سات مارچ 1977 کو پاکستان ٹیلی ویژن پر انتخابات کے نتائج کے اعلانات میں پیپلز پارٹی کے جیتنے کے ویسے ہی اعلانات ہور ہے تھے جیسے آج سندھ بھر کے بلدیاتی اداروں کے چیرمینوں کی جیت کی خبریں سنائی جا رہی ہیں ۔ اس وقت قوم مضحکہ خیز ہنسی ہنس رہی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے ۔ پھر اس کے بعد جو ہوا وہ بھٹو آمریت کے انجام کی بہت تلخ تاریخ ہے
36 کروڑ روپے میں کراچی کا میئر ppp کے لیے کوئی مہنگا سودا نہیں ہے میں نےہفتہ پہلےہی کہہ دیا تھا کہ دوبئی میں خرید و فروخت کی منڈی لگ گئی ہےاورحافظ نعیم کو کسی صورت میئر نہیں بننے دیاجائے گاحافظ نعیم کو خرید و فروخت کی سیاست میں تو شکست ہوئی ہے عوام میں نہیں لیکن جماعت اسلامی کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ ضمیر فروشوں اور منتخب نمائندوں کو خرید نے والوں کے ساتھ کیسے نمٹنا ہے مجھے امید ہے کہ جماعت اسلامی حسب معمول عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی ضمیر کے سوداگروں کے ساتھ نہیں
آپ سب کی مدد چاھئے، یہُ جو عقلمند ترین لوگوں نے ایک ذھین ترین شہری کے ذریعے ۳۵ دن کے بعد میرے اور صابر شاکر پہُ FIR کاٹی ہے، اس کا انگریزی اور اردو میںُ تجزیہ کریں اور پاکستانُ کے حالات کا بھی جائزہ لیںُ جہاںُ اس قسمُ کی FiR تو کٹ سکتی ہے مگر عمران خان اور ارشد شریف کی والدہ جو FIR درج کرانا چاہتے ہیں وہ نہیں کر سکتے! اور ان حالات پہ بھی غور کریں جن میں نے پاکستان چھوڑا! ارشد شریف کے قتل کے فورا بعد مگر کبھی انکے نامُ نہیں لئے جو مجھے روز روز دھمکانے کے لئے بلاتے تھے! اور جن حالات میںُ عمران ریاض آج تک گمشدہ ہے! https://t.co/qI4XUSAYr9 via @YouTube
We received this video from Chairman Imran Khan with a note "very good lesson that we as a Nation need to learn and practice."
Let's always speak against injustice! Share this with all who are yet to speak up and thank everyone who speak up every day! #خان_کی_طاقت_عوام
As per rough calculations, the savings from Russian heavy oil cargo that PDM imported 'too little too late' are worth less than even one of Bilawal's foreign trips.
Had we begun importing regular consignments from April last year, as was planned by PTI govt, the discounts were the steepest at that time & Pakistan could have saved significant foreign exchange.
The quantity imported is approx 45 million litres. Its less than 2% of our monthly consumption.
Its a heavy oil spec so will yield 50% FO that is not of much use/saving.
Light oil specs were available from April onwards last year but PDM refused to engage with Russia for its purchase.
ہمارے رسولِ محترم ﷺ جب بھی جہاد کیلئے نکلتے، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچانے کی سخت ترین ہدایات جاری کی جاتیں۔آج ہمارے اپنے سیکورٹی اہلکار آدھی رات کو گھروں پر دھاوا بولتے، دروازے توڑتے، گھریلو ساز و سامان تباہ و برباد کرتے اور (قیمتی اشیاء) چوری کرکے ساتھ لے جاتے ہیں۔
خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور اگر مطلوبہ شخص ہاتھ نہ آئے تو اس کے والد حتّٰی کہ گھریلو ملازمین تک کو (بالکل غیرقانونی طریقے سے) اٹھا کر قید کردیا جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک حملے کے دوران جب میرا بھانجا ہاتھ نہ لگا تو میری ہمشیرہ کے ڈرائیور اور باورچی رحیم کو اٹھا لیا گیا۔ دونوں کو قید کردیا گیا اور جانوروں (sardines) کیطرح ایک چھوٹے سے ڈربے میں پھینک دیا گیا۔ رحیم کو تو سانس کی تکلیف تھی چنانچہ رہائی کے بعد جب سے وہ واپس لوٹا ہے وینٹیلیٹر پر موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔ جو گروہ (ایک جمہوری ملک میں) دہشت کے اس راج کا ذمہ دار ہے وہ بلاشبہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔
ہم مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت سرکار کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ایسی بہیمانہ خلاف وزریوں کی داستانیں تو سُنا کرتے تھے مگر ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وحشت و بربریت کی ایسی تاریخ یہاں (پاکستان میں) بھی رقم کی جائے گی۔
(جبر و وحشت) کی اس پالیسی سے اگرچہ وقتی طور پر عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہو مگر (عوام کے سینوں میں کھَولتا ہوا) نفرت و ناراضگی کا لاوا کسی وقت بھی باہر آجائے گا۔
In its most recent crackdown on the PTI, Pakistan authorities are targeting the businesses of former PM Imran Khan’s supporters. WITHOUT WARRANTS, law enforcement has RAIDED, CLOSED, and HARASSED FAMILY-OWNED businesses. PAKISTAN = NO RULE OF LAW.
https://t.co/5C3xdkAHn6
پاکستان کے خوفناک سیاسی بحران نے بدقسمتی سے سول ملٹری جھگڑے کی شکل اختیار کر لی ہے! ارباب اختیار اور طاقتور اشخاص کی حکمت عملی بھی یہی لگتی ہے کہ اپنے آپ کو افواج پاکستان کے نام کے پیچھے چھپا لو! اور سیاسی اپوزیشن کو ملک دشمن بنا کر دکھاؤ!
تمامُ محب وطنُ وکلا، صحافیوں، دانشوروںُ اور پڑھے لکھے شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ اصل ایشوز کو غور سے دیکھیں، پرکھیں اور پاکستانی ڈھانچے Political Power Structure کی اصل کمزوریوں کو سمجھیں! جب تک انُ اصل مسائل کی نشاندھی نہیں ہو گی پاکستان کا مستقبل غیر محفوظ رہے گا!
چاہے ڈرامے بازی کے لئے آپ دس “استحکام پاکستان” اور “پاکستان سر زمین پارٹیاں” بناتے رہیں! https://t.co/SWiuKG60ah via @YouTube
تحریک انصاف نے روس سے سستے تیل کی پہلی کارگو پچھلے سال اپریل میں موصول کرنی تھی۔ اس سلسلے میں میں نے روس کے حکام کی درخواست پر ان سے ہوئی تمام بات چیت کو تحریری شکل دے کر روس کے ہم منصب کو پاکستانی سفیر کے ذرعیے بھجوایا۔
افسوس کے پی ڈی ایم حکومت نے اس معاملے پر 14 ماہ ٹال مٹول سے کام لیا۔ ماضی میں یہ کہتے رہے کے یہ تیل ہماری ریفائنریز میں چل نہیں سکتا اور عالمی دنیا سے پاکستان پر معاشی پابندیاں لگ جائیں گی۔ میں بار بار کہتا رہا کے یہ جھوٹ ہے اور ایسا کچھ نا ہو گا۔
اگر تحریک انصاف حکومت کی ساتھ ہوئی بات چیت پر عمل کیا جاتا تو اربوں ڈالر کا ملک کو فائدہ پہنچتا اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم ہوتا۔
اب 14 ماہ کے بعد ڈسکاؤنٹ بھی کوئی حاص نا ملا اور تعداد بھی بہت تھوڑی خریدی گئی۔ پی ڈی ایم حکومت نے ہر چیز کا بیرہ غرق کرنے کا عزم کیا ہوا ہے۔
موٹر وے پر ٹائر کیوں پھٹتے ہیں؟
کل لاہور کے سات نوجوانوں کی سڑک حادثہ میں موت ہوگئی۔ وجہ گاڑی کا ٹائر پھٹنا تھا۔ اہم نئے بننے والے ایکسپریس وے اور موٹر وے پر ان دنوں گاڑیوں کے ٹائر پھٹنے کے واقعات منظر عام پر آ رہے ہیں۔ جس میں روزانہ کئی لوگ جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ ایک دن میرے ذہن میں سوال آیا کہ ملک کی جدید ترین سڑکوں پر سب سے زیادہ حادثات کیوں ہو رہے ہیں؟ اور حادثے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ بھی صرف ٹائر پھٹنے سے۔ ہائی وے بنانے والوں نے سڑک پر ایسی کون سی اسپائکس ڈال دی ہیں کہ سب کے ٹائر پھٹ گئے۔ دماغ طوفانی ہو گیا ہے تو میں نے سوچا کہ آج اس چیز کا پتہ لگا لینا چاہیے۔ اس لیے ٹیم کو تلاش کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ اب سنو ہم نے تجربے کے لیے ایک دوست کو بلایا اور ہم KIA SUV میں سوار ہو گئے۔
(نوٹ کریں کہ اصل مسئلہ فلیٹ ٹائر کا ہے)
پہلے ہم نے کولڈ ٹائر کا پریشر چیک کیا اور اسے بین الاقوامی معیارات کے مطابق ایڈجسٹ کیا جو 25 psi ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک کی گاڑیوں میں ہوا کا ایک ہی دباؤ رکھا جاتا ہے۔ جب ہمارے ملک میں لوگوں کو اس کا علم نہیں ہوتا یا وہ ایندھن بچانے کے لیے ٹائروں میں ضرورت سے زیادہ ہوا بھر لیتے ہیں۔ جو عموماً 35 سے 45 پی ایس آئی ہوتا ہے۔ اچھی آئیے اب آگے بڑھتے ہیں۔ اس کے بعد ہم تھری لین پر چڑھ گئے اور کار دوڑا دی۔ گاڑی کی رفتار 120 - 140 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی گئی تھی۔ دو گھنٹے تک اتنی تیز رفتاری سے گاڑی چلانے کے بعد ہم اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے۔ جب ہم نے رک کر دوبارہ ٹائر کا پریشر چیک کیا تو یہ چونکا دینے والا تھا۔ اب ٹائر کا پریشر 52 psi تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹائر کا پریشر اتنا کیسے بڑھ گیا؟ چنانچہ جب اس کے لیے ٹائر پر تھرمامیٹر لگایا گیا تو ٹائر کا درجہ حرارت 92.5 ڈگری سیلسیس تھا۔ یہ سارا معمہ اب کھل گیا ہے کہ سڑک پر ٹائروں کی رگڑ اور بریک رگڑنے سے پیدا ہونے والی گرمی کی وجہ سے ٹائروں کے اندر کی ہوا پھیل رہی ہے۔ B2B ٹائر کے اندر ہوا کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ چونکہ ہمارے ٹائروں میں ہوا پہلے سے ہی بین الاقوامی معیار کے مطابق تھی، اس لیے وہ پھٹنے سے بچ گئے۔ لیکن ٹائر جن میں ہوا کا دباؤ پہلے سے زیادہ ہے (35-45 PSI) یا ایک ٹائر جس میں کٹ ہے اس کے پھٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے ٹائر پریشر کو ٹھیک کریں اور تھری لین کی طرف جانے سے پہلے محفوظ سواری کا لطف اٹھائیں۔ میں موٹر وے اور ایکسپریس وے اتھارٹی سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈرائیوروں کو آگاہ کریں۔ تاکہ شاہراہ کا سفر آخری سفر نہ بن جائے۔
pls folliw me @umairmalki
پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ماؤں، بہنوں بیٹیوں کو پہلےاغواء کیا گیا، پھر جیلوں میں بدسلوکی کا نشانہ بنانے اور نہایت غیرانسانی حالات میں رکھنے کے ساتھ انہیں شدید ذہنی اذیّت پہنچانےکا سلسلہ جارہی ہےحالانکہ ان میں سےکوئی بھی جلاؤ گھیراؤ میں ملوث نہیں۔
پرامن احتجاج کی پاداش میں ان ماؤں،بہنوں، بیٹیوں کی محض اس لئےتذلیل کی گئی کہ ڈرا دھمکا کے اور خوفزدہ کرکے انہیں آئندہ پرامن احتجاج کے اپنے بنیادی حق کےاستعمال سے باز رکھا جاسکے اور سیاست سے دور کیا جاسکے۔
ہماری ان تمام خواتین نے جس حوصلے اور وقار سے اس (بہیمانہ، انسانیت سوز اور مجرمانہ سلوک) کا سامنا کیا اس پر مجھے فخر ہے۔