کنفیوژن یا غلط فہمی سے بچا جا سکے۔
آخر میں، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ احمد چھٹہ اور بلال اعجاز میرے پرانے اور وفادار ساتھی ہیں۔ یہ میرے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، میں نے ان کی برطرفی کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ کے ذریعے دیا گیا پیغام (28 اکتوبر، 2025)
“The large turnout of the people at Charsadda, Khyber, and Karak Jalsas indicate an increasing public awareness and a shared commitment to protecting their rights. I extend my appreciation to all the organizers for successfully continuing the public outreach campaign in an exemplary manner.
Pakistan Tehreek-e-Insaf, in collaboration with the Tehreek Tahaffuz-e-Aaeen-e-Pakistan (Movement for the Protection of Pakistan’s Constitution), must now accelerate the struggle for true freedom.
The continued delay in issuing notifications for Mahmood Khan Achakzai and Allama Raja Nasir Abbas as Leaders of the Opposition is deeply concerning. I demand that they be immediately notified as Leaders of the Opposition in the Senate and the National Assembly, respectively.
Today once again, in defiance of Islamabad High Court orders, my lawyers, family, and the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa were denied permission to meet me and were turned away. This is not only a blatant violation of fundamental human rights but also a clear contempt of court. The hearings of the unfounded cases against me are nearing conclusion, after which I will likely be placed in solitary confinement once again.
I direct all party workers and senior lawyers to immediately approach the superior judiciary and file petitions against this open contempt of court. Likewise, regarding the delaying tactics being used in the Al-Qadir Trust case, I instruct that legal action be taken, and a hearing date must be secured before leaving the court premises.
I direct Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Sohail Afridi to establish a compact, need-based cabinet. The selection of ministers is entirely his prerogative, as I have proposed no names.
To avoid any confusion or miscommunication, all instructions and correspondence concerning the party matters shall be conveyed solely through the Secretary General, Salman Akram Raja.
Lastly, I wish to make it clear that Ahmad Chattha and Bilal Ejaz are my long-standing and loyal companions. They have stood by me with unwavering loyalty and made tremendous sacrifices. I have not issued any orders for their removal.”
Former Prime Minister Imran Khan’s message from Adiala Jail, conveyed through his sister - October 28, 2025
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو:
“حکومت کو اتوار، 22 دسمبر تک کا وقت دیا ہے، اگر کل تک حکومت نے ہمارے مطالبات پر سنجیدگی نہیں دکھائی تو ہماری سول نافرمانی کی تحریک کا پہلا مرحلہ یعنی ترسیلات زر کا بائیکاٹ شروع ہو جائے گا، جس کی اس نااہل حکومت کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہیں اندازہ نہیں کہ سول نافرمانی کی تحریک اس جعلی حکومت کے لیے کتنی مہلک ثابت ہو گی۔ اگر حکومت ہمارے مطالبات پر سنجیدہ ہے تو فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کرے۔
اسلام آباد قتل عام کو ایک ماہ ہوگیا ہے اور کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو قاتل اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے جبکہ یہاں ایک جوڈیشل کمیشن تک نہیں بن سکا- ہمارے کئی لوگ گمشدہ ہیں، جب تک ہمارے لاپتہ لوگوں کی تصاویر کے ساتھ تفصیلات نہیں شئیر کی جاتیں کہ وہ کہاں کہاں ہیں تب تک حکومت کی کسی بات پر یقین نہیں کریں گے-
ملٹری کورٹس کے ذریعے سیاسی ورکروں کو سزائیں دینے سے ںہتر ہے کہ ملک میں لگے مارشل لاء کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے- 9 مئی کے ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری کیں- جنہوں نے لوگوں پر گولیاں چلائیں وہی جج جیوری اور جلاد بنے سزائیں بھی سنا رہے ہیں۔ یہ جمہوریت نہیں جنگل کا قانون ہے-
ہمارا دوسرا مطالبہ 9 مئی کی آزادانہ تحقیقات ہیں جس کے لیے ہم بارہا سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کر چکے ہیں- 9 مئی کو بھی ہمارے دو درجن سے زائد کارکنان کو گولیاں برسا کر قتل کر دیا گیا تھا۔ 15 کی تفصیلات ہم نے پبلک کیں۔ مزید براں ہمارے سینکڑوں کارکنان کو اس دن گولیاں ماری گئی تھیں- کسی ایک فوجی یا پولیس والے کی جان نہیں گئی تو دہشتگردی کیسے ہوئی؟ کیا نہتی عوام کا پرامن احتجاج دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے یا ان پر سیدھی گولیاں برسانا؟
مجھے معلوم ہے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے کیس کا فیصلہ کیا آنا ہے، یہاں سارے فیصلے پہلے سے لکھ کر آتے ہیں- میرے خلاف اڈیالہ جیل میں تین فیصلے سنائے گئے تینوں فیصلے اعلیٰ عدالتوں میں ختم ہوگئے کیونکہ سارے کیسز جھوٹے اور بے بنیاد تھے- حکومت کی غیر سنجیدگی سے میرا نہیں ملک کا نقصان ہورہا ہے-
لوگوں کے گھروں میں ماتم ہورہا ہے، ہمارے لوگوں کی اگر کوئی مجبوری ہو تو بند کمرے میں مذاکرات کریں، 26 نومبر قتل عام کے قاتلوں اور سہولتکاروں کے ساتھ تصاویر نہیں بنانی چاہیں۔
ہمارے جو لوگ گرفتار کئے گئے ہیں انہیں سخت سردی میں اٹک جیل میں تمبووں میں رکھا گیا ہے جو کہ ناصرف قانون بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔ ہمارے ILF وکلأ کی ٹیمز مزید متحرک ہو کر ان کو ریلیف دلوائیں-
ہمیں امید تھی کہ قاضی فائر عیسیٰ کے جانے کے بعد ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف ملے گا لیکن مافیا نے ممبران پارلیمنٹ کے اغوا کے ذریعے آئین میں ترمیم کرکے عدلیہ پر قبضہ کرلیا اور اب عدلیہ کو سیاسی انتقامی کاروائی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے- پاکستان صرف سرمایہ کاری سے بچ سکتا ہے لیکن پاکستان میں اس وقت قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں اور دن بدن حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں- ملکی مفاد شخصی انا اور ایکسٹینشن کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ حالات کی بہتری کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ اقتدار عوام کی نمائندہ جماعت کو سونپا جائے تاکہ سیاسی اور نتیجتاً معاشی استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔”
“سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے-
میں اس آمریت کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا اور اس آمریت کے خلاف جدوجہد میں مجھے جتنی دیر بھی جیل کی کال کوٹھری میں رہنا پڑا میں رہوں گا لیکن اپنے اصولوں اور قوم کی حقیقی آزادی کی جدوجہد پر سمجھوتہ نہیں کروں گا-
ہمارا عزم حقیقی آزادی، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی ہے، جس کے حصول تک اور آخری گیند تک لڑتے رہیں گے- کوئی ڈیل نہیں کروں گا اور تمام جھوٹے کیسز کا سامنا کروں گا-
میں ایک بار پھر قوم کو کہتا ہوں کہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھیں- پاکستان میں 1971 کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے- یحیٰ خان نے بھی ملک کو تباہ کیا اور آج بھی ڈکٹیٹر اپنی آمریت بچانے کے لیے اور اپنی ذات کے فائدے کے لیے یہ سب کر رہا ہے اور ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے-
آج القادر ٹرسٹ کے کالے فیصلے کے بعد عدلیہ نے اپنی ساکھ مزید تباہ کر دی ہے- جو جج آمریت کو سپورٹ کرتا ہے اور اشاروں پر چلتا ہے اسے نوازا جاتا ہے- جن ججز کے نام اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے بھیجے گئے ان کا واحد میرٹ میرے خلاف فیصلے دینا ہے-
یہ کیس تو دراصل نواز شریف اور اس کے بیٹے کے خلاف ہونا چاہییے تھا جنہوں نے برطانیہ میں اپنی 9 ارب کی پراپرٹی ملک ریاض کو 18 ارب میں بیچی- سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ ان کے پاس 9 ارب کہاں سے آئے؟ پانامہ میں ان سے جو رسیدیں مانگی گئیں وہ آج تک نہیں دی گئیں۔ قاضی فائز عیسی کے ساتھ مل کر حدیبیہ پیپر ملز میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ معاف کروائی گئی۔
القادر یونیورسٹی شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح ہی عوام کے لیے ایک مفت فلاحی ادارہ ہے جہاں طلبأ سیرت النبی ﷺ کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے- القادر یونیورسٹی سے مجھے یا بشرٰی بی بی کو ایک ٹکے کا بھی فائدہ نہیں ہوا اور حکومت کو ایک ٹکے کا بھی نقصان نہیں ہوا-
القادر ٹرسٹ کی زمین بھی واپس لے لی گئی جس سے صرف غریب طلبأ کا نقصان ہو گا جو سیرت النبی ﷺ کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے-
القادر ٹرسٹ کا ایسا فیصلہ ہے جس کا پہلے ہی سب کو پتہ تھا- چاہے فیصلے کی تاخیر ہو یا سزا کی بات سب پہلے ہی میڈیا پر آ جاتا ہے- عدالتی تاریخ میں ایسا مذاق کبھی نہیں دیکھا گیا- جس نے فیصلہ جج کو لکھ کر بھیجا ہے اسی نے میڈیا کو بھی لیک کیا-
میری اہلیہ ایک گھریلو خاتون ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے- بشرٰی بی بی کو صرف اس لیے سزا دی گئی تاکہ مجھے تکلیف پہنچا کر مجھ پر دباؤ ڈالا جائے- ان پر پہلے بھی گھٹیا کیسز بنائے گئے- لیکن بشرٰی بی بی نے ہمیشہ اسے اللہ کا امتحان سمجھ کر مقابلہ کیا ہے اور وہ میرے کاز کے ساتھ کھڑی رہی ہیں-
مذاکرات میں اگر 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں- بددیانت لوگ (cheaters) کبھی نیوٹرل ایمپائرز کو نہیں آنے دیتے- حکومت جوڈیشل کمیشن کے مطالبے سے اسی لیے راہ فرار اختیار کر رہی ہے کیونکہ وہ بد دیانت ہے۔” - سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
اُس نے اِس ملک پر اپنی کُل کائنات وار دی مگر اس مملکتِ خداداد میں اس کی دہائی سننے والا ایک نہ ملا۔ ایک ماں اپنی اولاد کے لیے انصاف مانگتے مانگتے مر گئی۔
“I am deeply saddened to hear about the passing of Lady Annabel Goldsmith. My family shared this heartbreaking news with me today while I am in prison.
Annabel was a wonderful grandmother to my sons and an exceptionally kind and compassionate person. During my visits to London, I would stay with her along with my sons. She became like a mother to me, especially after losing my own mother in 1985.
Her passing is a profound loss. My heartfelt thoughts are with all her children and grandchildren. She will be dearly missed by all of us. If I were not in prison, I would have attended her funeral along with my sons, Sulaiman and Kasim”
Illegaly incarcerated Imran Khan's message from Adiala Jail (October 21, 2025)
“خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے مرحلے کے دوران سلمان اکرام راجہ نے میڈیا اور ہائی کورٹ میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے جس احسن طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھائی، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اپنی ہمشیران سے گفتگو (16 اکتوبر، 2025)
2/2
“میں سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ بننے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ سہیل آفریدی میرے آئی ایس ایف کے دیرینہ اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ وہ توقعات اور تحریک انصاف کے نظرئیے کے عین مطابق، بحیثیت چیف منسٹر خیبرپختونخوا میں انقلابی کام کریں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس موقع پر علی امین گنڈا پور نے نہایت باوقار طریقے سے حکومت کی منتقلی یقینی بنائی
میں گزشتہ دو سال میں ہونے والے قتلِ عام کے چار بڑے واقعات جن میں 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے قتلِ عام شامل ہیں، پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ دہراتا ہوں۔ ان تمام واقعات میں بڑی تعداد میں نہتے شہریوں کو شہید کیا گیا۔
9 مئی فالس فلیگ کے حوالے سے میرا شروع سے یہی موقف ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کی جائے اور آزادانہ و شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ جس پر افسوس ہے کہ کوئی عملدرآمد نہیں ہوا بلکہ الٹا متاثرہ فریق کیخلاف ہی جھوٹے مقدمات بنا کر بغیر شفاف تحقیقات اور ثبوت کے ملٹری کورٹس اور کینگرو کورٹس سے 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ حالانکہ اس دن نہتے شہریوں اور سپورٹرز کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا-
قتلِ عام کی یہی واردات 26 نومبر کو دہرائی گئی جب نہتے پرامن مظاہرین پر سیدھی گولیاں برسائی گئیں۔ اگر 9 مئی کے حقائق سامنے آجاتے تو 26 نومبر اور اس جیسے واقعات نا ہوتے۔ پھر آزاد کشمیر اور اب مریدکے میں مظاہرین کو ریاستی بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کا قیام ناگزیر ہے تاکہ مظلوموں کو انصاف مل سکے اور قتلِ عام کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
اگر اب کی بار نہتے شہریوں کے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن بنا کر شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو خدانخواستہ اگلا واقعہ اس سے بھی بڑا ہوگا کیونکہ ظلم و بربریت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
نماز جمعہ کے بعد خیبرپختونخوا میں ہمارے تمام کارکنان اور عوام مریدکے قتلِ عام کیخلاف نکلیں اور چاروں واقعات کے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔
آج ملک میں سب کچھ عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے- ساری عدالتیں فوجی عدالتوں میں بدل چکی ہیں، جیسے فوجی عدالتوں کو چلایا جاتا ہے ویسے ہی عام عدالتوں کو بھی چلایا جا رہا ہے۔
26ویں غیر آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں سے انصاف کی توقع تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ملک میں بڑھتی لاقانونیت اور ناانصافی اسی ترمیم کا نتیجہ ہے- جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین، جج عامر فاروق، اور جج ڈوگر سب کے پاس ہمارے کیسز اور پٹیشن گئیں مگر کہیں سے انصاف نہیں ملا۔
عاصم منیر، قاضی فائز عیسٰی اور سکندر سلطان راجہ نے ہمارا مینڈیٹ چوری کر کے فارم 47 کی نااہل اور ناجائز حکومت پاکستان پر مسلط کی جن کے پاس پاکستان کو درپیش مسائل سے نکالنے کا نہ ہی کوئی وژن ہے، نہ اہلیت ہے اور نہ ہی کوئی اختیار۔ ان کی دہشتگردی کے مسئلے، امن کے قیام اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی اپنی کوئی سوچ اور پالیسی نہیں ہے-
تاریخ سے ثابت ہے کہ ملٹری ڈکٹیٹرز کا صرف بندوق کے زور پر ہر چیز کا حل نکالنے کا فارمولہ کبھی دیرپا اور کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ افغانستان کے ساتھ مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے۔ لہذا یہ سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملہ فہمی سے ملک میں دیرپا امن کا قیام یقینی بنائیں۔ فارم 47 کی جعلی حکومت کا نہ ہی استحقاق ہے اور نہ اہلیت کہ وہ قیامِ امن میں مؤثر کردار ادا کرسکے۔ ہمارے دور میں دہشتگردی کم ترین سطح پر آ گئی تھی۔ مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تو میں افغانستان سے تنازعات کے حل اور قیامِ امن کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے خصوصی پیغام (16 اکتوبر 2025)
“آج اورکزئی کے علاقے میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر نہایت افسردہ ہوں۔ ملٹری آپریشنز میں ہر طرف صرف پاکستانی ہی شہید ہو رہے ہیں، چاہے وہ عام شہری ہوں، پولیس والے ہوں یا فوجی۔ آج کی شہادتوں میں ایک کرنل اور میجر بھی شامل ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔ تمام شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔
ملک پر مسلط مافیا کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی بدترین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اس سال دہشتگردی کے ریکارڈ واقعات ہوئے ہیں جن میں جس بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اس کی مثال ملنا مشکل ہے، جبکہ سال کے اختتام میں ابھی دو مہینے باقی ہیں۔ میں پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے چار اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت ناگزیر ہے جن میں خیبرپختونخوا حکومت، قبائلی علاقوں کی عوام، افغان حکومت اور افغان عوام شامل ہیں۔ موجودہ رجیم نے جنگ و جدل کی جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے، وہ حالات کے مزید بگاڑ کی وجہ بن رہی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کو بارہا ہدایات دیں کہ خیبر پختونخوا میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف شروع کیے گئے غیرضروری ملٹری آپریشنز کے خلاف کھڑی ہو، ہمارے دور میں ان تمام علاقوں میں امن قائم ہو چکا تھا، لیکن انتہائی دکھ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت میرے امن کے ویژن پر عملدرآمد میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اپنے آپ کو وفاقی حکومت اور سیکیورٹی ایجینسیوں کی جنگی پالیسیوں سے ایسے دور نہیں رکھ سکی جس طرح ضرورت تھی۔ ایسے میں خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ میں خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سہیل آفریدی کے سپرد کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔
ڈرون حملوں، جیٹ طیاروں اور مارٹر گولوں کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی پالیسی انتہائی بیوقوفانہ حکمت عملی ہے، جس کے باعث ملک دہشتگردی کے منحوس چکر سے کبھی نکل نہیں پایا۔ آج دہشتگردی کے واقعے میں ہونے والی شہادتوں کے بعد ہماری سیکیورٹی فورسز جواباً کاروائی کریں گی جس کے نتیجے میں دوسری جانب سے پھر ردعمل آئے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔
ہمارے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں دہشتگردی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی۔ باوجود اس کے کہ اس وقت افغانستان میں بھارت نواز اور پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ ایسے میں، میں نے ذاتی حیثیت میں افغانستان کا دورہ کیا اور اشرف غنی کو بھی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان دورے کی دعوت دی۔ تعلقات بحالی کی عملی کوششوں اور موثر حکمت عملی کے باعث ملک میں بدامنی کے ایسے واقعات نہیں ہوئے جیسے آج ہورہے ہیں۔
دوسری جانب اقتدار پر قابض موجودہ حکمرانوں نے افغانستان میں نئی بننے والی حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ بلکہ چالیس سال کی مہمان نوازی کے بعد جس طریقے سے افغان پناہ گزینوں کو بے عزت کر کے ملک بدر کیا گیا وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ بلاول بھٹو ایک سال سے زائد وزارتِ خارجہ کے منصب پر براجمان رہا اور تمام دنیا گھومنے کے باوجود، تاریخ کے اس انتہائی اہم موڑ پر ایک مرتبہ بھی کابل نہیں گیا اور نہ ہی افغان حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے رابطہ کیا۔
دیرپا قیامِ امن کے لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو بڑے تناظر میں دیکھا جائے، تمام فریقین مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں۔ میں پُرامید ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی سے نئی شروعات ہوں گی۔ عوامی نمائندوں، جرگوں اور قبائل سے معاونت حاصل کی جائے گی، دہشتگردی کے مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے تمام فریقین بات چیت کے ذریعے معاملہ فہمی سے دیرپا حل دریافت کریں گے۔ مجھے پوری توقع ہے کہ میری ہدایات کے عین مطابق نئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی میرے ویژن، قبائلی روایات اور عوامی امنگوں کی روشنی میں وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں امن کے بہترین فارمولے پر عمل کروانے اور دیر پا امن کے قیام میں بہترین کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔”
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (٨ اکتوبر ۲۰۲۵)