ایک اور پولیس آفیسر کو ویڈیو بیان سامنے آگیا
ہم سے زبردستی مخالفین پر مقدمات درج کروائے جاتے
ہمیں زبردستی آرڈر دیے جاتے کہ لوگوں کی چادر چاردیواری کا جاکر تقدس پامال کرو
اج سہیل افریدی نے پہلی بار سچ بیان کیا ہے اج سہیل آفریدی کی جانب سے آئینی عدالت میں جواب جمع کروایا گیا ہے
جس میں یہ لکھا گیا ہے عمران خان رہائی فورس کبھی قائم نہیں ہوئی۔۔۔۔
میں سہیل افریدی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے پہلی بار سچ بولا ہے
ویسے رمضان سے پہلے کتنا بڑا چورن بیچا تھا عمران خان رہائی فورس کے حوالے سے کتنی بڑی ٹرک کی بتی کے پیچھے عوام کو لگا دیا تھا
رمضان ختم ہوا چھوٹی عید ختم ہوئی
پھر بڑی عید ختم ہوئی
لیکن عمران خان رہائی فورس کبھی قائم نہ ہوئی اور پانچ اگست کو بھی کچھ ایسا ہی وعدہ کیا جائے گا۔۔۔۔
پچھلے ایک ماہ کے دوران میرا واسطہ ابوظہبی میں پاکستان اور افغانستان کے سفارت خانوں سے پڑا۔ میں بلا کسی مبالغہ آرائی کے اپنا تجربہ آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔
پاکستانی سفارت خانے میں اپنے بیٹے کے پاسپورٹ کی تجدید کروانی تھی۔ میں نے دفتر سے چھٹی لی تاکہ سکون سے کام ہو سکے۔ بدھ کا دن تھا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ سفارت خانہ دو دن کے لیے بند ہے، کیونکہ پاکستان میں 9 اور 10 محرم کی تعطیل تھی، اس لیے یہاں بھی بند رکھا گیا تھا، حالانکہ پورے متحدہ عرب امارات میں کہیں بھی سرکاری تعطیل نہیں تھی۔یوں میرا دن اور چھٹی ضائع گئی۔
دو دن بعد، جمعہ کی صبح، میں جلدی پہنچ گیا۔ پہلے سے ایک درجن سے زیادہ دستاویزات کی فوٹو کاپیاں ساتھ لے گیا تھا۔ کافی دیر انتظار کے بعد میری باری آئی تو کہا گیا کہ افغانستان کے سفارت خانے سے این او سی لے کر آئیں، کیونکہ بچے کی والدہ کا پاسپورٹ افغان ہے۔ حالانکہ میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ صرف تجدید ہے، پہلی مرتبہ تمام دستاویزات پہلے ہی جمع کروا چکا ہوں، مگر بات نہ بنی۔
میں افغانستان کے سفارت خانے گیا۔ وہاں زیادہ سے زیادہ دس منٹ میں این او سی جاری کر دیا گیا۔ نہ کسی فوٹو کاپی کا مطالبہ کیا گیا، نہ غیر ضروری سوالات کیے گئے۔ صرف پاسپورٹ دیکھا، اپنا ریکارڈ چیک کیا اور این او سی میرے حوالے کر دیا۔
واپس پاکستانی سفارت خانے آیا اور دوبارہ لمبی قطار میں لگ گیا، مگر اتنے میں بارہ بج گئے، جمعہ کا دن تھا اور سفارت خانہ بند ہو گیا۔ یوں ایک بار پھر ناکامی ہوئی۔ وہی بدتمیزی، ہٹو، نکلو، وقت ختم ہو گیا،وہی دھکم پیل۔
اس کے بعد دو دن مزید سفارت خانہ بند رہا، کیونکہ ہفتہ اور اتوار کی تعطیل تھی۔ پیر کے روز میں سب سے پہلے پہنچا تاکہ فیملی لائن میں جلدی لگ جاؤں اور دفتر جانے سے پہلے کام مکمل ہو جائے۔ پاسپورٹ تو جمع ہو گیا، لیکن پھر تصدیق کے نام پر میرے والدین، یعنی بچے کے دادا اور دادی، کے ڈومیسائل اور شناختی کارڈ طلب کیے گئے۔ شناختی کارڈ تو دونوں کے موجود تھے، مگر ڈومیسائل نہیں بنے ہوئے تھے۔
یوں پاکستان میں میرے بڑے بھائی نے کافی تگ و دو کے بعد والدہ کا ڈومیسائل بنوایا۔ والد چونکہ وفات پا چکے تھے، اس لیے پہلے ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوانا پڑا۔ اس تمام عمل میں تقریباً پچیس دن لگ گئے۔
پاسپورٹ کی تجدید کے بعد بچوں کے افغانستان کے ویزوں کے لیے اُن کے سفارت خانے گیا کیونکہ بچوں نے چھٹیاں گزارنے جانا تھا۔ خدا کی قسم، جیسے ہی انہوں نے میرے ساتھ فیملی دیکھی، سب اپنی جگہ سے اٹھے، ہمیں اندر ایک بہترین انتظار گاہ میں لے جایا گیا، جہاں بچوں کے لیے چاکلیٹس اور بڑوں کے لیے چائے رکھی ہوئی تھی۔ وہیں ایک اہلکار آیا، پاسپورٹ لے گیا، اور تقریباً تیس منٹ کے اندر ویزے لگا کر واپس کر دیے۔ ایک ویزے کی فیس صرف 39 درہم تھی۔
میں احتیاطاً تمام دستاویزات کی فوٹو کاپیاں بھی ساتھ لے گیا تھا، مگر انہوں نے ایک بھی کاپی نہیں لی۔ صرف اتنا کہا کہ اب تو سب آن لائن ہوجاتا ہے، اس لیے ان سب کی ضرورت نہیں۔
میں سوچ میں پڑ گیا کہ ہماری اپنی ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے، جن کا پاسپورٹ ہم اٹھائے پھرتے ہیں، اور باقی دنیا کیا کر رہی ہے۔ یہ موازنہ میں بلا کسی مبالغہ آرائی کے ایک ایسے ملک سے کر رہا ہوں جو گزشتہ پچاس برس سے جنگ کی لپیٹ میں ہے۔
پاکستان ابھی تک نوآبادیاتی ورثے (Colonial Legacy) سے باہر نہیں نکل سکا۔ تنقید تو صرف ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر ہوتی ہے، اور بجا بھی ہے، لیکن یہ سی ایس ایس کے گدھے، جنہوں نے اس نظام کو بہتر بنانا تھا، بہت سے معاملات میں خود بھی اسی فرسودہ طرزِ فکر کا حصہ بن چکے ہیں او اُن سے بڑھے فرعوں ہیں۔ پولیس، عدالت، جج، وکیل، پٹواری، الغرض ہر طرف وہی انگریزوں سے ورثے میں ملی ہوئی اکڑ، غیر ضروری پیچیدگیاں اور عوام سے فاصلہ نظر آتا ہے۔
۔
۔
نعمت وزیر!
کیا نورین نیازی پاکستان کے خلاف بیان دینے پر معافی مانگ رہی ہیں @BeenishSaleem
عامرمغل کے جواب نے بینش سلیم کو تتے توے پر بٹھا دیا پروگرام میں ہی عامر مغل کو گرفتاری، پرچوں اور عبرتناک انجام کی دھمکیاں دینے لگ پڑیں۔
عامرمغل نے کہا کہ میں دوسال سے گھر نہیں جا سکا میرے اوپر پہلے سے دہشت گردی۔ بغاوت، غداری، چوری ، ڈکیتی کے 61 جھوٹے پرچے درج ہیں دو اور بھی ہوجائیں گے لیکن زرداری، نوازشریف کو جھوٹا کہنے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا
عامر مغل نے نورین نیازی صاحبہ والے سوال کا طنزا جواب دیتے ہؤے کہا کہ نورین نیازی صاحبہ نے چار قسم کے ماسک پہن رکھے ہیں کبھی وہ نوا شریف کا ماسک پہن کر بیان دیتی ہیں کہ ممبئ حملوں میں گرفتار ہونے والا اجمل قصاب پاکستانی ہےیہ بیان ڈان اخبار میں چھپتا ہے اور پھر انڈیا اسے بطور ثبوت انٹرویو نیشنل کورٹ میں پیش کرتا ہے، پھر نورین نیازی خواجہ آصف کا ماسک پہن کر اسمبلی میں پہنچ جاتی ہیں اور بیان دیتی ہیں کہ اس فوج نے قوم کی ہڈیوں سے گوشت تک نوچ لیا ہے پھر وہ مریم نواز کا ماسک پہن لیتی ہیں اور یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے کے نعرے لگاتی ہیں پھر وہ زرداری کا ماسک پہن لیتی ہیں اور جنرل راحیل شریف کو اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دیتی ہین
عامر مغل نے کہا کہ نورین نیازی صاحبہ نے تین ماہ قبل انٹرویو دیا لیکن دینے کے بعد اسے آن ایئر کرنے سے منع کر دیا اب وہ انٹرویو جب بلااجازت نشر کیا گیا ہے تو نورین نیازی صاحبہ کو کیسے قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے
عامرمغل نے کہا کہ 13 مئی 2025 کو چیئرمین عمران خان نے پاک انڈیا جنگ پر جو موقف دیا تھا میرا اور تحریک انصاف کا وہی موقف ہے لیکن یہ دوہرا معیار ہے کہ نورین بی بی جو نہ تو سیاستدان ہیں نہ ہی ممبر پارلیمنٹ ان کے ایسے بیان کو ان کی اجازت کے بغیر نشر کیا گیا جواز بنا کر طوفان کھڑا کیا جا رہاہے لیکن دوسری طرف نواز شریف، زرداری ، مریم نواز ، خواجہ آصف کے فوج دشمن بیانات پر آنکھیں بند ہیں۔
عامرمغل نے مذید کہا کہ حالیہ مولانا فضل الرحمان کے فوج کے متعلق بیان اور پھر معافی کے مطالبے پر مذید خطرناک بیان اور معافی کو جوتے کی نوک پر رکھنے پر تو ملکی آئین و قانون حرکت میں نہیں آیا کیا سارے قوانین صرف تحریک انصاف کیلئے ہی ہیں۔
جس طرف سے کیمرہ شوٹ کر رہا ہے اس طرف ایک بھی فائر کرنے والا نہیں ؟ کیمرہ مین وچارہ اکیلا ہی تھا ؟
دہشتگردوں سے مقابلے کی ویڈیو بنانا اتنا آسان ہے کہ پہلے کیمرہ مین پوزیشن لے ۔ فوکس کرے ۔ اور چند سیکنڈ میں مقابلہ نمٹ جائے
قربان ۔۔ یا قربان
اس ہر کون سا پشتو گانا ٹھیک رہے گا
مولانا فضل الرحمان نے تو شہدا کی تکریم کا خیال نہیں کیا
لیکن جب جرنیلوں نے کارگل سے اپنے ہی فوجیوں کی لاشیں لینے سے انکار کر دیا تو بھارتیوں نے ان کے جنازے پڑھا کر انہیں پہاڑوں میں ہی دفنا دیا کیا یہ شہدا کی عزت تھی ؟
اس جاہل عورت کو کوئی سمجھائے کہ محترمہ فرمائشی پروگراموں کے علاوہ کسی سنجیدہ ٹاک شو میں نہ جایا کریں اور پھر بالخصوص مطیع اللہ جان جیسے صحافی کے شو میں تو بالکل بھی نہیں۔
مریم کے پیچھے مصدق ملک نے اپنا پُھلترو ٹھوکا ہوا تھا اور ڈڈو چارجر کے پچھواڑے پر ماہرِ تنظیم سازی طلال چوھدری نے سودا فِ کیا ہوا تھا۔زرا غور سے اُنکی حرامزدگی چیک کریں۔
واقعی ن لیگ کنجروں اور ڈبل شفٹ لگوانے کی شوقین بُوڑھی عورتوں کی جماعت ہے۔
🚨 پروپیگنڈہ ایکسپوزڈ 🚨
پاکستانی فورسز کا یہ اہلکار راولاکوٹ دھرنے سے پکڑا گیا ھے جو اپنی زبان سے اعتراف کررھا ھے کہ ہمیں ہمارے سینئیرز نے انڈین کرنسی نوٹ دے کر دھرنے میں بھیجا تاکہ جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو انڈین اور راء کا ایجنٹ ثابت کیا جاسکے۔
یہ تو اوقات ھے انکی 🖐
#RightsMovementAJK #StopKillingPeoplesInPOJk #KashmirUnderAttack
یہ اسلحہ جو ہم نے دفاعی افواج کو دیا ہوا ہے یہ ہم نے ہندوستان سے لڑنے کیلئے دیا ہوا یہ آج جو F 16 مانگے جا رہے ہیں اس سے یا بلوچستان پر بم بھاری ہوگی یا وزیرستان پر بم بھاری ہوگی یا سندھ پر بم بھاری ہوگی خواجہ آصف
https://t.co/FRPP3KuyNg