صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے بتایا کہ سال 2020 کے سالانہ امتحانات، جو کے منسوخ کر دئیے گئے ہیں،
میں تقریباً 177524 طلبہ نے حصہ لیناتھا،
جن میں سے 130165 طلبہ کو نہ صرف پروموٹ کردیا جائے گا
بلکہ انہیں امتحان فیس کی مد میں 40 فی صد رعایت بھی حاصل ھوگی
صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے بتایا کہ سال 2020 کے سالانہ امتحانات، جو کے منسوخ کر دئیے گئے ہیں،
میں تقریباً 177524 طلبہ نے حصہ لیناتھا،
جن میں سے 130165 طلبہ کو نہ صرف پروموٹ کردیا جائے گا
بلکہ انہیں امتحان فیس کی مد میں 40 فی صد رعایت بھی حاصل ھوگی
امام جعفر صادق ع
"میرے نزدیک کوئی چیز مومن کے دیدار اور زیارت کے برابر نہیں ہے سوائے اُس کو کھانا کھلانے کے اور جو شخص کسی مومن کو کھانا کھلائے تو اس کا حق یہ ہے کہ اللہ اُسے جنت کے کھانوں میں سے کھانا کھلائے۔"
لاک ڈاؤن کھُل جائے تو ضرور انشاءاللہ۔ بلکہ اب سے میں نے سوچا ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد ہر صوبے کے مسائل اور وہاں کی گورننس پر پروگرام کروں، چاہے کسی ایک پروگرام میں ہر صوبے کا ایک ایک مسئلہ یا ہر کچھ عرصے بعد سیریز کی شکل میں ہر صوبے سے ایک ایک پروگرام۔۔۔ٹوئیٹ محفوظ کر لیجئے 👍
محترم بلاول صاحب، فقیرا نے جو سوال پوچھا ہے کہ کیا سندھ میں کرپشن کا تأثر پیدا کرنے کا ذمہ دار میڈیا نہیں؟ تو اس کا جواب اپنے عزت مآب والد جناب آصف زرداری سے پوچھئے، آج کے میڈیا کا تو وجود بھی نہیں تھا جب سرے محل اور “مسٹر ٹین پرسنٹ” زبان زدِ عام تھا۔ اس کا قصوروار بھی اقرار تھا؟
ہم لعنتوں اور گالیوں والا زیادہ بڑا ٹرینڈ بنا سکتے تھے، بیہودہ ٹویٹس اور ریٹویٹس کرنے اور چیلنج سے بھاگنے پر وزیر موصوف کے لئے “بھگوڑا” کا ٹرینڈ بھی بن سکتا تھا، لیکن ہم صرف پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا رہے ہیں اور وہ بھی پاکستان کی خوبصورت زبان سندھی میں:
#پاڪستان_رھي_آباد
آءُ ڪالھ بہ چيو ھو تہ سنڌ جي ماڻھن کان وڌيڪ محبت ڪرڻ واروڪوئي ناھي،سنڌي زبان کان وڌيڪ مٺي۽ پياري زبان شايد ئي ڪائي ھجي،گارين جي زبان نہ سنڌ جي زبان آھي نہ پيپلزپارٽي جي، مونکي تہ سعيد غني صاحب کان بہ اھا توقع نہ ھئي۔ سائين! تنقيدبرداشت ڪريو۽ تنقيد جو جواب ڪم سان ڏيو، گارين سان نہ
امام حسن مجتبیٰ ع نے فر مایا :
*” مومن کی حاجت پوری کرنا 9 ہزار سال کی عبادت کے برابر ہے جس میں اُسنے دن میں روزے اور راتوں کو عبادت کی ہو۔ “*
(من لا یحضرۃ الفقیہ)