پرویز خٹک کی ہمت کو سلام ہے جنہوں نے اتنے بڑے علماء کونسل کے چیئرمین صاحب کو بھی ایسے اٹھا رکھا ہے جیسے سرکاری فائل ہو۔بس فرق اتنا ہے کہ فائل پھر بھی کبھی نہ کبھی نیچے آ جاتی ہے۔😂
پرویز خٹک کی ہمت کو سلام ہے جنہوں نے اتنے بڑے علماء کونسل کے چیئرمین صاحب کو بھی ایسے اٹھا رکھا ہے جیسے سرکاری فائل ہو۔بس فرق اتنا ہے کہ فائل پھر بھی کبھی نہ کبھی نیچے آ جاتی ہے۔😂
بات دراصل مذاکرات کی میز کی نہیں بلکہ اعتماد اور نیت کی ہے۔ اگر دونوں فریق واقعی مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو اس کا ثبوت بیانات نہیں بلکہ واضح، عملی اور قابلِ عمل اقدامات سے ملے گا۔ ماضی کے تجربات یہی بتاتے ہیں کہ محض وعدوں اور سیاسی بیانات سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اس لیے اب ضروری ہے کہ مذاکرات کسی نتیجہ خیز روڈ میپ، شفاف فیصلوں اور عملی پیش رفت کی طرف جائیں۔ عوام تماشائی نہیں بلکہ اس پورے عمل کے اصل متاثرین ہیں۔ اس لیے انہیں صرف الفاظ نہیں بلکہ نتائج درکار ہیں۔
آپ کی ثابت قدمی، حوصلے اور صحافت سے وفاداری کو سلام، مشکل وقت بھی آپ کے عزم کو متزلزل نہ کر سکا۔
20 سالہ سفر کا اختتام یقیناً آسان نہیں، مگر آپ کی سچائی اور پیشہ ورانہ جدوجہد ہمیشہ آپ کی پہچان رہے گی۔
دعا ہے صحافت کا یہ نیا سفر پہلے سے زیادہ عزت، کامیابی اور آزادی کے ساتھ آپ کا منتظر ہو۔
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
(نوٹ: یہ ٹویٹ یکم جولائی 2025 کو کی گئی ٹویٹ پر مبنی ہے)
”جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے“
دنیا کے تمام رشتے موسم کی طرح بدل جاتے ہیں، مگر والدین کا سایہ وہ دائمی درخت ہے جو ہر سخت دھوپ اور طوفان میں صرف چھاؤں بانٹتا ہے۔
ان کی دعاؤں کی بدولت ہی کائنات میں ہماری ہر مشکل آسان ہوتی ہے! ❤️🌿
De ki: "Ey haddi aşarak nefislerine karşı israf etmiş olan kullarım!
Allâh'ın Rahmetinden ümid kesmeyin. Çünkü Allâh, bütün günahları bağışlar.
Şüphesiz ki O, çok bağışlayıcıdır, çok merhamet edicidir."
ابھی ایکس چھوڑنے کا نہ سوچیں کیونکہ اتنی سستی تفریح اور جادو آپ کو دنیا میں کہیں اور نہیں ملے گی کہ 5 ملین امپریشنز دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو جائیں اور تالی بجانے والا بھی نہ ملے۔
@habibalrhmnpti
میرے ایک ہفتہ پہلے 5.7 ملین ایمپریشنز تھے اور ایک ہفتے بعد 1.7 ملین ہو گئے
بات سمجھ نہیں آئی۔ ایکس کے سینسرز نے یہ کیا گل کھلا دیا ۔
کیا ہم ایکس چھوڑ دیں؟
@grok
زکوٰۃ صرف صاحبِ حیثیت پر فرض ہے، مگر ظالمانہ ٹیکس اس غریب پر بھی لاگو ہے جس کے پاس آخری وقت میں کفن کے بھی پیسے نہیں!
یہی اصل فرق ہے ایک منصفانہ اسلامی نظام اور اس نام نہاد جمہوری نظام میں، جہاں عوام کی سانسوں تک پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔