@Qaribadar1 یہ پرانے روایتی ہتھیار اب کسی کام کے نہیں قاری صاحب۔ بہتر ہے نئی ڈرون ٹیکنالوجی پر کام کیا جائے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے متلعق عوام کو تدریس و تعلیم دیں
آج میں آپ کے سامنے ایک مختصر فلم لے کر آیا ہوں، جس کا دورانیہ تقریباً 12 منٹ ہے۔ اس فلم میں ایسے واقعات اور شواہد کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے جن پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آج کی اس فلم کا مرکزی کردار ایمان فاطمہ ہے، جس کا تعلق کشمیر سے ہے۔ اس مبینہ نیٹ ورک میں ایمان فاطمہ کا کردار انتہائی اہم بتایا جاتا ہے۔ فلم کے مطابق، اس کا رابطہ پہلے فیس بک کے ذریعے وکٹم سے ہوتا ہے، پھر اسے واٹس ایپ پر لایا جاتا ہے، اور اس کے بعد اسے گھر سے باہر نکال کر مبینہ طور پر راؤ گینگ تک پہنچانے کا مرحلہ آتا ہے۔
اس کے بعد فلم میں مبینہ طور پر راؤ گینگ کی کارروائی دکھائی گئی ہے، جہاں وکٹم کو اغوا کیے جانے کا دعویٰ سامنے آتا ہے۔ اسی حصے میں شہزاد خان بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔
یہ صرف 12 منٹ کی ایک ویڈیو نہیں، بلکہ ایک ایسے معاملے کی جھلک ہے جس کے پیچھے موجود کرداروں، طریقۂ واردات اور مقاصد کو سمجھنا ضروری ہے۔
میں آنے والی پوسٹس میں اس معاملے سے جڑے مزید کرداروں اور دستیاب شواہد کو آپ کے سامنے لاتا رہوں گا۔
آپ سے گزارش ہے کہ فلم مکمل دیکھیں، خود بھی تحقیق کریں اور جو کچھ سامنے آئے اسے ثبوت کی بنیاد پر پرکھیں۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو خاموشی مزید لوگوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اور اگر کسی دعوے میں غلطی ہے تو اسے بھی ثبوت کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔
مقصد صرف حقیقت تک پہنچنا، مبینہ متاثرین کے لیے آواز اٹھانا اور مزید لوگوں کو ممکنہ نقصان سے بچانے کی کوشش کرنا ہے۔ 🙏
#blasphemygangclerics
ہر جگہ پھیلا دیں 🚨
یہ خاتون پشتو میں کہہ رہی ہے خوفیہ اداروں کے لوگ میرے بیٹے کو اٹھانے گھر پر ائیں جب جرم پوچھا تو مجھے بھی مارا، میرا بیٹا پتہ نہیں زندہ ہے یا نہیں ابھی تک کوئی خبر نہیں ہے،
اس خوفناک فوٹیج میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں ایک فلسطینی بچے کی شہادت کا منظر ریکارڈ ہوا ہے۔ جب اس کے والد اپنے بیٹے کی لاش اٹھانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھے تو انہیں بھی براہِ راست سنائپر فائر کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔
دو سال ہو گئے، مگر ناانصافی ختم نہ ہوئی!
سید سلمان رضا امن اور روزگار کی تلاش میں شارجہ گئے اور سوشل میڈیا سے کنارہ کش ہو کر اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے، لیکن 27 ستمبر 2024ء کو انہیں جبراً اغوا کر لیا گیا، آٹھ ماہ نا معلوم مقام پر بے رحمانہ تشدد اور بغیر اینستھیزیا کے ہولناک طبی سزاؤں کے بعد مئی 2025ء سے وہ ابوظبی کی الوثبہ جیل میں قید ہیں، ان کی اہلیہ نے 18 ماہ متحدہ عرب امارات میں تنہا جنگ لڑی اور انہیں ایک بار بھی بالمشافہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ 8 تکلیف دہ مہینوں کی قید کے بعد بالآخر انہیں ویڈیو کالز کی اجازت دی گئی جو ان کا بنیادی حق تھا لیکن صرف 8 مختصر کالز کے بعد پچھلے 4 ماہ سے وہ سلسلہ بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، پاکستان میں ان کے شدید علیل اور بستر سے لگے والد جو دل اور گردوں کے امراض میں مبتلا ہیں، اپنے بیٹے کی ایک آخری جھلک دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔
سید سلمان رضا کے ساتھ قید جنید جہانگیر بھی اسی بے گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں، دو سال ان کی زندگی سے چھین لیے گئے۔
ہم اماراتی قیادت، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے سید سلمان رضا اور جنید جہانگیر کی فوری، غیر مشروط اور بحفاظت رہائی کا پر��ور مطالبہ کرتے ہیں۔
@uaeembassyisb @hrw @amnesty @UNHumanRights @amnestysasia @amnestyAR @RSF_inter @DropSiteNews @FirstPakGlobal
#TransnationalRepression
#ReleaseSalmanRaza
#ReleaseJunaidJahangir
میں پھر سے دوہراتا ہوں اگر ایران کی فلسطین کیلئے حمایت نہ ہوتی تو ھم یہ قدرت حاصل نہیں کر سکتے تھے ہاں یہ سچ ہے کہ عربوں نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا ہے انہوں نے ہمیں مشکل اور تکلیف دہ وقت میں تنہا چھوڑا لیکن ایران نے ہماری امداد کی ہتھیاروں،سامان اور تجربہ کاری سے
الشہید یحیی سنوار🥀
اگر یہ کام یورپ میں کرتے تو دس دس سال قید کنفرم ملنی تھی ، اور کوئی وکیل مقدمہ بھی نہ لیتا ، اسکو انسانیت کہتے ہیں۔ مگر افسوس یہ پاکستان میں ہوا ہے
#Athar#Copy#Paste
پطرس مسیح کی المناک کہانی اُنہی کی زبانی سنیں۔
پطرس توہین کا جھوٹا مقدمہ بننے کے وقت اٹھارہ سال سے کم تھے پھر بھی کافی سال جیل کاٹی
کرکٹ میچ کے دوران لڑائی سے توہین رسالت کے مقدمے، بستی پر تحریک لبیک کے حملے، ماں کو زندہ جلانے کی کوشش، خود سے گرفتاری دینے، ایف آئ کے جنسی تشدد تک کا ایک لمبا اور کٹھن سفر 👇
https://t.co/lUJyNyd0vp
@peterhuk9@HaqaiqDotCom
ـ1948 میں آدھا کشمیر گیا غصہ نہیں آیا
1965 کی جنگ ہوئی فوج مروائی عصہ نہیں آیا
1971 میں ملک ٹوٹا پتلونیں اتریں غصہ نہیں آیا2001 میں سرجرکل سٹریک ہوئی کارغل گیا سیاچن گیا. کرنل شیر خان کی لاش چھوڑ کر بھاگ آئے غصہ نہیں آیا.
غصہ کب آتا ہے جب بلوچ بہنیں اپنے حقوق کے لیے نکلتیں ہیں.
Ali Bilal unarmed & our dedicated & passionate PTI worker murdered by Punjab police. Shameful, this brutality on unarmed PTI workers who were coming to attend election rally. Pakistan is in the grip of murderous criminals. We will file cases against IG, CCPO & others for murder.
لانگ مارچ میں نو دن باقی ہیں۔ ان نو دنوں میں سیاسی درجہ حرارت اوپر رہے گا عوام انگیج رہیں گے۔ ان نو دنوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔ سارے ساتھی بھائی مل کر کسی ایک چیز پر متفق ہوجائیں۔
عسکری مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم پر فوکس کرلیں
پاک فوج نے ملک کیسے تباہ کیا اس پر ویڈیوز بنا لیں
ہر روز مختلف ریجنز کے آن لائن جلسے رکھے جائیں
جو بولنے پر رضا مند ہوں وہ اوورسیز پاک فوج کی بے غیرتیوں کی داستان بیان کرنا شروع کردیں
تحریک انصاف آفیشل / اوورسیز رہنما / یوٹیوبر�� یا کوئی بھی ذمہ دار شخص اس سلسلے کو لیڈ کرلے۔ اتنا بھرپور موبلائزیشن کا وقت عطاء تارڑ یا غریدہ فاروقی کی نقلیں اتار کر ضائع نہ کیا جائے۔ کچھ اور تجاویز لے آئیں کوئی ایکٹویٹی کریں۔
سہیل آفریدی اور باقی قیادت کا لانگ مارچ اگلے ہفتے تک مؤخر کرنے کا فیصلہ بہترین حکمتِ عملی کا حصہ ہے
حکومت نے سڑکوں پر جتنی رکاوٹیں، کنٹینرز اور پولیس نفری کھڑی کر دی ہے، انہیں ہٹنے میں وقت لگے گا
حقیقت یہ ہے کہ لانگ مارچ ایک طرح سے شروع ہو چکا ہے، حکومت نے جو رکاوٹیں اور پولیس فورس لانگ مارچ روکنے کے لیے استعمال کرنی تھی، وہ ابھی سے سڑکوں پر لگا دی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ PTI کے کارکن ابھی اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں نہیں اترے
اب ایک ہفتہ حکومت اپنی توانائی اور وسائل رکاوٹیں کھڑی رکھنے میں صرف کرے گی، جبک�� PTI کارکن اپنی طاقت بچا کر اگلے ہفتے نکلیں گے
@IslamicPar20432 پاکستان میں جتنے مذہبی طبقات ہیں چاہئے مولویوں کی شکل میں ہو، ذاکرین کی شکل میں ہو یا پیروں اور بابوں کی شکل میں ہو سب کے سب منافق ہیں ان کی منافقانہ کردار سے لوگ تنگ آکر ملحد بن رہے ہیں
Former Prime Minister Imran Khan's Message – July 8, 2025
Note: This is a repost of the tweet posted on July 9, 2025.
“When a nation rises for its rights, no force on earth can suppress it. I remain a free man, even in jail, but my nation is trapped in a prison where there is no independent judiciary, no genuine democracy, and no free media. Every Pakistani must rise up for their true freedom!
For two years, I have remained imprisoned solely for the sake of the Pakistani nation, so that no one can enslave you. Now, the time has come for you to stand up for your own freedom and defeat this oppressive system.
I repeatedly called for dialogue in the best interest of the country. But the time for negotiations has now passed. After the 26th Constitutional Amendment, the rule of law, the Constitution, and the very concept of justice have been buried. Any hope of receiving justice from the courts has been completely extinguished. The Pakistani nation now has only one path forward: a nationwide protest movement. Nothing short of this can pull us out of this quagmire of lawlessness.
A complete roadmap for the nationwide movement will be announced this week. I will have completed two full years of unjust imprisonment on August 5th. One that very day our nationwide protest campaign will be at its peak.
There will be no further negotiations of any kind with anyone anymore! The only path forward is mass protest in the streets, so the nation can rid itself of the puppets forcibly imposed upon it as its rulers.
Let me be clear: any officeholder in Pakistan Tehreek-e-Insaf who cannot shoulder the weight of this movement should step aside immediately. Those who have submitted to these oppressors must remember: these very people will eventually crush you, and the people will never forgive you either.
Even leaders like Nelson Mandela and Gandhi were allowed to meet other prisoners, read books, and write. I am enduring a form of solitary confinement where I am locked for 22 hours a day in a 6x8 foot cell. Police officers are forbidden from speaking to me. I have been denied books for the past six months. I am not allowed to speak to my children. My lawyers and colleagues cannot visit me. My family is allowed only a few minutes of visitation each week, and many of them are often denied even that. My personal physician has not been allowed to examine me for the past ten months. Even my access to newspapers and television has been cut off for the last week. Books sent by my family are withheld and kept in the superintendent’s office. My wife is also being held in inhumane conditions in solitary confinement.
Behind all of this is the establishment and its pawns. All of this is being done to break me. But I will continue to stand against tyranny until my very last breath.
We restored the constitutional and legal rights of the tribal areas after decades and provided full resources for reconstruction and development. The current regime not only withheld their rightful funds for three years but is now actively working to roll back their constitutional rights, an action that is utterly condemnable. I commend our parliamentarians and representatives for boycotting these unlawful measures.
As for our Punjab MPAs who were suspended for protesting during the fraudulent government’s budget session, the real reason behind it was that their protest against Maryam Nawaz was intolerable for the regime, although it is a long-standing tradition to protest during budget sessions.”