اب تو حماس کی قیادت نے بھی سوالات اٹھادیے ہیں کیا اب بھی عمران خان مذمت کریں گے یا خالد مشعل کے خلاف بھی زہریلا پروپیگنڈہ شروع کردیں گے ؟
#مذمت_کیوں_نہیں_کرتے
جنہوں نے ہمیشہ سہارا لے کر آگے بڑھنے کی عادت بنائی، وہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کا بھی یہی طریقہ ہوگا۔ مگر سوشل میڈیا پر اب انہیں ٹکر کے لوگ ملے ہیں جو حق کی بات کرنے سے نہیں ڈرتے۔ #ٹرمپ_کی_مذمت_کرو
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ اور فوجی جرنیل ہیں لیکن اس سے بڑا مسئلہ اپنے اپنے دورِ اقتدار میں اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کرنے والے سیاستدان ہیں۔ پی ٹی آئی کے ہی دور کی مثال لے لیجیے۔۔۔
جنرل باجوہ کو ابو آپ نے کہا۔ بدترین جرنیل کو ایکسٹنشن آپ نے دی۔ تیسری بار ایکسٹنشن دینے پر آپ تیار تھے۔ ملٹری کورٹس کو آپ نے سپورٹ کیا۔ آج آپ کو فوج کے کاروبار پر اعتراض ہے لیکن جب احمد نورانی نے جنرل عاصم باجوہ کا پاپا جونز کا دھندہ بے نقاب کیا تو آپ ہی نے جنرل عاصم کو کلین چٹ دی۔ جرنیلوں کے کہنے پر ایک سیاستدان پر ہیروئین کا جعلی کیس آپ نے بنایا۔ اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر ساہیوال میں بچوں کے سامنے ماں باپ کو مارنے کا کیس آپ گول کر گئے۔۔۔
خدا نے جب آپ کو اقتدار دیا تو آپ نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کہیں زیادہ بوٹ پالش کی اور جب اسٹبلشمنٹ نے آپ کو اقتدار سے نکالا تو بھی آپ نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کہیں زیادہ رونا دھونا کیا۔ ن لیگ جب “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگاتی تھی میں تب بھی کہتا تھا کہ ن لیگ کو جمہوریت سمجھنے والے غلطی کر رہے ہیں، اور اب جب پی ٹی آئی حقیقی آزادی کی بات کر رہی ہے میں آج بھی اسے محض ایک نعرہ ہی سمجھتا ہوں۔ آج ن لیگ فوج کی گود میں بیٹھی ہے کل پی ٹی آئی پھر برخورداری کرے گی۔ لڑائی نظریے کی نہیں اقتدار کی ہے۔
یہ سمجھ رہے تھے کہ جماعت اسلامی والے ہر دفعہ کی طرح ان کو شک کا فائدہ دیں گے اور یہ لوگ وہی نیچ حرکتیں کر کے بچ جائیں گے۔
ایک ایک کے چہرے سے منافقت کا نقاب اترے گا۔
ان غلاموں کو گھر تک چھوڑ کر انا ہے۔
#مذمت_کیوں_نہیں_کرتے
ملک میں حالات جماعت اسلامی کے موافق تھے۔ اسٹیبلشمنٹ نے ایسا کھیل کھیلا کہ سب کچھ تلپٹ کردیا۔ عمران خان کو "بائی ڈیفالٹ" نہیں بلکہ "بائی ڈیزائن" یکے بعد دیگرے تین سزائیں سنائیں تاکہ جماعت اسلامی کا راستہ روکا جا سکے۔ سزاؤں کی وجہ سے لوگوں کی ہمدردیاں عمران خان کو حاصل ہوئیں اور ان کے اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔
پروفیسر ابراہیم @PMIbrahimKhan
First the Panama Leaks, then the Pandora Papers and now the Dubai Property Leaks, the stories of exponential increase and accumulation of wealth of Pakistani ruling elite seem to be now becoming a regular feature of international scandals. According to Property Leaks, the net worth of 23 thousand properties owned by 22 thousand Pakistanis in Dubai is estimated to be 12.5 billion dollars.
Whether at least the members of ruling elite would like to tell the nation about the source of their income they used to buy the Dubai properties? What are the channels through which the money was transferred to UAE? Whether the properties were declared to regulatory bodies including FBR, SBP and ECP?
Why the investment was made offshore instead of Pakistan? Suppose if the properties are properly declared and sent out through formal channels, the question still arises here is: when the rulers themselves are not ready to invest in the country and find offshore havens for safely parking their incomes, then why foreign investors will pay any heeds to their pleas to invest in Pakistan. Those at the helm of affairs must have full trust in the economic future of the country..We demand that all those (public office holders) having offshore properties must be sacked because their policies and measures are making Pakistan unconducive for investment as they have no or very little economic and financial interests in the country.
انا للہ و انا الیہ راجعون
مشہور محقق و ماہر اقبالیات اور اردو کے معروف استاد ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ دنیا بھر میں اقبالؒ شناسی اور اقبال فہمی کا سب سے مستند اور معتبر نام تھے۔ اقبالیات اور اردو زبان کی خدمت کے حوالے سے ان کی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ تعالی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی علیین میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرجمیل عطا کرے۔ آمین