Even Badami couldn’t control his laughter at this ridiculous take. PPP knew exactly what they were signing up for by siding with this regime. The establishment will chew them up and spit them out.
آج منفی سوچ ٹانگ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی ہے۔ خوش ہے۔ مطمئن ہے۔ جیسے کسی کلاسک ڈرامے کے کلائیمکس سین میں ولن کلف زدہ سوٹ پہن کر پورے کروفر کیساتھ اپنی نشست پر براجمان ہوتا ہے ۔ ہمیں کیڑے مکوڑے سمجھ کر کچلا گیا ، ہمیں مارا گیا ، ذلیل و رسوا کیا گیا ۔ کبھی کبھی تو ہم اپنا اعتماد بھی کھونے لگتے تھے۔ لیکن ہر طرف سے اگلتی نفرت دیکھ کر منفی سوچ اندر سے پوری طرح سرشار ہے۔ کہ نفرت پہلا زینہ ہے بغاوت کے قرینوں میں۔ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا ، ہم نہ کہتے تھے ، ہم نہ بتاتے تھے ، ہم نہ تمہیں روکتے رہے ، جیسے خیالات اس منفی سوچ کو پانی دے رہے ہیں۔ پھر وہ مایوسی اور تھکاوٹ جو وقتا فوقتا طاری ہوجاتی ہے اسکی دھند چھٹتی نظر آتی ہے۔ ایسی ہی ناکامیاں اور نفرتیں ایک دن اتنی وزنی ہوجائیں گی کہ سب کچھ دھڑام سے گرے گا۔ یہ دنیا کی تاریخ میں بار بار بار بار ہوا ہے۔ ہر بار ہوا ہے۔
لیکن پھر اس کا رد ایک مثبت سوچ بھی تو ہے جو کمزور پڑرہی ہے۔ مثبت سوچ کہتی ہے کہ میرا ملک بکھر رہا ہے۔ ایک دن یہ والا وحشی چلا جائے لیکن بگاڑ کی دراڑ بہت گہری ہوچکی ہوگی۔ اس نفرت کی قیمت ہم سب چکائیں گے۔ وہ ملک چکائے گا جو دنیا بھر میں ہماری شناخت ہے۔ ہم تو دنیا کو صفائیاں دیتے پھرتے تھے کہ ہمارا ملک پرامن ہے۔ یہ خودکش دھماکے ، یہ غنڈہ گردی تو دور دراز کے علاقوں میں ہوتی ہے۔ اب لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے۔ انکے ہاں مارا ماری ہی ختم نہیں ہوتی۔ ان کے ہاں بھوک بھی ہے ، بدحالی بھی ہے اور فسطائیت بھی۔ پھر ہم گھیر گھار کر اپنے بچوں کو پاکستان سے جوڑے رکھتے ہیں۔ کیا وہ نہیں کہیں گے کہ ابا ترکی چلو ، ابا مراکو چلو ، ابا فار ایسٹ چلتے ہیں ، ابا امارات جاتے ہیں ، کیوں ہمیں بھی اپنے ساتھ دوزخ میں گھسیٹتے ہو۔ ہم کیا بتائیں کہ ہم کہاں کہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ مثبت سوچ کا ہمزاد ضمیر بھی کہتا ہے بے حس آدمی تم لاشیں دیکھ کر ، تم لگی آگ دیکھ کر ، تم نفرت دیکھ کر خوش ہوتے ہو ؟ کیسے گھٹیا آدمی ہو۔
منفی سوچ کہتی ہے آگ اگلو ، شعلے بھڑکاؤ ، ان کے سروں پر کھولتا ہوا تیل پھینکو ، انکو جلا کر بھسم کردو۔ مثبت سوچ کی سرگوشیوں کی سمجھ ہی نہیں آرہی۔ اس دوطرفہ لڑائی میں دماغ تھک رہا ہے۔ بوجھ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ معلوم نہیں کیا ہوگا۔ نہیں نہیں سب معلوم ہے کہ کیا ہوگا۔ جو ہوگا وہ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوگا۔
راولاکوٹ کی فضاؤں میں اس وقت صرف بندوقوں کی گونج ہے، بارود کی بو ہے،فورسز آندھا دھند فائرنگ کر رہی ہیں ، اللہ ان ظالموں کو ہدایت دے یہ باولے ہو چکے ہیں 🤐
🏔️🍁⚡️- Mirpur city is under a total attack by the pakistani military right now
Around 12 innocent people were shot dead in the morning & dozens were injured.
Pakistans forces have been shooting people dead throughout the day, including a 5 month old child & an Imam who was killed in the masjid.
Article 144 has been enforced, public gatherings of more than 2 people will be attacked by pakistani forces.
Senior leader Commander Farooq Sahib was injured today after Pakistani forces opened direct fire. He was struck by two bullets. May Allah grant him a full and speedy recovery @AJEnglish
One heartbreaking news follows another. Pakistan's armed forces are reportedly preventing the burial of Usman Nazir by blocking his grave. Even after allegedly opening fire on peaceful protesters, they are now said to be denying the dead a dignified burial @AJEnglish
Rawalakot right now 💔
Only the lights from mobile phones are visible; everything else has been blacked out. A major operation is reportedly being prepared by the Pakistani forces. Please, world, help us.@AJEnglish@amnesty
"عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا اصل مطلب ہے ایسی ریاست جہاں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، عدل و انصاف کا نظام، اور جمہوری آزادی ہو، جہاں ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم ہو۔
جبکہ عاصم منیر کی "ہارڈ سٹیٹ" سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں جمہوریت کے تمام ستونوں کو کچل کر "عاصم لاء" نافذ ہو۔ یاد رکھیں، عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام ناممکن ہے۔ جو مظالم عاصم لاء کے تحت ڈھائے جا رہے ہیں، ان سے ریاست "ہارڈ" نہیں بلکہ اس کی جڑیں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔ 26 نومبر اور مریدکے کی طرح اپنی ہی فوج، رینجرز اور پولیس کے ذریعے اپنی ہی عوام پر گولیاں برسانے سے کوئی ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے تحریکِ انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ اس مینڈیٹ کے تحت یہ میرا آئینی اور جمہوری حق ہے کہ صوبے کی پالیسیاں خود مرتب کروں، کیونکہ میں براہِ راست عوام کو جوابدہ ہوں۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا بھی یہ حق ہے کہ وہ میرے ساتھ مشاورت سے صوبے میں ان پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنائیں، جن کے لیے عوام نے ہم پر اعتماد کر کے ہمیں ووٹ دیا ہے۔
تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔
میرے خلاف قائم جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں گزشتہ دس ماہ سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ مشکل سے 10 ماہ بعد کیس کی سماعت کی تاریخ ملی، مگر ضمانت کا فیصلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ میں تحریکِ انصاف کے تمام سیاسی قائدین، اراکینِ اسمبلی، اور وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب سے میرے تمام کیسز کی عدالتی کارروائیوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں، سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود رہیں، اور انصاف کے حصول تک اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔ اوپن کورٹ کے کیسز میں شرکت آپ کا قانونی و جمہوری حق ہے۔
تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں نواز شریف کو جیل میں روزانہ کثیر تعداد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت تھی، فیملی کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل تھی، بلکہ جیل میں دعوتوں تک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج مجھے مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس سے بڑی سیاسی انتقام کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
مجھے جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ پچھلے دس مہینوں میں صرف ایک بار میرے بیٹوں سے بات کروائی گئی، وہ بھی تین تین منٹ کے دو مختصر وقفوں سے۔ مجھے ناصرف بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ بطور پارٹی لیڈر، اپنے سیاسی ورکرز سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ وکلاء، سیاسی رفقاء اور اہلِ خانہ سے ملاقات میں بھی مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ سراسر بنیادی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا بہنوں اور وکلأ کے ذریعے اڈیالہ جیل سے پیغام (21 اکتوبر، 2025)