سری نگر ہائی وے اسلام آباد پر دن دیہاڑے سرکاری گاڑی، سرکاری پیٹرول اور یقینا سرکاری عملہ ہیوی بائیک کو منتقل کر رہا ہے۔
تادم تحریر یہ واضح نہیں کہ یہ مہنگا انتظام صاحب کے لیے ہے یا چشم و چراغ کیلیے
کاش سندھ کی حکومت خاص کر شرجیل میمن شرمیلا فاروقی اور وزیراعلٰی شاہ صاب ان محنت کشوں کو دیکھیں اور سمجھے سیکھیں کہ حلال کیسے کمایا جاتا ھے۔
تمہاری بک بک اور سندھ کو پیرس بنانے کی باتیں سن سن کر کان پک چکے ہیں۔
پنجاب میں کرپشن کے لیے اب کوئی گنجائش، کوئی پناہ اور کوئی رعایت باقی نہیں۔ کرپشن اور رشوت کے ناسور پر آہنی ہاتھ ڈال دیا ہے، زیرو ٹالرنس کا حکم دے دیا گیا ہے۔ نشاندہی کے لیے خصوصی خفیہ سیل قائم کر دیا گیا ہے، جس کی رپورٹ براہِ راست مجھے دی جا رہی ہے۔ عوام کی شکایات کے لیے ہیلپ لائن 1350 قائم ہے، شکایت کنندہ کا نام مکمل خفیہ رکھا جائے گا اور ہر شکایت پر کارروائی ہو گی۔ عہدہ، تعلق یا سفارش کسی کو نہیں بچا سکے گی، لوٹی ہوئی رقم کی مکمل ریکوری تک کارروائی ختم نہیں ہو گی۔ عوام کا پیسہ صرف عوام پر خرچ ہو گا، کسی کو کھانے نہیں دوں گی۔
نظام کا اتنا مسئلہ نہیں ہوتا جتنا نظام چلانے والوں کا ہوتا ہے۔
اگر اہل اور قابل افراد ہوں؛ کام کرنے کی نیت رکھتے ہوں؛ اوپر چیک اینڈ بیلنس اور اکاؤنٹ بلٹی ہو تو ہر چیز ٹھیک ہو سکتی ہے۔
جب اوپر سے نیچے تک نااہلوں کی بھرتیاں ہوں اور اقرباء پروری پھر کوئی نظام کچھ نہیں کر سکتا۔
چین میں سیلاب آیا ہوا ہے چینی صدر مصر پہنچا ہوا ہے ۔ زبیر کُت یانک
میں نے زندگی میں اتنی بری حالت چین کی نہیں دیکھی ۔ نصرت جیانگ وانگ
فیجیان کی انتظامیہ کہی نظر نہیں آئی یہ نااہلی ہے ۔ حامد مایاوا سیانک
@Shabanashaukat4 اس سیریز کے رائیٹر اشتیاق احمد تھے۔ بزنس تو بہت کرے گی۔ میرا بچپن سے آئیدیا ہے کہ عمران سیریز پر فلمیں بنیں تو ان جیسا بزنس آج تک کوئی فلم نہ کر سکی ہر گی۔ چیلینج
اس کرنل کو سلام جس نے اپنی وردی اور غیرت پر آنچ نہ آنے دی، یوتھیائی کلٹ کے انتشاری جتھے میں بھی حفاظت کی
ورنہ یوتھیائی کلٹ تو اس مرشد کا فالورز ہے جس کو غیرت تو دور نہ اپنی اور نہ دوسروں کی عزت کا خیال تھا، غیرت ہوتی تو اپنی بیٹی کو بیٹا درجہ دیتا اور عزت کا خیال ہوتا تو مانیکا کی بیوی کو نہ بھگا لے جاتا۔
بیوی کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی پاداش میں وردی میں ملبوس ہو کر یونیورسٹی جانے پر تو تحویل میں لے لیا گیا
لیکن جس کی وجہ سے کرنل ہوائی فائرنگ کرنے پر مجبور ہوا اس کتے کے بچے کا کیا کرنا ہے؟
کرنل اسفندیار کی مخالفت کرنے والے چاہیں وہ سوشل میڈیا پر ہیں یا سیاسی رہنما ہیں وہ سب بے غیرت ہیں۔ اللہ کریں ان سب کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوں اور اس تکلیف سے گزریں جس سے کرنل اسفندیار گزرا۔
سلام ہے کرنل اسفندیار اور اسکے بہادر بیوی کو جس نے بہادری کے ساتھ بے غیرتوں جنگلی جانوروں کا مقابلہ کیا اور آج حقیقت پاکستان عوام کے سامنے آگئی۔
ایک پروفیسر خواتین کو ہراساں کر رہا پھر اس نے سٹوڈنٹ کو استعمال کیا ایک خاتون ملازم کو یرغمال بنایا اس سب کے دوران یہ سرحد یونیورسٹی انتظامیہ کہیں نظر نہی آئی اس یونیورسٹی کو بھی بند ہونا چاہیے یہ بچوں کو کیا سیکھا رہے ہوں گے ؟
گرد اتنی اُڑ چکی ہے کہ بیٹھنے میں وقت لے گی
لیکن ابھی بات نا کی گئی تو مزید گَرد اُڑائی جائے گی.
خاتون یونیورسٹی میں اسٹودنٹس افئیرز کی انچارج ہیں، طُلبہ کے مظاہرہ کرنے پر ان سے بدتمیزی ہوتی ہے، وہ ایک طالب علم سے کہتی ہیں تم اس ڈپارٹمنٹ کے ہی نہیں تو یہاں کیا کررہے ہو
طالب علم ان سے بدتمیزی کرتا ہے، ان کے منہ کو آتا ہے، خاتون ڈاکٹر آئینہ کہتی ہیں کہ اب ایک انچ میری طرف بڑھے تو تھپڑ رسید کردوں گی.
اسکے بعد دھکم پیل ہوتی ہے. پولیس ایسے مواقع خاص طور پر نجی ہسپتال اور کالج یونیورسٹی کے معاملات میں پَرے رہتی ہی ،سو یہاں بھی رہی.
خاتون اپنے خاوند کو فون کرتی ہیں، جو کہ نہیں کرنا چاہے تھا، معاملہ یونیورسٹی انتظامیہ یا بہت ہی بڑھے تو پولیس نمٹائے، گھر والوں کو جہاں ملازمت ہو وہاں نہیں لانا چاہے.
خاوند صاحب پہنچتے ہیں، وہ تو وردی میں ہوتے ہیں. زاتی گاڑی میں ہوتے ہیں لیفٹنٹ کرنل کے رینک لگائے ہوتے ہیں. قانونی رویہ اور طریقہ ہے کہ وہ وہاں ایسے نا پہنچتے. لیکن انسانی رویہ ہے کہ Panic میں گھر والوں کی کال آجائے تو آپ پہلے اپنی فوج یا پولیس کی وردی، جج کا گاؤن، صحافت کا کارڈ، مُفتی کی دستار اور وکیل کا کوٹ گھر اتارنے نہیں جاتے.
بہرحال قانون یہ ہے کہ وردی میں نہیں جانا چاہے تھا.
چارسدہ کا پٹھان، 26 سال نوکری، بیوی ہجوم کے درمیان اور طُلبہ مشتعل. کرنل اسفند یار ہاتھ پکڑتے ہیں اور مجمعے سے اپنی اہلیہ ڈاکٹر آئینہ کو نکال کر لے جارہے ہیں، سلو موشن وڈیو میں واضح نظر آرہا ہے.
اس ہی لمحے کچھ طُلبہ خاتون کی طرف بڑھتے ایک طالب علم علم انہیں اپنا بازو یا کوہنی سے دھیکلتا بھی ہے، کرنل اسفنديار اس ہی طالبعلم کو دکھیلتے ہیں، ایسے ایک طالبعلم پلاسٹک کا پائپ یا کوئی اور شے ڈاکٹر آئینہ اور کرنل اسفندیار کی طرف مارتا ہے، وہ رد عمل میں ہاتھ گھامتے ہیں پھر دھکم پیل ہوتی یے، کرنل اسفند کے گریبان تک ہاتھ پہنچتے ہیں، انکی وردی پھٹتی ہے.
وہ بندہ جس کے پاس ذاتی پستول تھا لیکن مجمعے میں داخل ہوتے ہوئے نہیں نکالی، بیوی کو لیجاتے ہوئے نہیں نکالی لیکن جب بیوی کو Mob کیطرف سے دھکے دیتے ہوئے دیکھا اور اپنی وردی پھٹتے دیکھی تو ہتھیار نکالا بھی اور ہوائی فائر بھی کی.
قانون اسے self defence اور سماج اسے انسانی رویہ یا غیرت کہتا ہے. قانون نمٹ لے گا اور انسانی رویہ پر سوشل میڈیا متضاد رائے رکھتا ہے کیونکہ اسفندیار کے ساتھ جو لاحقہ لگا یے وہ فوجی عہدہ ہے. کوئی وکیل صحافی جج مذہبی پیشوا یا سیاستدان لگا ہوتا تو رویہ کیسا ہوتا وہ بھی ہم سب کو معلوم ہے.
اس سارے وقوعہ میں پی ٹی آئی کلٹ، متعصب قوم پرست PTM اور دیگر slacktivists نے جو رویہ رکھا ہوا ہے وہ نا قانونی ہے نا انسانی رویوں کے مطابق، وہ بس سوشل میڈیا مہم ہے. اور اسی مہم میں جو مشہور کیا گیا وہ یہ ہے کہ کرنل کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے والا دراصل غیرت مند پشتون تھا
لیکن یہ بھی تو کوئی بتائے کہ بیوی کو mob سے نکالنے والا اور اپنی نوکری و نام کو داؤ پر لگوانے والا بھی چارسدہ کا پشتون یے.
دوسرے کہتے ہیں جیسے عمران کے گلے میں ہاتھ ڈالا ویسے ہی کرنل کے گریبان میں ہاتھ ڈالتے ہوئے نوجوان کو دیکھا تو دل خوش ہوا.
لیکن یہ بھی کوئی جان لے کہ پھر نو مئی کو جس طرح منظم حملے ہوئے اس کے بدلے دل خوش ہونے کا سامان باقی یے؟
انصاف کا مطالبہ کریں۔ مزید خاموشی اب برداشت نہیں۔🚨
👈سرحد یونیورسٹی کے اساتذہ کی گروپ چیٹ لیک ہو گئی ہے ڈاکٹر جدون اصل ماسٹر مائنڈ ہے جس نے باقی ٹیچرز ساتھ ملکر سیاست کی اور یونیورسٹی کے طلباء کو استعمال کیا
اگر فوج سے اپنے افسر کو سزا سے سکتی ہے تو حکومت کو چاہیے ان سب اساتذہ کو بھی سزا دے اور ان تمام کرداروں کو بھی جنہوں نے اس واردات میں حصہ لیا 🚨🚨
سب پاکستانی آواز اٹھائیں
سرحد یونیورسٹی واقعہ؛ EXCLUSIVE اھم ترین حقائق ‼️‼️‼️
لیفٹننٹ کرنل اسفند یار ولی اور طلبہ کے درمیان کیا ہوا کیوں ہوا معاملہ کہاں سے شروع ہوا، سب اصل حقائق میں آپ کو بتانے جا رہی ہوں، تمام ثبوتوں کے ساتھ ‼️‼️‼️
تھریڈ ۔۔۔!!!
اس ٹویٹ کے ساتھ لگی تمام تصاویر دیکھئیے !
پہلی تصویر ڈاکٹر جدون خان کی، سابقہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ HoD ۔۔۔ جو کرنل اسفند پر حملہ آور ہے ۔۔۔
اب کہانی سنئیے ۔۔۔
ڈاکٹر جدون کیخلاف ایک طویل عرصے سے خواتین طلبا اور ٹیچرز کیطرف سے شکایات تھیں ہراسانی کی۔ کہ جدون خان ان کو غیرضروری طور پر دفتر بلاتے ہیں غیرمناسب باتیں کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے ہراساں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر آئینہ جو کہ کرنل اسفند کی اہلیہ ہیں وہ اسی ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹ افئیرز کی انچارج تھیں۔ جب سٹوڈنٹ لڑکیوں نے ہراسانی کی شکایات کیں تو ڈاکٹر آئینہ نے ڈاکٹر جدون کیخلاف یونیورسٹی انتظامیہ/وائس پرنسپل کو شکایت کی۔ تحقیقات ہوئیں ڈاکٹر جدون خان مجرم پائے گئے اور ان کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ ڈاکٹر آئینہ کو جدون خان کی جگہ HoD بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر جدون خان نے اس معاملے کا کینہ دل میں رکھ لیا۔ اور اس کے بعد ڈاکٹر آئینہ کو ان کے فون پر دھمکی آمیز میسیجز بھیجنے شروع کر دیے۔ معاملہ صرف یہیں تک نہیں رکا، گزشتہ جمعے 21 اگست کو ڈاکٹر جدون خان، ڈاکٹر آئینہ کے آفس میں زبردستی آ دھمکے، انہیں گالیاں دیں دھمکایا حتی کہ انہیں مارنے کیلئے آگے بڑھے۔ اس صورتحال پر ڈاکٹر آئینہ نے فورا پولیس کو 15 پر رابطہ کیا اور اس کے فورا بعد تھانہ ھمک چلی گئیں ڈاکٹر جدون کیخلاف کاروائی کیلئے۔ اب میری ٹویٹ کیساتھ لگی وہ درخواست دیکھئیے جو ڈاکٹر آئینہ نے جدون خان کیخلاف گزشتہ جمعے کو تھانے میں دی FIR کیلئے۔ اسی دوران اس معاملے کی خبر وائس پرنسپل کو ہوئی وہ فورا تھانے پہنچ گئے اور ڈاکٹر آئینہ سے درخواست کی کہ وہ پولیس کاروائی نہ کروائیں معاملے کو یہیں رفع دفع کریں کیونکہ یونیورسٹی کی عزت کا سوال ہے۔ وائس پرنسپل نے ڈاکٹر آئینہ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ خود اس معاملے کو ہینڈل کرینگے اور جدون خان آئندہ انہیں تنگ نہیں کرے گا۔ پہلے تو ڈاکٹر آئینہ نہیں مانیں انہوں نے بتایا کہ جدون خان انہیں دھمکی آمیز میسیجز بھی بھیجتا رہا ہے اور آج یہاں تک اتر آیا ہے لہذا وہ پولیس کاروائی لازما کروائیں گی۔ وائس پرنسپل کی کافی منت سماجت پر ڈاکٹر آئینہ صرف اتنا مانیں کہ ٹھیک ہے پولیس کاروائی نہ ہو گی مگر پولیس کے پاس میری درخواست موجود رہے گی ریکارڈ میں تاکہ اگر دوبارہ جدون خان کوئی ایسی حرکت کرے تو پولیس کے پاس ریکارڈ موجود ہو۔ جدون خان نے پولیس کے سامنے ڈاکٹر آئینہ سے معافی مانگی اور تحریری معافی نامہ لکھ کر دیا جو پولیس ریکارڈ کا حصہ ہے۔ میری ٹویٹ میں تصویر دیکھئیے جدون خان کے معافی نامے کی۔ اس تمام واقعے کے بعد ڈاکٹر آئینہ جب گھر گئیں تب انہوں نے اپنے شوہر کرنل اسفندیارولی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے کرنل اسفند کو کہا کہ معاملہ وائس پرنسپل کے کہنے پر ختم ہو گیا ہے۔ کرنل اسفند اہلیہ کے یہ سب بتانے پر مطمئن ہو گئے کہ ٹھیک ہے رفع دفع ہو گیا۔ اس قسم کے افسوسناک واقعات تعلیمی اداروں میں ہوتے رہتے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔ خیر اب آئیے کہ 24اگست سوموار کے روز کیا ہوا۔ یونیورسٹی میں طالبات اپنے پیپرز کے حوالے سے ایک الگ احتجاج کر رہیں تھیں۔ ڈاکٹر آئینہ چونکہ ہیڈ آف سٹوڈنٹ افئیرز ہیں وہ ان طالبات کے پاس معاملے کے حل کےلئے گئیں۔ اسی دوران جدون خان لڑکوں کا جُھنڈ لے کر احتجاج کروانے چلے آئے، جس کی مکمل پلاننگ کی گئی تھی، اور احتجاج کا مقصد یہ تھا کہ جدون خان کو بحال کیا جائے۔ اھم سوال کہ جدون خان خود اس احتجاج میں کیوں موجود تھا!!!؟؟؟ جدون خان کرنل اسفند پر حملہ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے!!! جدون خان نے جان بوجھ کر ڈاکٹر آئینہ کو دیکھ کر ان کیخلاف مغلظات بکنا شروع کر دیں۔ یہ سب دیکھ کر فطری طور پر ڈاکٹر آئینہ نے سوچا کئ یہ شخص تو پھر شروع ہو گیا یہ باز ہی نہیں آ رہا، انہوں نے ایک بار پھر 15 پولیس کا کال کر دی۔ جو پولیس آپ کو ویڈیو میں نظر آ رہی ہے وہ ڈاکٹر آئینہ کے بلانے پر آئی ہوئی تھی!!! پولیس 15 کو کال کرنے کے بعد ڈاکٹر آئینہ نے پشاور میں اپنی بہن کو کال کر کے اس واقعے سے آگاہ کیا کہ جدون خان پھر اپنی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ ڈاکٹر آئینہ نے سب سے پہلے اپنے شوہر کرنل اسفند کو کال نہیں کی!!!! یہ جاننا بہت اھم ہے!!! یہ سب آن ریکارڈ ہے۔
(مزید تفصیل ۔۔۔) ⤵️⤵️⤵️