اوی راسکلز
سوری نیوٹرلز
"Neutrality is Rascality" & "Only the DEAD are Neutral" Martyr General Hameed Gul
جی ایچ کیو کی غدار ہیں ہم
جی ایچ جی کی سرباز ہیں ہم
میں نے اپنی زندگی میں شاید کبھی کسی بات پر اتنی شرمندگی محسوس نہیں کی جتنی آج اس حقیقت پر ہوتی ہے کہ میں کبھی یہ سمجھتا تھا کہ میں ایک حقیقی قومی فوج کا حصہ ہوں اور ایک محب وطن سپاہی کی حیثیت سے خدمت کر رہا ہوں۔
اس تصویر میں نظر آنے والی یہ شیلڈ مجھے جون 1980 میں میری یونٹ، 15 پنجاب رجمنٹ کے افسران نے اس وقت پیش کی تھی جب میری پوسٹنگ جی ایس او 3، 4 اے کے بریگیڈ، بھمبر، آزاد جموں و کشمیر ہو رہی تھی۔
اس وقت تک میں فوج چھوڑنے کا فیصلہ کر چکا تھا، اور بالآخر 1981 کے اوائل میں میں نے فوج چھوڑ دی۔
لیکن اس مرحلے پر بھی، فوجی حکمرانی سے میرے تمام اختلافات کے باوجود، اور اس مقام تک پہنچ جانے کے باوجود جہاں میرے لیے اس ادارے میں رہنا ناقابل قبول ہو چکا تھا، میں اب بھی پوری طرح یہ نہیں سمجھ پایا تھا کہ نوآبادیاتی فوجی ذہنیت ہمارے اندر کتنی گہرائی تک پیوست تھی۔
میں نے کبھی سنجیدگی سے یہ سوال نہیں اٹھایا تھا کہ انگریز ہمارے پیش روؤں کو 33rd Punjabi Mohammedans کیوں کہتے تھے، صرف 33rd Punjabi Muslims کیوں نہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ میں نے کبھی غور سے یہ نہیں دیکھا تھا کہ اس شیلڈ کے گرد درج یہ تمام Battle Honours دراصل کس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں۔
انہیں غور سے دیکھیے۔
پل کنجری 1971 اور لانس نائیک محفوظ شہید کے نشان حیدر کو چھوڑ کر، اس شیلڈ کے گرد درج تقریباً ہر Battle Honour برطانوی تاج کی خدمت میں حاصل کیا گیا۔
ایک طرف افغانستان، پنجاب فرنٹیئر، تیراہ، ملاکنڈ، چترال، برما، لا باسی اور یپرس ہیں، یعنی برطانوی ہندوستان کی نوآبادیاتی سرحدوں پر یا پہلی جنگ عظیم میں لڑی جانے والی مہمات۔
دوسری طرف کوت العماره، دجلہ، بغداد، مجدو اور فلسطین ہیں، اور پھر کروہ، کامپر، ایپوہ، مور، سنگاپور آئی لینڈ اور ملایا۔
ان تمام ناموں کو ایک ساتھ دیکھیے تو ایک غیر معمولی مگر تکلیف دہ داستان سامنے آتی ہے۔
ہمارے پیش روؤں کو برطانوی سلطنت جہاں چاہتی، بھیج دیتی۔ انہوں نے مسلمانوں سے بھی جنگ کی، عیسائیوں سے بھی، ہندوستانیوں سے بھی، پٹھانوں اور پنجابیوں سے بھی، جرمنوں، اطالویوں، جاپانیوں اور دوسروں سے بھی۔
اس لیے نہیں کہ یہ سب لوگ لازماً پنجاب کے دشمن تھے، یا ان لوگوں کے دشمن تھے جو بعد میں پاکستان بننے والے خطے کے باشندے کہلائے، بلکہ صرف اس لیے کہ جس سامراجی طاقت نے انہیں بھرتی کیا تھا، اس نے فیصلہ کر دیا تھا کہ یہ لوگ دشمن ہیں۔
یہی، اپنی اصل میں، نوآبادیاتی فوجی نظام تھا۔
اور میرے نزدیک یہی، اپنی اصل میں، آج پاکستان کے فوجی نظام کا بنیادی مسئلہ بھی ہے۔
لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا، تربیت دی جاتی تھی، تنخواہ دی جاتی تھی، ہتھیار دیے جاتے تھے اور پھر حکم دیا جاتا تھا کہ جاؤ اور لڑو۔
پیشہ ورانہ فرض کا نام اطاعت تھا۔
جنگ کا بڑا سیاسی مقصد کیا تھا، کس کو فائدہ ہو رہا تھا، جن لوگوں کے خلاف انہیں بھیجا جا رہا تھا وہ واقعی ان کے اپنے لوگوں کے لیے کوئی خطرہ تھے یا نہیں، اور کیا وہ جنگ ان کے اپنے قومی مفاد میں تھی یا نہیں، یہ فیصلہ سپاہی کا کام نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اسی لیے آج یہ شیلڈ مجھے اتنی بے چین کرتی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ یہ جنگیں ہوئیں۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ ان جنگوں میں لڑنے اور مرنے والے انفرادی سپاہیوں میں ذاتی بہادری یا قربانی نہیں تھی۔ انسان کسی انتہائی غیر منصفانہ سیاسی مقصد کے لیے لڑتے ہوئے بھی ذاتی بہادری دکھا سکتا ہے۔
جیسے شاید آج بھی عاصم منیر کے ماتحت بعض لوگ ذاتی بہادری دکھا رہے ہوں۔
اصل سوال یہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی ہم ان سامراجی جنگوں کو ادارہ جاتی فخر کی علامت کیوں سمجھتے رہے؟
ہم نے رجمنٹس ورثے میں لیں۔ ان کی روایات ورثے میں لیں۔ میس کلچر، علامات، درجہ بندی، Battle Honours اور کمانڈ کلچر کا بڑا حصہ بھی ورثے میں لیا۔
لیکن کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے اس سیاسی اور نفسیاتی ذہنیت کا جائزہ لیا جو اس پورے ورثے کے ساتھ ہمارے اندر منتقل ہوئی تھی؟
آج یہ شیلڈ میرے سامنے یہی سوال کھڑا کرتی ہے۔
ایک ایسی فوج جو خود کو قومی فوج کہتی ہے، اس کی ادارہ جاتی شناخت آخر اس نوآبادیاتی طاقت کی جنگوں سے کیوں تشکیل پاتی رہے جس نے کبھی اس کے اپنے لوگوں پر حکومت کی تھی؟
برطانوی سامراجی مفادات کے لیے لڑی جانے والی جنگیں ایک آزاد، بعد از نوآبادیاتی فوج کے وقار، اساطیر اور اجتماعی خودتصور کا حصہ کیوں بنی رہیں؟
ایک نوآبادیاتی فوج اور ایک حقیقی قومی فوج میں فرق صرف اس جھنڈے کا نہیں جو اس کے ہیڈکوارٹر پر لہراتا ہے۔
اصل فرق سپاہی، ریاست اور شہری کے باہمی تعلق میں ہوتا ہے۔
ایک قومی فوج آئین اور قانون کے تحت موجود ہوتی ہے۔ اس کا اختیار اس ریاست سے آتا ہے جسے عوام نے تشکیل دیا ہے۔ اس کا کام ملک اور شہریوں کا دفاع کرنا ہے، اور وہ آئینی اختیار کے تابع رہتی ہے۔
نوآبادیاتی فوج کا مقصد بالکل مختلف تھا۔
اس کی بنیادی ضرورت ڈسپلن، کمانڈ سے وفاداری اور حکم کی اطاعت تھی۔
اسے ان لوگوں کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا تھا جن کے ساتھ اس کے سپاہیوں کا مذہب، نسل، زبان یا جغرافیہ مشترک ہو، کیونکہ اصل سوال کبھی یہ نہیں ہوتا تھا کہ سامنے کون ہے۔
اصل سوال صرف یہ ہوتا تھا کہ سامراجی اختیار نے کیا حکم دیا ہے۔
اور آج کے پاکستان میں بھی ہم یہی منظر دیکھ رہے ہیں۔
یہ فرق بہت اہم ہے اگر ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ پاکستان نے 1947 میں کیسی فوجی ثقافت ورثے میں پائی۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان نے ایک نوآبادیاتی فوج ورثے میں پائی۔
لیکن زیادہ تکلیف دہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس ادارہ جاتی نفسیات کو حقیقتاً تبدیل کیا بھی یا نہیں۔
میرا جواب ہے:
نہیں۔
کیا آزادی کے بعد ایک ایسی حقیقی قومی فوجی ثقافت وجود میں آئی جو آئینی تابع داری اور شہری کی حاکمیت پر قائم ہو؟
میرا جواب ہے:
نہیں۔
یا پھر پرانے نوآبادیاتی تعلق کا بڑا حصہ صرف ایک نئے جھنڈے، نئے بیجز اور نئے سیاسی آقاؤں کے نیچے زندہ رہا؟
میرا جواب ہے:
ہاں۔
جب یہ شیلڈ مجھے 1980 میں دی گئی تھی تو میں اس میں رجمنٹ کی تاریخ، عزت اور روایت دیکھتا تھا۔
آج میں اس میں کچھ اور دیکھتا ہوں۔
میں ایک ایسے نوآبادیاتی فوجی نظام کا ورثہ دیکھتا ہوں جس میں سپاہیوں کو تربیت دی جاتی تھی کہ جہاں بھی بھیجا جائے، جائیں؛ جس کے خلاف لڑنے کا حکم ملے، اس سے لڑیں؛ اور اطاعت کو بذات خود ایک فضیلت سمجھیں۔
بالکل اسی طرح جیسے آج وہ اپنے ہی نہتے، بے بس اور معصوم شہریوں پر بے رحمی سے گولیاں چلا دیتے ہیں جب انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
اور میں خود سے پوچھتا ہوں کہ ہم نے اس ذہنیت کو آخر کتنا پیچھے چھوڑا؟
میرا جواب ہے:
کچھ بھی نہیں۔
اسی لیے آج میرے لیے یہ شیلڈ کسی یاد، کسی فخر یا کسی فوجی رومان کی علامت نہیں۔
یہ ثبوت ہے۔
ثبوت اس بات کا کہ ہماری فوج نے اپنی نوآبادیاتی، کرائے کی فوج والی ذہنیت سے مکمل نجات کبھی حاصل نہیں کی۔
ایک ایسی فورس جو تنخواہ لے، ہتھیار لے، حکم لے، اور پھر اس پر عمل کرے، چاہے حکم دینے والا کون ہو اور گولی کھانے والا کون۔
میرے لیے مسئلہ یہی ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر فوجی کنٹرول ختم ہونا چاہیے۔
اسی لیے گزشتہ تیس سال سے زیادہ عرصے میں یہ شیلڈ کبھی میرے گھر کی دیوار پر نہیں لگی۔
میرے لیے یہ کسی قابل فخر فوجی ماضی کی علامت نہیں۔
یہ ایک شرمناک اور ذلت آمیز ماضی کی یاد دہانی ہے۔
صرف پل کنجری 1971 اس سے مستثنیٰ ہے۔
باقی اس میں میرے لیے فخر کرنے کو کچھ بھی نہیں۔
ہندوستان اور پاکستان میں کوئی فرق نہیں، اگر وہاں یاسین ملک قید ہے تو یہاں شوکت نواز میر قید ہے۔ اگر تہاڑ جیل میں مقبول بٹ کی قبر گرفتار ہے تو یہاں شازیب حبیب، عثمان صابر اور فہد برکت کی قبر گرفتار ہے۔
خواجہ مہران ایڈوکیٹ
جس دن نئی حکومت آئی. اسکے بعد سب دی ماں آئی، اپنی عدالتیں آئیں، اپنے جج آئے، اپنی آئینی ترمیمیں آئیں، تاحیات استثناء آیا. 11 ارب کے جہاز آئے بیروزگاری آئی، دہشت گردی آئی. نہ ختم ہونے والی ذلالت آئی. اب گورنر راج لگا کر اسٹاک مارکیٹ اوپر جائے گی اور ڈالر نیچے آئے گا
ان کو چھولے بدبو والے ملیں یا دیسی گھی والے پھٹوں پر سوئیں یا جہاں بھی
یہ اس فرسٹریشن کو عام عوام پر نکالتے ہیں وحشی درندوں خونخوار کتوں کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں کوئی ہمدردی کی ضرورت نہیں ان زومبیز سے
انکے تھانوں میں بھی رویے ایسے ہوتے ہیں کہ شیطان پناہ مانگ لے
اسے کہتے ہیں خانہ پری : پنجاب بھر سے پولیس فورس کو لانگ مارچ کا مقابلہ کرنے بھیجنے کے بعد ملتان میں لیڈی پولیس اہلکار نماز جمعہ کے موقع پر ایک مسجد کے باہر ڈیوٹی دیتے ہوئے
یہ مناظر زندگی بھر میرے ساتھ رہیں گے۔ آنسو گیس کے (تکلیف دہ) اثرات زائل کرنے کیلئے سر پر پانی انڈیلتے اور دیوانہ وار جھومتے ہوئے بلند کی جانےوالی آزادی کی یہ والہانہ اور پرجوش صدائیں! ماشاءاللہ ایک قوم بالآخر بیدار ہو رہی اور آزادی مانگ رہی ہے۔
اطلاعات کیمطابق عمران خان کی بہنیں کوٹ لکھپت جیل میں گزشتہ 36 گھنٹوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں جبکہ عالیہ حمزہ ، فلک جاوید اورصنم جاوید بھی اظہار یکجہتی کےلیے بھوک ہڑ تال پر چلی گئی ہیں - ذرائع
1971 میں لاکھوں افراد کو قتل کر کے ہزاروں کی عزتیں لوٹ کر جب گورے نے پوچھا کہ سرنڈر کیوں کر رہے ہو تو کہا
for the consideration of human life
یہ بے شرم اور بے غیرت ہم سب کو چوتیا سمجھتے ہیں
کے پی وزیر شکیل خان پولیس سٹیشن گئے پرچہ درج کروانے کے لیے، پولیس نے انکا پرچہ درج کرنے کی بجائے ایجنسیوں کے بندوں کو بلوا کر سادہ وردی میں، شکیل خان کو گرفتار کروا دیا۔
ریستی غنڈہ گردی اسکو بولتے ہیں
ایک پولیس والے نے صبح وائس میسج کیا. بولا اٹک پُل پہ موجود ہوں. سر جی بہت ذلالت ہو رہی ہے. کم از کم میں نے تو کسی بھی بندے کو ڈنڈا یا تشدد نہی کرنا. دنیا تو خراب ہے. اب بے گناہوں پہ ظلم کرکے آخرت خراب نہی کرنی. ویسے بھی ان لوگوں کا قصور کیا ہے؟ اپنے جائز حقوق کے لیے نکلے ہیں جو اسلام بھی کہتا ہے.
دوسری طرف یہ ظالم ہمیں اپنے ناجائز قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں. ہم مر بھی جائیں تو یہ شہادت تو نہی ہوگی. پھر کیوں اپنی آخرت ان کے لیے برباد کریں
🚨 URGENT APPEAL TO THE GOVERNMENT OF PAKISTAN
DO NOT GIVE BILL GATES CONTROL OF PAKISTAN'S AGRICULTURE.
DO NOT GIVE BILL GATES CONTROL OF PAKISTAN'S AGRICULTURE.
DO NOT GIVE BILL GATES CONTROL OF PAKISTAN'S AGRICULTURE.