انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو، راستوں پر رکاوٹیں اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث صحافیوں کے لیے معلومات فراہم کرنے میں شدید دشواریاں ہیں۔
سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں چند صحافیوں سے بات کی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق: ’کشمیریوں میں ایک عجیب طرح کا خوف پایا جاتا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ یا تو جنگ ہو گی یا کشمیر میں جو لاوا پک رہا ہے وہ پھوٹ پڑے گا۔‘
کشمیر کی تازہ ترین صورتحال جانیے سری نگر سے اس ویڈیو میں۔
@betterpakistan دشمن کی سبکی پر قہقہے نکلتے ہیں نا۔
بس اسی طرح کل سے ، انڈیا کی سبکی کو ، ہم انجوائے کر رہے ہیں۔ جس کی لفافیوں اور مودی کے میراثیوں کو بہت تکلیف ہے۔
@pmln_org
This is not making fun of #Chandrayaan2 But only calling out the hypocrisy of the Pakistani media and so called journalists. Screenshots via Sir @Lalika79
جی ہاں یہ حقیقت ہے، مرنا تو سب نے ہے ہی اج نہیں تو کل۔۔۔
میں موت کے ڈر سے اپنے مقصد سے نہیں ہٹ سکتا۔۔
جس شخص کو موت کا ڈر نہیں ہوتا اُس پر اللہ کا خاص کرم ہوتا ہے۔۔
سو باتوں کی ایک بات ہمارے پاس عمران خان ہی ہے انشاءاللہ اپنے وعدے پورے کرے گا۔
مسئلہ کشمیر 2020/2021 میں حل ہو جائے گا۔
عمران خان بہت جارہانہ خطاب کریں گے UN میں جس میں UN کی فوجوں کی مدد مانگی جائے گی کشمیر کے لیے ورنہ عمران خان خود قپنی افواج سے کام لیں گے۔
درست کہتے ہیں بھائی آپ کسی کی ہمت نہیں ہوگی یہ کہنے کی کہ" عمران کی حکومت ناکامی کی طرف جارہی ہے عمران خود مایوس ہوتےجارہے ہیں" میں ضرور کہوں گا خواہ کسی کو برا لگے قیام پاکستان کے بعد قوم کو پہلی بار ایماندار قیادت نصیب ہوئی لیکن بدعنوانی کی عادت میں مبتلا قوم نے اسے قبول نہ کیا
گل صاحب۔۔۔کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں؟
اگر پنجاب پولیس میں 50 ہزار بھی وحشی اور درندے ہیں تو ان کو ایک ہی دن میں نکال کیوں نہیں دیتے؟
آپ کو کس نے روکا ہے؟
مجھے آپ پر اب ترس آتا ہے کہ بیرون ملک سےڈگریاں لینے کے باوجود آپ کو نوکری بھی ملی تو نااہل،نالائق اور فضول بزدار کے دفاع کی۔۔۔۔
پی ٹی آئی کے رضاکارو
اگر آج رات پنجاب پولیس آپ کے گھر کی دیوار کود کر آ جائے اور آپ کی بہنوں کو بے عزت کرے اور بوڑھے ماں باپ کو تھپڑوں سے مارے تو آپ کی فریاد کون سنے گا ؟ کون آپ کی مدد کرے گا ؟
خدا کے لیےاب کھڑے ہو جائیں اور عمران خان سے تقاضا کریں کہ پنجاب پولیس کی ریفارمز کرے
پچھلی پنجاب حکومت اور موجودہ حکومت میں فرق صرف یہ ہےکہ
تب شہباز شریف جائےوقوعہ پرجاکررنگ بازی کرتےتھےاورمعطل کرکےنمبر بناتے تھے۔
اب حکومت نے شہباز گل کو رکھا ہوا ہے،کہ وہ ٹویٹر پر ڈرامے کرکے عوام کو بیوقوف بنائے۔
اس لفظ معطل سے نفرت ہوچکی ہے،اب قوم معطلیاں نہیں پھانسیاں چاہتی ہے
صلاح الدین کس حال میں قتل کیا گیا؟
وہ پانی مانگ رہا تھا اور پولیس والا اس سے کتے کی آواز نکلانے کا کا مطالبہ کر رہا تھا۔ عمران خان صاحب! یزید کی فوج ایسے ہی پتھر دلوں پر مشتمل تھی۔
یہ سب سےبڑا صوبہ ہےجس نےشہباز شریف کےڈراموں سےتنگ آکرتبدیلی کوووٹ دیا۔
یہاں اگرآپ کوقتل کر دیاجائے یا آپ پر تشدد ہوتو اس کے لیے ضروری ہے کہ
تشدد کی ویڈیو موجود ہو،
پھر وہ ٹویٹر پر وائرل ہو،
پھر شہبازگل ایکشن لیں۔۔۔
پھر دعوے ہوں،معطلیاں ہوں
اور اگلے واقعے کا انتظار
لعنت اس نظام پر
ایک عجیب سا سوال میں بار بار اپنے اپ سے کرتا ہوں۔
کوئی صاحبِ علم میری مشکل کو آسان کر دے۔
تھانوں میں ہمیشہ غریب ہی کیوں پولیس کے تشدد سے مرتا ہے۔
شاہ رخ جتوئی۔ شرجیل میمن۔ ڈاکٹر عاصم۔ زرداری۔ نواز۔شہباز۔حمزہ ۔ خواجہ سعد۔علیم خان۔ان جیسوں کی موت کیوں نہیں ہوتی؟
@ImranKhanPTI