چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ڈاکٹر طاہرالقادری بارے اپنے گھٹیا ریمارکس پر شرم آنی چاہیے جو گزشتہ 9سال سے اپنے 14کارکنوں کے قتلِ عام کے انصاف کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں مگر لاہور ہائیکورٹ طاقتور قاتلوں کو بچانے کے لیے انصاف کے راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہو گئی ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ڈاکٹر طاہر القادری پر طنز کے تیر چلانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ سپریم کورٹ نے 13فروری 2020ء کو ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی پر لاہور ہائیکورٹ کے سٹے آرڈر کے خلاف مقتولہ تنزیلہ شہید کی بیٹی بسما امجد کی اپیل پر حکم دیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ 90روز میں ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی پر حتمی فیصلہ دے مگر لاہور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھ کر فضا میں اچھال دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو چار سال ہونے والے ہیں مگر لاہور ہائیکورٹ نے ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی پر فیصلہ نہیں دیا۔ کیا قاضی کو اپنے گریبان میں جھانک کر شرم آئی کہ نہیں آئی؟؟؟
اگر قاضی کو ریاستی اداروں سے صرف فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کروانے میں دلچسپی ہے مگر ہائیکورٹس سے سپریم کورٹ کے فیصوں پر عمل درآمد کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں تو وہ سپریم کورٹ کے باقی فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کا حکم جاری کر دیں مگر ہائیکورٹس کو سپریم کورٹ کی حکم عدولی کی اجازت دے کر سپریم کورٹ کو بےتوقیر نہ کروائیں۔
مجھے ازحد تعجب ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کو فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں یہ تحریر کرنا یاد رہا کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادی نے دھرنا دیا اور پی ٹی وی کی بلڈنگ میں توڑ پھوڑ ہوئی مگر ن لیگی جتھوں کے سپریم کورٹ کی بلڈنگ پر دھاوا بولنے، سپریم کورٹ میں توڑ پھوڑ کرنے، چیف جسٹس سجاد علی شاہ کتا ~ ہائے ہائے کے غلیظ نعرے لگانے، کورٹ روم نمبر1 پر پر دھاوا بولنے، چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور دیگر ججز کو جان بچانے کے لیے عقبی دروازے سے باہر نکالنے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی سیدھی گولیوں سے دو خواتین سمیت 14پرامن نہتے شہریوں کے پولیس کی سیدھی گولیوں سے قتل عام کرنے کے حوالے تحریر کرنے یاد نہیں رہے۔ کیوں؟ آخر کیوں؟
کیونکہ اوپر بیان کردہ حوالے نواز شریف کے بیانیہ کو کمزور کرتے تھے جبکہ قاضی کے فیصلے میں دیے گئے حوالے نواز شریف کے بیانیہ کو تقویت دیتے تھے۔ اگر انصاف کا معیار آئین و قانون نہیں، اگر انصاف سب کے لیے برابر نہیں، اگر انصاف قاضی فائز عیسیٰ کی ذاتی پسند ناپسند پر منحصر ہے تو تاریخ کا سبق یہ ہے کہ تاریخ ایسے فیصلوں کو کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے۔
✍️
@SdqJaan@samiabrahim@MoeedNj@SSEHBAI1@ARYSabirShakir@WajSKhan@QayyumReports@HasnaatMalik@nasiriqbal51@AhmedASarfraz@Matiullahjan919@saqibbashir156@mfayyazraja@tariqmateen@AmirMateen2@KlasraRauf@ImtiazGul60@MazharAbbasGEO@xadeejourno@ZarrarKhuhro@syedirshadarif@AajKamranKhan@shazbkhanzdaGEO@Kashifabbasiary
#40thMawlidConference
Dr Tahir-ul-Qadri said that he who is charged with the love of his Holy Prophet (peace be upon him) cannot even think of hurting an animal leave alone perpetrating terrorism in the name of religion.
@TahirulQadri@MinhajulQuran
This global event is an opportunity for Muslims to come together, strengthen their bonds, and work towards common goals, promoting positive change on a global scale.
#40thMawlidConference@TahirulQadri@MinhajulQuran
دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کو جشِنِ عید میلاد النبیﷺ مُبارک، 40ویں عالمی میلاد کانفرنس مینارِ پاکستان لاہور سے حضور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ خصوصی خطاب فرمائیں گے، عالمی میلاد کانفرنس میں مصر سمیت دنیا بھر سے عالمِ اسلام کی ممتاز شخصیات، علماء و مشائخ شرکت و خطاب کریں گے۔
#EidMiladUnNabi #EidMiladunNabiMubarak #MinhajulQuran
سیاست نہیں ریاست بچاو یہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے 2012 میں ہی مینارِ پاکستان جلسے میں اعلان کر دیا تھا۔ہماری بدقسمتی کہ ہم نے سمجھا ہی نہیں اور اتنے سال گزر جانے کے بعد اب ریاست بچانے کا فائنل فیصلہ ہوا ہے۔کاش کے قدر کی ہوتی تو آج یہ حالات نہ ہوتے