Tea/coffee, pushtun, anti of all anti elements, friend but not foe, teacher, student, mother, sister, supporter of women empowerment, anti religious hatred.
Please, drink a glass of cold water, then read. Send all the shias to Iran, all ahmadis to Canada, all hindus and sikhs to India, all ehle hadees to anywhere, so thst only good muslims are around and no bloodshed will happen.
مجھے پشتون پولیس افسران اور جوانوں کی شہادت کا بہت دکھ ہے یہ شہید ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین ہیں ان کی سکول کے بچوں کے ساتھ تصویر یہ بھی دہشت گردوں سے لڑتے شہید ہو گے ہیں اب سوچیں ان سب سیاستدانوں کا جو دہشت گردوں کے حمایتی ہیں جو ان کو شہید کرتے ہیں
بلاشبہ ڈاکٹر آصف حسن نے اپنی پیشہ ورانہ خدمات سے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کردیا ہے ان کا اعزاز ہر پاکستانی کا اعزاز ہے ایک طرف قائد اعظم ہسپتالُ کے ڈاکٹر بنگش جیسے لالچی قصائی گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کے دھندے سے ملک کو بدنام کرتے ہیں
شہید ڈی ایس پی عمران الدین کی کوہاٹ پولیس لائنز آپریشن کے دوران کی فوٹیجز، جو ان کی بہادری، جرأت اور دلیری کی واضح مثال ہیں۔
پوری قوم کو اپنے شہدا پر فخر ہے۔
گزشتہ رات CMH مظفرآباد کے میڈیکل وارڈ میں ایک بزرگ کو دیکھ کر دل لرز اٹھا۔ کمزوری اور ناتوانی کے عالم میں وہ بمشکل اپنے قدم اٹھاتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ رہے تھے۔ بے چینی سی ہوئی تو میں بھی ان کے ساتھ ہولیا۔ قریب جانے پر انکشاف ہوا کہ وہ اکیلے تھے... نہ کوئی عیادت کرنے والا، نہ پاس بیٹھنے والا۔ معلوم ہوا کہ وہ اس سے پہلے بھی ایک بار اکیلے واش روم جانے کی کوشش میں گر چکے تھے، مگر شکر ہے کہ اس وقت کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا تھا۔
وقت گزرتا گیا... وارڈ کی ہلکی روشنی میں گھڑیاں سوئیوں پر دوڑ رہی تھیں۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ گزرنے کے بعد، دوسرے بیڈ کے ایک مریض کی نظر پڑی تو وہ گھبرا کر بولا: "یار! وہ بزرگ کافی دیر پہلے واش روم گئے تھے، ابھی تک واپس نہیں آئے!"
دل میں ایک کھٹکا سا لگا۔ اسٹاف نرس کو فوراً متنبہ کیا گیا، جب دروازہ کھول کر دیکھا گیا تو منظر دل چیر دینے والا تھا۔ وہ بزرگ واش روم کے سرد اور گیلے فرش پر بے سدھ گرے پڑے تھے، اور درد سے کراہ رہے تھے۔ جسم میں اتنی بھی سکت نہ تھی کہ وہ خود اٹھ کر دروازہ کھول سکتے یا کسی کو پکار سکتے۔
جب ان کے کاغذات کی فائل دیکھی گئی تو اس پر لکھا سچ آنکھوں میں آنسو لے آیا۔ فائلوں میں باقاعدہ ایک ملازم کا شناختی کارڈ منسلک تھا، جو ان کی دیکھ بھال اور تیمار داری کے لیے مامور تھا۔ مگر کیسا ستم تھا کہ کاغذات کا وہ ٹکڑا محض ایک دھوکہ تھا! وہی ملازم رات ہوتے ہی، اپنے فرائض اور انسانیت کو پسِ پشت ڈال کر، بوڑھے لاچار انسان کو اکیلے وارڈ میں چھوڑ کر نہ جانے کہاں غائب ہو چکا تھا۔
بزرگ ہچکیاں لیتے ہوئے بس بار بار واش روم جانے اور سنبھالنے کی فریاد کر رہے تھے، ان کا بستر بھی گیلا ہو چکا تھا، مگر اس وقت ان کی تیمار داری یا عیادت کے لیے وارڈ میں کوئی اپنا موجود نہیں تھا۔ وہ وجود جو کبھی اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کر انہیں دنیا میں چلنا سکھاتا تھا، آج ہسپتال کے ایک سرد فرش پر چند قدم کے سہارے کے لیے ترس رہا تھا۔
آخر وہ کون سی مجبوری، کون سا لالچ اور کون سا پتھر دل ہے جو اولاد کو اپنے بوڑھے ماں باپ سے اتنا بے پروا کر دیتا ہے؟ جنہوں نے اپنی جوانی ہماری ہنسی پر لٹا دی، کیا بڑھاپے میں وہ چند لمحوں کی توجہ اور محبت کے بھی حق دار نہیں رہے؟
اگر کوئی ان بزرگ کو پہچانتا ہے، یا ان کے خاندان سے واقف ہے، تو خدا کے لیے یہ پیغام ان تک پہنچا دیجیے! شاید یہ الفاظ کسی سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ سکیں، شاید کوئی بیٹا یا وارث اپنی ذمہ داری کو پھر سے پہچان لے۔
💔 شہید ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین کی اسکول کے بچوں کے ساتھ چند یادگار لمحات۔
عمران الدین جہاں بھی جاتے، ہر چھوٹے بڑے اور بزرگ کے دل میں اپنی محبت اور عزت چھوڑ جاتے۔ وہ صرف ایک بہادر، ایماندار اور فرض شناس پولیس افسر ہی نہیں، بلکہ ایک شفیق اور محبت کرنے والے انسان بھی تھے
یہ شہید ڈی ایس پی عمران الدین جو ایک بہادر پشتون تھا اس کی آپریشن پر جانے سے پہلے کئ ویڈیو ہے اور اس نے واقعی بہادری کی داستان رقم کی ہے
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
میدان وفا دربار نہیں یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں کچھ عشق کسی کی ذات نہی
پلٹ کے دیکھنے آئیں گے گاہ گاہ مجھے
ابھی جو لوگ سمجھتے ہیں گردِ راہ مجھے
تجھے یہ گریہ و وحشت سے آشنائی کیا ؟
میں رسمِ ہجر ہوں ، بس چھوڑ ، مت نباہ مجھے
اے نکتہ چیں! مری محنت کی داد بنتی ہے
حسد کی آگ سے باہر نکل ، سراہ مجھے
کومل جوئیہ
وزیر اطلاعات پنجاب نے تو شکل چھپا دی تھی مگر یہ وہ ملعون خنزیر جس نے سکوٹی سوار بچی کو مارا اس کی ناک توڑ دی لیب ٹاپ توڑ دیا اسے تشدد کا نشانہ بنا دیا
اب اس کا حمایتی گروپ کونسا جو اس کے جرم کا جواز دے گا؟