نیٹ کھلنے پر یہ مناظر دیکھ کر بھی اگر ہم اپنی زندگی میں مشغول ہو گئے اس ظلم کے خلاف نا بول سکے وہی گندگی سیاست کے رواس شروع ہو گئے تو ہمیں ذندہ رہنے کا کوئی حق نہیں
چئیرمین پاکستان رائٹس موومنٹ، سینیٹر مشتاق احمد خان کو قید میں آج 16 روز مکمل ہو گئے، مگر ریاستی جبر اور زندان کی سلاخیں نہ ان کے عزم و یقین کو متزلزل کر سکی ہیں، نہ حق کی راہ پر ان کی استقامت کو کمزور کر سکی ہیں، اور نہ ہی کر سکیں گی۔
مزاحمت زندہ ہے!
سینیٹر مشتاق احمد خان نے جیل سے غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
اپنی اور 88 کشمیری طلبہ کی غیر قانونی حراست کے خلاف سینیٹر مشتاق احمد خان کا احتجاج جاری ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ زیرِ حراست طلبہ کو فوری رہا کیا جائے اور ان کے خلاف قائم مقدمات ختم کیے جائیں۔
سلاخوں کے پیچھے بھی مزاحمت جاری رہے گی ان شاء اللّٰہ۔
#ReleaseSenatorMushtaq
Muzaffarabad's residents, in Pakistan-administered Kashmir, have boycotted the election amid a strike, with protesters questioning how voting could proceed after unrest that has killed at least 80 people since June, according to local estimates. Al Jazeera’s Kamal Hyder reports.
پیارے Gen-Zee تیاری پکڑو۔۔۔،اب راولاکوٹ پر جا کر رکیں گے،ان شاءاللہ۔
پیر،3 اگست کو صبح 10 بجے تاریخی انسانی امدادی قافلہ، امن کے سفید جھنڈوں کیساتھ ایف 10 مرکز اسلام آباد سے راولاکوٹ جائے۔ گا اور محاصرہ توڑے گا،ان شاءاللہ۔۔
آزاد ہتن پل پر آزاد کشمیر میں داخل نہیں ہونے دیا ،یہ آزاد کشمیر حکومت کی فاشزم ہے،میں اظہار یکجہتی، تعزیت اور صلح کیلئے جارہا تھا،کیا لاڑکانہ کے لاڈلے اور رائیونڈ کے لاڈلی کے علاوہ کسی کو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں۔
🚨🚨🚨 BREAKING - MOSTAFA ZIKO:
🗣 "The referee is unfair, God is sufficient for me and the best disposer of affairs. He's wasting the effort of an entire nation."
"The cup is being given to Argentina."
فی دوکاندار نے 60000 روپے دیے ہیں اپنی جیب سے لوگوں نے بنایا ہے کیونکہ ادھر میری بھی شاپ ہے مینے بھی 60000 روپے دیے ہیں جو نہی دیتا تھا دوکان سیل کر دیتی تھی انتظامیہ اور پبلکسٹی مریم نواز اپنی کر رہی
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے