تمام سوالوں کے جواب میری فوج کو نہیں جنرل باجوہ فیض حمید کو دینے ہیں۔ میں صرف کرداروں کا نام لیتا ہوں تاکہ تباہی و بربادی کے الزام کے چھینٹےفوج پر نہ پڑیں۔
اور ایک ذہنی مریض والےجوفوج کے شہدا کاتمسخر اڑاتے،یادگاروں کو مسمار،فوجی تنصیبات پر حملےکرتے ہیں۔
آہستہ آہستہ سب کے منہ کھلنے شروع ہوگئے۔
اسکا مطلب ھے ابھی تو پارٹی شروع ہوئ ھے۔
جو کہہ رہا تھا اپنا گھر یعنی بنی گالا کی جادو گرنی "رنوکا دیوی"سنبھالو، اسکو تو ذہنی مریض کہتے ہیں۔ اور جو خود ڈاکو تھا اسکو اگلا آرمی چیف بنانا تھا۔
واہ میرے مولا۔ کیا معجزہ دکھایا۔
خان ساب فکر نہ کریں ابھی ان کے لئے بہت سے سرپرائز باقی ہیں ابھی تو بغاوت کا مقدمہ بھی چلنا ہے باقی زندگی جیل ہی میں گزارنی ہے اب تو ان کے تانے بانے بھارت سے بھی نکل رہے ہیں بہت سی باتیں بہین سے کر رکھی ہیں جو کے ریکارڈ پر ہیں ۔۔۔۔
جنرل فیض حمید کے پورے خاندان کے پاس 2019 مین 120 ایکٹر زمین تھی اور اب 2200 ایکٹر زمین ہیں ، 500 ایکٹر پر فارم ہاؤس ہے اور 2 ارب سے زائد مالیت کا گھر بنا ہوا ہے ، مبشر لقمان 2023
جنرل باجوہ نے اپنے دور میں واضح ہدایات دیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سیاسی میدان سے باہر رکھنا ہے۔ یہ لائن صرف کمانڈرز تک نہیں گئی، میڈیا ٹیموں اور مخصوص اینکرز تک بھی گئی۔ یہی بیانیہ روز لوگوں تک پہنچایا گیا کہ یہ قیادت ناقابل قبول ہے۔ پورا ماحول اس حکمت عملی کے مطابق چلتا رہا۔ پارٹیوں کے لوگوں کو معلوم تھا کہ فیصلے کہاں سے آ رہے ہیں، مگر وہ ٹی وی پر آ کر خاموشی یا انکار کو ترجیح دیتے رہے۔ اس مداخلت نے ایک موجود نظام کو بدل دیا، انتخابی ماحول کو کمزور کیا اور قیادت پر براہ راست اثر ڈالا۔
سید طلعت حسین
کارکردگی کس کی بہتر
مریم نواز یا علی امین گنڈاپور
اور پھر یوتھئے ایثار رانا اور یوتھن ثمینہ پاشا کی تکلیف کا اندازہ کریں 🤣
صحافی کے سامنے ہوتے ہیں تو سر ہلاتے ہیں مگر مجبوری میں 😂
عمران خان اپنی بہنوں والی سلائی مشینیں ہمیں بھی دے جو اربوں روپے پیدا کرتی ہیں ــ سابق انسان جاوید ہاشمی
جاوید ہاشمی آج اڈیالہ جیل کے باہر سلائی مشین لینے پہنچ گیا
نوازشریف اور عمران خان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا نوازشریف ایک بڑے دل والے اور وسعت قلب کے مالک ہیں اسی لیے وزیراعظم بن کر خود عمران خان کے گھر گئے تھے مگر عمران خان ان خصوصیات کے مالک نہیں انکے وسعت قلب اور سوچ میں تنگی ہے
رؤف کلاسرا: پی ٹی آئی کی پالیسی پھڈا پالیسی ہے، یعنی آپ نے ہر ایک سے لڑنا ہے۔۔ ان کی سوچ ہے کہ اگر ہم پارلیمنٹ چلے گئے اور بات کر لی تو سپورٹر کہے گا کہ یہ ڈٹ کے نہیں کھڑے۔ ان کو پارلیمان کی تنخواہ اور مراعات نہیں ملنی چاہئیں،، آپ کا حق ہے آپ جاتے سوال اٹھاتے، بات کرتے۔۔ ویسے تو آپ ٹائم مانگ رہے ہوتے ہیں مگر آج جب ان سے آمنے سامنے سوالات پوچھنے کا موقع تھا تو انہوں نے موقع ہی گنوا دیا۔۔ سلمان اکرم راجا کی آج کی پریس کانفرنس پیغام ہے کہ کوئی ایک سو بندے مار دے خیر ہے اس کے خلاف آپریشن نہیں ہو نا چاہیے۔ بیرسٹر گوہر آج پوچھتے جناب کیا آپ افغانستان پر آپریشن پلان کر رہے ہیں۔ مگر جماعت تو اپنے چیئرمین بیرسٹر گوہر کو ہی خراب کرنے پر لگی ہے۔
@KlasraRauf
#FaislaAapKa
Hum News