Advocate Saif ul Malook will argue Junaid Hafeez’s appeal before the Lahore High Court (LHC) today.
The strategy of the opposing side is to somehow employ delaying tactics and secure yet another hearing date, as has been happening since 2019.
Let’s see who prevails today: justice or the extremists?
Do you remember, before the internet, it was thought that the cause of collective stupidity was the lack of access to information?
Well... it wasn't that.
جوش ملیح آبادی اپنی کتاب میں ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک بار جب میں پاکستان سے رخصت لے کر دہلی گیا اور پنڈت جواہر لال نہرو سے ملا انہوں نے بڑے طنز کے ساتھ مجھے کہا تھا" جوش صاحب! پاکستان کو اسلام، اسلامی کلچر، اور اسلامی زبان، یعنی اردو کے تحفظ کے واسطے بنایا گیا تھا۔
جب بھی کسی مذہب سے عملیت اور حقیقت ختم ہوجاتی ہے تو اس کے نام پر کھانے والے مافوق الفطرت قصوں پر ہی عوام کو قابو میں رکھتے ہیں۔ پھر وہ مذہب ایک ذہنی پستی رکھنے والے عوام سے ہی وابسطہ رہ جاتا ہے۔ ذہین لوگ اسے چھوڑ کر عملیت اور حقیقت میں لوٹ جاتے ہیں۔
ہر خاندان میں ایک دن ایسا ضرور آتا ہے جب کوئی بہت پُرجوش کزن واٹس ایپ گروپ بناتا ہے۔
اس کے بعد خاندان کبھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔
ہمارے خاندان میں بھی ایک گروپ بنا۔ نام رکھا گیا:
“ہم سب ایک ہیں ❤️”
گروپ بنانے والے کزن نے سب سے پہلا پیغام لکھا:
“السلام علیکم سب کو۔ یہ گروپ صرف ضروری باتوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ براہِ کرم غیر ضروری ویڈیوز اور فارورڈز سے گریز کریں۔”
یہ پیغام بھیجنے کے تقریباً تین منٹ بعد سب سے پہلے ایک آنٹی نے “صبح بخیر” والی تصویر بھیجی، حالانکہ وقت رات کے ساڑھے دس بجے تھا۔
تصویر میں سورج نکل رہا تھا، ایک چائے کا کپ تھا، دو گلاب تھے اور نیچے لکھا تھا:
“جو لوگ دوسروں کے لیے اچھا سوچتے ہیں، اللہ ان کے لیے اچھا کرتا ہے۔”
سب نے ادباً دل والے ایموجی بھیج دیے۔
پھر ایک ماموں نے اپنی طرف سے “وعلیکم السلام” لکھنے کی کوشش کی، مگر voice typing آن تھی۔ گروپ میں ان کا پیغام آیا:
“وعلیکم السلام میں نے چاول بھگو دیے ہیں۔”
کسی نے کچھ نہیں کہا۔
ایک منٹ بعد انہوں نے وہ پیغام delete کردیا۔
پھر ایک اور پیغام آیا:
“یہاں پتا نہیں کیسے لکھا جاتا ہے۔”
وہ بھی delete ہو��یا۔
گروپ کا اصل مقصد چھوٹے کزن کی شادی کے لیے انتظام کرنا تھا۔ منتظم نے لکھا:
“تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ اتوار تک بتا دیں کہ کتنے افراد آئیں گے تاکہ کھانے کا انتظام ہو سکے۔”
پہلا جواب آیا:
“ان شاء اللہ۔”
دوسرا جواب:
“دعا میں یاد رکھیے گا۔”
تیسرا جواب:
“ماشاءاللہ بہت خوشی ہوئی۔”
چوتھا جواب ایک ویڈیو تھی، جس میں ایک بچہ کیک کاٹ رہا تھا۔
کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے لوگ آئیں گے۔
دو گھنٹے بعد منتظم نے دوبارہ لکھا:
“مہربانی کرکے صرف افراد کی تعداد بتا دیں۔”
اس بار ایک خالہ نے جواب دیا:
“بیٹا، ابھی بچوں سے پوچھ کر بتاتی ہوں۔ چھوٹا والا کہہ رہا ہے وہ نہیں جائے گا، لیکن وہاں چکن کڑاہی ہوئی تو پھر ضرور جائے گا۔”
دوسری خالہ نے فوراً لکھا:
“اسے لے آنا، بچے خوش رہیں تو گھر میں برکت رہتی ہے۔”
پھر بحث شروع ہوگئی کہ کھانے میں بریانی ہونی چاہیے یا پلاؤ۔
ماموں نے لکھا:
“شادی ہے یا دیگ کا مقابلہ؟ جو بھی ہو، سالن اچھا ہونا چاہیے۔”
ایک کزن نے لکھا:
“Please no more food discussion.”
یہ پیغام بھی اسی گروپ میں چلا گیا جس میں سب food discussion کررہے تھے۔
اس کے بعد تقریباً پانچ منٹ تک خاموشی رہی۔
پھر اسی کزن کی والدہ نے لکھا:
“بیٹا اگر تمہیں اتنا مسئلہ ہے تو گروپ چھوڑ دو۔”
اس نے فوراً جواب دیا:
“امی میں آپ کو نہیں کہہ رہا تھا۔”
مگر وہ کس کو کہہ رہا تھا، یہ کسی نے نہیں پوچھا۔
اگلے دن منتظم نے شادی کے تحفے کے لیے پیغام بھیجا:
“فیملی گفٹ کے لیے ہر گھر سے پانچ ہزار روپے جمع کیے جا رہے ہیں۔ براہِ کرم جمع کرا دیں تاکہ وقت پر تحفہ لیا جا سکے۔”
اس کے بعد گروپ میں وہ خاموشی آئی جو عموماً امتحان کے بعد “پیپر کیسا ہوا؟” پوچھنے پر آتی ہے۔
ایک گھنٹے بعد ایک کزن نے صرف یہ لکھا:
“Done.”
کسی نے پوچھا:
“کتنے بھیجے ہیں؟”
اس نے جواب دیا:
“میں نے message read کرلیا ہے۔”
دو دن گزر گئے۔ پچاس کے قریب افراد گروپ میں موجود تھے۔ ہر صبح سلام، ہر دوپہر کوئی مزاحیہ ویڈیو، ہر شام کسی کی پرانی تصویر، مگر پانچ ہزار بھیجنے والے صرف تین لوگ تھے۔
آخرکار منتظم نے گروپ کا نام تبدیل کردیا۔
“ہم سب ایک ہیں ❤️”
اب بن گیا:
“پانچ ہزار ابھی بھیج دیں”
گروپ میں فوراً ہلچل مچ گئی۔
ایک آنٹی نے پوچھا:
“یہ نام کس نے بدلا؟”
ماموں نے لکھا:
“میرے موبائل میں بھی یہی آرہا ہے، شاید واٹس ایپ کا کوئی update آیا ہے۔”
اسی دوران منتظم نے آخری پیغام بھیجا:
“جن لوگوں نے رقم بھیج دی ہے، ان کا شکریہ۔ باقی لوگ براہِ کرم آج شام تک کر دیں۔”
تھوڑی دیر بعد سب سے پہلے وہی ماموں، جنہوں نے چاول بھگو دیے تھے، گروپ سے نکل گئے۔
پھر ایک خالہ نکلیں۔
پھر ان کے شوہر نکلے۔
پ��ر دو کزن نکل گئے۔
رات تک گروپ میں صرف سات لوگ رہ گئے: منتظم، وہ تین لوگ جنہوں نے پیسے بھیجے تھے، اور تین آنٹیاں جو ابھی تک “صبح بخیر” کی تصاویر بھیج رہی تھیں۔
اگلی صبح گروپ میں ایک نئی تصویر آئی۔
ایک خوبصورت سا سورج، چائے کا کپ، گلاب کے پھول۔
نیچے لکھا تھا:
“رشتے پیسوں سے نہیں، دل سے بنتے ہیں۔”
اور اس کے فوراً بعد منتظم کا پیغام آیا:
“بالکل خالہ۔ لیکن gift shop والے دل قبول نہیں کررہے۔”