وہ ازبکستان کے شہر فرغانہ سے اٹھا، اور ایک دن ایسا آیا جب اس کی حکومت برصغیر کے بیشترحصے پر قائم ہو چکی تھی۔
اسی دوران ، 1528میں اس نے ایک نہایت شاندار مسجد، ایودھیا میں تعمیر کروائی، جو موجودہ بھارتی صوبے اتر پردیش کا ایک شہر ہے۔
وہ نسلاً ترک تھا، اور جب اس نے یہ مسجد تعمیر کروائی، تب دنیا کے بیش تر حصوں پر ترک ہی حکمران تھے۔ آخر، ترک نظامِ عالم اور کیزل ایلما کا خواب یہی تو تھا۔
اس حکمران کا نام تھا ظہیر الدین بابر
مگر پھر وقت بدل گیا، اور 18ویں صدی کے وسط میں بر صغیر ان ترکانِ تیموری، یعنی مغلوں کے ہاتھ سے نکلتا چلا گیا،
اور جہاں کبھی بابر اور اس کی اولاد حکمران تھی وہاں پہلے برطانویوں نے راج کیا اور پھر ہندوؤں نے
وہی ہندو، جو 1 ہزار برس تک مغلوب رہے تھے، اب انہیں موقع مل گیا ہے راج کرنے کا، مگر جب کم نسب عالی منصب ہو جائیں تو اس کا مطلب صرف تباہی ہوتا ہے،
چنانچہ، جب جب، بھارت پر بی جے پی یا اس قبیل کے انتہا پسند دہشت گردوں کی حکمرانی ہوئی، انہوں نے غنڈہ گردی کے لیے نئے نئے بہانے تراشے۔
چنانچہ 1984 میں ہندو انتہا پسند جماعت وشوا ہندو پریشد (VHP) نے ایک افسانہ تراشا کہ ایودھیہ میں 4 سو 56 سال سے قائم یہ مسجد، رام کی جائے پیدائش پر قائم کی گئی ہے۔ تقریباً 500 سال پرانی یہ مسجد، کسی با ضیر قوم میں ہوتی تو وہ اسے ایک قومی ورثہ سمجھتے۔ مگر یہ تو بھارت ہے، جہاں بے ضمیری پر انعام دیا جاتا ہے۔ چنانچہ، تمام ہندو انتہا پسند یک زبان ہو کر اس تاریخی ورثے کو ڈھانے کے درپے ہو گئے، اور پھر 6 دسمبر 1992 کو وی ایچ پی اور بی جے پی کے دہشت گردوں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا، اس ہزارہا سال پرانے کردار کے نام پر، جس کے حقیقی وجود کا بھی کوئی ثبوت موجود نہیں، کہاں یہ دعویٰ کہ اس کا جنم استھان یا جنم بھومی بابری مسجد کے نیچے ہے۔
خیر ، عالمی امن کے اندھے ٹھیکیداروں نے آثارِ قدیمہ میں سے ایک، بابری مسجد کی شہادت کا منظر دیکھا، اور اسی طرح خاموش رہے جیسے بھارتی ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں لاکھوں مسلمانوں کے خون پر انہیں سانپ سونگھ چکا ہے۔
تازہ ترین خبر یہ ہے کہ بابری مسجد کو شہید کر کے اس کی جگہ، رام مندر تعمیر کیا گیا ہے، جس کی افتتاحی تقریب، 22 جنوری 2024 کو کی گئی ہے، ہندو دیو مالا کے اعبار سے 22 جنوری 2024 کی کئی اعتبار سے خصوصی اہمیت ہے۔
بابری مسجد کو شہید ہوئے، 31 برس بیت چکےآج بھی بھارت میں، ہندوتوا کا راج ہے، شہید مسجد کی بنیادیں ڈھا کر کفر و شرک کا مرکز قائم تو کر لیا گیا، مگر کیا بھارت کو لگتا ہے کہ ہم، اپنی بابری مسجد کو بھول گئے ہیں؟؟؟
#BabriMasjid #BabriMasjidDemolition #BabriMosque #RamMandir #Hindutva
ATI's democratic approach to leadership ensures that the organization evolves, adapts, and remains relevant to the changing needs of students.
#56yearsofATI
🌟 Tanveer Abbas Sialvii, the dedicated Nazim of ATI Punjab North, is a driving force behind the unit's vibrant activities, embodying the spirit of love and unity. #56yearsofATI