@soulat_pasha تمام انبیاءؑ کا راستہ دلیل۔ حکمت۔ اخلاق۔ صبر اور پُر امن دعوت کا راستہ تھا کوئی ایک نبی ایسا نہیں گزرا ہے جس نے جبر تشدد اور قتل کا راستہ اختیار کیا ہو۔۔
دوسری جنگِ عظیم میں جو جنگی جہاز واپس لوٹتے، اُن کے پروں اور دُم پر گولیوں کے سب سے زیادہ نشان ہوتے۔ فوج نے فیصلہ کیا: انہی حصوں پر زیادہ حفاظتی لوہا لگاؤ۔ منطقی لگتا ہے، نا؟ ایک ریاضی دان نے کہا: "بالکل غلط۔ لوہا وہاں لگاؤ جہاں ایک بھی نشان نہیں۔"
وہ ریاضی دان تھا ابراہام والڈ۔ اور اُس کی بات نے سوچنے کا ایک پورا انداز بدل دیا۔
والڈ نے ایک ایسی بات کی طرف اشارہ کیا جو سب کی نظروں سے اوجھل تھی۔ یہ نشان صرف اُن جہازوں پر تھے جو واپس لوٹ آئے۔ یعنی پروں اور دُم پر گولی کھا کر بھی جہاز اُڑ سکتا تھا۔ مگر جو جہاز انجن یا کاک پٹ پر گولی کھاتے، وہ کبھی واپس ہی نہیں آتے — اِسی لیے اُن حصوں پر "کوئی نشان نہیں" دکھتا تھا۔ اصل کمزور جگہ وہی تھی جہاں ڈیٹا خاموش تھا۔
اِسے "سروائیورشپ بایس" کہتے ہیں — یعنی صرف کامیاب یا بچ جانے والوں کو دیکھ کر نتیجہ نکالنا، اور اُن سب کو بھول جانا جو ناکام ہو کر منظر سے غائب ہو چکے۔ ہماری سب سے بڑی غلطیاں اکثر اُس ڈیٹا میں چھپی ہوتی ہیں جو ہمیں نظر ہی نہیں آتا۔
یہ فریب ہماری روزمرہ سوچ میں گہرا دھنسا ہوا ہے۔ ہم کہتے ہیں "فلاں ارب پتی نے تو کالج چھوڑ دیا تھا، تو ڈگری بے کار ہے۔" مگر ہم اُن لاکھوں لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہوں نے کالج چھوڑا اور کہیں نہ پہنچے — کیونکہ اُن کی کوئی کہانی نہیں چھپتی۔ ہم صرف جیتنے والوں کی سرخیاں پڑھتے ہیں، اور ہارنے والوں کی خاموشی کو "ثبوت کی غیر موجودگی" سمجھ لیتے ہیں۔
یہی بایس ہمیں اپنی زندگی میں بھی دھوکا دیتا ہے۔ ہم کامیاب لوگوں کی عادتیں نقل کرتے ہیں — "وہ صبح 4 بجے اٹھتا تھا، اِس لیے میں بھی اٹھوں گا" — یہ بھولتے ہوئے کہ شاید ہزاروں ناکام لوگ بھی 4 بجے اٹھتے تھے۔ کامیابی کا اصل راز اکثر وہ ہوتا ہے جو کہانی میں نظر نہیں آتا: اتفاق، حالات، مدد، اور وہ بے شمار جو اُسی راستے پر چل کر بھی نہ پہنچ سکے۔
سوچنے کا سمجھدار طریقہ یہ ہے کہ ہر کامیابی کی کہانی کے پیچھے ایک سوال رکھیں: "جو لوگ یہی کر کے ناکام ہوئے، وہ کہاں ہیں — اور کیا میں اُنہیں دیکھ بھی پا رہا ہوں؟" سب سے اہم سچ اکثر وہاں چھپا ہوتا ہے جہاں ڈیٹا خاموش ہے۔
#الف_نگری
خدا کو تمھارے خود ساختہ عقیدے اور بات بات پر سر-تن سے جدا کرنا اتنا ہی پسند ہوتا تو وہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے بجائے ایک جلاد زمین پر اتارتا،جو اسکی بات نہں مانتا اسکا سر تن سے جدا کر دیتا !
پچھلے تین دن سے اس اکیلے ببر شیر نے پوری تحریک انصاف کو ہیجڑا بنایا ہوا ھے۔ بڑے بڑے نام والے PTI پرو ایکٹوسٹ اسکی فیملی کو نشانہ بنا رھے۔ ڈالر خور صحافی کتوں کی طرح اس پر بھونک رھے، یوتھیے ماؤں بہنوں کی گالیاں بک رھے لیکن یہ شیر بغیر ڈرے ڈٹ کر مقابلہ کر رہا۔
سیلوٹ ہے اس مجاہد کو۔
@iqrarulhassan@underground780 کوئی بھی غیرت مند شخص اِس طرح کے آدمی پر کبھی اتبار نہیں کرے گا - اور نہ ہی اسے اپنے گھر پر آنے کی اجازت dai گا - پانچ بچوں والی ماں کو طلاق دلوا کر بعد میں شادی کی - اور ریاست مدینہ بنانی تھی اس نے -